پاک بھارت جنگ بندی میں ٹرمپ کے کردار سے انکار، امریکا نے دعویٰ مسترد کر دیا

نائب صدر وینس نے پاکستانی اور بھارتی وزرائے اعظم کے ساتھ 48 گھنٹوں تک بات چیت کی

واشنگٹن: امریکی محکمہ خارجہ نے بھارت کی جانب سے پاکستان اور بھارت کے درمیان حالیہ جنگ بندی میں امریکی کردار سے مسلسل انکار کو ’’جھوٹا اور گمراہ کن‘‘ قرار دیتے ہوئے سخت ردعمل دیا ہے۔ یہ تنازع اس وقت شدت اختیار کر گیا جب بھارتی حکام نے دعویٰ کیا کہ مئی 2025 میں ہونے والی جنگ بندی دوطرفہ فوجی مذاکرات کا نتیجہ تھی اور اس میں کسی تیسرے فریق کی ثالثی شامل نہیں تھی۔ تاہم، امریکی حکام نے اس موقف کو مسترد کرتے ہوئے صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور نائب صدر جے ڈی وینس کے کردار کو نمایاں کیا، جس نے خطے کے دو جوہری طاقتوں کے درمیان کشیدگی کو کم کرنے میں اہم کردار ادا کیا۔

امریکی محکمہ خارجہ کا بھارتی دعووں پر ردعمل

امریکی محکمہ خارجہ کی ترجمان ٹیمی بروس نے واشنگٹن میں ایک میڈیا بریفنگ کے دوران بھارت کے دعوؤں کو سختی سے مسترد کیا۔ انہوں نے کہا، ’’کچھ بیانات اپنی سچائی خود ہی عیاں کر دیتے ہیں۔ آج کے ڈیجیٹل دور میں سچ کو جانچنے کے لیے کسی ایک بیان پر انحصار نہیں کیا جاتا، بلکہ حقائق خود بولتے ہیں۔‘‘ انہوں نے مزید کہا کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے پاک-بھارت جنگ بندی کے حوالے سے اپنے کردار کو بارہا واضح کیا ہے، اور اسے نظر انداز کرنا حقائق کے منافی ہے۔

ٹیمی بروس نے امریکی نائب صدر جے ڈی وینس کے کردار کو بھی اجاگر کیا، جنہوں نے پاکستانی اور بھارتی حکام کے ساتھ گہری سفارتی بات چیت میں حصہ لیا۔ انہوں نے کہا، ’’نائب صدر وینس نے مذاکرات کے دوران اہم کردار ادا کیا، اور ان کی کاوشوں کو تسلیم کیا جانا چاہیے۔ یہ ایک پیچیدہ بحران تھا، جسے حل کرنے کے لیے امریکی قیادت نے دن رات کام کیا۔‘‘ ترجمان نے زور دیا کہ پاک-بھارت جنگ بندی امریکی سفارتی کوششوں کا نتیجہ تھی، اور بھارت کا اس سے انکار ’’حیران کن‘‘ ہے۔

جنگ بندی کا پس منظر

یہ تنازع 22 اپریل 2025 کو بھارت کے زیر انتظام کشمیر کے علاقے پہلگام میں ہونے والے ایک دہشت گرد حملے سے شروع ہوا، جس میں 26 افراد، جن میں زیادہ تر سیاح تھے، ہلاک ہوئے۔ بھارت نے اس حملے کا الزام پاکستان پر عائد کیا، جبکہ پاکستان نے اس کی سختی سے تردید کی۔ اس کے جواب میں بھارت نے 7 مئی 2025 کو ’’آپریشن سندور‘‘ شروع کیا، جس کے تحت پاکستان اور پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں متعدد اہداف پر میزائل حملے کیے گئے۔ اگلے تین دنوں تک دونوں ممالک کے درمیان شدید فوجی جھڑپیں جاری رہیں، جن میں دونوں جانب سے فضائی اور زمینی حملوں کا تبادلہ ہوا۔

10 مئی 2025 کو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر اعلان کیا کہ ’’امریکہ کی ثالثی میں ایک طویل رات کی بات چیت کے بعد، بھارت اور پاکستان نے فوری اور مکمل جنگ بندی پر اتفاق کیا ہے۔‘‘ انہوں نے دونوں ممالک کو ’’عقل و دانش اور عظیم ذہانت‘‘ کے استعمال پر مبارکباد دی۔ اس اعلان کے چند منٹ بعد پاکستان کے وزیر خارجہ اسحاق ڈار اور بھارت کے سیکرٹری خارجہ وکرم مسری نے جنگ بندی کی تصدیق کی، لیکن بھارت نے فوری طور پر امریکی کردار سے انکار کیا اور دعویٰ کیا کہ یہ معاہدہ دونوں ممالک کے ڈائریکٹر جنرل آف ملٹری آپریشنز (DGMO) کے درمیان براہ راست بات چیت کے نتیجے میں طے پایا۔

امریکی دعوے اور بھارتی تردید

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے متعدد مواقع پر پاک-بھارت جنگ بندی کو اپنی سفارتی کامیابی قرار دیا۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ انہوں نے دونوں ممالک کے ساتھ تجارت کو بڑھانے یا روکنے کی دھمکی دی، جس کے نتیجے میں دونوں فریقین نے فوجی کارروائیاں روکنے پر اتفاق کیا۔ ٹرمپ نے یہ بھی کہا کہ ان کی ثالثی نے ممکنہ جوہری جنگ کو روکا، اور اسی بنیاد پر انہیں نوبل امن انعام کے لیے نامزد کیا گیا۔

تاہم، بھارت نے اس روایت کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ جنگ بندی 10 مئی کو پاکستانی DGMO کی جانب سے بھارتی ہم منصب کو کی گئی ایک ٹیلی فون کال کے نتیجے میں طے پائی، جس میں پاکستان نے فوجی کارروائیوں کو روکنے کی درخواست کی۔ بھارتی وزیراعظم نریندر مودی نے بھی 18 جون کو ٹرمپ کے ساتھ ایک فون کال میں واضح کیا کہ جنگ بندی میں کوئی تیسرے فریق کی ثالثی شامل نہیں تھی، اور یہ کہ بھارت کشمیر کے معاملے پر کسی تیسرے فریق کی مداخلت کو قبول نہیں کرتا۔ بھارتی وزارت خارجہ کے ترجمان رندھیر جیسوال نے کہا کہ ’’آپریشن سندور کے آغاز سے لے کر جنگ بندی تک، بھارت اور امریکہ کے درمیان فوجی صورتحال پر بات چیت ہوئی، لیکن تجارت یا ثالثی کا کوئی ذکر نہیں ہوا۔‘‘

اس کے برعکس، پاکستان نے امریکی کردار کی قدر کی اور وزیراعظم شہباز شریف نے جنگ بندی کے نتائج کو ممکن بنانے کے لیے صدر ٹرمپ، نائب صدر وینس، اور سیکرٹری آف اسٹیٹ مارکو روبیو کا شکریہ ادا کیا۔ پاکستانی تجزیہ کاروں نے بھی کہا کہ امریکہ نے پاکستان پر دباؤ ڈالا، خاص طور پر عالمی مالیاتی فنڈ (IMF) کے ایک ارب ڈالر کے قرض کی منظوری کو جنگ بندی سے مشروط کر کے، جس نے پاکستان کو مذاکرات کی طرف مائل کیا۔

ٹیمی بروس کا بیان اور اس کا تناظر

امریکی محکمہ خارجہ کی ترجمان ٹیمی بروس نے اپنے تازہ بیان میں بھارت کے موقف کو ’’غلط اور گمراہ کن‘‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ امریکی قیادت نے جنگ بندی کے لیے کلیدی کردار ادا کیا۔ انہوں نے کہا، ’’یہ کوئی راز نہیں کہ صدر ٹرمپ اور ان کی ٹیم نے دونوں ممالک کے رہنماؤں کے ساتھ مسلسل رابطے میں رہ کر اس بحران کو حل کیا۔ نائب صدر وینس نے پاکستانی اور بھارتی وزرائے اعظم کے ساتھ 48 گھنٹوں تک بات چیت کی، اور سیکرٹری آف اسٹیٹ مارکو روبیو نے بھی اہم کردار ادا کیا۔‘‘

ٹیمی بروس نے مزید کہا کہ جنگ بندی کا اعلان کرنے سے پہلے امریکی حکام نے دونوں ممالک کے ساتھ گہری سفارتی مشاورت کی، اور یہ کہ ’’بھارت کا انکار سیاسی وجوہات کی بنا پر ہے، لیکن حقائق کو جھٹلایا نہیں جا سکتا۔‘‘ انہوں نے یہ بھی اشارہ دیا کہ پاک-بھارت تنازع ایک حساس معاملہ ہے، اور امریکی کردار کو کم کر کے پیش کرنا خطے کے استحکام کے لیے نقصان دہ ہو سکتا ہے۔

ٹرمپ کی نوبل امن انعام کی نامزدگی

صدر ٹرمپ کی جانب سے جنگ بندی کا سہرا اپنے سر لینے کے دعووں نے عالمی توجہ حاصل کی ہے۔ انہوں نے نہ صرف پاک-بھارت جنگ بندی بلکہ دیگر عالمی تنازعات، جیسے کہ اسرائیل-ایران تنازع، کو حل کرنے کی کوششوں کا ذکر کرتے ہوئے نوبل امن انعام کی نامزدگی کا جواز پیش کیا۔ ٹیمی بروس نے اس بارے میں کہا کہ ’’صدر ٹرمپ کی قیادت میں امریکہ نے عالمی امن کے لیے غیر معمولی کوششیں کی ہیں، اور پاک-بھارت جنگ بندی اس کی ایک واضح مثال ہے۔‘‘ تاہم، بھارت نے اس نامزدگی کو ’’سیاسی ڈرامہ‘‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ ٹرمپ کا دعویٰ حقائق پر مبنی نہیں۔

پاک-بھارت جنگ بندی کے حوالے سے امریکی اور بھارتی موقف کے درمیان تنازع نہ صرف سفارتی پیچیدگیوں کو اجاگر کرتا ہے بلکہ خطے کی سیاسی حرکیات کو بھی عیاں کرتا ہے۔ بھارت کا امریکی کردار سے انکار اس کی دیرینہ پالیسی کی عکاسی کرتا ہے کہ وہ کشمیر کے تنازع کو ایک دوطرفہ معاملہ سمجھتا ہے اور کسی تیسرے فریق کی مداخلت کو قبول نہیں کرتا۔ یہ موقف بھارتی قوم پرستوں کے لیے اہم ہے، جو کسی بھی بیرونی دباؤ کو قومی خودمختاری پر حملہ سمجھتے ہیں۔ دوسری طرف، پاکستان نے امریکی کردار کی قدر کی، جو اس کی معاشی مشکلات اور عالمی دباؤ کے تناظر میں ایک حقیقت پسندانہ حکمت عملی دکھائی دیتی ہے۔

امریکی محکمہ خارجہ کی ترجمان ٹیمی بروس کا بیان اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ ٹرمپ انتظامیہ اپنی سفارتی کامیابیوں کو اجاگر کرنے کے لیے پرعزم ہے، خاص طور پر اس وقت جب صدر ٹرمپ نوبل امن انعام کے لیے نامزدگی کی دوڑ میں ہیں۔ تاہم، بھارت کے مسلسل انکار سے یہ واضح ہوتا ہے کہ نئی دہلی اپنی عوام کے سامنے ایک مضبوط اور خودمختار امیج برقرار رکھنا چاہتی ہے۔

اس تنازع سے یہ بھی ظاہر ہوتا ہے کہ پاک-بھارت تعلقات اب بھی انتہائی نازک ہیں۔ جنگ بندی کے باوجود، دونوں ممالک کے درمیان کشمیر کے تنازع اور دہشت گردی کے الزامات جیسے مسائل حل طلب ہیں۔ امریکی کردار، اگرچہ دونوں فریقین کے لیے مختلف معنی رکھتا ہے، نے عارضی طور پر ایک بڑے پیمانے پر جنگ کو روکا، لیکن اس کی پائیداری کا انحصار دونوں ممالک کے درمیان براہ راست مذاکرات اور اعتماد سازی کے اقدامات پر ہے۔

پاکستانی شائقین کے لیے یہ صورتحال ایک اہم پیغام رکھتی ہے کہ خطے میں امن کے لیے عالمی طاقتوں کی شمولیت ناگزیر ہو سکتی ہے، لیکن اس کا دارومدار پاکستان اور بھارت کے اپنے اقدامات پر ہے۔ امریکی محکمہ خارجہ کا حالیہ بیان اس بات کی طرف اشارہ کرتا ہے کہ ٹرمپ انتظامیہ خطے میں اپنا اثر و رسوخ بڑھانے کے لیے پرعزم ہے، لیکن بھارت کی طرف سے مسلسل مزاحمت اس عمل کو پیچیدہ بنا رہی ہے۔ آنے والے دنوں میں یہ دیکھنا دلچسپ ہوگا کہ کیا یہ سفارتی تنازع دونوں ممالک کے تعلقات پر اثر انداز ہوتا ہے یا یہ صرف ایک سیاسی بیان بازی تک محدود رہتا ہے۔

متعلقہ خبریں

مقبول ترین