وفاقی وزیر صحت کا ہسپتالوں کے فضلے کی محفوظ تلفی پر اظہار اطمینان

ملک کے 15 اضلاع میں طبی فضلے کے محفوظ انتظام کے لیے ییلو ویسٹ وینز فراہم کی گئی ہیں

پاکستان میں صحت عامہ کے شعبے کو متعدد چیلنجز کا سامنا ہے، جن میں ہسپتالوں کے زہریلے فضلے کی غیر محفوظ تلفی ایک سنگین مسئلہ ہے۔ ہسپتالوں سے نکلنے والا طبی فضلہ، جیسے کہ سرنجز، خون سے آلودہ اشیا، اور دیگر خطرناک مواد، اگر مناسب طریقے سے ٹھکانے نہ لگایا جائے تو ماحولیاتی آلودگی اور بیماریوں کے پھیلاؤ کا سبب بنتا ہے۔

تقریب سے خطاب

9 جولائی 2025 کو انڈس ہسپتال اینڈ ہیلتھ نیٹ ورک کی جانب سے منعقدہ ایک تقریب میں وفاقی وزیر صحت سید مصطفیٰ کمال نے ہسپتالوں کے فضلے کی محفوظ تلفی کو عوام کو بیماریوں سے بچانے کے لیے ایک اہم اور موثر قدم قرار دیا۔ تقریب کا انعقاد گلوبل فنڈ کے تعاون سے ییلو ویسٹ وینز کی فراہمی کے حوالے سے کیا گیا تھا، جو پاکستان کے 15 اضلاع، بشمول وفاقی دارالحکومت اسلام آباد، میں طبی فضلے کے انتظام کے لیے استعمال ہوں گی۔ ان وینز میں سے ایک وین ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسر (ڈی ایچ او) اسلام آباد کے حوالے کی جائے گی۔

احتیاط علاج سے بہتر

وفاقی وزیر نے اپنے خطاب میں کہا کہ احتیاط علاج سے بہتر ہے اور اگر مناسب احتیاطی تدابیر نہ اپنائی گئیں تو بیماریاں ہمارے معاشرے کو گھیر لیں گی۔ انہوں نے زور دیا کہ ہسپتالوں کا فضلہ نہایت خطرناک ہوتا ہے اور اس کی غیر محفوظ تلفی بیماریوں کے پھیلاؤ کا باعث بنتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ صحت عامہ کا تحفظ وزارت صحت کی اولین ترجیح ہے اور اس مقصد کے لیے بیماریوں سے بچاؤ کے اقدامات ناگزیر ہیں۔

صاف پانی کی فراہمی

سید مصطفیٰ کمال نے مزید کہا کہ پاکستان میں 68 فیصد بیماریاں آلودہ پانی کے استعمال سے پھیلتی ہیں۔ اگر عوام کو صاف پانی فراہم کیا جائے اور آبادی پر کنٹرول کے اقدامات کیے جائیں تو بیماریوں کی شرح میں نمایاں کمی لائی جا سکتی ہے۔ انہوں نے ہسپتالوں کی تعمیر اور ادویات کی فراہمی کے ساتھ ساتھ بیماریوں کی روک تھام پر توجہ دینے کی ضرورت پر زور دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ تیزی سے بڑھتی ہوئی آبادی صحت کے مسائل کو مزید پیچیدہ بنا رہی ہے، جس سے ہسپتالوں پر مریضوں کا دباؤ بڑھ رہا ہے۔

جدید آلات

انڈس ہسپتال کے صدر ڈاکٹر عبدالباری خان نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ صحت کے شعبے میں ترقی صرف نئے اسپتالوں یا جدید آلات سے ممکن نہیں، بلکہ اس کے لیے ایسے نظاموں کی ضرورت ہے جو کمیونٹیز کو بیماریوں سے محفوظ رکھیں۔ انہوں نے ییلو ویسٹ وینز کے منصوبے کو انفیکشن کنٹرول، ماحولیاتی تحفظ، اور پائیدار صحت کے عزم کی عکاسی قرار دیا۔ ڈاکٹر عبدالباری نے وفاقی حکومت کے تعاون کی قدر کرتے ہوئے امید ظاہر کی کہ یہ ماڈل ملک بھر میں اپنایا جائے گا۔

مثبت تجزیہ

ییلو ویسٹ وینز کا یہ منصوبہ پاکستان کے صحت کے نظام میں ایک انقلابی قدم ہے جو نہ صرف طبی فضلے کے محفوظ انتظام کو یقینی بنائے گا بلکہ ماحولیاتی تحفظ اور انفیکشن کنٹرول کے حوالے سے بھی اہم کردار ادا کرے گا۔ وفاقی وزیر صحت سید مصطفیٰ کمال کا یہ بیان کہ "احتیاط علاج سے بہتر ہے” صحت عامہ کے بنیادی اصول کی عکاسی کرتا ہے۔ اس منصوبے سے نہ صرف ہسپتالوں سے نکلنے والے زہریلے فضلے سے پھیلنے والی بیماریوں کی روک تھام ہوگی بلکہ عوام میں صحت کے حوالے سے شعور بھی بیدار ہوگا۔
یہ اقدام پاکستان کے 15 اضلاع میں صحت کے نظام کو مضبوط بنانے کی جانب ایک اہم پیش رفت ہے۔ خاص طور پر وفاقی دارالحکومت اسلام آباد جیسے اہم شہر کو اس منصوبے میں شامل کرنا اس کی کامیابی کی علامت ہے۔ گلوبل فنڈ کے تعاون سے شروع کیا گیا یہ منصوبہ عالمی معیار کے مطابق طبی فضلے کے انتظام کو فروغ دے گا، جو پاکستان جیسے ترقی پذیر ملک کے لیے ایک قابل تحسین اقدام ہے۔

 

متعلقہ خبریں

مقبول ترین