لیجنڈری آشا بھوسلے کی موت کی افواہیں، بیٹے نے وضاحت دے دی

آشا بھوسلے مرحومہ لتا منگیشکر کی چھوٹی بہن ہیں، جن کا انتقال فروری 2022 میں ہوا تھا

ممبئی: بھارتی موسیقی کی تاریخ میں اپنی سحر انگیز آواز سے لازوال مقام رکھنے والی لیجنڈری پلے بیک گلوکارہ آشا بھوسلے کی موت کی جھوٹی افواہوں نے سوشل میڈیا پر طوفان برپا کر دیا۔ تاہم، ان کے بیٹے آنند بھوسلے نے فوری طور پر اس خبر کی سختی سے تردید کرتے ہوئے اپنی والدہ کی خیریت کی تصدیق کی ہے۔ یہ افواہ ایک فیس بک پوسٹ سے شروع ہوئی، جس نے لاکھوں مداحوں کے دلوں میں بے چینی پھیلا دی، لیکن آنند کے واضح بیان نے تمام تر قیاس آرائیوں کا خاتمہ کر دیا۔

افواہ کا آغاز اور سوشل میڈیا پر ہلچل

یکم جولائی 2025 کو سوشل میڈیا، خاص طور پر فیس بک پر ایک پوسٹ وائرل ہوئی، جس میں دعویٰ کیا گیا کہ 91 سالہ لیجنڈری گلوکارہ آشا بھوسلے کا انتقال ہو گیا ہے۔ اس پوسٹ میں ایک صارف، شبانه شیخ، نے آشا بھوسلے کی تصویر پر ہار چڑھائی ہوئی دکھائی اور کیپشن میں لکھا کہ ’’مشہور گلوکارہ آشا بھوسلے کا انتقال، ایک عظیم موسیقی کے دور کا خاتمہ (یکم جولائی 2025)‘‘۔ اس پوسٹ نے تیزی سے سوشل میڈیا پر پھیلاؤ پایا اور واٹس ایپ، ایکس (سابقہ ٹوئٹر)، اور دیگر پلیٹ فارمز پر اسی طرح کے پیغامات گردش کرنے لگے۔ نتیجتاً، کچھ مداحوں نے فوری طور پر افسوس کا اظہار کیا، جبکہ دیگر نے اس خبر کی صداقت پر سوال اٹھاتے ہوئے تصدیق کا مطالبہ کیا۔

یہ افواہ اس قدر تیزی سے پھیلی کہ بھارتی میڈیا اور آشا بھوسلے کے خاندان کو مسلسل سوالات اور فون کالز کا سامنا کرنا پڑا۔ مداحوں کے خدشات اور بے چینی کو دیکھتے ہوئے آشا بھوسلے کے بیٹے، آنند بھوسلے، نے بھارتی میڈیا ہاؤس ای ٹائمز سے بات کرتے ہوئے اس افواہ کو مسترد کیا۔ انہوں نے واضح الفاظ میں کہا، ’’یہ سراسر جھوٹ ہے۔ میری والدہ بالکل خیریت سے ہیں اور یہ افواہیں بے بنیاد ہیں۔‘‘ ان کے اس بیان نے مداحوں کو سکون فراہم کیا اور سوشل میڈیا پر چلنے والی قیاس آرائیوں پر روک لگائی۔

آشا بھوسلے کی حالیہ سرگرمیاں

آشا بھوسلے، جو اپنی بہن اور لیجنڈری گلوکارہ لتا منگیشکر کے ساتھ بھارتی موسیقی کی دنیا میں ایک عظیم نام ہیں، حال ہی میں مکمل صحت کے ساتھ عوامی تقریبات میں نظر آئیں۔ جون 2025 میں، انہوں نے ممبئی میں 1981 کی کلاسک فلم ’’عمراؤ جان‘‘ کی دوبارہ ریلیز کے موقع پر ایک خصوصی اسکریننگ میں شرکت کی۔ اس ایونٹ میں انہوں نے نہ صرف شرکت کی بلکہ فلم کا مشہور گانا ’’یہ کیا جگہ ہے دوستو‘‘ بھی گایا، جس نے حاضرین کو مسحور کر دیا۔ اس موقع پر ان کے ساتھ اداکارہ ریکھا اور فلم کے ہدایت کار مظفر علی بھی موجود تھے۔ اس پرفارمنس نے یہ واضح کر دیا کہ 91 برس کی عمر میں بھی آشا بھوسلے کی آواز اور جوش میں کوئی کمی نہیں آئی۔

اس کے علاوہ، آشا بھوسلے نے حال ہی میں اپنے مرحوم شوہر اور مشہور میوزک ڈائریکٹر آر ڈی برمن کی 85 ویں سالگرہ کے موقع پر ایک تقریب میں شرکت کی، جہاں انہوں نے ان کے ہارمونیم اور ایوارڈز کے ساتھ خراج تحسین پیش کیا۔ یہ سرگرمیاں اس بات کی گواہ ہیں کہ آشا بھوسلے نہ صرف صحت مند ہیں بلکہ اپنی موسیقی اور ثقافتی سرگرمیوں میں سرگرم عمل بھی ہیں۔

سوشل میڈیا پر ردعمل

جھوٹی افواہ پھیلنے کے بعد سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر #AshaBhosle ٹرینڈ کرنے لگا۔ کئی صارفین نے اس افواہ کی مذمت کی اور اسے غیر ذمہ دارانہ قرار دیا۔ ایک صارف نے لکھا، ’’آشا بھوسلے ہمارا قومی خزانہ ہیں۔ ایسی جھوٹی خبروں سے لوگوں کے جذبات کے ساتھ کھیلنا بند کیا جائے۔‘‘ ایک اور صارف نے تبصرہ کیا، ’’یہ دیکھ کر خوشی ہوئی کہ آشا جی خیریت سے ہیں۔ سوشل میڈیا پر جھوٹی خبروں کا پھیلنا ایک بڑا مسئلہ ہے۔‘‘ کئی مداحوں نے ان کی لمبی عمر اور صحت کے لیے دعائیں بھی کیں۔

دوسری جانب، کچھ صارفین نے اس افواہ کے ذمہ دار فیس بک صارف کے خلاف قانونی کارروائی کا مطالبہ کیا، جبکہ دیگر نے زور دیا کہ سوشل میڈیا پر غیر مصدقہ معلومات کو شیئر کرنے سے گریز کیا جائے۔ اس واقعے نے ایک بار پھر سوشل میڈیا پر جھوٹی خبروں کے پھیلاؤ کے خطرات کو اجاگر کیا۔

آشا بھوسلے ایک لازوال آواز

آشا بھوسلے، جو 8 ستمبر 1933 کو پیدا ہوئیں، بھارتی سنیما کی سب سے عظیم پلے بیک گلوکاراؤں میں سے ایک ہیں۔ انہوں نے اپنے کیریئر کے 80 سال سے زائد عرصے میں 12,000 سے زیادہ گانوں میں اپنی آواز دی، جو ہندی کے علاوہ 20 سے زائد بھارتی اور غیر ملکی زبانوں میں ہیں۔ ان کے مشہور گانوں میں ’’دم مارو دم‘‘، ’’چھرا لیا ہے تم نے جو دل کو‘‘، اور ’’دل چیز کیا ہے‘‘ شامل ہیں۔ انہیں دو قومی فلم ایوارڈز، نو فلم فیئر ایوارڈز، اور 2008 میں بھارت کا دوسرا سب سے بڑا سول ایوارڈ پدم وبھوشن سے نوازا جا چکا ہے۔

آشا بھوسلے مرحومہ لتا منگیشکر کی چھوٹی بہن ہیں، جن کا انتقال فروری 2022 میں ہوا تھا۔ دونوں بہنوں نے بھارتی موسیقی کی دنیا میں اپنی منفرد شناخت بنائی اور دہائیوں تک مداحوں کے دلوں پر راج کیا۔ آشا بھوسلے نے اپنی بہن سے الگ ایک منفرد انداز اپنایا، جو رومانوی گیتوں سے لے کر جاز، پاپ، اور کلاسیکل موسیقی تک پھیلا ہوا ہے۔ ان کی آواز کی استعداد نے انہیں ہر نسل کے سامعین میں مقبول بنایا۔

خاندانی بیان اور میڈیا کی تصدیق

آنند بھوسلے، جو آشا بھوسلے کے سب سے چھوٹے بیٹے ہیں اور ان کے کیریئر کے مینیجر بھی ہیں، نے اس افواہ کے پھیلتے ہی فوری ردعمل دیا۔ انہوں نے نہ صرف ای ٹائمز سے بات کی بلکہ دیگر میڈیا ہاؤسز کو بھی یقین دلایا کہ ان کی والدہ صحت مند اور سرگرم ہیں۔ اس کے علاوہ، معروف بھارتی میڈیا اداروں جیسے کہ انڈیا ٹوڈے، نیوز18، اور اکنامک ٹائمز نے بھی اس خبر کو جھوٹا قرار دیتے ہوئے آشا بھوسلے کی خیریت کی تصدیق کی۔ انہوں نے عوام سے اپیل کی کہ وہ غیر مصدقہ ذرائع پر یقین کرنے کے بجائے مستند معلومات پر بھروسہ کریں۔

آشا بھوسلے کے بارے میں موت کی جھوٹی افواہ کا یہ واقعہ سوشل میڈیا کے دور میں غلط معلومات کے پھیلاؤ کی رفتار اور اثرات کو واضح کرتا ہے۔ ایک فیس بک پوسٹ سے شروع ہونے والی یہ افواہ چند گھنٹوں میں لاکھوں لوگوں تک پہنچ گئی، جس سے نہ صرف مداحوں میں بے چینی پھیلی بلکہ خاندان کو بھی غیر ضروری تناؤ کا سامنا کرنا پڑا۔ یہ واقعہ اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ سوشل میڈیا پر غیر مصدقہ معلومات کو شیئر کرنے سے پہلے اس کی تصدیق ضروری ہے۔

آشا بھوسلے جیسے عظیم فنکار، جنہوں نے اپنی آواز سے کئی نسلوں کو متاثر کیا، ایسی افواہوں کا شکار بننا نہ صرف افسوسناک ہے بلکہ یہ ان کی خدمات کے ساتھ ناانصافی بھی ہے۔ آنند بھوسلے کا فوری ردعمل اور میڈیا کی طرف سے حقائق کی تصدیق اس بات کی عکاسی کرتی ہے کہ مستند ذرائع اب بھی جھوٹی خبروں کے مقابلے میں مضبوط ہیں۔ تاہم، یہ واقعہ سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کے لیے ایک سبق ہے کہ وہ غلط معلومات کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے سخت اقدامات کریں، جیسے کہ فیکٹ چیکنگ ٹولز کا استعمال یا مشکوک پوسٹس کی فوری ہٹائی۔

پاکستان اور بھارت میں آشا بھوسلے کے مداحوں کی بڑی تعداد موجود ہے، اور اس افواہ نے دونوں ممالک میں لوگوں کو متاثر کیا۔ یہ واقعہ ہمیں یاد دلاتا ہے کہ فنکاروں کی عزت اور ان کی خدمات کی قدر کرنے کے لیے ہمیں ذمہ دارانہ رویہ اپنانا ہوگا۔ آشا بھوسلے کی صحت اور لمبی عمر کی دعا کے ساتھ، یہ امید کی جاتی ہے کہ وہ اپنی جادوئی آواز سے آنے والے سالوں میں بھی مداحوں کو محظوظ کرتی رہیں گی۔

متعلقہ خبریں

مقبول ترین