پاور سیکٹر کی خراب کارکردگی؛ صارفین پر اربوں روپے کا نیا بوجھ ڈالنے کی تیاری

گڈو پاور پلانٹ کی 747 میگاواٹ کی اسٹیم ٹربائن جولائی 2022 سے بند ہے

اسلام آباد: پاکستان کے پاور سیکٹر کی مسلسل ناقص کارکردگی نے صارفین پر سیکڑوں ارب روپے کا اضافی مالی بوجھ ڈال دیا ہے۔ نیشنل الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی (نیپرا) کے رکن رفیق احمد شیخ نے اپنے حالیہ اختلافی نوٹ میں گڈو پاور پلانٹ اور نیلم جہلم ہائیڈرو پاور پراجیکٹ کی بندش کے باعث ہونے والے اربوں روپے کے نقصانات کو اجاگر کیا ہے۔ اس صورتحال نے نہ صرف قومی خزانے کو شدید دھچکا پہنچایا بلکہ عام صارفین کو بھی مہنگی بجلی کی شکل میں اضافی بوجھ برداشت کرنا پڑ رہا ہے۔ نیپرا نے سسٹم آپریٹرز کو ہدایت کی ہے کہ وہ ان نقصانات کے مالیاتی اثرات کی تفصیلی رپورٹس پیش کریں تاکہ صورتحال کی سنگینی کو سمجھا جا سکے اور اصلاحی اقدامات کیے جا سکیں۔

گڈو پاور پلانٹ کی بندش سے 116 ارب روپے کا نقصان

نیپرا کے رکن رفیق احمد شیخ نے فیول پرائس ایڈجسٹمنٹ (ایف سی اے) کے فیصلے کے دوران اپنے اضافی نوٹ میں انکشاف کیا کہ گڈو پاور پلانٹ کی 747 میگاواٹ کی اسٹیم ٹربائن جولائی 2022 سے بند ہے، جس کے نتیجے میں قومی خزانے کو 116 ارب روپے کا نقصان ہوا ہے۔ اس پلانٹ کو اوپن سائیکل موڈ میں چلانے سے صرف مئی 2025 میں 549 ملین روپے کا اضافی نقصان ہوا۔ رفیق شیخ نے اسے انتظامی نااہلی کا واضح ثبوت قرار دیتے ہوئے کہا کہ سستے بجلی کے ذرائع کو بند رکھ کر مہنگے پلانٹس چلانے سے صارفین پر غیر ضروری مالی دباؤ بڑھ رہا ہے۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ جب سستے ایندھن والے پلانٹس جیسے اوچ ون اور اینگرو قادرپور کو چلایا جا سکتا تھا، تو انہیں بند رکھنے کا فیصلہ کیوں کیا گیا؟

نیلم جہلم پراجیکٹ: 75 ارب کی سرمایہ کاری بے نتیجہ

نیلم جہلم ہائیڈرو پاور پراجیکٹ، جسے پاکستان کے توانائی بحران کے حل کے لیے ایک اہم منصوبہ تصور کیا جاتا تھا، مئی 2024 سے بند ہے۔ اس بندش کی وجہ پراجیکٹ میں سنگین ساختی مسائل ہیں، جن میں دباؤ میں کمی، گاد کا جمع ہونا، اور سرنگوں کا گرنا شامل ہیں۔ رفیق احمد شیخ نے اپنے نوٹ میں بتایا کہ اس منصوبے کے لیے عوام سے 75 ارب روپے جمع کیے گئے، لیکن اس کے باوجود کوئی خاطر خواہ فائدہ نہیں ملا۔ صرف گزشتہ ایک سال میں اس کی بندش سے 35 ارب روپے کا نقصان ہوا، جبکہ مئی 2025 میں اس سے 6.4 ارب روپے کا اضافی نقصان اٹھانا پڑا۔ نیپرا نے ہدایت کی ہے کہ نیلم جہلم پراجیکٹ کے سی ای او ہر ماہ ایف سی اے رپورٹ پیش کریں تاکہ اس کی کارکردگی کا جائزہ لیا جا سکے۔

پارشل لوڈ ایڈجسٹمنٹ چارجز سے 37 ارب کا نقصان

رفیق احمد شیخ نے اپنے نوٹ میں پارشل لوڈ ایڈجسٹمنٹ چارجز (پی ایل اے سی) کے حوالے سے بھی تشویش کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ اس چارج کی وجہ سے صارفین کو گزشتہ ایک سال میں 37 ارب روپے کا اضافی نقصان برداشت کرنا پڑا۔ یہ چارجز اس وقت عائد کیے جاتے ہیں جب سسٹم آپریٹرز کم لاگت والے پاور پلانٹس کو استعمال کرنے کے بجائے مہنگے ایندھن پر چلنے والے پلانٹس کو ترجیح دیتے ہیں۔ رفیق شیخ نے اسے ناقابل فہم قرار دیتے ہوئے کہا کہ ایسی پالیسیوں کی وجہ سے صارفین پر غیر ضروری بوجھ بڑھ رہا ہے، اور اس سے بچنے کے لیے فوری اصلاحی اقدامات ناگزیر ہیں۔

نیپرا کی ہدایات اور سسٹم آپریٹرز سے رپورٹس کی طلب

نیپرا نے اس صورتحال پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے نیشنل گرڈ اور سسٹم آپریٹرز سے تفصیلی بریفنگ طلب کی ہے۔ رفیق احمد شیخ نے اپنے نوٹ میں زور دیا کہ پاور سیکٹر کے مسائل قابل حل ہیں، لیکن ان کی نشاندہی کے باوجود نظام میں بہتری کے لیے کوئی ٹھوس اقدامات نہیں کیے جا رہے۔ نیپرا نے سسٹم آپریٹرز کو ہدایت کی ہے کہ وہ مالیاتی اثرات کی جامع رپورٹس پیش کریں، جن میں نقصانات کی وجوہات اور ان کے تدارک کے لیے تجاویز شامل ہوں۔ اس کے علاوہ، نیپرا نے پاور سیکٹر کے اداروں سے کہا ہے کہ وہ اپنی کارکردگی کو بہتر بنانے کے لیے فوری اقدامات کریں تاکہ صارفین پر اضافی بوجھ کو کم کیا جا سکے۔

پاور سیکٹر کی مجموعی صورتحال

پاکستان کا پاور سیکٹر گزشتہ کئی سالوں سے مالیاتی اور انتظامی مسائل کا شکار ہے۔ نیپرا کی حالیہ رپورٹس کے مطابق، پاور سیکٹر نے مالی سال 2022-23 میں 403 ارب روپے کا نقصان کیا، جو ناقص وصولیوں اور زیادہ لائن لاسز کی وجہ سے ہوا۔ گڈو اور نیلم جہلم جیسے بڑے منصوبوں کی بندش نے اس صورتحال کو مزید خراب کیا ہے۔ اس کے علاوہ، ہائی وولٹیج ڈائریکٹ کرنٹ (ایچ وی ڈی سی) میٹری-لاہور ٹرانسمیشن لائن کا 60.4 فیصد استعمال نہ ہونا بھی مالیاتی نقصانات کا ایک بڑا سبب ہے، جو کہ جون 2025 میں 591 ملین روپے کے نقصان کا باعث بنا۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ سستے ہائیڈرو اور مقامی کوئلے پر مبنی پلانٹس کو بند رکھ کر مہنگے ایندھن جیسے آر ایل این جی اور درآمد شدہ کوئلے پر چلنے والے پلانٹس کو ترجیح دینا صارفین کے لیے مالی بوجھ کا باعث بن رہا ہے۔ اس کے علاوہ، روپے کی قدر میں کمی، بلند شرح سود، اور نئی تنصیبات کے اضافے نے بھی بجلی کی پیداواری لاگت کو بڑھا دیا ہے، جس کا بوجھ بالآخر صارفین پر منتقل ہو رہا ہے۔

سوشل میڈیا پر ردعمل

ایکس پر صارفین نے پاور سیکٹر کی ناقص کارکردگی پر شدید تنقید کی ہے۔ ایک صارف نے لکھا، ’’گڈو اور نیلم جہلم جیسے منصوبوں کی بندش سے اربوں روپے کا نقصان ہو رہا ہے، اور اس کا خمیازہ غریب صارفین کو بھگتنا پڑ رہا ہے۔ آخر ذمہ دار کون ہے؟‘‘ ایک اور صارف نے نیپرا کے کردار پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا، ’’جب نیپرا مسائل کی نشاندہی کر سکتا ہے تو ان کا حل کیوں نہیں نکالا جا رہا؟‘‘ یہ ردعمل پاکستانی عوام کے بڑھتے ہوئے غم و غصے کی عکاسی کرتا ہے، جو مہنگی بجلی اور مسلسل لوڈ شیڈنگ سے تنگ ہیں۔

پاکستان کے پاور سیکٹر کی موجودہ صورتحال نہ صرف انتظامی ناکامیوں بلکہ طویل مدتی منصوبہ بندی کی کمی کی وجہ سے ہے۔ گڈو پاور پلانٹ اور نیلم جہلم ہائیڈرو پراجیکٹ کی بندش سے ہونے والے اربوں روپے کے نقصانات اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ پاور سیکٹر میں شفافیت اور جوابدہی کا فقدان ہے۔ نیلم جہلم پراجیکٹ، جو ایک اہم ہائیڈرو پاور منصوبہ تھا، اپنی ساختی خامیوں کی وجہ سے ناکام ہوا، جس سے عوام کے 75 ارب روپے ضائع ہوئے۔ اسی طرح، گڈو پاور پلانٹ کی طویل بندش اور اوپن سائیکل موڈ میں چلانے کے فیصلے سے واضح ہوتا ہے کہ فیصلہ سازی میں تکنیکی اور مالیاتی پہلوؤں کو نظر انداز کیا گیا۔

پارشل لوڈ ایڈجسٹمنٹ چارجز اور مہنگے ایندھن کے استعمال سے صارفین پر پڑنے والا 37 ارب روپے کا بوجھ اس بات کی طرف اشارہ کرتا ہے کہ سسٹم آپریٹرز کی ترجیحات صارفین کے مفادات کے بجائے دیگر عوامل پر مبنی ہیں۔ نیپرا کے رکن رفیق احمد شیخ کا اختلافی نوٹ اس حوالے سے ایک اہم قدم ہے، کیونکہ اس نے نہ صرف مسائل کو اجاگر کیا بلکہ سسٹم آپریٹرز سے جوابدہی کا مطالبہ بھی کیا۔ تاہم، نیپرا کی جانب سے صرف رپورٹس طلب کرنے کے بجائے ٹھوس اصلاحی اقدامات کی ضرورت ہے، جیسے کہ سستے پلانٹس کو ترجیح دینا اور بند منصوبوں کی بحالی کے لیے فوری منصوبہ بندی۔

سوشل میڈیا پر عوامی ردعمل سے ظاہر ہوتا ہے کہ پاکستانی صارفین پاور سیکٹر کی ناکامیوں سے شدید مایوس ہیں۔ یہ صورتحال اس بات کی متقاضی ہے کہ حکومت اور نیپرا مشترکہ طور پر ایک جامع حکمت عملی تیار کریں، جس میں نہ صرف مالیاتی نقصانات کو کم کیا جائے بلکہ قابل تجدید توانائی کے ذرائع، جیسے کہ ہائیڈرو اور شمسی توانائی، کو فروغ دیا جائے۔ اس کے علاوہ، پاور سیکٹر میں بدعنوانی اور انتظامی نااہلی کو ختم کرنے کے لیے سخت احتسابی نظام متعارف کرنا ہوگا۔

اگر گڈو اور نیلم جہلم جیسے منصوبوں کی بحالی اور سستے ایندھن کے استعمال کو ترجیح نہ دی گئی تو صارفین پر مالی بوجھ بڑھتا جائے گا، جو پہلے ہی مہنگائی اور معاشی دباؤ کا شکار ہیں۔ نیپرا کی حالیہ ہدایات ایک اچھا آغاز ہیں، لیکن ان پر عمل درآمد اور نتائج کی نگرانی کے بغیر یہ صرف کاغذی کارروائی ثابت ہوں گی۔ پاکستانی پاور سیکٹر کو نہ صرف تکنیکی بہتری بلکہ ایک شفاف اور صارف دوست پالیسی کی ضرورت ہے جو طویل مدتی استحکام کو یقینی بنائے۔

متعلقہ خبریں

مقبول ترین