لاہور:پاکستان گزشتہ چند سالوں سے سموگ اور ماحولیاتی تبدیلی کے سنگین مسائل سے دوچار ہے۔ لاہور سمیت صوبے کے کئی شہروں میں ہر سال موسم سرما کے دوران سموگ کی وجہ سے فضائی آلودگی خطرناک سطح تک پہنچ جاتی ہے، جس سے انسانی صحت، زراعت، اور معیشت پر منفی اثرات مرتب ہو رہے ہیں۔ صنعتی اخراج، گاڑیوں کی بڑھتی ہوئی تعداد، جنگلات کی کٹائی، اور غیر پائیدار ترقیاتی منصوبوں نے ماحولیاتی توازن کو شدید نقصان پہنچایا ہے۔
گرین پنجاب مشن
سینئر صوبائی وزیر مریم اورنگزیب نے اعلان کیا ہے کہ وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کے ’گرین پنجاب مشن‘ کے تحت سموگ اور ماحولیاتی تبدیلی کے مضر اثرات سے نمٹنے کے لیے ایک جامع اور تاریخی شجرکاری مہم کا آغاز کیا گیا ہے۔ اس مہم کے تحت گزشتہ ایک سال میں 1 کروڑ 30 لاکھ سے زائد درخت لگائے جا چکے ہیں، جبکہ رواں مالی سال 2025-26 کے لیے 5 کروڑ 10 لاکھ درخت لگانے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے، جو ملکی تاریخ کی سب سے بڑی جنگلاتی کوریج کے طور پر شمار ہوگا۔
سموگ کے خلاف مستقل بنیادوں پر اصلاحات
مریم اورنگزیب نے کہا کہ سموگ کے خلاف جاری جنگ صرف موسمی نوعیت کی نہیں، بلکہ یہ مستقل بنیادوں پر سسٹم بیسڈ اصلاحات اور ماحولیاتی ایمرجنسی کے تحت جاری ہے۔ اس مقصد کے لیے ’پلانٹ فار پاکستان‘ انیشی ایٹو کے تحت 41 ہزار 345 ایکڑ رقبے پر 3 کروڑ 42 لاکھ درخت لگانے کا ہدف طے کیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ ’گرین پاکستان پروگرام‘ کو وسعت دیتے ہوئے 18 ہزار 385 ایکڑ پر 1.5 کروڑ سے زائد درخت لگانے کا کام شروع ہو چکا ہے۔
نہروں اور شاہراہوں کے کناروں پر 3000 کلومیٹر طویل رقبے پر 18 لاکھ پودوں کی شجرکاری کا عمل بھی جاری ہے۔ مری اور کہوٹہ میں جنگلاتی آگ اور سموگ کے تدارک کے لیے ’شیلڈنگ سمٹس پروگرام‘ کے تحت 600 فائر واچرز کی بھرتی کی گئی ہے، جبکہ واچ ٹاورز اور فائر وہیکلز کی فراہمی بھی عمل میں لائی جا رہی ہے۔
جدید ٹیکنالوجی کا استعمال
شجرکاری اور جنگلات کی حفاظت کے لیے جدید ٹیکنالوجی کو بروئے کار لایا جا رہا ہے۔ جی آئی ایس (جغرافیائی معلوماتی نظام)، ڈرونز، اور سیٹلائٹ نگرانی کے نظام کو فعال کیا گیا ہے تاکہ جنگلات پر تجاوزات اور آگ کے واقعات کی فوری نشاندہی کی جا سکے۔ صوبہ بھر میں 104 فارسٹ کمانڈ اینڈ کنٹرول سینٹرز قائم کیے گئے ہیں، جو جنگلات کی 24 گھنٹے مانیٹرنگ کو یقینی بنائیں گے۔ درختوں کی قطاروں کی ڈیجیٹل نمبر شماری اور جی آئی ایس پر مبنی فہرست سازی کا عمل بھی جاری ہے تاکہ شجرکاری کے عمل میں شفافیت اور موثر منصوبہ بندی کو یقینی بنایا جا سکے۔
ماحولیاتی سیاحت اور محفوظ قدرتی علاقوں کا قیام
ماحولیاتی سیاحت کے فروغ کے لیے لال سوہانرا نیشنل پارک اور سالٹ رینج میں بین الاقوامی معیار کی سہولیات فراہم کی جا رہی ہیں۔ اس کے علاوہ ماحول دوست لیڈ سرٹیفائیڈ عمارتوں کی تعمیر کو ترجیح دی گئی ہے، جو ماحولیاتی توازن کی بحالی میں اہم کردار ادا کر رہی ہیں۔ ان اقدامات سے نہ صرف ماحولیاتی تحفظ کو یقینی بنایا جا رہا ہے بلکہ سیاحت کے شعبے کو بھی فروغ دیا جا رہا ہے۔
اسے بھی پڑھیں: وہ درخت جو بارش کی آمد کی پیشگی خبر دیتے ہیں
مریم اورنگزیب کا عزم
مریم اورنگزیب نے کہا کہ ’پلانٹ فار پاکستان‘ اور ’گرین پنجاب پروگرام‘ صرف شجرکاری کے منصوبے نہیں، بلکہ یہ مستقبل کی نسلوں کے لیے ایک محفوظ اور قابلِ سانس ماحول چھوڑنے کی قومی تحریک ہیں۔ انہوں نے زور دیا کہ درختوں کی حفاظت دراصل زندگی کی حفاظت ہے، اور یہ مہم آنے والی نسلوں کے لیے ایک صحت مند ماحول کی ضمانت ہے۔
تجزیہ
پنجاب حکومت کی جانب سے گرین پنجاب مشن ایک قابلِ تحسین اقدام ہے، جو ماحولیاتی تبدیلیوں اور سموگ جیسے سنگین مسائل سے نمٹنے کی ایک جامع حکمت عملی کی عکاسی کرتا ہے۔ گزشتہ ایک سال میں 1 کروڑ 30 لاکھ درختوں کی شجرکاری اور رواں مالی سال کے لیے 5 کروڑ 10 لاکھ درختوں کا ہدف ملکی تاریخ میں ایک غیر معمولی کامیابی ہے۔ جدید ٹیکنالوجی کا استعمال، جیسے کہ ڈرونز اور سیٹلائٹ مانیٹرنگ، اس مہم کی شفافیت اور کامیابی کو یقینی بنانے میں اہم کردار ادا کر رہا ہے۔
تاہم، اس مہم کے کامیاب نفاذ کے لیے چند چیلنجز پر قابو پانا ضروری ہے۔ سب سے بڑا چیلنج لگائے گئے درختوں کی دیکھ بھال اور ان کی طویل مدتی بقا کو یقینی بنانا ہے۔ ماضی میں شجرکاری مہمات اکثر پودوں کی مناسب نگہداشت کے فقدان کی وجہ سے ناکام ہوئی ہیں۔ اس کے علاوہ، فائر واچرز کی بھرتی اور واچ ٹاورز کی تنصیب جیسے اقدامات خوش آئند ہیں، لیکن ان کی تعداد اور وسائل کی دستیابی کو مزید بڑھانے کی ضرورت ہے، خاص طور پر جنگلاتی آگ کے بڑھتے ہوئے خطرات کے پیش نظر۔
’پلانٹ فار پاکستان‘ اور ’گرین پاکستان پروگرام‘ کے تحت نہروں، شاہراہوں، اور وسیع رقبوں پر شجرکاری نہ صرف ماحولیاتی توازن بحال کرنے میں مدد دے گی بلکہ مقامی آبادی کے لیے روزگار کے مواقع بھی پیدا کرے گی۔ ماحولیاتی سیاحت کے فروغ کے لیے لال سوہانرا اور سالٹ رینج جیسے علاقوں میں سہولیات کا قیام سیاحت کے شعبے کو مضبوط کرے گا اور معاشی ترقی میں معاون ثابت ہوگا۔
تاہم، اس مہم کی کامیابی کے لیے عوامی شعور اور مقامی کمیونٹیز کی شمولیت انتہائی ضروری ہے۔ حکومت کو چاہیے کہ وہ مقامی لوگوں کو اس مہم کا حصہ بنائے اور شجرکاری کے فوائد کے بارے میں آگاہی مہمات چلائے۔ مزید برآں، شفافیت کے لیے ڈیجیٹل نمبر شماری اور جی آئی ایس کا استعمال ایک مثبت قدم ہے، لیکن اس نظام کی مستقل نگرانی اور ڈیٹا کی تصدیق کے لیے ایک مضبوط میکانزم کی ضرورت ہے۔
گرین پنجاب مشن اور اس کے تحت شروع کیے گئے پروگرامز ماحولیاتی تحفظ اور سموگ کے خاتمے کی جانب ایک اہم پیش رفت ہیں۔ اگر ان اقدامات پر منصوبہ بندی کے مطابق عمل درآمد کیا گیا اور چیلنجز سے نمٹنے کے لیے مناسب وسائل مختص کیے گئے تو یہ مہم نہ صرف پنجاب بلکہ پورے پاکستان کے لیے ایک صحت مند اور پائیدار ماحول کی بنیاد رکھ سکتی ہے۔ یہ نہ صرف ماحولیاتی بہتری کا باعث بنے گی بلکہ معاشی اور سماجی ترقی کے لیے بھی ایک سنگ میل ثابت ہوگی۔





















