توقیر ناصر کا شوبز انڈسٹری پر طنز ،موجودہ دور میں فن کم، دکھاوا زیادہ ہے

’ہر ڈرامے میں ایک جیسے چمکدار سیٹس، مہنگے کپڑوں، اور غیر ضروری ڈرامائی سینز پر زور ہوتا ہے

لاہور: پاکستان کے لیجنڈری اداکار توقیر ناصر نے موجودہ شوبز انڈسٹری کے رجحانات پر کھل کر تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ آج کے ڈراموں اور فلموں میں خلوص، گہرائی، اور جذباتی ربط کی کمی واضح طور پر نظر آتی ہے۔ انہوں نے موجودہ اداکاروں اور ہدایت کاروں کے کام کے انداز کو کڑی تنقید کا نشانہ بنایا اور ماضی کے فنکاروں کی سادگی اور قدرتی خوبصورتی کی تعریف کی۔ ان کے اس بیان نے شوبز حلقوں میں ایک نئی بحث کو جنم دیا ہے، جو فن کی صداقت اور جدید رجحانات کے درمیان توازن کے سوال کو اجاگر کرتی ہے۔

توقیر ناصر کا انٹرویو اور تنقیدی نکات

ایک نجی ٹی وی چینل کے پروگرام ’’اسپاٹ لائٹ‘‘ میں گفتگو کرتے ہوئے، توقیر ناصر نے شوبز انڈسٹری کے موجودہ منظرنامے پر کھل کر اپنے خیالات کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ آج کے ڈراموں میں کہانیوں اور کرداروں سے زیادہ ظاہری چمک دمک اور مصنوعی خوبصورتی کو اہمیت دی جا رہی ہے۔ ان کے بقول، ماضی کے فنکار اپنے کرداروں کے ساتھ گہرا جذباتی تعلق استوار کرتے تھے، جس سے ان کی اداکاری میں ایک فطری سچائی اور گہرائی جھلکتی تھی۔ ’’پہلے اداکار اپنے کردار کو جیتے تھے، ان کی آنکھوں میں سچائی اور چہرے پر صداقت ہوتی تھی۔ آج کل یہ سب کھو سا گیا ہے،‘‘ انہوں نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا۔

توقیر ناصر نے خاص طور پر اداکاراؤں میں پلاسٹک سرجری اور میک اپ کے بڑھتے ہوئے رجحان پر تشویش ظاہر کی۔ انہوں نے کہا کہ جدید ٹیکنالوجی اور کاسمیٹک سرجری نے نہ صرف اداکاراؤں کے چہروں کو ایک جیسا بنا دیا ہے بلکہ ان کے جذبات کے اظہار کی صلاحیت کو بھی متاثر کیا ہے۔ ’’ماضی کی اداکارائیں، جیسے کہ ثمینہ پیرزادہ یا بشریٰ انصاری، اپنی سادگی اور قدرتی حسن کی وجہ سے ناظرین کے دلوں پر راج کرتی تھیں۔ ان کی اداکاری میں ایک گہرائی تھی جو آج کم ہی نظر آتی ہے،‘‘ انہوں نے مزید کہا۔

ہدایت کاروں کے کردار پر تنقید

توقیر ناصر نے ہدایت کاروں کے موجودہ کام کے انداز کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا۔ انہوں نے کہا کہ ماضی میں ہدایت کار سیٹ پر موجود ہوتے تھے اور اداکاروں کے ساتھ مل کر ہر سین کو بہتر بنانے کی کوشش کرتے تھے۔ وہ کردار کی نفسیات اور کہانی کے تقاضوں کو سمجھانے میں اہم کردار ادا کرتے تھے۔ ’’لیکن آج کل ہدایت کار صرف مانیٹر کے پیچھے بیٹھ کر سین دیکھتے ہیں اور اداکاروں کو وہ رہنمائی نہیں ملتی جو پہلے دی جاتی تھی۔ اس سے نہ صرف اداکاری کا معیار گر رہا ہے بلکہ ڈراموں کی گہرائی بھی کم ہوتی جا رہی ہے،‘‘ انہوں نے نشاندہی کی۔

انہوں نے مزید کہا کہ آج کے ڈراموں میں کہانیوں سے زیادہ دکھاوے پر توجہ دی جا رہی ہے۔ ’’ہر ڈرامے میں ایک جیسے چمکدار سیٹس، مہنگے کپڑوں، اور غیر ضروری ڈرامائی سینز پر زور ہوتا ہے، لیکن کہانی اور کردار کی گہرائی کہیں کھو جاتی ہے۔ ناظرین کو ایک ایسی کہانی کی ضرورت ہے جو ان کے دلوں کو چھوئے، نہ کہ صرف آنکھوں کو بھائے،‘‘ توقیر ناصر نے زور دیا۔

ماضی کی سادگی اور آج کا دکھاوا

توقیر ناصر نے ماضی کی شوبز انڈسٹری کی سادگی کو سراہتے ہوئے کہا کہ اس وقت کے فنکار اپنی اداکاری سے ناظرین کے ساتھ ایک گہرا ربط قائم کرتے تھے۔ انہوں نے کہا کہ 80 اور 90 کی دہائی کے ڈراموں، جیسے کہ ’’دھوپ کنارے‘‘، ’’تنہائیاں‘‘، اور ’’ان کہی‘‘، میں سادگی اور صداقت کی جھلک تھی جو آج کے ڈراموں میں نایاب ہے۔ انہوں نے ماضی کی اداکاراؤں کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ ان کی خوبصورتی فطری تھی اور ان کی اداکاری میں ایک ایسی جادوئی کشش تھی جو ناظرین کو کردار سے جوڑ دیتی تھی۔

انہوں نے موجودہ دور کے اداکاروں کو مشورہ دیا کہ وہ اپنی اداکاری کو بہتر بنانے کے لیے کردار کی نفسیات کو سمجھنے پر توجہ دیں۔ ’’اداکاری میک اپ یا کاسمیٹک سرجری سے نہیں بلکہ دل سے دل تک جانے والی بات سے ہوتی ہے۔ آپ کو اپنے کردار کو جینا پڑتا ہے، نہ کہ صرف اسے ادا کرنا،‘‘ انہوں نے زور دیا۔

سوشل میڈیا پر ردعمل

توقیر ناصر کے اس بیان نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر ایک نئی بحث کو جنم دیا۔ کئی صارفین نے ان کے خیالات کی حمایت کی اور ماضی کے ڈراموں کی سادگی کو سراہا۔ ایک صارف نے لکھا، ’’توقیر ناصر بالکل درست کہہ رہے ہیں۔ آج کے ڈراموں میں کہانی سے زیادہ میک اپ اور چمک دمک پر توجہ دی جاتی ہے۔ پرانے ڈراموں کی بات ہی الگ تھی!‘‘ ایک اور صارف نے تبصرہ کیا، ’’پلاسٹک سرجری نے ہمارے اداکاروں کے چہروں کو ایک جیسا کر دیا ہے۔ ہر ایک کا چہرہ ایک ہی سانچے سے نکلا لگتا ہے۔‘‘

تاہم، کچھ صارفین نے توقیر ناصر کے بیان پر اختلاف کیا اور کہا کہ موجودہ دور کے تقاضوں نے شوبز انڈسٹری کو بدل دیا ہے۔ ایک صارف نے لکھا، ’’آج کا ناظرین چمک دمک اور فیشن پسند کرتا ہے۔ اگر ڈراموں میں یہ نہ ہو تو وہ بور ہو جاتے ہیں۔ یہ وقت کے ساتھ بدلتے رجحانات ہیں۔‘‘ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ توقیر ناصر کا بیان شوبز انڈسٹری کے موجودہ رجحانات پر ایک بڑی بحث کا باعث بن گیا ہے۔

توقیر ناصر

توقیر ناصر، جنہوں نے اپنے طویل کیریئر میں ’’دھوپ کنارے‘‘، ’’روشنیوں کا سفر‘‘، اور ’’عنقا‘‘ جیسے مشہور ڈراموں میں اپنی اداکاری سے ناظرین کے دلوں پر راج کیا، پاکستانی شوبز انڈسٹری کا ایک معتبر نام ہیں۔ ان کی اداکاری میں گہرائی، صداقت، اور جذباتی ربط ہمیشہ نمایاں رہا ہے۔ انہوں نے نہ صرف ڈراموں بلکہ فلموں اور اسٹیج پر بھی اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوایا ہے۔ ان کا یہ بیان ان کے تجربے اور فن کے تئیں لگن کی عکاسی کرتا ہے۔

توقیر ناصر کا بیان پاکستانی شوبز انڈسٹری کے موجودہ رجحانات پر ایک اہم تنقیدی نظر ہے، جو فن کی صداقت اور جدید رجحانات کے درمیان توازن کے سوال کو اجاگر کرتا ہے۔ ان کا یہ کہنا درست ہے کہ ماضی کے ڈراموں میں ایک گہرائی اور سچائی تھی جو ناظرین کے ساتھ جذباتی ربط قائم کرتی تھی۔ ’’دھوپ کنارے‘‘ اور ’’تنہائیاں‘‘ جیسے ڈراموں کی مقبولیت آج بھی اس بات کی گواہی دیتی ہے کہ سادہ کہانیاں اور فطری اداکاری ناظرین کے دلوں کو جیت سکتی ہیں۔

تاہم، موجودہ دور کے تقاضوں نے شوبز انڈسٹری کو بدل دیا ہے۔ سوشل میڈیا اور عالمی میڈیا کے اثرات نے ناظرین کے رجحانات کو تبدیل کیا ہے، اور اب چمک دمک، فیشن، اور پروڈکشن ویلیو پر زیادہ زور دیا جاتا ہے۔ پلاسٹک سرجری اور میک اپ کا بڑھتا ہوا رجحان نہ صرف پاکستان بلکہ بھارت اور دیگر ممالک کی شوبز انڈسٹریوں میں بھی واضح ہے۔ یہ رجحانات ناظرین کی بدلتی ہوئی ترجیحات کی عکاسی کرتے ہیں، لیکن توقیر ناصر کا یہ نقطہ قابل غور ہے کہ یہ مصنوعی حسن اداکاری کی گہرائی کو متاثر کر رہا ہے۔

ہدایت کاروں کے بارے میں ان کا تبصرہ بھی اہم ہے۔ ماضی میں ہدایت کار اداکاروں کے ساتھ قریبی تعاون سے کام کرتے تھے، جو کردار کی گہرائی اور کہانی کی صداقت کو بڑھاتا تھا۔ آج کے ہدایت کاروں کی مانیٹر پر انحصار کی عادت سے بعض اوقات سین کا معیار متاثر ہوتا ہے، کیونکہ اداکاروں کو وہ رہنمائی نہیں ملتی جو پہلے کے دور میں عام تھی۔

تاہم، یہ بھی ماننا پڑے گا کہ موجودہ دور کے کچھ ڈراموں، جیسے کہ ’’رازِ الفت‘‘ یا ’’پری زاد‘‘، نے کہانی اور اداکاری کے معیار سے ناظرین کے دلوں کو جیتا ہے۔ یہ دکھاتا ہے کہ پاکستانی شوبز انڈسٹری اب بھی معیاری مواد پیش کر سکتی ہے، بشرطیکہ کہانی اور اداکاری پر توجہ دی جائے۔

سوشل میڈیا پر اس موضوع پر ہونے والی بحث سے ظاہر ہوتا ہے کہ ناظرین بھی اس تنقید سے متفق ہیں کہ شوبز انڈسٹری کو اپنی جڑوں کی طرف لوٹنے کی ضرورت ہے۔ توقیر ناصر کا بیان ایک اہم یاد دہانی ہے کہ اداکاری فن ہے، دکھاوا نہیں۔ اگر پاکستانی شوبز انڈسٹری ماضی کی سادگی اور صداقت کو جدید تقاضوں کے ساتھ ملانے میں کامیاب ہو جائے تو یہ نہ صرف ناظرین کے لیے بہتر مواد فراہم کرے گی بلکہ عالمی سطح پر بھی اپنی ساکھ کو مضبوط کرے گی۔

متعلقہ خبریں

مقبول ترین