حسن علی کے ’کنگ کرلے گا‘ کہنے کی اصل وجہ سامنے آگئی

یہ جملہ محض ایک لمحاتی نعرہ نہیں تھا بلکہ ان کے دل سے نکلا ہوا جذبہ تھا

کراچی: پاکستان کرکٹ ٹیم کے فاسٹ بولر حسن علی نے اپنے ہم عصر اور سابق کپتان بابر اعظم کی تعریفوں کے پل باندھ دیے، انہیں موجودہ دور کا بہترین بیٹسمین قرار دیتے ہوئے کہا کہ ان کا مشہور جملہ ’’کنگ کرلے گا‘‘ محض ایک نعرہ نہیں بلکہ دل سے نکلا جذبہ تھا۔ ’’کرکٹ پاکستان‘‘ کو دیے گئے ایک خصوصی انٹرویو میں حسن علی نے بابر اعظم کی شاندار کارکردگی، ان کی محنت، اور عالمی سطح پر ان کی پذیرائی پر روشنی ڈالی۔ اس کے ساتھ ہی، انہوں نے اپنی اپنی کرکٹ کی ترجیحات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ٹیسٹ کرکٹ ان کی سب سے ببڑھ کر محبت ہے اور وہ جب تک فٹنس اجازت دے گی، ریڈ بال کرکٹ سے کنارہ کشی نہیں کریں گے۔ حسن کی حالیہ فارم اور انگلینڈ کی ٹی ٹوئنٹی بلاسٹ میں بہترین کارکردگی نے ان کی قومی ٹیم میں واپسی کے امکانات کو روشن کر دیا ہے۔

بابر اعظم: موجودہ دور کے بہترین بیٹسمین

حسن علی نے بابر اعظم کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے اپنی غیرمعمولی بیٹنگ اور پیشہ ورانہ رویے سے ثابت کیا کہ وہ اس دور کے سرفہرست بلے باز ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بابر کو ’’کنگ‘‘ کا لقب پاکستانی ٹیم کے کھلاڑیوں نے مشترکہ طور پر دیا، جو ان کی مستقل مزاجی اور عظیم بیٹنگ کی عکاسی کرتا ہے۔ حسن نے بابر کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ عالمی کرکٹ کے دیوہیکل کھلاڑی جیسے کہ ویرات کوہلی، کین ولیمسن، اسٹیو اسمتھ، اور جو روٹ بھی ان کی بیٹنگ کے معترف ہیں۔ خاص طور پر بابر کا کور ڈرائو، جو کہ ان کی دستخطی شاٹ ہے، کو حسن نے کوہلی کے مقابلے میں زیادہ پرکشش قرار دیا۔ انہوں نے کہا، ’’اگر آپ کسی ماہر سے پوچھیں کہ بابر کا کور ڈرائو بہتر ہے یا کوہلی کا، تو زیادہ تر لوگ بابر کو ترجیح دیتے ہیں۔‘‘

حسن نے بابر کی قیادت کی بھی ستائش کی، یہ کہتے ہوئے کہ اگرچہ وہ بدقسمتی سے کوئی بڑی ٹرافی نہ جیت سکے، لیکن ان کی کپتانی پاکستان کے عظیم کپتانوں میں شمار ہوتی ہے۔ انہوں نے اپنی اور بابر کی ایک ساتھ کرکٹ کے سفر کی شروعات کا ذکر کیا، کہا کہ دونوں کا ڈیبیو 2015 میں تقریباً ایک ہی وقت ہوا تھا۔ حسن نے کہا، ’’میں نے بابر کو ایک نوآموز کھلاڑی سے عالمی شہرت یافتہ بلے باز بنتے دیکھا۔ ان کی محنت، رنز بنانے کی بھوک، اور میدان میں عزم نے انہیں پاکستان کرکٹ کا بادشاہ بنایا۔‘‘

’’کنگ کرلے گا‘‘ کی کہانی

حسن علی نے اپنے مشہور جملے ’’کنگ کرلے گا‘‘ کی پس پردہ کہانی کو ایک بار پھر بیان کیا، جو 2021 کے ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ کے دوران بابر اعظم کے لیے کہا گیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ یہ جملہ محض ایک لمحاتی نعرہ نہیں تھا بلکہ ان کے دل سے نکلا ہوا جذبہ تھا، جو بابر کی صلاحیتوں پر ان کے گہرے یقین کو ظاہر کرتا ہے۔ حسن نے کہا کہ بابر کی بیٹنگ عالمی معیار کی ہے، اور ان کا کھیل دیکھ کر ہر پاکستانی کو فخر ہوتا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ یہ جملہ بابر کے لیے ان کی عزت اور ٹیم کے اتحاد کی علامت بن گیا، جو آج بھی شائقین کے دلوں میں گونجتا ہے۔

حسن علی کا کرکٹ کیریئر اور ترجیحات

اپنے کرکٹ کیریئر پر بات کرتے ہوئے حسن علی نے کہا کہ وہ تینوں فارمیٹس—ٹیسٹ، ون ڈے، اور ٹی ٹوئنٹی—میں کھیلنا چاہتے ہیں، لیکن ان کی سب سے بڑی محبت ٹیسٹ کرکٹ ہے۔ انہوں نے کہا کہ ٹی ٹوئنٹی کرکٹ میں پیسہ اور شہرت تو ہے، اور دباؤ بھی نسبتاً کم ہوتا ہے، لیکن ٹیسٹ کرکٹ ایک کھلاڑی کا اصل امتحان ہے۔ حسن نے عزم ظاہر کیا کہ وہ مستقبل میں ٹی ٹوئنٹی یا ون ڈے سے ریٹائرمنٹ لے سکتے ہیں، لیکن جب تک ان کی فٹنس اجازت دے گی، وہ ٹیسٹ کرکٹ کھیلتے رہیں گے۔ انہوں نے کہا، ’’ریڈ بال کرکٹ میری روح ہے۔ ٹیسٹ میچ میں پرفارم کرنا ہر کھلاڑی کا خواب ہوتا ہے۔‘‘

حسن نے اپنے مشکل دور کا بھی ذکر کیا، جب انہیں انجری اور خراب فارم کی وجہ سے ٹیم سے باہر ہونا پڑا۔ انہوں نے کہا کہ اس مشکل وقت نے انہیں زیادہ محنت اور صبر سکھایا، اور اب ان کی محنت رنگ لا رہی ہے۔ انگلینڈ کی ٹی ٹوئنٹی بلاسٹ میں واروکشائر کی نمائندگی کرتے ہوئے ان کی بولنگ کا ردھم اور فٹنس شاندار رہی ہے۔ انہوں نے کہا، ’’میری بولنگ درست سمت میں جا رہی ہے، اور فٹنس بھی زبردست ہے۔ اب سب کچھ پلان کے مطابق ہو رہا ہے۔‘‘

ٹیم مینجمنٹ کے ساتھ تعاون

حسن علی نے قومی ٹیم کی مینجمنٹ اور کپتان کے ساتھ اپنی بات چیت کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ انہیں واضح ہدایات اور مستقبل کا پلان دیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ جب کھلاڑی کو مینجمنٹ کی جانب سے شفاف پیغام ملتا ہے، تو اس کا اعتماد بڑھتا ہے، اگرچہ اس کے ساتھ دباؤ بھی آتا ہے۔ حسن نے کہا کہ ان کی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنی کارکردگی سے ٹیم میں جگہ بنائیں، جبکہ سلیکشن کا فیصلہ پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی)، کپتان، اور مینجمنٹ پر منحصر ہے۔ انہوں نے کہا، ’’میں اپنا کام کر رہا ہوں، اور مینجمنٹ نے جو پلان دیا ہے، اس پر عمل کر رہا ہوں۔ یہ واضح ہدایات میرے لیے خوشی کا باعث ہیں۔‘‘

ٹی ٹوئنٹی کرکٹ کی کشش

حسن علی نے ٹی ٹوئنٹی کرکٹ کی عالمی اپیل پر بھی بات کی، کہا کہ اس فارمیٹ میں نہ صرف گلیمر اور پیسہ ہے بلکہ کھلاڑیوں پر دباؤ بھی کم ہوتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ دنیا بھر میں ٹی ٹوئنٹی لیگز کی بہتات ہے، اور اگر کوئی کھلاڑی سال میں تین یا چار لیگز کھیل لے تو وہ اچھی خاصی رقم کما سکتا ہے۔ تاہم، انہوں نے واضح کیا کہ ان کی ترجیح پاکستان کی نمائندگی کرنا ہے، اور وہ ہر فارمیٹ میں اپنا بہترین دینا چاہتے ہیں۔ انہوں نے کہا، ’’ٹی ٹوئنٹی میں پیسہ تو ہے، لیکن میری اولین خواہش پاکستان کے لیے کھیلنا ہے۔‘‘

سوشل میڈیا پر ردعمل

حسن علی کے انٹرویو نے سوشل میڈیا پر شائقین کی توجہ حاصل کی، جہاں ان کی بابر اعظم کی تعریف اور ’’کنگ کرلے گا‘‘ کے جملے کی وضاحت کو خوب سراہا گیا۔ ایک ایکس صارف نے لکھا، ’’حسن علی کا بابر کے لیے یہ جذبہ قابل ستائش ہے۔ یہ دکھاتا ہے کہ ٹیم میں اتحاد کتنا مضبوط ہے۔‘‘ ایک دوسرے صارف نے کہا، ’’حسن کی ٹیسٹ کرکٹ سے محبت ان کی پروفیشنلزم کی عکاسی کرتی ہے۔ امید ہے کہ وہ جلد قومی ٹیم میں واپس آئیں گے۔‘‘ ان ردعمل سے ظاہر ہوتا ہے کہ حسن علی کی محنت اور جذبے کو شائقین قدر کی نگاہ سے دیکھتے ہیں۔

حسن علی کا انٹرویو نہ صرف ان کی ذاتی محنت اور عزائم کی عکاسی کرتا ہے بلکہ پاکستانی کرکٹ کے موجودہ منظرنامے میں ٹیم کے اتحاد اور بابر اعظم کی عالمی مقبولیت کو بھی اجاگر کرتا ہے۔ بابر اعظم کی تعریف میں حسن کا جذبہ اور ’’کنگ کرلے گا‘‘ جملے کی وضاحت سے ظاہر ہوتا ہے کہ پاکستانی ٹیم کے کھلاڑیوں میں بابر کے لیے گہری عزت اور اعتماد موجود ہے۔ بابر کی عالمی سطح پر پذیرائی، جیسا کہ حسن نے عالمی کھلاڑیوں کے حوالے سے ذکر کیا، پاکستانی کرکٹ کے لیے ایک فخر کی بات ہے۔ بابر کا کور ڈرائو اور ان کی مستقل مزاجی انہیں واقعی اس دور کے بہترین بیٹسمینوں میں شامل کرتی ہے۔

حسن علی کی ٹیسٹ کرکٹ سے محبت اور ان کا عزم کہ وہ اس فارمیٹ کو کبھی نہیں چھوڑیں گے، پاکستانی کرکٹ کے لیے ایک مثبت پیغام ہے۔ ٹیسٹ کرکٹ، جو کہ کھیل کا سب سے مشکل امتحان ہے، پاکستان کے لیے ہمیشہ اہم رہی ہے، اور حسن جیسے کھلاڑیوں کی لگن سے یہ فارمیٹ مضبوط ہو سکتا ہے۔ ان کی حالیہ فارم، خاص طور پر انگلینڈ کی ٹی ٹوئنٹی بلاسٹ میں، ان کی قومی ٹیم میں واپسی کے امکانات کو بڑھاتی ہے، بشرطیکہ وہ اپنی فٹنس اور کارکردگی کو برقرار رکھیں۔

ٹی مینجمنٹ کی شفاف ہدایت اور حسن کے ساتھ واضح پلاننگ سے ظاہر ہوتا ہے کہ پی سی بی کھلاڑیوں کی حوصلہ افزائی اور ان کے کیریئر کی ترقی کے لیے کوشاں ہے۔ یہ ایک مثبت علامت ہے، کیونکہ شفافیت کھلاڑیوں کے اعتماد کو بڑھاتی ہے، جیسا کہ حسن نے خود کہا۔ تاہم، حسن کا یہ کہنا کہ سلیکشن مینجمنٹ کی صوابدید پر ہے، اس بات کی طرف اشارہ کرتا ہے کہ پاکستانی کرکٹ کو سلیکشن کے عمل میں مزید مستقل مزاجی کی ضرورت ہے تاکہ کھلاڑیوں کو غیر ضروری دباؤ نہ ہو۔

حسن کا ٹی ٹوئنٹی لیگز کی مالی کشش کا ذکر ایک حقیقت پسندانہ نقطہ نظر پیش کرتا ہے، لیکن ان کی ترجیح کہ پاکستان کے لیے کھیلنا ہے، ان کی قومی وفاداری کو ظاہر کرتی ہے۔ پاکستانی کرکٹ کے شائقین کے لیے یہ انٹرویو ایک امید افزا پیغام ہے کہ حسن علی اپنی محنت اور جذبے سے قومی ٹیم میں واپسی کے لیے تیار ہیں۔ اگر وہ اپنی فارم اور فٹنس کو برقرار رکھتے ہیں، تو وہ پاکستان کے تیز بولنگ اٹیک کو مضبوط کر سکتے ہیں، خاص طور پر ٹیسٹ کرکٹ میں۔

یہ انٹرویو پاکستانی کرکٹ کے مستقبل کے لیے ایک عمیق پیغام بھی دیتا ہے: اتحاد، محنت، اور واضح منصوبہ بندی سے کھیل کو نئی بلندیوں تک لے جایا جا سکتا ہے۔ حسن علی کی کہانی ہر اس کھلاڑی کے لیے ایک سبق ہے جو مشکل وقت سے گزر کر دوبارہ اٹھنا چاہتا ہے۔ پاکستانی شائقین کی امید ہے کہ حسن اور بابر جیسے کھلاڑی مل کر پاکستان کرکٹ کو عالمی سطح پر مزید کامیابیاں دلائیں گے

متعلقہ خبریں

مقبول ترین