حمیرا اصغر کی لاش لینے سے انکار، والد کراچی نہ پہنچے، پولیس کا دعویٰ

ڈیفنس فیز 6 کے اتحاد کمرشل ایریا میں واقع ایک فلیٹ سے حمیرا اصغر کی لاش برآمد ہوئی

کراچی: پاکستان کی شوبز انڈسٹری سے وابستہ معروف اداکارہ اور ماڈل حمیرا اصغر کی ڈیفنس فیز 6 کے ایک فلیٹ سے برآمد ہونے والی لاش نے پورے ملک میں ہلچل مچا دی ہے۔ پولیس کی جانب سے کی گئی ابتدائی تحقیقات کے مطابق، حمیرا کی لاش کئی روز پرانی تھی، اور ان کے اہلخانہ نے کراچی پہنچ کر لاش وصول کرنے سے صاف انکار کردیا۔ یہ واقعہ نہ صرف ایک انسانی المیے کی عکاسی کرتا ہے بلکہ شوبز انڈسٹری کے اندرونی مسائل اور سماجی رویوں کو بھی عیاں کرتا ہے۔

واقعے کی تفصیلات

منگل کی شام کراچی کے پوش علاقے ڈیفنس فیز 6 کے اتحاد کمرشل ایریا میں واقع ایک فلیٹ سے حمیرا اصغر کی لاش برآمد ہوئی۔ پولیس کے مطابق، یہ واقعہ اس وقت منظر عام پر آیا جب گزری پولیس عدالتی حکم پر فلیٹ خالی کرانے کے لیے پہنچی۔ مالک مکان نے حمیرا کے خلاف 2024 سے کرایہ نہ ادا کرنے کے باعث کلفٹن کنٹونمنٹ بورڈ میں مقدمہ درج کرایا تھا۔ جب پولیس نے فلیٹ کا دروازہ کھٹکھٹایا تو کوئی جواب نہ ملا۔ بالآخر، دروازہ توڑ کر داخل ہونے پر پولیس کو زمین پر پڑی حمیرا کی لاش ملی، جو مبینہ طور پر ایک ماہ پرانی تھی۔ لاش کی حالت ایسی تھی کہ فوری شناخت مشکل تھی، تاہم موبائل فون اور دیگر شواہد کی مدد سے ان کی شناخت حمیرا اصغر کے طور پر ہوئی۔

ایس ایس پی ساؤتھ مہزور علی نے بتایا کہ حمیرا 2018 سے اس فلیٹ میں کرائے پر تنہا رہ رہی تھیں۔ ان کا آبائی تعلق لاہور سے تھا، اور وہ گزشتہ سات سال سے کراچی میں مقیم تھیں۔ پڑوسیوں کے مطابق، حمیرا کا عمارت کے دیگر مکینوں سے زیادہ میل جول نہیں تھا، اور انہیں کئی ہفتوں سے دیکھا نہیں گیا تھا۔ ایک پڑوسی نے پولیس کو بتایا کہ نومبر 2024 میں حمیرا نے ان سے وائی فائی کا پاس ورڈ مانگا تھا، لیکن اس کے بعد وہ نظر نہیں آئیں۔ پڑوسی نے یہ بھی انکشاف کیا کہ حمیرا کے پاس کوئی ذاتی گاڑی نہیں تھی، اور ان کے دوست کبھی کبھار فلیٹ پر آتے جاتے تھے۔

اہلخانہ کا ردعمل

پولیس نے مالک مکان سے حاصل کردہ حمیرا کے موبائل نمبر کے ذریعے ان کے اہلخانہ سے رابطہ کیا۔ سی ڈی آر (کال ڈیٹا ریکارڈ) کی مدد سے حمیرا کے والد اور بھائی سے رابطہ ہوا، لیکن دونوں نے کراچی آنے اور لاش وصول کرنے سے انکار کردیا۔ ایس ایس پی مہزور علی کے مطابق، حمیرا کے والد نے بتایا کہ انہوں نے ڈیڑھ سے دو سال قبل حمیرا سے قطع تعلق کرلیا تھا۔ پولیس نے انہیں سمجھانے کی کوشش کی کہ وہ کراچی آکر لاش وصول کریں تاکہ قانونی کارروائی آگے بڑھائی جا سکے، لیکن انہوں نے دوبارہ رابطہ نہیں کیا۔

ایک ایکس پوسٹ کے مطابق، جب پولیس نے حمیرا کے بھائی سے رابطہ کیا تو انہوں نے کہا کہ اس سلسلے میں والد سے بات کی جائے۔ والد نے غصے میں جواب دیا کہ ’’ہمارا اس سے کوئی تعلق نہیں۔‘‘ اس ردعمل نے سوشل میڈیا پر بحث کو جنم دیا، جہاں لوگوں نے اہلخانہ کے اس رویے پر افسوس اور تنقید کا اظہار کیا۔

پولیس کی تحقیقات اور پوسٹ مارٹم

پولیس نے فلیٹ سے حمیرا کے دو موبائل فونز برآمد کیے، جن سے ڈیٹا نکالنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ ایس ایس پی ساؤتھ نے بتایا کہ لاش کو جناح پوسٹ گریجویٹ میڈیکل سینٹر منتقل کردیا گیا، جہاں پوسٹ مارٹم مکمل کرلیا گیا ہے۔ پولیس سرجن ڈاکٹر سمعیہ طارق نے بتایا کہ لاش کی خراب حالت کی وجہ سے موت کی وجہ کا فوری تعین ممکن نہیں، لیکن نمونے لیبارٹری ٹیسٹ کے لیے محفوظ کرلیے گئے ہیں۔ کیمیکل ایگزامینیشن رپورٹ کے بعد موت کی اصل وجہ سامنے آسکے گی۔

ابتدائی تحقیقات میں پولیس نے واقعے کو طبعی موت کا امکان ظاہر کیا ہے، لیکن اگر پوسٹ مارٹم یا کیمیکل رپورٹ میں کوئی مشکوک بات سامنے آئی تو مقدمہ درج کیا جائے گا۔ پولیس نے فلیٹ سے فرانزک شواہد جمع کیے ہیں، جن میں موبائل فون، میگزینز، اور دیگر اشیا شامل ہیں۔ سی سی ٹی وی فوٹیجز اور پڑوسیوں کے بیانات کی مدد سے بھی تحقیقات جاری ہیں۔ اگر اہلخانہ نے مقدمہ درج کرنے سے انکار کیا تو پولیس اپنی مدعیت میں مقدمہ درج کرے گی۔

متعلقہ خبریں

مقبول ترین