واشنگٹن: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اسرائیلی وزیراعظم بینجمن نیتن یاہو کے ساتھ وائٹ ہاؤس میں ایک غیر رسمی عشائیہ ملاقات کے دوران خطے میں امن و استحکام اور ایران سے متعلق اہم اعلانات کیے۔ صدر ٹرمپ نے کہا کہ ایران کے ساتھ مذاکرات کے لیے وقت طے ہو چکا ہے اور مناسب موقع پر ایران سے اقتصادی پابندیاں ہٹانے کا فیصلہ کیا جائے گا۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ ایران کی ایٹمی تنصیبات کو مکمل طور پر تباہ کر دیا گیا ہے، لیکن وہ سفارتی حل کو ترجیح دیتے ہیں۔ اس ملاقات میں پاکستان اور بھارت کے درمیان کشیدگی کو روکنے، اسرائیل-حماس جنگ کے خاتمے، اور یوکرین کے دفاع کے لیے امریکی عزم کا بھی اعادہ کیا گیا۔
وائٹ ہاؤس میں اہم ملاقات
صدر ٹرمپ اور اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو کے درمیان وائٹ ہاؤس میں ہونے والی اس ملاقات کو خطے کی موجودہ صورتحال کے تناظر میں غیر معمولی اہمیت کا حامل قرار دیا جا رہا ہے۔ دونوں رہنماؤں نے مشرق وسطیٰ میں استحکام، ایران کے ایٹمی پروگرام، اور عالمی امن کے لیے اقدامات پر تبادلہ خیال کیا۔ ٹرمپ نے کہا کہ وہ ایران کو پرامن ترقی کا موقع فراہم کرنا چاہتے ہیں اور اس مقصد کے لیے سفارتی کوششوں کو ترجیح دی جائے گی۔ انہوں نے کہا، ’’ہم چاہتے ہیں کہ ایران اپنی معیشت کو بحال کرے اور عالمی برادری میں ذمہ دار کردار ادا کرے۔ مناسب وقت پر پابندیاں ہٹانے کا اعلان کیا جائے گا، لیکن اس کے لیے ایران کو مثبت اقدامات کرنا ہوں گے۔‘‘
اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو نے ایران میں رجیم چینج کے بارے میں سوال پر واضح کیا کہ ’’ایران کی حکومت کا فیصلہ ایرانی عوام پر چھوڑا جائے۔ ہمارا ہدف خطے میں امن و استحکام ہے، نہ کہ کسی ملک کے اندرونی معاملات میں مداخلت۔‘‘ انہوں نے ایران کے ایٹمی پروگرام کو عالمی امن کے لیے خطرہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ اسرائیل اور امریکہ مل کر اسے روکنے کے لیے پرعزم ہیں۔
ایران کی ایٹمی تنصیبات پر حملے
صدر ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ 21 جون 2025 کو امریکی اور اسرائیلی فضائی حملوں نے ایران کی تین اہم ایٹمی تنصیبات—فردو، اصفہان، اور نطنز—کو مکمل طور پر ناکارہ کر دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ حملے ایران کے ایٹمی ہتھیار بنانے کی صلاحیت کو ختم کرنے کے لیے کیے گئے، لیکن وہ چاہتے ہیں کہ ایران کے ساتھ مذاکرات کے ذریعے ایک پائیدار حل نکالا جائے۔ تاہم، ایران کے رہنما آیت اللہ علی خامنہ ای نے ان حملوں کی شدت کو کم کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ ایران کی ایٹمی صلاحیت اب بھی برقرار ہے، جس پر ٹرمپ نے سخت ردعمل دیا تھا۔
پاکستان اور بھارت کے درمیان امن کی کوششیں
صدر ٹرمپ نے ایک بار پھر پاکستان اور بھارت کے درمیان کشیدگی کو کم کرنے کے اپنے کردار پر زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ ’’دونوں ایٹمی طاقتیں ہیں، اور ہم نے انہیں جنگ کے بجائے تجارت اور تعاون کی راہ پر گامزن کرنے کی کوشش کی ہے۔‘‘ انہوں نے دعویٰ کیا کہ ان کی انتظامیہ کی ثالثی نے خطے کو ایک ممکنہ تباہ کن جنگ سے بچایا۔ ٹرمپ نے بھارت کے ساتھ ایک جامع تجارتی معاہدے کے قریب ہونے کی بھی نوید سنائی، جو امریکی معیشت کے لیے ایک بڑی کامیابی ہو گی۔
اسرائیل-حماس جنگ اور مشرق وسطیٰ میں استحکام
ٹرمپ نے اسرائیل اور حماس کے درمیان جنگ کے خاتمے کو ایک ’’مشترکہ کامیابی‘‘ قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ اسرائیل کے تمام پڑوسی ممالک اب کشیدگی کم کرنے اور استحکام کے لیے امریکہ کے ساتھ تعاون کر رہے ہیں۔ نیتن یاہو نے اس موقع پر کہا کہ اسرائیل خطے میں امن کے لیے پرعزم ہے اور حماس کے خاتمے کے بعد اب ایک نئے دور کا آغاز ہو رہا ہے۔
یوکرین کے لیے امریکی حمایت
صدر ٹرمپ نے روس کے صدر ولادیمیر پیوٹن کی سخت الفاظ میں مذمت کی اور یوکرین پر جاری حملوں کو ’’ناقابل قبول‘‘ قرار دیا۔ انہوں نے اعلان کیا کہ امریکہ یوکرین کو اس کی دفاعی ضروریات کے لیے اضافی ہتھیار فراہم کرے گا تاکہ وہ اپنی خودمختاری کا تحفظ کر سکے۔ انہوں نے کہا، ’’ہم یوکرین کے ساتھ کھڑے ہیں، اور روس کو اس جارحیت کی قیمت ادا کرنی پڑے گی۔‘‘
معاشی امور اور عالمی تجارت
صدر ٹرمپ نے معاشی امور پر بات کرتے ہوئے کہا کہ وہ کئی ممالک کے ساتھ ٹیرف ایڈجسٹمنٹ پر غور کر رہے ہیں تاکہ امریکی مصنوعات کو عالمی منڈیوں میں مسابقت کا موقع ملے۔ خاص طور پر بھارت کے ساتھ ایک بڑے تجارتی معاہدے کے امکانات روشن ہیں، جو امریکی کاروباری اداروں کے لیے نئی راہیں کھولے گا۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ ان کی انتظامیہ کی معاشی پالیسیوں نے امریکی معیشت کو مضبوط کیا ہے، اور یہ سلسلہ جاری رہے گا۔
ایران کے ساتھ مذاکرات کا روڈ میپ
ٹرمپ نے ایران کے ساتھ مذاکرات کے حوالے سے کہا کہ وہ ایک ایسی ڈیل چاہتے ہیں جو ایران کو ایٹمی ہتھیاروں سے مکمل طور پر روکے اور خطے میں اس کے اثر و رسوخ کو محدود کرے۔ انہوں نے کہا کہ اگر ایران تعاون کرتا ہے تو پابندیاں ہٹانے پر غور کیا جائے گا، لیکن اگر ایران نے ہٹ دھرمی دکھائی تو سخت نتائج بھگتنے ہوں گے۔
صدر ٹرمپ کی جانب سے ایران سے پابندیاں ہٹانے کے ممکنہ اعلان اور ایٹمی تنصیبات کو ناکارہ بنانے کے دعوے عالمی سیاست میں ایک اہم موڑ کی نشاندہی کرتے ہیں۔ ٹرمپ کی ’زیادہ سے زیادہ دباؤ‘ کی پالیسی، جسے انہوں نے اپنی پہلی مدت صدارت میں اپنایا تھا، ایران کی معیشت کو شدید نقصان پہنچا چکی ہے، لیکن اب سفارتی مذاکرات کی طرف پیش قدمی ایک حقیقت پسندانہ حکمت عملی دکھائی دیتی ہے۔ تاہم، ایران کے رہنما آیت اللہ خامنہ ای کے حالیہ بیانات، جن میں انہوں نے امریکی حملوں کی کامیابی کو مسترد کیا، مذاکرات کے امکانات کو پیچیدہ بنا رہے ہیں۔
پاکستان اور بھارت کے درمیان ثالثی کا ذکر ٹرمپ کی خطے میں اثر و رسوخ بڑھانے کی خواہش کو ظاہر کرتا ہے، لیکن اس کا عملی نتیجہ نکلنا ابھی غیر یقینی ہے۔ یوکرین کے لیے امریکی حمایت کا اعادہ روس کے ساتھ کشیدگی کو مزید بڑھا سکتا ہے، جبکہ اسرائیل-حماس جنگ کے خاتمے سے مشرق وسطیٰ میں ایک نئے دور کا آغاز ہو سکتا ہے۔
تاہم، ٹرمپ کی پالیسیوں پر عمل درآمد میں چیلنجز موجود ہیں۔ ایران کے ساتھ مذاکرات کامیاب ہونے کے لیے دونوں فریقوں کو لچک دکھانی ہو گی، جو فی الحال مشکل دکھائی دیتا ہے۔ اسی طرح، بھارت کے ساتھ تجارتی معاہدہ خطے کی معاشی حرکیات کو بدل سکتا ہے، لیکن اس کے لیے دونوں ممالک کو اپنے مفادات میں توازن پیدا کرنا ہوگا۔
یہ تمام اعلانات ٹرمپ کی غیر روایتی انداز کی خارجہ پالیسی کی عکاسی کرتے ہیں، جو ایک طرف مذاکرات کی بات کرتی ہے اور دوسری طرف سخت عسکری اور اقتصادی دباؤ کو برقرار رکھتی ہے۔ آنے والے مہینوں میں ایران کے ساتھ مذاکرات اور خطے کی صورتحال عالمی سیاست کی سمت واضح کریں گے۔ پاکستانی عوام کے لیے یہ ضروری ہے کہ وہ عالمی حالات پر گہری نظر رکھیں، کیونکہ یہ پیش رفتیں براہ راست یا بالواسطہ طور پر خطے کی سلامتی اور معیشت کو متاثر کر سکتی ہیں





















