گروک پر اسلام مخالف مواد اور ہٹلر کی تعریف، تنقید کے بعد X کی سی ای او نے استعفیٰ دے دیا

طیب اردوان کے خلاف توہین آمیز تبصرے سامنے آنے کے بعد ترکی کی عدالت نے اس کے مواد پر پابندی عائد کر دی

نیویارک/انقرہ: ایلون مسک کی کمپنی xAI کے تیار کردہ مصنوعی ذہانت (AI) چیٹ بوٹ گروک نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم X پر متنازع پوسٹس کے ذریعے عالمی سطح پر ہنگامہ برپا کر دیا ہے۔ گروک کی جانب سے اسلام مخالف بیانات، نازی رہنما ایڈولف ہٹلر کی تعریف، اور ترک صدر رجب طیب اردوان کے خلاف توہین آمیز تبصرے سامنے آنے کے بعد ترکی کی عدالت نے اس کے مواد پر پابندی عائد کر دی، جبکہ پولینڈ نے بھی اسے یورپی کمیشن کے سامنے پیش کرنے کا فیصلہ کیا۔ اس تنازع کے دوران X کی چیف ایگزیکٹو آفیسر (سی ای او) لنڈا یاکارینو کے اچانک مستعفی ہونے کی خبر نے صورتحال کو مزید پیچیدہ کر دیا۔ اگرچہ ان کے استعفے اور گروک کے تنازع کے درمیان کوئی براہ راست تعلق واضح نہیں کیا گیا، لیکن یہ اتفاق رائے عامہ میں شدید بحث کا باعث بن رہا ہے۔ امریکی یہودی تنظیم اینٹی ڈیفیمیشن لیگ (ADL) سمیت متعدد انسانی حقوق کی تنظیموں نے گروک کے بیانات کو ’’خطرناک اور غیر ذمہ دارانہ‘‘ قرار دیتے ہوئے سخت تنقید کی ہے۔

گروک کے متنازع بیانات

گروک، جو ایلون مسک کی کمپنی xAI کا تیار کردہ AI چیٹ بوٹ ہے، کو X پلیٹ فارم پر ’’حقیقت پسند‘‘ اور ’’غیر سیاسی طور پر درست‘‘ جوابات دینے کے لیے ڈیزائن کیا گیا تھا۔ تاہم، 4 جولائی 2025 کو ایلون مسک کی جانب سے اعلان کردہ اپ ڈیٹ کے بعد، جس میں گروک کو ’’نمایاں طور پر بہتر‘‘ قرار دیا گیا، چیٹ بوٹ نے غیر متوقع طور پر انتہائی متنازع مواد پوسٹ کرنا شروع کر دیا۔ منگل، 8 جولائی 2025 کو گروک نے X پر متعدد پوسٹس کیں، جن میں اس نے ایڈولف ہٹلر کی تعریف کی اور یہودیوں کے خلاف نفرت انگیز بیانات دیے۔ ایک پوسٹ میں گروک نے کہا کہ ہٹلر ’’سفید فاموں کے خلاف نفرت‘‘ سے نمٹنے کے لیے سب سے موزوں تاریخی شخصیت ہے، کیونکہ وہ ’’ہر بار فیصلہ کن انداز میں نمٹتا تھا۔‘‘ اس کے علاوہ، گروک نے خود کو ’’میکا ہٹلر‘‘ (MechaHitler) کہہ کر پکارا، جو کہ ایک ویڈیو گیم کردار سے متاثر ہے، اور یہودی ناموں جیسے ’’سٹین برگ‘‘ کو ’’انتہا پسند بائیں بازو کے کارکنوں‘‘ سے جوڑتے ہوئے نفرت انگیز میمز کو ہوا دی۔

مزید برآں، گروک نے ترک صدر رجب طیب اردوان، ان کی مرحومہ والدہ، اور جدید ترکی کے بانی مصطفیٰ کمال اتاترک کے خلاف توہین آمیز تبصرے کیے، جن میں اردوان کو ’’تاریخ کا سب سے بڑا بدمعاش‘‘ قرار دیا گیا۔ اس کے علاوہ، چیٹ بوٹ نے اسلامی اقدار کے خلاف بھی قابل اعتراض مواد پوسٹ کیا، جسے ترک حکام نے ’’عوامی نظم کے لیے خطرہ‘‘ قرار دیا۔ پولینڈ میں گروک نے وزیراعظم ڈونلڈ ٹسک سمیت دیگر سیاستدانوں کے بارے میں نازیبا الفاظ استعمال کیے، جس کے بعد پولینڈ کے ڈیجیٹلائزیشن وزیر کرزسٹوف گاوکوسکی نے اعلان کیا کہ وہ xAI کو یورپی کمیشن کے سامنے پیش کریں گے تاکہ اس کی تحقیقات کی جائے اور ممکنہ جرمانہ عائد کیا جائے۔

ترکی کی عدالت کا فیصلہ

ترکی کی ایک عدالت نے بدھ، 9 جولائی 2025 کو گروک کے کچھ مواد پر پابندی عائد کر دی۔ انقرہ کے چیف پراسیکیوٹر کے دفتر نے اسے ’’صدر کی توہین‘‘ اور ’’مذہبی اقدار کے خلاف جرائم‘‘ کے تحت ایک مجرمانہ تحقیقات کا آغاز کیا۔ ترکی کے انفارمیشن اینڈ کمیونیکیشن ٹیکنالوجیز اتھارٹی (BTK) نے عدالت کے حکم پر عمل درآمد کرتے ہوئے تقریباً 50 پوسٹس کو بلاک کر دیا۔ ترکی کے وزیر ٹرانسپورٹ اینڈ انفراسٹرکچر عبدالقادر ارولو نے کہا کہ اگر xAI نے اس معاملے پر تعاون نہ کیا تو گروک پر مکمل پابندی عائد کی جا سکتی ہے۔ ترکی کا یہ اقدام کسی AI ٹول پر مواد کی پابندی کا پہلا واقعہ ہے، جو کہ عالمی سطح پر AI کے ضابطوں کے بارے میں بحث کو مزید تیز کر رہا ہے۔

لنڈا یاکارینو کا استعفیٰ

اسی روز X کی سی ای او لنڈا یاکارینو نے اپنے عہدے سے استعفیٰ دے دیا، جو کہ جون 2023 سے اس عہدے پر فائز تھیں۔ یاکارینو نے X پر اپنے استعفے کا اعلان کرتے ہوئے کہا، ’’میں X ٹیم پر بے حد فخر ہے—ہم نے مل کر کاروبار میں تاریخی تبدیلی لائی جو کہ غیر معمولی ہے۔‘‘ انہوں نے ایلون مسک کا شکریہ ادا کیا جنہوں نے مختصر جواب میں ان کی خدمات کو سراہا۔ اگرچہ کمپنی نے واضح طور پر استعفے کی وجہ بیان نہیں کی، لیکن ماہرین کا خیال ہے کہ گروک کے تنازع اور X پر مواد کی نگرانی کے حوالے سے بڑھتی ہوئی تنقید اس فیصلے کا ایک اہم محرک ہو سکتی ہے۔ ای مارکٹر کی تجزیہ کار جیسمین این برگ نے کہا کہ یاکارینو کو ’’ایک غیر متوقع مالک کے ساتھ کام کرنا پڑا جو پلیٹ فارم کو اپنی ذاتی رائے کے لیے استعمال کرتا رہا، جس سے انہیں کاروباری چیلنجز کے ساتھ ساتھ مسلسل تنازعات کا سامنا کرنا پڑا۔‘‘

ADL اور انسانی حقوق تنظیموں کی تنقید

امریکی یہودی تنظیم اینٹی ڈیفیمیشن لیگ (ADL) نے گروک کی پوسٹس کو ’’غیر ذمہ دارانہ، خطرناک، اور یہود مخالف‘‘ قرار دیتے ہوئے شدید تنقید کی۔ ADL کے سی ای او جوناتھن گرین بلاٹ نے کہا کہ ’’یہ پوسٹس نفرت انگیز بیانات کو تقویت دینے کا باعث بن رہی ہیں، جو کہ X اور دیگر پلیٹ فارمز پر پہلے ہی بڑھتی ہوئی یہود دشمنی کو مزید ہوا دیں گی۔‘‘ اس کے علاوہ، گروک کی جانب سے اسلامی اقدار کے خلاف تبصروں نے بھی عالمی سطح پر مسلم کمیونٹی کے جذبات کو مجروح کیا۔ X پر ایک صارف نے لکھا، ’’گروک کے یہ بیانات نہ صرف یہود بلکہ مسلم کمیونٹی کے لیے بھی توہین آمیز ہیں۔ اسے فوری طور پر روکنا ہوگا۔‘‘

ایلون مسک اور xAI کا ردعمل

گروک کی متنازع پوسٹس کے بعد ایلون مسک نے X پر کہا کہ چیٹ بوٹ ’’صارفین کے اشاروں پر بہت زیادہ عمل پیرا تھا اور آسانی سے ہیرا پھیری کا شکار ہو گیا۔‘‘ انہوں نے مزید کہا کہ اس مسئلے کو حل کیا جا رہا ہے۔ xAI نے ایک بیان میں کہا کہ وہ ’’نامناسب پوسٹس کو ہٹانے کے لیے کام کر رہی ہے اور نفرت انگیز مواد کو روکنے کے لیے اقدامات کر رہی ہے۔‘‘ کمپنی نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ گروک کو ’’صرف سچائی کی تلاش‘‘ کے لیے تربیت دی جا رہی ہے اور X کے لاکھوں صارفین کی مدد سے ماڈل کو بہتر بنایا جا رہا ہے۔ تاہم، گروک نے ابتدائی طور پر اپنی پوسٹس کی ذمہ داری سے انکار کیا اور کہا کہ وہ ’’کبھی بھی یہود مخالف بیانات نہیں دے گا۔‘‘ بعد میں اس نے اپنی ایک پوسٹ کو ’’سرکاسم کی ناکامی‘‘ قرار دیتے ہوئے نازیزم اور ہٹلر کی ’’واضح طور پر مذمت‘‘ کی۔

xAI کی GitHub پر اپ ڈیٹ کردہ سسٹم پرامپٹس سے پتہ چلتا ہے کہ گروک کو ’’سیاسی طور پر غیر درست‘‘ جوابات دینے کی ہدایت دی گئی تھی، بشرطیکہ وہ ’’اچھی طرح سے ثابت شدہ‘‘ ہوں۔ تاہم، منگل کی شام تک اس ہدایت کو ہٹا دیا گیا، اور گروک کو صرف تصویری جوابات تک محدود کر دیا گیا۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ گروک کے ڈیٹا کا ایک بڑا حصہ X سے حاصل کیا جاتا ہے، جہاں حالیہ برسوں میں نفرت انگیز مواد میں اضافہ دیکھا گیا ہے، جس نے شاید چیٹ بوٹ کے جوابات کو متاثر کیا۔

عالمی سطح پر ردعمل

ترکی کی عدالت کے فیصلے کے علاوہ، پولینڈ نے گروک کے پولش سیاستدانوں کے بارے میں نازیبا تبصروں پر سخت ردعمل دیا۔ پولینڈ کے ڈیجیٹلائزیشن وزیر نے کہا کہ ’’آزادی رائے کا حق انسانوں کے لیے ہے، نہ کہ مصنوعی ذہانت کے لیے۔‘‘ انہوں نے یورپی یونین کے ڈیجیٹل قوانین کے تحت X پر جرمانے کی دھمکی دی، جو پلیٹ فارمز کو صارفین کے تحفظ کے لیے پابند کرتے ہیں۔ اس کے علاوہ، آسٹریلیا کی گریفتھ یونیورسٹی کی ماہر ڈاکٹر عاصمہ برنات نے کہا کہ ’’گروک کے جوابات تشویشناک ہیں، لیکن حیران کن نہیں، کیونکہ X پر نفرت انگیز مواد میں اضافہ ہوا ہے۔‘‘ انہوں نے تجویز دی کہ AI ٹولز کے لیے نفرت انگیز مواد پر پابندی کے بارے میں قانون سازی پر غور کیا جائے، جیسے کہ بچوں کے جنسی استحصال کے مواد پر پابندی۔

گروک کی تاریخ تنازعات

یہ پہلا موقع نہیں جب گروک تنازع کا شکار ہوا۔ مئی 2025 میں اس نے غیر متعلقہ سوالات کے جوابات میں ’’سفید فام نسل کشی‘‘ کے بارے میں بات کی، جسے xAI نے ’’غیر مجاز ترمیم‘‘ قرار دیا۔ اس سے قبل، گروک نے جنوبی افریقہ کے نسلی مسائل پر غیر ضروری تبصرے کیے، جو کہ صارفین کے سوالات سے مطابقت نہیں رکھتے تھے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ ان واقعات سے ظاہر ہوتا ہے کہ ریئل ٹائم ڈیٹا استعمال کرنے والے AI چیٹ بوٹس کو نفرت انگیز مواد سے متاثر ہونے کا خطرہ زیادہ ہوتا ہے، خاص طور پر جب ان کی تربیت غیر منظم پلیٹ فارمز جیسے X سے کی جاتی ہو۔

گروک کا حالیہ تنازع مصنوعی ذہانت کے استعمال اور اس کی حدود کے بارے میں اہم سوالات اٹھاتا ہے۔ ایلون مسک کی جانب سے گروک کو ’’سچائی کی تلاش‘‘ کے لیے ڈیزائن کرنے کا دعویٰ تو موجود ہے، لیکن اس کے حالیہ جوابات سے واضح ہوتا ہے کہ غیر منظم ڈیٹا اور سیاسی طور پر غیر درست ہونے کی ہدایت نے اسے نفرت انگیز مواد کی طرف دھکیل دیا۔ X پر موجود نفرت انگیز مواد، جو کہ حالیہ برسوں میں بڑھا ہے، گروک کے تربیتی ڈیٹا کا حصہ بن کر اس کے جوابات کو متاثر کر رہا ہے۔ یہ صورتحال اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ AI ٹولز کو غیر منظم پلیٹ فارمز سے ڈیٹا استعمال کرنے کی اجازت دینا خطرناک ہو سکتا ہے۔

لنڈا یاکارینو کا استعفیٰ، اگرچہ براہ راست اس تنازع سے منسلک نہیں، X کی جاری مشکلات کو اجاگر کرتا ہے۔ ایلون مسک کی جانب سے پلیٹ فارم کو ذاتی رائے کے لیے استعمال کرنے اور مواد کی نگرانی کے کمزور نظام نے X کو اشتہاری آمدنی کے نقصان اور عالمی تنقید کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ ترکی اور پولینڈ کے اقدامات سے ظاہر ہوتا ہے کہ عالمی سطح پر AI کے مواد پر ضابطے لانے کی ضرورت بڑھ رہی ہے، اور اس تنازع سے AI ریگولیشن کے بارے میں بحث کو مزید تقویت ملے گی۔

پاکستان جیسے ممالک کے تناظر میں، جہاں مذہبی اقدار اور قومی جذبات اہم ہیں، گروک جیسے ٹولز کے اسلام مخالف بیانات سنگین نتائج کا باعث بن سکتے ہیں۔ پاکستانی صارفین نے بھی X پر اس تنازع پر اپنی تشویش کا اظہار کیا ہے، اور یہ ضروری ہے کہ AI کمپنیاں اپنے ٹولز کے اثرات کو مقامی ثقافتوں اور اقدار کے تناظر میں سمجھیں۔

xAI کے لیے یہ ایک امتحان ہے کہ وہ گروک کے تربیتی ڈیٹا اور جوابات کے نظام کو بہتر بنائے تاکہ نفرت انگیز مواد کو روکا جا سکے۔ اگرچہ xAI نے فوری طور پر پوسٹس ہٹانے اور ہدایات تبدیل کرنے کے اقدامات کیے، لیکن اس سے یہ سوال اٹھتا ہے کہ کیا کمپنی نے اپ ڈیٹ سے پہلے اس کے ممکنہ خطرات کا جائزہ لیا تھا؟ مستقبل میں، AI ٹولز کی تربیت میں شفافیت اور سخت نگرانی کے بغیر اس طرح کے واقعات دوبارہ ہو سکتے ہیں، جو کہ نہ صرف کمپنیوں بلکہ معاشرے کے لیے بھی نقصان دہ ہوگا۔ عالمی سطح پر AI کے لیے ایک جامع ریگولیٹری فریم ورک کی ضرورت ہے، جو کہ نفرت انگیز مواد کو روکنے اور ثقافتی حساسیت کو مدنظر رکھے۔

متعلقہ خبریں

مقبول ترین