فیصل آباد: نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی نے فیصل آباد کے علاقے سانگلہ ہل، شاہکوٹ روڈ پر ایک بڑے پیمانے پر چھاپے کے دوران اربوں روپے کے آن لائن فراڈ کے نیٹ ورک کا پردہ فاش کر دیا۔ اس کارروائی میں 73 غیر ملکیوں سمیت 149 افراد کو گرفتار کیا گیا، جو ایک غیر قانونی کال سینٹر کے ذریعے پونزی اسکیموں اور جعلی سرمایہ کاری کے منصوبوں کے ذریعے عوام کو دھوکا دے رہے تھے۔ یہ پاکستان کی تاریخ میں آن لائن فراڈ کے خلاف سب سے بڑی کارروائی ہے، جس نے عالمی سطح پر سرگرم ایک منظم جرائم پیشہ گروہ کو بے نقاب کیا۔ حیران کن طور پر یہ کال سینٹر فیصل آباد الیکٹرک سپلائی کمپنی (فیسکو) کے سابق چیئرمین بورڈ آف ڈائریکٹرز ملک تحسین اعوان کی رہائش گاہ پر قائم تھا۔
چھاپے کی تفصیلات اور گرفتاریاں
نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی نے خفیہ اطلاعات کی بنیاد پر ایک حساس ادارے کے تعاون سے سانگلہ ہل، شاہکوٹ روڈ پر واقع ایک عالیشان رہائش گاہ پر چھاپہ مارا۔ یہ رہائش گاہ، جو مبینہ طور پر فیسکو کے سابق چیئرمین ملک تحسین اعوان کی ملکیت ہے، ایک جدید کال سینٹر کے طور پر استعمال ہو رہی تھی۔ اس کال سینٹر میں 200 سے زائد کمپیوٹرز اور دیگر جدید آلات موجود تھے، جن کے ذریعے ملزمان جعلی سرمایہ کاری کے منصوبوں، پونزی اسکیموں، اور بینکوں کے انٹرنیٹ سسٹم کو ہیک کرنے جیسے جرائم میں ملوث تھے۔
چھاپے کے دوران ایجنسی نے 149 افراد کو موقع پر ہی گرفتار کر لیا، جن میں 131 مرد اور 18 خواتین شامل ہیں۔ گرفتار شدگان میں سے 73 غیر ملکی شہری ہیں، جن کا تعلق مختلف ممالک سے ہے، بشمول چین (44 مرد، 4 خواتین)، نائجیریا (3 مرد، 5 خواتین)، فلپائن (1 مرد، 3 خواتین)، سری لنکا (1 مرد، 1 خاتون)، بنگلہ دیش (6 مرد)، زمبابوے (1 خاتون)، اور میانمار (2 خواتین)۔ باقی 78 ملزمان پاکستانی شہری ہیں، جن میں 76 مرد اور 2 خواتین شامل ہیں۔ ایجنسی نے کارروائی کے دوران بڑی تعداد میں لیپ ٹاپس، موبائل فونز، اور دیگر الیکٹرانک آلات ضبط کیے، جنہیں منتقل کرنے کے لیے ایک ٹریلر کا استعمال کیا گیا۔
مقدمات کا اندراج اور مرکزی ملزم
گرفتار ملزمان کے خلاف دھوکہ دہی، جعلسازی، اور جعلی سرمایہ کاری منصوبوں میں ملوث ہونے کے الزامات کے تحت سات مقدمات (ایف آئی آر نمبر 141 سے 147) درج کیے گئے ہیں۔ یہ مقدمات پاکستان الیکٹرانک کرائمز ایکٹ (پیکا) کی دفعات 13، 14، اور 16 کے ساتھ ساتھ پاکستان پینل کوڈ کی دفعات 109، 419، اور 420 کے تحت درج کیے گئے ہیں۔ ذرائع کے مطابق، مرکزی ملزم ملک تحسین اعوان کا نام تمام سات مقدمات میں شامل ہے، لیکن وہ چھاپے کے دوران فرار ہونے میں کامیاب ہو گئے۔ ایجنسی نے ان کی گرفتاری کے لیے ملک بھر میں چھاپوں کا سلسلہ شروع کر دیا ہے، اور ان کے ممکنہ بیرون ملک فرار کو روکنے کے لیے ان کا نام پرویزیئنل نیشنل آئیڈنٹیفکیشن لسٹ (پی این آئی ایل) میں شامل کر لیا گیا ہے۔
فراڈ کا طریقہ کار
تحقیقات سے پتہ چلا کہ یہ کال سینٹر ایک منظم جرائم پیشہ نیٹ ورک کا حصہ تھا، جو عوام کو جعلی سرمایہ کاری کے منصوبوں اور پونزی اسکیموں کے ذریعے لوٹ رہا تھا۔ ملزمان سوشل میڈیا، ای میلز، اور فون کالز کے ذریعے لوگوں کو راغب کرتے تھے کہ وہ ’’تیز منافع‘‘ کے وعدوں پر سرمایہ کاری کریں۔ یہ اسکیمیں خاص طور پر غیر ملکی شہریوں کو ہدف بناتی تھیں، جنہیں جعلی کاروباری مواقع اور سرمایہ کاری کے منصوبوں کی پیشکش کی جاتی تھی۔ ذرائع کے مطابق، اس نیٹ ورک نے اربوں روپے کی رقم لوگوں سے بٹوری، جس کا بڑا حصہ غیر ملکی بینک اکاؤنٹس میں منتقل کیا گیا۔
مزید برآں، ملزمان نے بینکوں کے انٹرنیٹ سسٹم کو ہیک کرنے کی کوششیں بھی کیں، جس سے مالیاتی اداروں کو بھاری نقصان کا خطرہ تھا۔ این سی سی آئی اے کے مطابق، یہ نیٹ ورک نہ صرف پاکستان بلکہ عالمی سطح پر بھی سرگرم تھا، اور اس کے تار چین، نائجیریا، اور دیگر ممالک سے ملتے ہیں۔ گرفتار غیر ملکی شہریوں سے تفتیش سے اس نیٹ ورک کے عالمی روابط کی مزید تفصیلات سامنے آنے کی توقع ہے۔
ملک تحسین اعوان کا کردار
اس اسکینڈل کی سب سے چونکا دینے والی بات یہ ہے کہ کال سینٹر فیسکو کے سابق چیئرمین بورڈ آف ڈائریکٹرز ملک تحسین اعوان کی رہائش گاہ پر قائم تھا۔ اعوان، جو فیسکو کے چیئرمین کے طور پر 2022 سے 2024 تک خدمات انجام دے چکے ہیں، ایک بااثر شخصیت کے طور پر جانے جاتے ہیں۔ ذرائع کے مطابق، وہ لوگوں کو ’’آن لائن کام‘‘ کے مواقع کی پیشکش کر کے اس غیر قانونی نیٹ ورک میں شامل کرتے تھے۔ ان کی رہائش گاہ پر جدید ٹیکنالوجی سے لیس ایک وسیع کال سینٹر کا انکشاف نے نہ صرف مقامی حکام بلکہ شہریوں کو بھی حیرت میں ڈال دیا ہے۔
اعوان کی گرفتاری کے لیے چھاپوں کا سلسلہ جاری ہے، لیکن ان کے فرار ہونے سے یہ سوالات اٹھ رہے ہیں کہ کیا وہ اس نیٹ ورک کے اصل سرغنہ ہیں یا محض ایک سہولت کار۔ ان کی سیاسی اور کاروباری روابط کی وجہ سے یہ کیس مزید حساس ہو گیا ہے، اور تفتیش کاروں کا کہنا ہے کہ اس کیس سے مزید بڑے انکشافات متوقع ہیں۔
عوامی اور حکومتی ردعمل
اس کارروائی نے فیصل آباد سمیت پورے پاکستان میں ہلچل مچا دی ہے۔ سوشل میڈیا پر صارفین نے اسے ’’صدی کا سب سے بڑا فراڈ‘‘ قرار دیا، جبکہ کچھ نے اسے پاکستانی اداروں کی کمزوریوں کی عکاسی قرار دیا کہ کس طرح ایک بااثر شخصیت کی رہائش گاہ پر اس طرح کا نیٹ ورک برسوں تک چلتا رہا۔ ایک ایکس صارف نے لکھا، ’’یہ حیران کن ہے کہ ایک سابق چیئرمین کی رہائش گاہ پر کال سینٹر چل رہا تھا، اور کوئی ادارہ اسے پکڑ نہ سکا۔ یہ ہمارے نظام کی ناکامی ہے۔‘‘
حکومتی سطح پر، این سی سی آئی اے نے اعلان کیا ہے کہ وہ آن لائن فراڈ کے خلاف اپنی مہم کو مزید تیز کرے گی۔ ایجنسی کے ایک ترجمان نے کہا، ’’یہ کارروائی ہماری عالمی سطح پر سائبر کرائم سے نمٹنے کی صلاحیت کو ظاہر کرتی ہے۔ ہم اس نیٹ ورک کے تمام سہولت کاروں کو قانون کے کٹہرے میں لائیں گے، خواہ وہ کتنے ہی بااثر کیوں نہ ہوں۔‘‘
تفتیش کا دائرہ کار
گرفتار ملزمان سے تفتیش جاری ہے، اور حکام کا کہنا ہے کہ اس کیس سے منسلک دیگر شہروں اور ممالک میں بھی چھاپوں کا امکان ہے۔ این سی سی آئی اے نے عالمی اداروں، بشمول انٹرپول، کے ساتھ رابطہ کیا ہے تاکہ اس نیٹ ورک کے غیر ملکی روابط کی چھان بین کی جا سکے۔ خاص طور پر چینی شہریوں کی بڑی تعداد نے اس کیس کو بین الاقوامی تناظر میں اہم بنا دیا ہے، اور پاکستانی حکام چینی سفارتخانے کے ساتھ مل کر ان شہریوں کی شناخت اور ان کے کردار کی تصدیق کر رہے ہیں۔
فیصل آباد میں پکڑا گیا یہ آن لائن فراڈ نیٹ ورک پاکستان میں سائبر کرائم کے بڑھتے ہوئے خطرے کی ایک واضح مثال ہے۔ اس کیس نے نہ صرف مقامی سطح پر بلکہ عالمی سطح پر بھی توجہ حاصل کی ہے، کیونکہ اس میں متعدد ممالک کے شہری ملوث ہیں۔ ملک تحسین اعوان جیسے بااثر شخص کی شمولیت اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ سائبر کرائم اب صرف چھوٹے موٹے گروہوں تک محدود نہیں، بلکہ اس میں اعلیٰ سطح کے کاروباری اور سیاسی روابط بھی شامل ہو سکتے ہیں۔ اعوان کی فراری اور ان کے سیاسی اثر و رسوخ کی وجہ سے یہ کیس مزید پیچیدہ ہو سکتا ہے، اور یہ دیکھنا اہم ہوگا کہ کیا حکام انہیں گرفتار کرنے میں کامیاب ہوتے ہیں یا نہیں۔
اس کارروائی سے یہ بھی عیاں ہوتا ہے کہ پاکستان میں سائبر کرائم سے نمٹنے کے لیے اداروں کی صلاحیت بہتر ہو رہی ہے، لیکن اس کے ساتھ ہی نظام میں موجود خامیوں کو بھی اجاگر کرتا ہے۔ ایک سابق چیئرمین کی رہائش گاہ پر اس طرح کا کال سینٹر برسوں تک چلتا رہا، جو کہ نگران اداروں کی ناکامی کی طرف اشارہ کرتا ہے۔
پاکستان کے تناظر میں، جہاں معاشی مشکلات نے لوگوں کو فوری منافع کے وعدوں کی طرف راغب کیا ہے، پونزی اسکیمیں اور جعلی سرمایہ کاری منصوبے ایک بڑا خطرہ بن چکے ہیں۔ اس کیس سے عوام کے لیے یہ پیغام ہے کہ وہ آن لائن سرمایہ کاری کے مواقع پر اندھا اعتماد کرنے سے گریز کریں اور حکومتی اداروں سے تصدیق کر لیں۔
عالمی سطح پر، اس نیٹ ورک میں غیر ملکی شہریوں کی شمولیت سے یہ واضح ہوتا ہے کہ سائبر کرائم اب ایک سرحد پار مسئلہ ہے، جس سے نمٹنے کے لیے بین الاقوامی تعاون ناگزیر ہے۔ این سی سی آئی اے کی اس کامیابی نے پاکستان کی سائبر سیکیورٹی کے شعبے میں صلاحیت کو اجاگر کیا، لیکن اس کے ساتھ ہی اسے مزید وسائل اور تربیت کی ضرورت ہے تاکہ مستقبل میں اس طرح کے نیٹ ورکس کو بروقت پکڑا جا سکے۔
یہ کیس پاکستانی معاشرے کے لیے ایک سبق ہے کہ بااثر شخصیات کے جرائم کو بھی قانون کی گرفت سے نہیں بچنا چاہیے۔ اگر حکام اس کیس کو منطقی انجام تک پہنچاتے ہیں اور تمام ملزمان، بشمول ملک تحسین اعوان، کو سزا دلوانے میں کامیاب ہوتے ہیں، تو یہ سائبر کرائم کے خلاف جنگ میں ایک تاریخی کامیابی ہوگی۔ تاہم، اگر اعوان جیسے بااثر ملزم قانون سے بچ نکلتے ہیں، تو یہ عوام کے اعتماد کو مزید کمزور کر سکتا ہے۔ آنے والے دنوں میں اس کیس کی پیشرفت پاکستان کے سائبر سیکیورٹی اور عدالتی نظام کی ساکھ کے لیے ایک امتحان ہوگی۔





















