شعیب ملک کے بعد پی سی بی سے دو مزید مینٹورز کی علیحدگی

مصباح الحق اور سرفراز احمد کو نیشنل کرکٹ اکیڈمی میں اہم کردار سونپے گئے ہیں

لاہور: پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) میں بڑے پیمانے پر تبدیلیوں کا سلسلہ جاری ہے، جہاں مایہ ناز آل راؤنڈر شعیب ملک کے بعد سابق فاسٹ بولر وقار یونس اور سابق اسپنر ثقلین مشتاق نے بھی بورڈ سے اپنی راہیں جدا کر لیں۔ دوسری جانب، سابق کپتانوں مصباح الحق اور سرفراز احمد کو نیشنل کرکٹ اکیڈمی (این سی اے) میں نئی ذمہ داریاں سونپی گئی ہیں، جو پاکستانی کرکٹ کے مستقبل کو سنوارنے میں اہم کردار ادا کریں گے۔ اس کے ساتھ ہی، پی سی بی نے ڈومیسٹک کرکٹ کے نئے شیڈول اور نظام کا اعلان کیا ہے، جس کا مقصد کھلاڑیوں کی صلاحیتوں کو اجاگر کرنا اور گھریلو کرکٹ کو مضبوط بنانا ہے۔

پی سی بی سے مینٹورز کی علیحدگی

پاکستان کرکٹ بورڈ نے گزشتہ سال اگست 2024 میں پانچ ممتاز سابق کھلاڑیوں—شعیب ملک، وقار یونس، ثقلین مشتاق، مصباح الحق، اور سرفراز احمد—کو چیمپیئنز ون ڈے کپ کے لیے پانچ ڈومیسٹک ٹیموں کے مینٹورز کے طور پر تین سالہ معاہدوں پر تعینات کیا تھا۔ تاہم، مالی دباؤ اور متوقع نتائج نہ ملنے کے باعث پی سی بی نے مئی 2025 میں ان تمام مینٹورز کے معاہدوں کو ختم کرنے کا فیصلہ کیا تھا۔

شعیب ملک نے سب سے پہلے اپنی مصروفیات اور میڈیا کمٹمنٹس کی وجہ سے معاہدہ ختم کیا، جس کے بعد وقار یونس اور ثقلین مشتاق نے بھی حال ہی میں بورڈ سے علیحدگی اختیار کر لی۔ وقار یونس، جو اس سے قبل پی سی بی کے چیئرمین کے مشیر برائے کرکٹ امور کے طور پر بھی خدمات انجام دے چکے ہیں، فی الحال انگلینڈ میں ہیں اور انہوں نے بورڈ سے کوئی نئی ذمہ داری قبول نہیں کی۔ ثقلین مشتاق، جو ماضی میں قومی ٹیم کے ہیڈ کوچ رہ چکے ہیں، نے بھی پی سی بی کے ساتھ اپنا سفر ختم کرنے کا فیصلہ کیا۔

دوسری جانب، مصباح الحق اور سرفراز احمد کو نیشنل کرکٹ اکیڈمی میں اہم کردار سونپے گئے ہیں۔ مصباح الحق، جو پاکستان کے سب سے کامیاب ٹیسٹ کپتان ہیں اور جنہوں نے 56 ٹیسٹ میچز میں 26 فتوحات حاصل کیں، کو ریڈ بال کرکٹ کے ہیڈ کوچ کے طور پر غور کیا جا رہا ہے۔ سرفراز احمد، جو دو بار آئی سی سی ایونٹس کے فاتح رہ چکے ہیں، کو بھی این سی اے میں نئی ذمہ داریوں کے ساتھ شامل کیا گیا ہے، جن کی تفصیلات جلد سامنے آنے کی توقع ہے۔ یہ فیصلہ پی سی بی کے چیئرمین محسن نقوی کی سربراہی میں کیے گئے ایک جائزہ اجلاس کے بعد کیا گیا، جس میں مینٹورز کی کارکردگی پر عدم اطمینان کا اظہار کیا گیا تھا۔

ڈومیسٹک کرکٹ کا نیا شیڈول

لاہور کے قذافی اسٹیڈیم میں منعقدہ ایک پریس کانفرنس میں ڈائریکٹر ڈومیسٹک کرکٹ عبداللہ خرم نیازی اور جنرل منیجر ڈومیسٹک جنید ضیا نے 2025-26 کے ڈومیسٹک کرکٹ سیزن کے شیڈول کا اعلان کیا۔ عبداللہ خرم نیازی نے بتایا کہ ایک 15 رکنی کمیٹی نے دو ماہ تک تمام اسٹیک ہولڈرز، بشمول ریجنل صدور، کے ساتھ مسلسل مشاورت کے بعد نیا ڈومیسٹک نظام تشکیل دیا۔ اس نظام کے تحت قائداعظم ٹرافی میں صرف چھ ٹاپ ٹیمیں شامل ہوں گی، جبکہ دو ٹیمیں حنیف محمد ٹرافی سے کوالیفائی کرکے اس میں جگہ بنائیں گی۔

انہوں نے مزید کہا کہ نئے سیزن سے ڈومیسٹک کرکٹ میں شاندار کارکردگی دکھانے والے کھلاڑیوں کو سینٹرل کنٹریکٹس سے نوازا جائے گا۔ اس اقدام کا مقصد نچلی سطح پر کرکٹ کو فروغ دینا اور کھلاڑیوں کو مالی استحکام فراہم کرنا ہے۔ عبداللہ نے کراچی کی ٹیموں کے لیے ایک پرجوش اعلان کرتے ہوئے کہا کہ شہر کو اس سیزن میں دونوں ٹیموں کو قائداعظم ٹرافی میں شامل کرنے کا موقع ملے گا، جو اس کی کرکٹ تاریخ کو مزید تقویت دے گا۔

تاہم، عبداللہ کے اس دعوے پر کہ موجودہ ڈومیسٹک اسٹرکچر میں کوئی تبدیلی نہیں کی گئی اور پرانا نظام ہی برقرار رکھا گیا ہے، کرکٹ حلقوں میں تنقید کی گئی۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ چیمپیئنز کپ کے خاتمے اور قائداعظم ٹرافی کی ٹیموں کی تعداد 18 سے کم کر کے 8 کرنے سے ڈومیسٹک ڈھانچے میں واضح تبدیلیاں آئی ہیں، اور اس دعوے کو ’’مضحکہ خیز‘‘ قرار دیا جا رہا ہے۔

چیمپیئنز کپ اور مینٹورز کی کارکردگی

چیمپیئنز ون ڈے کپ، جو گزشتہ سال ستمبر 2024 میں فیصل آباد کے اقبال اسٹیڈیم میں منعقد ہوا، پی سی بی کے نئے ڈومیسٹک ایونٹ کا حصہ تھا، جس میں پانچ مینٹورز نے اپنی اپنی ٹیموں کی رہنمائی کی۔ یہ مینٹورز، جن میں پاکستان کے کرکٹ لیجنڈز شامل تھے، ہر ماہ تقریباً 50 لاکھ روپے کے معاوضے پر تعینات کیے گئے تھے۔ تاہم، ان کی کارکردگی متوقع نتائج نہ دے سکی، اور ان کی میڈیا سرگرمیوں، خاص طور پر شعیب ملک کی پاکستان سپر لیگ اور چیمپیئنز ٹرافی کے دوران ٹی وی پر تجزیاتی کردار، نے تنقید کو جنم دیا۔ شعیب ملک نے اپنے دفاع میں کہا تھا کہ ’’ہم پی سی بی کے ملازم نہیں ہیں،‘‘ لیکن اس سے ان کی ذمہ داریوں کے حوالے سے سوالات اٹھے۔

پی سی بی کے چیئرمین محسن نقوی نے اس سے قبل مینٹورز کی تعیناتی کو ایک ’’شاندار اقدام‘‘ قرار دیا تھا، جس کا مقصد نئے ٹیلنٹ کی شناخت اور ترقی تھا۔ لیکن مالی دباؤ اور ناکافی نتائج کی وجہ سے بورڈ نے یہ معاہدے ختم کر دیے۔ سوشل میڈیا پر شعیب ملک کی علیحدگی کے بعد وقار یونس اور ثقلین مشتاق کے فیصلے کو ’’متوقع‘‘ قرار دیا گیا، کیونکہ کئی صارفین نے مینٹورز کے کردار کو ’’غیر ضروری‘‘ اور ’’مہنگا‘‘ قرار دیا تھا۔

نیشنل کرکٹ اکیڈمی میں نئے کردار

مصباح الحق اور سرفراز احمد کی نیشنل کرکٹ اکیڈمی میں شمولیت کو کرکٹ حلقوں میں مثبت پیش رفت سمجھا جا رہا ہے۔ مصباح الحق، جنہوں نے ماضی میں قومی ٹیم کے ہیڈ کوچ اور چیف سلیکٹر کے طور پر خدمات انجام دیں، اپنے تجربے سے این سی اے میں نئے کھلاڑیوں کی تربیت کو بہتر بنائیں گے۔ سرفراز احمد، جو اب بھی ٹیسٹ اسکواڈ کا حصہ ہیں، اپنی قائدانہ صلاحیتوں اور وکٹ کیپنگ کی مہارت کو ابھرتے ہوئے کھلاڑیوں تک منتقل کریں گے۔ اس کے علاوہ، سابق کرکٹر محمد یوسف کو این سی اے میں کوچنگ کا کردار دیا گیا ہے، جبکہ اسد شفیق کو ریجنل اکیڈمی میں کوچنگ اور ویمن کرکٹ کے سلیکشن پینل میں برقرار رکھا گیا ہے۔

ڈومیسٹک کرکٹ میں نئی حکمت عملی

پی سی بی کے نئے ڈومیسٹک شیڈول کا مقصد گھریلو کرکٹ کو زیادہ مسابقتی اور پائیدار بنانا ہے۔ قائداعظم ٹرافی کی ٹیموں کی تعداد کم کر کے چھ کرنے اور دو ٹیموں کو حنیف محمد ٹرافی سے کوالیفائی کرنے کا موقع دینے سے مقابلے کی سطح بڑھے گی۔ سینٹرل کنٹریکٹس کا اعلان ایک اہم قدم ہے، جو نچلی سطح کے کھلاڑیوں کو مالی تحفظ اور حوصلہ فراہم کرے گا۔ کراچی جیسے بڑے شہر کو دو ٹیمیں دینے کا فیصلہ بھی اس شہر کی کرکٹ ثقافت کو تقویت دینے کی کوشش ہے۔

تاہم، عبداللہ خرم نیازی کے اس دعوے پر کہ ڈومیسٹک اسٹرکچر میں کوئی تبدیلی نہیں ہوئی، کرکٹ ماہرین نے حیرت کا اظہار کیا ہے۔ ایک ایکس صارف نے لکھا، ’’چیمپیئنز کپ ختم کر کے اور قائداعظم ٹرافی کی ٹیمیں 18 سے 8 کر کے کہنا کہ کوئی تبدیلی نہیں ہوئی، یہ مضحکہ خیز ہے۔‘‘ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ پی سی بی کے فیصلوں پر شفافیت اور وضاحت کے حوالے سے سوالات موجود ہیں۔

پی سی بی سے شعیب ملک، وقار یونس، اور ثقلین مشتاق کی علیحدگی اور مصباح الحق اور سرفراز احمد کی نیشنل کرکٹ اکیڈمی میں نئی ذمہ داریاں پاکستانی کرکٹ کے ایک نئے دور کی نشاندہی کرتی ہیں۔ مینٹورز کے معاہدوں کا خاتمہ مالی دباؤ اور کارکردگی کی کمی کی وجہ سے ایک منطقی فیصلہ لگتا ہے، لیکن اس سے پی سی بی کے منصوبوں کی منصوبہ بندی اور عمل درآمد پر سوالات اٹھتے ہیں۔ چیمپیئنز کپ جیسے مہنگے پروگرام کو شروع کرنے سے پہلے بورڈ کو اس کے طویل مدتی اثرات کا جائزہ لینا چاہیے تھا۔

مصباح الحق اور سرفراز احمد کی این سی اے میں شمولیت ایک مثبت پیش رفت ہے، کیونکہ ان کے تجربے سے نئے کھلاڑیوں کو فائدہ ہوگا۔ خاص طور پر مصباح کی ریڈ بال کرکٹ میں مہارت پاکستان کی ٹیسٹ ٹیم کی حالیہ ناقص کارکردگی کو بہتر بنانے میں مددگار ثابت ہو سکتی ہے۔ تاہم، پی سی بی کو اس بات کو یقینی بنانا ہوگا کہ نئے کرداروں میں شفافیت اور پیشہ ورانہ معیار برقرار رکھا جائے، تاکہ ماضی کی طرح تنازعات سے بچا جا سکے۔

ڈومیسٹک کرکٹ کے نئے شیڈول سے ظاہر ہوتا ہے کہ پی سی بی گھریلو کرکٹ کو عالمی معیار کے قریب لانے کی کوشش کر رہا ہے، لیکن اسے کامیاب بنانے کے لیے مستقل عمل درآمد اور اسٹیک ہولڈرز کے ساتھ تعاون ضروری ہے۔ سینٹرل کنٹریکٹس کا فیصلہ کھلاڑیوں کے لیے ایک بڑا حوصلہ ہے، لیکن اس کے مالی اثرات کو بھی متوازن کرنا ہوگا، کیونکہ بورڈ پہلے ہی مالی مشکلات کا شکار ہے۔

پی سی بی کے حالیہ فیصلوں سے یہ واضح ہوتا ہے کہ بورڈ اپنی پالیسیوں کو زیادہ نتیجہ خیز اور کفایت شعار بنانے کی کوشش کر رہا ہے۔ لیکن عبداللہ خرم نیازی کے ’’کوئی تبدیلی نہیں‘‘ کے دعوے نے اس عمل کی ساکھ کو نقصان پہنچایا ہے۔ پاکستانی کرکٹ کے شائقین کے لیے یہ ایک اہم موڑ ہے، جہاں بورڈ کے فیصلے نئے ٹیلنٹ کو سامنے لانے اور قومی ٹیم کی کارکردگی کو بہتر بنانے میں اہم کردار ادا کر سکتے ہیں، بشرطیکہ ان پر عمل درآمد شفاف اور موثر ہو۔ آنے والا سیزن اس نئے نظام کی کامیابی کا امتحان ہوگا، اور اس سے یہ طے ہوگا کہ آیا پی سی بی اپنی کرکٹ کو عالمی سطح پر دوبارہ مضبوط کر سکتا ہے یا نہیں۔

متعلقہ خبریں

مقبول ترین