لاہور:پنجاب بالخصوص لاہور گزشتہ کئی سالوں سے سموگ اور ماحولیاتی آلودگی کے سنگین مسائل سے دوچار ہے۔ ہر سال موسم سرما کے دوران فضائی آلودگی خطرناک سطح تک پہنچ جاتی ہے، جو عوامی صحت، زراعت، اور معیشت پر منفی اثرات مرتب کرتی ہے۔ شہر میں بڑھتی ہوئی گاڑیوں کی تعداد، صنعتی اخراج، اور جنگلات کی کٹائی نے ماحولیاتی توازن کو شدید نقصان پہنچایا ہے۔
ریسٹورنٹس کے خلاف کارروائی کا حکم
لاہور ہائیکورٹ نے سموگ اور ماحولیاتی آلودگی سے نمٹنے کے لیے سخت فیصلے جاری کرتے ہوئے رات 12 بجے کے بعد کھلے رہنے والے ریسٹورنٹس کے خلاف فوری کارروائی کا حکم دیا ہے۔ عدالت نے کینال روڈ پر ییلو لائن پراجیکٹ کے تحت درختوں کی ممکنہ کٹائی پر شدید تحفظات کا اظہار کیا اور ڈائریکٹر جنرل (ڈی جی) پنجاب ہارٹیکلچرل اتھارٹی (پی ایچ اے) کو تنبیہ کی کہ عدالت کی اجازت کے بغیر کوئی درخت نہیں کاٹا جائے گا۔ اس کے علاوہ، عدالت نے جوہر ٹاؤن میں میاواکی طرز پر شجرکاری کی تجویز پیش کی تاکہ شہر میں سبزہ جات کی بحالی کو فروغ دیا جا سکے۔
سموگ تدارک
جسٹس شاہد کریم کی سربراہی میں لاہور ہائیکورٹ میں ہارون فاروق اور دیگر کی جانب سے دائر کردہ سموگ تدارک سے متعلق درخواستوں پر سماعت ہوئی۔ سماعت کے دوران محکمہ ماحولیات سمیت متعلقہ اداروں کے افسران عدالت میں پیش ہوئے۔ عدالت نے کینال روڈ پر درختوں کی کٹائی کے حوالے سے سخت پابندیاں عائد کرتے ہوئے واضح کیا کہ کوئی بھی درخت کاٹنے سے قبل عدالتی اجازت لازمی ہوگی۔ ڈی جی پی ایچ اے کے بیان پر سخت تنقید کرتے ہوئے عدالت نے کہا کہ اگر پی ایچ اے نے درخت کاٹے تو اس کا лиценس منسوخ کر دیا جائے گا۔
ییلو لائن پراجیکٹ
عدالت نے واضح کیا کہ وہ ییلو لائن پراجیکٹ کے خلاف نہیں ہے، لیکن اس منصوبے کے لیے ایک آزاد کنسلٹنٹ کی تعیناتی کا حکم دیا گیا ہے تاکہ ماحولیاتی اثرات کا جائزہ لیا جا سکے۔ عدالت نے مزید کہا کہ کینال روڈ کو بطور ثقافتی ورثہ ڈکلیئر کیا جا چکا ہے اور اس حوالے سے سپریم کورٹ کے فیصلے بھی موجود ہیں، جن کی پاسداری لازمی ہے۔
سموگ ایمیشن اینالائزر مشین اور دیگر اقدامات
سماعت کے دوران عدالت نے سموگ ایمیشن اینالائزر مشین کے افتتاح میں تاخیر پر برہمی کا اظہار کیا اور متعلقہ حکام سے اس کی وجوہات طلب کیں۔ سرکاری وکیل نے بتایا کہ کچھ تکنیکی وجوہات کی بنا پر تاخیر ہوئی ہے۔ عدالت نے واضح کیا کہ ماحولیاتی آلودگی کے خلاف موثر اقدامات نہ کرنے والے افسران کے لیے کوئی گنجائش نہیں ہے اور عوامی صحت کے تحفظ کے لیے ہر ممکن اقدام کیا جائے گا۔
محکمہ ماحولیات
عدالت نے شیخوپورہ کے محکمہ ماحولیات کے سربراہ کو فوری طور پر تبدیل کرنے کا حکم دیا۔ ممبر کمیشن نے انکشاف کیا کہ اسلام آباد جاتے ہوئے شیخوپورہ میں کالا دھواں دیکھا گیا، لیکن اس کا کوئی ذکر رپورٹ میں شامل نہیں تھا۔ ہرن مینار کے قریب بھٹوں سے دھواں چھوڑنے پر عدالت نے 15 لاکھ روپے جرمانہ عائد کیا اور متعلقہ حکام سے بیان حلفی طلب کیا۔ عدالت نے خبردار کیا کہ اگر بھٹوں کی جانب سے ماحولیاتی قوانین کی خلاف ورزی جاری رہی تو انہیں مسمار کر دیا جائے گا۔
میاواکی طرز پر شجرکاری کی تجویز
عدالت نے جوہر ٹاؤن کے علاقے میں میاواکی طرز پر شجرکاری کی تجویز دی، جو ایک جدید جاپانی تکنیک ہے جس کے تحت کم وقت میں گھنے جنگلات اگائے جا سکتے ہیں۔ یہ تجویز لاہور جیسے آلودہ شہر میں سبزہ جات کی بحالی اور سموگ کے تدارک کے لیے ایک اہم قدم ثابت ہو سکتی ہے۔
تجزیہ
لاہور ہائیکورٹ کے فیصلے ماحولیاتی تحفظ اور سموگ کے خاتمے کی جانب ایک اہم پیش رفت ہیں۔ کینال روڈ پر درختوں کی کٹائی پر پابندی اور عدالتی اجازت کو لازمی قرار دینا ماحولیاتی توازن کی بحالی کے لیے ایک مثبت اقدام ہے۔ کینال روڈ کو ثقافتی ورثہ قرار دینے کا فیصلہ نہ صرف ماحولیاتی بلکہ ثقافتی تحفظ کے تناظر میں بھی اہم ہے۔ میاواکی طرز پر شجرکاری کی تجویز ایک دور اندیش فیصلہ ہے، کیونکہ یہ تکنیک کم رقبے پر گھنے جنگلات اگانے کی صلاحیت رکھتی ہے، جو لاہور جیسے شہروں میں فضائی آلودگی کو کم کرنے میں مؤثر ثابت ہو سکتی ہے۔
تاہم، عدالت کے فیصلوں کے نفاذ میں کئی چیلنجز درپیش ہیں۔ سب سے بڑا چیلنج متعلقہ اداروں کی جانب سے عدالتی احکامات پر عمل درآمد کو یقینی بنانا ہے۔ سموگ ایمیشن اینالائزر مشین کے افتتاح میں تاخیر اور شیخوپورہ میں کالے دھویں کے رپورٹ نہ ہونے جیسے واقعات حکومتی اداروں کی سست روی اور غیر مؤثر کارکردگی کی نشاندہی کرتے ہیں۔ عدالت کا شیخوپورہ کے محکمہ ماحولیات کے سربراہ کو ہٹانے اور بھٹوں پر جرمانے کا فیصلہ قابل تحسین ہے، لیکن اس کے لیے ایک مضبوط نگرانی کا نظام قائم کرنا ضروری ہے تاکہ ماحولیاتی قوانین کی خلاف ورزیوں کو روکا جا سکے۔
رات 12 بجے کے بعد ریسٹورنٹس کے خلاف کارروائی کا حکم شہریوں کی صحت کے تحفظ کے لیے اہم ہے، کیونکہ رات کے وقت کھانا پکانے سے پیدا ہونے والی آلودگی سموگ کو بڑھاوا دیتی ہے۔ تاہم، اس فیصلے کے نفاذ کے لیے مقامی انتظامیہ کی صلاحیت کو بڑھانا اور متعلقہ شعبوں کے ساتھ تعاون کو یقینی بنانا ضروری ہے۔
ییلو لائن پراجیکٹ کے لیے آزاد کنسلٹنٹ کی تعیناتی کا فیصلہ منصوبوں کی شفافیت اور ماحولیاتی اثرات کے جائزے کو یقینی بنانے کے لیے ایک اہم قدم ہے۔ لیکن اس کے ساتھ ساتھ، ترقیاتی منصوبوں اور ماحولیاتی تحفظ کے درمیان توازن قائم کرنا ایک بڑا چیلنج ہے۔ اگر حکومتی ادارے عدالت کے احکامات پر عمل درآمد میں ناکام رہے تو یہ فیصلے صرف کاغذی کارروائی تک محدود رہ سکتے ہیں۔
لاہور ہائیکورٹ کے فیصلے سموگ اور ماحولیاتی آلودگی کے خلاف جنگ میں ایک اہم سنگ میل ہیں۔ درختوں کی کٹائی پر پابندی، میاواکی شجرکاری کی تجویز، اور بھٹوں کے خلاف جرمانے جیسے اقدامات ماحولیاتی تحفظ کی جانب ایک مثبت سمت کی نشاندہی کرتے ہیں۔ تاہم، ان فیصلوں کی کامیابی کا انحصار متعلقہ اداروں کی کارکردگی، شفافیت، اور عدالتی احکامات پر عمل درآمد کی صلاحیت پر ہے۔ اگر ان اقدامات کو مؤثر طریقے سے نافذ کیا گیا تو لاہور جیسے شہروں میں فضائی آلودگی کو کم کرنے اور عوامی صحت کے تحفظ میں نمایاں بہتری آ سکتی ہے۔ بصورت دیگر، یہ فیصلے صرف علامتی رہ جائیں گے، اور ماحولیاتی مسائل بدستور چیلنج بنے رہیں گے۔





















