ملک کے بڑے ہسپتالوں میں ایک حیران کن واقعہ سامنے آیا ہے جہاں ایک مریض کے انتقال کے باوجود اسپتال انتظامیہ نے اسے کئی دن داخل رکھ کر روزانہ لاکھوں روپے وصول کیے۔ اس انکشاف پر حکام نے سخت نوٹس لے لیا ہے اور تحقیقات کا آغاز کر دیا گیا ہے۔
اسلام آباد: قومی اسمبلی کی ذیلی کمیٹی برائے صحت کے ایک اہم اجلاس میں انکشاف ہوا کہ ایک ہسپتال میں ایک مریض کے انتقال کے بعد بھی اسے ہسپتال میں داخل رکھا گیا اور روزانہ کی بنیاد پر ایک لاکھ روپے وصول کیے گئے۔
مردہ مریض کو ہسپتال میں رکھ کر لاکھوں روپے بٹورنے کا انکشاف
اجلاس کے دوران بتایا گیا کہ ہسپتال کی انتظامیہ نے مریض کے انتقال کے بعد بھی سات روز تک اسے داخل ظاہر کیے رکھا اور ہر روز ایک لاکھ روپے کی رقم بطور فیس وصول کرتی رہی۔ مریض کی میڈیکل فائل میں بھی اسے زندہ ظاہر کیا جاتا رہا۔
ہسپتالوں کی نگرانی پر سوالات اٹھ گئے
یہ انکشاف قومی اسمبلی کی ذیلی کمیٹی برائے صحت کے اجلاس کے دوران سامنے آیا جو کنوینئر ڈاکٹر نجمہ الطاف کی صدارت میں ہوا۔ اجلاس میں صحت کے مختلف اداروں کی کارکردگی کا جائزہ لیا گیا، جہاں اس افسوسناک واقعے پر کمیٹی ارکان نے شدید تشویش کا اظہار کیا۔
سی ڈی اے اور او ایس ڈی پر بھی کڑی تنقید
اجلاس میں کمیٹی ارکان نے سی ڈی اے اور او ایس ڈی پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ان کے زیرانتظام ہسپتالوں میں سنگین بدانتظامیاں ہو رہی ہیں۔ مریضوں کو معیاری علاج فراہم کرنے کے بجائے ان سے پیسے بٹورنے پر توجہ دی جا رہی ہے۔ اب تک ہسپتالوں کے سربراہان یا متعلقہ حکام کی طرف سے اس معاملے پر کوئی مؤثر کارروائی نہیں کی گئی۔
وزارت صحت اور متعلقہ حکام کی خاموشی
اجلاس میں بتایا گیا کہ اس غیر انسانی اور غیر پیشہ ورانہ رویے کے باوجود وزارت صحت یا کسی دیگر اعلیٰ حکام نے اسپتال انتظامیہ سے بازپرس نہیں کی۔ کمیٹی ارکان نے مطالبہ کیا کہ فوری طور پر اس واقعے کی جامع تحقیقات کی جائیں اور ذمہ داروں کے خلاف سخت کارروائی کی جائے۔





















