بلاوایو: جنوبی افریقا کے کپتان ویان ملڈر نے زمبابوے کے خلاف دوسرے ٹیسٹ میچ میں شاندار 367 رنز کی ناقابل شکست اننگز کھیل کر نہ صرف تاریخ رقم کی بلکہ ویسٹ انڈیز کے عظیم بیٹسمین برائن لارا کے 400 رنز کے عالمی ریکارڈ سے صرف 33 رنز کی دوری پر اننگز ڈکلیئر کر کے سب کو حیران کر دیا۔ ملڈر نے اس فیصلے کی وجہ بتاتے ہوئے کہا کہ ’’برائن لارا ایک لیجنڈ ہیں، اور ان کا یہ ریکارڈ ان کے ہی نام رہنا چاہیے۔‘‘ ان کی اس تاریخی اننگز اور فیصلے نے کرکٹ کی دنیا میں ایک نئی بحث چھیڑ دی ہے کہ آیا ٹیم کی حکمت عملی ذاتی سنگ میل سے زیادہ اہم ہے یا نہیں۔
تاریخی اننگز اور ریکارڈ کی دہلیز پر فیصلہ
زمبابوے کے شہر بلاوایو میں کھیلے جا رہے دوسرے ٹیسٹ میچ کے دوسرے دن جنوبی افریقا نے اپنی پہلی اننگز 626 رنز پر 5 وکٹوں کے نقصان پر ڈکلیئر کی۔ کپتان ویان ملڈر، جو اپنی پہلی ٹیسٹ کپتانی کر رہے تھے، نے 334 گیندوں پر 49 چوکوں اور 4 چھکوں کی مدد سے ناقابل شکست 367 رنز بنائے۔ یہ اننگز نہ صرف ٹیسٹ کرکٹ کی تاریخ میں پانچویں سب سے بڑی انفرادی اننگز تھی بلکہ جنوبی افریقا کی جانب سے سب سے بڑا انفرادی اسکور بھی تھا، جو اس سے قبل ہاشم آملہ کے 311 رنز ناقابل شکست کا تھا، جو انہوں نے 2012 میں انگلینڈ کے خلاف دی اوول میں بنایا تھا۔
ملڈر کی یہ اننگز اس لیے بھی خاص تھی کہ وہ ٹیسٹ کرکٹ میں کپتانی کے ڈیبیو پر ٹرپل سنچری بنانے والے پہلے بیٹسمین بن گئے۔ انہوں نے 297 گیندوں پر اپنی ٹرپل سنچری مکمل کی، جو ٹیسٹ کرکٹ کی تاریخ کی دوسری تیز ترین ٹرپل سنچری تھی، صرف بھارت کے ویرندر سہواگ کے 278 گیندوں پر بنائی گئی ٹرپل سنچری سے پیچھے۔ ملڈر کی اننگز میں 109.88 کا شاندار اسٹرائیک ریٹ تھا، جو ٹرپل سنچری بنانے والوں میں سب سے زیادہ ہے۔
دوسرے دن کے کھانے کے وقفے تک جنوبی افریقا کا اسکور 626 رنز تھا، اور ملڈر 367 رنز پر ناقابل شکست تھے، جبکہ وکٹ کیپر کائل ویریئن 42 رنز کے ساتھ کریز پر موجود تھے۔ شائقین اور تجزیہ کاروں کو یقین تھا کہ ملڈر دوپہر کے سیشن میں واپس آ کر برائن لارا کا 2004 میں انگلینڈ کے خلاف سینٹ جانز، اینٹیگوا میں بنایا گیا 400 رنز ناقابل شکست کا عالمی ریکارڈ توڑ دیں گے۔ لیکن ملڈر نے سب کی توقعات کے برعکس اننگز ڈکلیئر کرنے کا فیصلہ کیا، جس نے کرکٹ برادری کو حیرت میں ڈال دیا۔
ملڈر کا فیصلہ اور برائن لارا کے لیے خراج تحسین
میچ کے اختتام پر سابق جنوبی افریقی کپتان اور کمنٹیٹر شان پولاک سے گفتگو کرتے ہوئے ملڈر نے اپنے فیصلے کی وجوہات بیان کیں۔ انہوں نے کہا، ’’پہلی بات تو یہ کہ ہمیں لگا کہ ہمارا اسکور کافی ہے اور اب ہمیں بالنگ شروع کرنی چاہیے۔ دوسری بات، برائن لارا ایک لیجنڈ ہیں۔ انہوں نے انگلینڈ کے خلاف 400 رنز کی تاریخی اننگز کھیلی تھی، اور اس طرح کے عظیم کھلاڑی کے لیے یہ ریکارڈ برقرار رہنا ایک خاص بات ہے۔‘‘ ملڈر نے مزید کہا کہ انہوں نے اپنے کوچ شکری کونراڈ سے بھی اس بارے میں مشورہ کیا، جنہوں نے کہا کہ ’’کچھ بڑے ریکارڈز کو لیجنڈز کے پاس ہی رہنا چاہیے۔‘‘
ملڈر نے اس موقع پر اپنے جذبات کا بھی ذکر کیا۔ انہوں نے کہا، ’’میں نے کبھی سوچا بھی نہیں تھا کہ میں ڈبل سنچری بناؤں گا، ٹرپل سنچری تو میرے خوابوں سے بھی باہر تھی۔ لیکن اس اننگز کی سب سے بڑی بات یہ ہے کہ اس نے ٹیم کو میچ میں مضبوط پوزیشن دی۔ اگر مجھے دوبارہ اس طرح کا موقع ملا، تو میں شاید وہی کروں گا جو آج کیا، کیونکہ برائن لارا جیسے عظیم کھلاڑی کا ریکارڈ انہی کے نام رہنا چاہیے۔‘‘
میچ کی صورتحال
ملڈر کے اس فیصلے کے فوراً بعد جنوبی افریقا نے اپنی بالنگ کا آغاز کیا اور زمبابوے کی پہلی اننگز کو صرف 170 رنز پر سمیٹ دیا۔ آف اسپنر پرینیلن سب رائن نے 4 وکٹیں حاصل کیں، جبکہ ملڈر نے خود بھی دو وکٹیں لیں اور ایک شاندار کیچ پکڑا۔ زمبابوے کی جانب سے سین ولیمز نے 83 رنز کی ناقابل شکست اننگز کھیلی، لیکن وہ اپنی ٹیم کو شکست سے نہ بچا سکے۔ جنوبی افریقا نے زمبابوے کو فالو آن کروایا، اور دوسرے دن کے اختتام تک زمبابوے نے اپنی دوسری اننگز میں ایک وکٹ کے نقصان پر 51 رنز بنائے، جو اب بھی 405 رنز سے پیچھے تھے۔
ملڈر کی اننگز کی بدولت جنوبی افریقا سیریز میں 1-0 کی برتری کے ساتھ دوسرے ٹیسٹ میں بھی غلبہ حاصل کیے ہوئے ہے۔ انہوں نے نہ صرف ہاشم آملہ کا قومی ریکارڈ توڑا بلکہ ٹیسٹ کرکٹ کی تاریخ میں سب سے زیادہ انفرادی اسکور کے لحاظ سے پانچواں مقام بھی حاصل کیا۔ ان سے آگے صرف برائن لارا (400* اور 375)، میتھیو ہائیڈن (380)، اور مہیلا جے وردھنے (374) ہیں۔
برائن لارا کا تاریخی ریکارڈ
برائن لارا نے 12 اپریل 2004 کو انگلینڈ کے خلاف اینٹیگوا میں 582 گیندوں پر 400 رنز کی ناقابل شکست اننگز کھیلی تھی، جو ٹیسٹ کرکٹ کی تاریخ کا سب سے بڑا انفرادی اسکور ہے۔ اس سے قبل لارا نے 1994 میں اسی ٹیم کے خلاف 375 رنز بنائے تھے، جو اس وقت کا ریکارڈ تھا، لیکن آسٹریلیا کے میتھیو ہائیڈن نے 2003 میں زمبابوے کے خلاف 380 رنز بنا کر اسے توڑ دیا تھا۔ لارا نے چھ ماہ بعد اپنا ریکارڈ دوبارہ حاصل کیا، اور یہ 21 سال سے قائم ہے۔ ملڈر کے فیصلے نے اس ریکارڈ کو برقرار رکھتے ہوئے لارا کی عظمت کو خراج تحسین پیش کیا۔
ملڈر کی اننگز کی کہانی
ملڈر نے میچ کے پہلے دن 247 رنز پر کھیلتے ہوئے ایک مشکل لمحے کا سامنا کیا جب زمبابوے کے بالر تناکا چیوانگا نے انہیں آؤٹ کر دیا، لیکن ری پلے سے پتہ چلا کہ یہ نو بال تھی۔ ملڈر نے اس موقع کا فائدہ اٹھایا اور دوسرے دن صبح اپنی ٹرپل سنچری مکمل کی۔ انہوں نے بتایا کہ ان کے ذہن میں منفی خیالات آ رہے تھے، لیکن وہ اپنی توجہ برقرار رکھنے کے لیے گانوں کے بول گنگناتے رہے۔ انہوں نے کہا، ’’ناشتہ کے وقت کسی نے بتایا کہ کپتانی کے ڈیبیو پر سب سے زیادہ اسکور 277 رنز ہے، تو میرا پہلا ہدف اسے توڑنا تھا۔ اس کے بعد میں نے بس مثبت رہنے کی کوشش کی۔‘‘
ملڈر کی اننگز میں 49 چوکوں نے ان کے جارحانہ انداز کی عکاسی کی، جو ٹیسٹ کرکٹ میں دوسری سب سے زیادہ چوکوں والی اننگز تھی، صرف انگلینڈ کے جان ایڈرچ کی 57 چوکوں والی اننگز سے پیچھے۔ انہوں نے زمبابوے کے بالنگ اٹیک کو مکمل طور پر تہس نہس کر دیا اور اپنی ٹیم کو میچ میں ناقابل شکست پوزیشن پر پہنچایا۔
ویان ملڈر کا برائن لارا کے 400 رنز کے ریکارڈ کو نہ توڑنے کا فیصلہ کرکٹ کی دنیا میں ایک نادر اور قابل تحسین عمل ہے، جو کھیل کے جذبے اور روایات کی عکاسی کرتا ہے۔ ان کا یہ فیصلہ 1998 میں آسٹریلیا کے مارک ٹیلر کی اس تاریخی اننگز کی یاد دلاتا ہے جب انہوں نے پاکستان کے خلاف پشاور میں 334 رنز پر اننگز ڈکلیئر کر کے ڈان بریڈمین کے ریکارڈ کو خراج تحسین پیش کیا تھا۔ ملڈر کا یہ عمل نہ صرف ان کی عاجزی اور ٹیم کے لیے لگن کو ظاہر کرتا ہے بلکہ کرکٹ کی عظیم شخصیات کے احترام کی ایک شاندار مثال ہے۔
تاہم، اس فیصلے نے کرکٹ شائقین کے درمیان ایک نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ کچھ شائقین کا خیال ہے کہ ملڈر کو یہ ریکارڈ توڑنے کی کوشش کرنی چاہیے تھی، کیونکہ اس طرح کے مواقع کم ملتے ہیں اور یہ کھیل کی ترقی کے لیے ایک تاریخی لمحہ ہو سکتا تھا۔ دوسری طرف، بہت سے لوگوں نے ملڈر کے فیصلے کی تعریف کی، کیونکہ اس سے کرکٹ کی روایات اور لیجنڈز کے احترام کی اہمیت اجاگر ہوتی ہے۔
اس فیصلے سے یہ بھی واضح ہوتا ہے کہ ملڈر ایک ٹیم لیڈر کے طور پر اپنی ذمہ داریوں کو ذاتی کامیابیوں سے بالاتر سمجھتے ہیں۔ میچ میں چار دن باقی ہونے کے باوجود انہوں نے بالنگ شروع کرنے کو ترجیح دی، جو ایک حکمت عملی کے لحاظ سے درست فیصلہ تھا، کیونکہ زمبابوے کی کمزور بیٹنگ لائن اپ کو دوبارہ بلے بازی کے لیے بلانا میچ کو جلد ختم کرنے کا بہترین موقع تھا۔
پاکستان کے تناظر میں، جہاں کرکٹ شائقین تاریخی اننگز اور ریکارڈز کے دیوانے ہیں، ملڈر کا یہ فیصلہ ایک اہم پیغام دیتا ہے کہ کھیل میں انفرادی کامیابیوں سے زیادہ ٹیم کی فتح اور روایات کی قدر اہم ہے۔ یہ واقعہ پاکستانی کھلاڑیوں اور شائقین کے لیے بھی ایک سبق ہے کہ کرکٹ صرف رنز اور وکٹوں کا کھیل نہیں، بلکہ عزت، احترام، اور جذبے کا کھیل ہے۔ ملڈر کی یہ اننگز اور فیصلہ آنے والے برسوں تک کرکٹ کی تاریخ میں ایک یادگار لمحے کے طور پر یاد رکھا جائے گا۔





















