انگلینڈ دورے کیلئے پاکستان شاہینز کی 18 رکنی ٹیم کا اعلان، سعود شکیل کپتان

پاکستان شاہینز کا یہ 18 رکنی اسکواڈ تجربہ اور جوش کے امتزاج کی عکاسی کرتا ہے

لاہور: پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) نے انگلینڈ کے اہم دورے کے لیے پاکستان شاہینز کے 18 رکنی اسکواڈ کا اعلان کر دیا ہے، جو 17 جولائی سے 6 اگست 2025 تک جاری رہے گا۔ یہ اسکواڈ، جس کی قیادت تجربہ کار ٹیسٹ کرکٹر سعود شکیل کریں گے، دو تین روزہ اور تین 50 اوورز کے میچز میں میزبان انگلینڈ کے خلاف اپنی صلاحیتوں کا مظاہرہ کرے گی۔ اس دورے کو پاکستانی کرکٹ کے مستقبل کے لیے ایک اہم سنگ میل قرار دیا جا رہا ہے، کیونکہ اس میں 25 سال سے کم عمر کے 11 ابھرتے ہوئے کھلاڑی شامل ہیں، جو بین الاقوامی سطح پر اپنی صلاحیتوں کو منوانے کے لیے تیار ہیں۔

اسکواڈ کی تفصیلات اور اہم کھلاڑی

پاکستان شاہینز کا یہ 18 رکنی اسکواڈ تجربہ اور جوش کے امتزاج کی عکاسی کرتا ہے۔ سعود شکیل، جنہوں نے 19 ٹیسٹ میچز میں پاکستان کی نمائندگی کی اور 1658 رنز بنائے، ٹیم کی قیادت کریں گے۔ ان کے ساتھ تین دیگر ٹیسٹ کھلاڑی شامل ہیں: لیفٹ آرم پیسر میر حمزہ (7 ٹیسٹ)، فاسٹ بولر موسیٰ خان (1 ٹیسٹ)، اور آف اسپنر ساجد خان (12 ٹیسٹ)۔ یہ تجربہ کار کھلاڑی نوجوان ٹیم کو رہنمائی فراہم کریں گے۔

اسکواڈ میں شامل دیگر کھلاڑیوں میں 2024-25 کے قائداعظم ٹرافی کے ٹاپ اسکوررز اذان اویس (844 رنز) اور معاذ صداقت (646 رنز) نمایاں ہیں، جن کی شاندار ڈومیسٹک پرفارمنس نے انہیں اسکواڈ میں جگہ دلائی۔ بیٹنگ لائن اپ کو مضبوط بنانے کے لیے علی زریاب، حیدر علی، محمد سلمان، عمیر بن یوسف، اور شامل حسین شامل ہیں، جبکہ وکٹ کیپنگ کی ذمہ داریاں روحیل نذیر سنبھالیں گے۔

بولنگ ڈیپارٹمنٹ بھی خاصی مضبوط ہے۔ فاسٹ بولنگ اٹیک میں مشتاق احمد، جنہوں نے حالیہ فرسٹ کلاس مقابلوں (قائداعظم ٹرافی اور صدر ٹرافی) میں 77 وکٹیں حاصل کیں، فاٹا کے پیسر شاہد عزیز، اور پاکستان کے بین الاقوامی فاسٹ بولر نسیم شاہ کے بھائی عبید شاہ شامل ہیں۔ اسپن ڈیپارٹمنٹ میں فیصل اکرم (رِسٹ اسپنر)، مہران ممتاز (لیفٹ آرم اسپنر)، مبصر خان (آف اسپن آل راؤنڈر)، اور ساجد خان شامل ہیں، جو ریڈ اور وائٹ بال دونوں فارمیٹس میں اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوائیں گے۔

تیاری اور کوچنگ عملہ

اسکواڈ 10 جولائی سے 16 جولائی تک کراچی کے حنیف محمد ہائی پرفارمنس سینٹر میں ایک تربیتی کیمپ میں حصہ لے گا، جہاں کھلاڑی اپنی مہارتوں کو نکھاریں گے اور انگلینڈ کے کنڈیشنز کے مطابق تیاری کریں گے۔ ٹیم کی کوچنگ کی ذمہ داریاں سابق ٹیسٹ کرکٹر عمران فرحت سنبھالیں گے، جو اپنے تجربے سے نوجوان کھلاڑیوں کی رہنمائی کریں گے۔ ان کے ساتھ بولنگ کوچ ریحان ریاض، فیلڈنگ کوچ محتشم رشید، تجزیہ کار عثمان ہاشمی، اور فزیو علی سفیان شامل ہیں، جو ٹیم کی تیاریوں کو یقینی بنائیں گے۔

دورے کا شیڈول اور اہمیت

پاکستان شاہینز 17 جولائی کو انگلینڈ روانہ ہوں گی اور 6 اگست تک دو تین روزہ اور تین 50 اوورز کے میچز کھیلیں گی۔ اگرچہ میچز کے مقامات اور تاریخوں کا اعلان ابھی ہونا باقی ہے، لیکن یہ سیریز پاکستانی کرکٹ کے لیے ایک اہم موقع ہے۔ یہ دورہ نہ صرف نوجوان کھلاڑیوں کو انگلینڈ کی مشکل کنڈیشنز میں اپنی صلاحیتوں کو پرکھنے کا موقع فراہم کرے گا بلکہ قومی ٹیم کے لیے مستقبل کے ستاروں کی نشاندہی میں بھی مددگار ثابت ہوگا۔

اس کے علاوہ، پاکستان شاہینز رواں سال کے آخر میں آسٹریلیا کے شہر ڈارون میں ٹاپ اینڈ ٹی 20 سیریز میں بھی حصہ لیں گی، جہاں وہ 14 اگست کو بنگلہ دیش اے کے خلاف افتتاحی میچ کھیلیں گی۔ یہ دونوں دورے پاکستانی کرکٹ بورڈ کی اس حکمت عملی کا حصہ ہیں کہ وہ اپنے ابھرتے ہوئے کھلاڑیوں کو بین الاقوامی سطح پر مقابلہ کرنے کے مواقع فراہم کرے۔

پی سی بی کا وژن اور انتخاب کا معیار

پاکستان کرکٹ بورڈ نے اس اسکواڈ کے انتخاب میں ڈومیسٹک پرفارمنس اور مستقبل کے امکانات کو ترجیح دی ہے۔ پی سی بی کے مطابق، اس اسکواڈ کا انتخاب پاکستانی کرکٹ کے مستقبل کو مضبوط بنانے کے لیے کیا گیا ہے، اور اس میں 11 کھلاڑیوں کا 25 سال سے کم عمر ہونا اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ بورڈ نئی نسل کو تیار کرنے کے لیے سنجیدہ ہے۔ قائداعظم ٹرافی 2024-25 میں شاندار کارکردگی دکھانے والے کھلاڑیوں، جیسے کہ اذان اویس اور معاذ صداقت، کی شمولیت اس بات کا ثبوت ہے کہ پی سی بی ڈومیسٹک کرکٹ کو اہمیت دیتا ہے۔

سعود شکیل کی کپتانی بھی ایک اہم فیصلہ ہے۔ انہوں نے نہ صرف ٹیسٹ کرکٹ میں شاندار کارکردگی دکھائی بلکہ 2021 میں سری لنکا کے دورے پر بھی پاکستان شاہینز کی قیادت کی تھی۔ ان کا تجربہ اور پرسکون مزاج اس ٹیم کے لیے ایک اثاثہ ثابت ہوگا۔

سوشل میڈیا پر ردعمل

سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر اس اسکواڈ کے اعلان کے بعد شائقین کرکٹ نے جوش و خروش کا اظہار کیا۔ ایک صارف نے لکھا، ’’سعود شکیل کی قیادت میں یہ ٹیم انگلینڈ میں کمال دکھائے گی۔ عبید شاہ اور فیصل اکرم جیسے نوجوان کھلاڑی مستقبل کے ستارے ہیں!‘‘ ایک اور صارف نے تبصرہ کیا، ’’پی سی بی کا یہ فیصلہ قابل تحسین ہے کہ انہوں نے ڈومیسٹک پرفارمرز کو موقع دیا۔ اذان اویس اور معاذ صداقت سے بڑی امیدیں ہیں۔‘‘ تاہم، کچھ صارفین نے شامل حسین کی شمولیت پر سوالات اٹھائے، ان کا دعویٰ تھا کہ ان کا انتخاب ان کے والد، صحافی طلعت حسین کی وجہ سے ہوا، لیکن اس کی تصدیق نہیں ہو سکی۔

پاکستان شاہینز کا یہ دورہ انگلینڈ پاکستانی کرکٹ کے مستقبل کے لیے ایک اہم موڑ ثابت ہو سکتا ہے۔ سعود شکیل جیسے تجربہ کار کپتان کی موجودگی اور 11 نوجوان کھلاڑیوں کی شمولیت اس بات کی عکاسی کرتی ہے کہ پی سی بی نہ صرف فوری نتائج بلکہ طویل مدتی ترقی پر توجہ دے رہا ہے۔ انگلینڈ کی کنڈیشنز، جہاں گیند سوئنگ اور سیم کرتی ہے، پاکستانی کھلاڑیوں کے لیے ایک بڑا چیلنج ہوں گی، لیکن یہ ان کے لیے اپنی صلاحیتوں کو پرکھنے کا سنہری موقع بھی ہے۔

اسکواڈ کا انتخاب متوازن ہے، جس میں بیٹنگ، فاسٹ بولنگ، اور اسپن بولنگ کا شاندار امتزاج موجود ہے۔ عبید شاہ، جو نسیم شاہ کے بھائی ہیں، اور فیصل اکرم جیسے کھلاڑیوں کی موجودگی اس ٹیم کو ایک نیا جوش دیتی ہے۔ فیصل اکرم کی رِسٹ اسپن بولنگ، جو پاکستان سپر لیگ میں ملتان سلطانز کے لیے نمایاں رہی، انگلینڈ کے بلے بازوں کے لیے ایک چیلنج ہو سکتی ہے۔ اسی طرح، مشتاق احمد کی حالیہ فرسٹ کلاس کارکردگی (77 وکٹیں) اس بات کی گواہی دیتی ہے کہ وہ اس دورے پر اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔

تاہم، اس دورے کے کامیاب ہونے کے لیے چند چیلنجز پر قابو پانا ضروری ہے۔ انگلینڈ کی کنڈیشنز پاکستانی کھلاڑیوں کے لیے نئی ہیں، اور انہیں وہاں کے موسم اور پچز کے مطابق ڈھلنے کے لیے سخت محنت کرنا ہوگی۔ اس کے علاوہ، ٹیم کی تیاری کے لیے صرف ایک ہفتے کا تربیتی کیمپ کافی نہیں ہو سکتا، خاص طور پر جب بات تین روزہ میچز کی ہو، جو کہ تکنیکی مہارت اور صبر کا امتحان ہوتے ہیں۔ پی سی بی کو اس بات کو یقینی بنانا ہوگا کہ کھلاڑیوں کو مناسب رہنمائی اور وسائل فراہم کیے جائیں۔

سوشل میڈیا پر شامل حسین کی شمولیت کے حوالے سے تنازع ایک غیر ضروری خلفشار پیدا کر سکتا ہے۔ پی سی بی کو اس بات کو یقینی بنانا چاہیے کہ انتخاب کا عمل شفاف رہے تاکہ شائقین کا اعتماد برقرار رہے۔

یہ دورہ پاکستانی کرکٹ کے لیے ایک اہم موقع ہے کہ وہ اپنے نوجوان کھلاڑیوں کو عالمی سطح پر تیار کرے۔ اگر یہ اسکواڈ اچھی کارکردگی دکھاتی ہے تو یہ نہ صرف قومی ٹیم کے لیے نئے ٹیلنٹ کی فراہمی کرے گی بلکہ پاکستانی کرکٹ کی عالمی ساکھ کو بھی مضبوط کرے گی۔ سعود شکیل کی قیادت، تجربہ کار کھلاڑیوں کی رہنمائی، اور نوجوان ٹیلنٹ کے جوش کے ساتھ، پاکستان شاہینز کے پاس انگلینڈ میں تاریخ رقم کرنے کا سنہری موقع ہے۔

متعلقہ خبریں

مقبول ترین