بلوچستان میں فتنۃ الہندوستان کا حملہ، پنجاب جانے والی بسوں سے 9 مسافر شناخت کے بعد شہید کر دیے

یہ افسوسناک واقعہ جمعرات کی رات سرہ ڈاکئی کے قریب پیش آیا

کوئٹہ: بلوچستان کے ضلع لورالائی اور موسیٰ خیل کے درمیان قومی شاہراہ پر واقع سرہ ڈاکئی کے علاقے میں فتنۃ الہندوستان سے منسلک دہشت گردوں نے ایک دلخراش اور سفاکانہ حملہ کرتے ہوئے پنجاب جانے والی دو بسوں سے 9 مسافروں کو شناخت کے بعد اتار کر گولیوں سے بھون ڈالا۔ اس بہیمانہ کارروائی نے نہ صرف بلوچستان بلکہ پورے پاکستان کو سوگ میں ڈبو دیا۔ شہید ہونے والوں میں دو سگے بھائی، عثمان طور اور جابر طور، بھی شامل تھے، جو اپنے والد کے جنازے میں شرکت کے لیے کوئٹہ سے پنجاب واپس جا رہے تھے۔ بلوچستان حکومت نے اس واقعے کی شدید مذمت کی اور اسے پاکستان کے امن و استحکام کے خلاف دشمن کی گھناؤنی سازش قرار دیا۔ سیکیورٹی فورسز نے فوری ردعمل دیتے ہوئے دہشت گردوں کے تعاقب کے لیے ایک بھرپور سرچ آپریشن شروع کر دیا ہے، جو بدستور جاری ہے۔

سرہ ڈاکئی میں خونریز واقعہ

یہ افسوسناک واقعہ جمعرات کی رات سرہ ڈاکئی کے قریب پیش آیا، جہاں مسلح دہشت گردوں نے قومی شاہراہ پر پنجاب جانے والی دو بسوں کو روکا۔ انہوں نے مسافروں کے شناختی کارڈ چیک کیے اور مخصوص افراد کو نشانہ بناتے ہوئے انہیں بسوں سے اتارا۔ اس کے بعد، ان بے گناہ شہریوں کو بے رحمی سے گولیاں مار کر شہید کر دیا گیا۔ شہدا میں شامل دو بھائی، عثمان اور جابر، اپنے والد کے انتقال کے بعد ان کے جنازے میں شرکت کے لیے سفر کر رہے تھے۔ ان کے بھائی صابر نے سوشل میڈیا پر اپنے دکھ کا اظہار کرتے ہوئے بتایا کہ ان کے والد کا انتقال ایک روز قبل ہوا تھا، اور صبح 9 بجے ان کی نماز جنازہ تھی۔ یہ خاندان اس سانحے سے شدید صدمے میں ہے، اور ان کی کہانی نے عوام کے دلوں کو چھو لیا ہے۔

بلوچستان حکومت کے ترجمان شاہد رند نے اس واقعے کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ یہ حملہ فتنۃ الہندوستان نامی دہشت گرد گروہ کی کارروائی ہے، جو پاکستان کے استحکام اور اتحاد کو نقصان پہنچانے کے لیے سرگرم ہے۔ انہوں نے کہا کہ دہشت گردوں نے رات کی تاریکی کا فائدہ اٹھایا اور شناخت کے بعد پنجاب سے تعلق رکھنے والے مسافروں کو نشانہ بنایا۔ شاہد رند نے اسے دشمن کے ناپاک عزائم کا مظہر قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ حملہ پاکستان کی سالمیت اور یکجہتی کے خلاف ایک کھلی جنگ ہے۔

سیکیورٹی فورسز کا فوری ردعمل

حملے کی اطلاع ملتے ہی سیکیورٹی فورسز نے فوری طور پر جائے وقوعہ پر پہنچ کر ایک وسیع پیمانے پر سرچ آپریشن شروع کیا۔ شاہد رند کے مطابق، دہشت گرد رات کے اندھیرے میں فرار ہونے میں کامیاب ہو گئے، لیکن سیکیورٹی فورسز ان کا پیچھا کر رہی ہیں اور انہیں گرفتار کرنے یا انجام تک پہنچانے کے لیے پرعزم ہیں۔ انہوں نے کہا کہ سیکیورٹی فورسز نے سرہ ڈاکئی کے علاوہ قلات اور مستونگ میں بھی دہشت گردوں کے حملوں کا بھرپور جواب دیا، جہاں فتنۃ الہندوستان نے ایک ہی رات میں تین مختلف مقامات پر کارروائیاں کیں۔

ژوب کے اسسٹنٹ کمشنر نوید عالم نے بتایا کہ شہدا کی میتیں رکھنی منتقل کی جا رہی ہیں، جہاں سے انہیں ان کے آبائی علاقوں میں پنجاب بھیجا جائے گا۔ کمشنر ڈیرہ غازی خان اشفاق احمد چوہدری نے اعلان کیا کہ وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کی ہدایت پر شہدا کی میتوں کو واپس لانے کے لیے پانچ ایمبولینسیں بلوچستان روانہ کر دی گئی ہیں۔ یہ اقدام شہدا کے اہل خانہ کے لیے ایک بڑی سہولت ہے، جو اس مشکل وقت میں اپنے پیاروں کی آخری رسومات کی تیاری کر رہے ہیں۔

حکومتی ردعمل اور مذمت

وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے اس خونریز واقعے کی سخت الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے اسے فتنۃ الہندوستان کی کھلی دہشت گردی قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ معصوم شہریوں کو ان کی پاکستانی شناخت کی بنیاد پر قتل کرنا ایک ناقابل معافی جرم ہے، اور اس کا جواب فیصلہ کن اور فوری ہوگا۔ انہوں نے دہشت گردوں کو ’’بزدل درندوں‘‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ بلوچستان کی سرزمین پر بہایا گیا بے گناہوں کا خون رائیگاں نہیں جائے گا۔ میر سرفراز نے مزید کہا کہ ریاستی ادارے دشمنوں کو زمین کے اندر بھی چھپنے نہیں دیں گے، اور بلوچستان کو دہشت گردوں کے لیے قبرستان بنایا جائے گا۔ انہوں نے شہدا کے اہل خانہ سے گہری ہمدردی کا اظہار کیا اور زخمیوں کو بہترین طبی سہولیات فراہم کرنے کی ہدایت جاری کی۔

وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے بھی اس واقعے پر گہرے دکھ کا اظہار کیا اور اسے فتنۃ الہندوستان کے دہشت گردوں کی سفاکیت کی انتہا قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ یہ حملہ نہ صرف بے گناہ شہریوں کے خلاف ہے بلکہ پاکستان کے امن، سلامتی، اور اتحاد پر حملہ ہے۔ محسن نقوی نے عہد کیا کہ بھارتی حمایت یافتہ دہشت گردوں اور ان کے مقامی سہولت کاروں کا پیچھا کیا جائے گا، اور انہیں انصاف کے کٹہرے میں لایا جائے گا۔ انہوں نے سوگوار خاندانوں کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ پوری قوم اس دکھ کی گھڑی میں ان کے ساتھ کھڑی ہے۔

سوشل میڈیا پر عوامی غم و غصہ

سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر اس واقعے نے شدید غم و غصے کی لہر دوڑا دی۔ ایک صارف نے لکھا، ’’فتنۃ الہندوستان نے ایک بار پھر اپنی درندگی دکھائی۔ دو بھائی جو اپنے والد کے جنازے کے لیے جا رہے تھے، انہیں بھی نہیں بخشا۔ یہ کیسی سفاکی ہے؟‘‘ ایک اور صارف نے کہا، ’’بلوچستان کے عوام اور سیکیورٹی فورسز کو خراج تحسین پیش کرتا ہوں جو اس مشکل وقت میں دشمن کا مقابلہ کر رہے ہیں۔‘‘ صارفین نے دہشت گردوں کے خلاف سخت کارروائی اور شہدا کے اہل خانہ کے لیے انصاف کا مطالبہ کیا۔ عثمان اور جابر کی کہانی نے خاص طور پر عوام کو متاثر کیا، کیونکہ ان کی ذاتی زندگی کی یہ المناک داستان ہر پاکستانی کے دل کو چھو گئی۔

فتنۃ الہندوستان اور بلوچستان کا تنازع

فتنۃ الہندوستان، جسے پاکستانی حکام بھارتی حمایت یافتہ دہشت گرد گروہوں کے طور پر بیان کرتے ہیں، نے حال ہی میں بلوچستان میں اپنی سرگرمیاں تیز کر دی ہیں۔ سرکاری ذرائع کے مطابق، یہ گروہ بلوچستان لبریشن فرنٹ (بی ایل ایف) سے منسلک ہے، جو کہ ایک کالعدم تنظیم ہے اور بلوچستان میں علیحدگی پسندی کی تحریک کو ہوا دیتی ہے۔ بی ایل ایف نے اس حملے کی ذمہ داری قبول کی، اور ان کے ترجمان نے دعویٰ کیا کہ یہ کارروائی قومی شاہراہ پر کی گئی، جہاں مسافروں کو شناخت کے بعد نشانہ بنایا گیا۔ حکام نے اسے پاکستان کے استحکام کو کمزور کرنے کی دانستہ کوشش قرار دیا۔

یہ حملہ بلوچستان میں جاری شورش کا ایک حصہ ہے، جو کئی دہائیوں سے جاری ہے۔ بلوچ علیحدگی پسند گروہوں کا دعویٰ ہے کہ وفاقی حکومت صوبے کے وسائل کا استحصال کرتی ہے، جبکہ پاکستانی حکام ان گروہوں کو غیر ملکی ایجنڈوں کا آلہ کار قرار دیتے ہیں۔ حالیہ برسوں میں، بلوچستان میں دہشت گردی کے واقعات میں اضافہ دیکھا گیا ہے، جن میں سیکیورٹی فورسز، سرکاری تنصیبات، اور عام شہریوں کو نشانہ بنایا گیا۔ سرہ ڈاکئی کا یہ واقعہ اس سلسلے کی ایک اور کڑی ہے، جو صوبے میں سیکیورٹی کی نازک صورتحال کو اجاگر کرتا ہے۔

سرہ ڈاکئی میں پیش آنے والا یہ دلخراش واقعہ بلوچستان میں جاری دہشت گردی کی لہر اور اس کے پیچھے کارفرما سیاسی و جغرافیائی عوامل کی عکاسی کرتا ہے۔ فتنۃ الہندوستان، یا بلوچستان لبریشن فرنٹ، کی جانب سے پنجاب سے تعلق رکھنے والے مسافروں کو نشانہ بنانا ایک سوچی سمجھی حکمت عملی کا حصہ لگتا ہے، جس کا مقصد نسلی تقسیم کو ہوا دینا اور صوبے میں عدم استحکام پیدا کرنا ہے۔ عثمان اور جابر جیسے شہریوں کی شہادت، جو اپنے والد کے جنازے کے لیے سفر کر رہے تھے، اس بات کی طرف اشارہ کرتی ہے کہ دہشت گرد عام شہریوں کی زندگیوں کو بھی نشانہ بنا رہے ہیں، جو کہ ایک ناقابل قبول عمل ہے۔

بلوچستان حکومت اور وفاقی وزیر داخلہ کی جانب سے اس حملے کو ’’بھارتی حمایت یافتہ‘‘ قرار دینا پاکستان اور بھارت کے درمیان جاری کشیدگی کا ایک اور مظہر ہے۔ اگرچہ پاکستانی حکام نے اس دعوے کے حق میں ٹھوس شواہد پیش نہیں کیے، لیکن یہ بیانات خطے کی جغرافیائی سیاست کو مزید پیچیدہ کر رہے ہیں۔ بلوچستان، جو اپنی سٹریٹجک اہمیت اور قدرتی وسائل کی وجہ سے ہمیشہ سے حساس رہا ہے، اب ایک ایسی جنگ کا میدان بن چکا ہے جہاں مقامی شورش اور غیر ملکی مداخلت کے الزامات ایک دوسرے سے جڑے ہوئے ہیں۔

سیکیورٹی فورسز کا فوری ردعمل اور سرچ آپریشن ایک مثبت اقدام ہے، لیکن دہشت گردوں کا رات کی تاریکی میں فرار ہونا اس بات کی طرف اشارہ کرتا ہے کہ صوبے میں سیکیورٹی کے ڈھانچے کو مزید مضبوط کرنے کی ضرورت ہے۔ شاہراہوں پر چیک پوسٹس اور خفیہ اطلاعات کے نظام کو بہتر بنانا اس طرح کے واقعات کو روکنے کے لیے ناگزیر ہے۔ اس کے علاوہ، بلوچ عوام کی شکایات، جیسے کہ وسائل کی غیر منصفانہ تقسیم اور ترقیاتی منصوبوں میں عدم شمولیت، کو حل کرنے کے لیے جامع پالیسیوں کی ضرورت ہے تاکہ علیحدگی پسندی کی تحریک کو جڑ سے ختم کیا جا سکے۔

سوشل میڈیا پر عوام کا غم و غصہ اور شہدا کے اہل خانہ کے ساتھ ہمدردی اس بات کی عکاسی کرتی ہے کہ پاکستانی قوم اس مشکل وقت میں متحد ہے۔ تاہم، دہشت گردی کے خلاف جنگ میں صرف فوجی کارروائی کافی نہیں ہے۔ بلوچستان کے عوام کو ترقی، تعلیم، اور روزگار کے مواقع فراہم کر کے انہیں قومی دھارے میں شامل کرنا ہوگا تاکہ وہ دہشت گرد گروہوں کے پروپیگنڈے سے محفوظ رہیں۔

وزیراعلیٰ بلوچستان اور وفاقی وزیر داخلہ کے عزم کے بیانات سے ظاہر ہوتا ہے کہ حکومت اس چیلنج سے نمٹنے کے لیے پرعزم ہے، لیکن اس کے لیے ایک طویل المدتی حکمت عملی کی ضرورت ہے۔ اگر بلوچستان میں امن و امان بحال کرنا ہے تو دہشت گردوں کے خلاف سخت کارروائی کے ساتھ ساتھ صوبے کے عوام کے اعتماد کو جیتنا بھی ضروری ہے۔ یہ واقعہ ایک بار پھر اس بات کی یاد دہانی کراتا ہے کہ پاکستان کو اپنی اندرونی اور بیرونی سیکیورٹی کو مضبوط کرنے کے لیے ایک جامع اور مربوط پالیسی کی ضرورت ہے۔

متعلقہ خبریں

مقبول ترین