پلاسٹک کے فضلے سے پیراسیٹامول تیار کی جا سکتی ہے، حیرت انگیز تحقیق

یہ انوکھا طریقہ معروف دوا ساز کمپنی آسٹرا زینیکا کے تعاون سے تیار کیا گیا ہے، نیچر کیمسٹری

نیویارک:دنیا بھر میں پلاسٹک کے فضلے کا مسئلہ بڑھتا جا رہا ہے، لیکن اب ایک نئی سائنسی تحقیق نے اس مسئلے کو حل کرنے کے ساتھ ساتھ دواؤں کی تیاری میں انقلاب برپا کرنے کی امید پیدا کر دی ہے۔ سائنسدانوں نے عام بیکٹیریا کی مدد سے ایک ایسا طریقہ دریافت کیا ہے جس کے ذریعے پلاسٹک کے فضلے کو پیراسیٹامول (Acetaminophen) جیسی درد کم کرنے والی دوا میں تبدیل کیا جا سکتا ہے۔

پلاسٹک سے پیراسیٹامول

مشہور سائنسی جریدے نیچر کیمسٹری میں شائع ہونے والی تحقیق کے مطابق، یہ انوکھا طریقہ معروف دوا ساز کمپنی آسٹرا زینیکا کے تعاون سے تیار کیا گیا ہے۔ اس ٹیکنالوجی کے تحت پلاسٹک کی ایک عام قسم پولی اتھائلین ٹیریفتھالیٹ (PET) کو پیراسیٹامول کے فعال جزو میں تبدیل کیا جاتا ہے، جسے کئی ممالک میں ٹائلینول کے نام سے بھی جانا جاتا ہے۔سب سے حیران کن بات یہ ہے کہ اس پورے عمل کے دوران کاربن کا اخراج نہ ہونے کے برابر ہے، جو کہ ماحولیاتی لحاظ سے ایک بڑی کامیابی ہے۔

عمل کی تفصیل

محققین کے مطابق اس عمل میں پلاسٹک کو کمرے کے درجہ حرارت پر رکھا جاتا ہے اور صرف 24 گھنٹوں سے بھی کم وقت میں دوا میں تبدیل کر دیا جاتا ہے۔ اس دوران ایک ابال (fermentation) کا عمل ہوتا ہے، جو وہی طریقہ ہے جو عموماً شراب بنانے میں استعمال ہوتا ہے۔ اس قدرتی عمل میں مخصوص بیکٹیریا کو شامل کیا جاتا ہے جو پلاسٹک کے مالیکیولز کو توڑ کر دوا کی شکل میں تبدیل کر دیتے ہیں۔

اسے بھی پڑھیں: جلد کو جوان اور صحت مند رکھنے کا قدرتی راز

فوسل فیولز کی جگہ بیکٹیریا

فی الوقت پیراسیٹامول بنانے کے لیے فوسل فیولز یعنی معدنی ایندھن استعمال کیے جاتے ہیں، جو ماحولیاتی آلودگی کا سبب بنتے ہیں۔ لیکن اس نئے طریقہ کار سے نہ صرف یہ ایندھن بچائے جا سکتے ہیں بلکہ ماحول دوست دوا سازی کی راہ بھی ہموار ہو سکتی ہے۔

تجارتی سطح پر استعمال کا امکان

اگرچہ اس تحقیق میں امید افزا نتائج سامنے آئے ہیں، لیکن ماہرین کا کہنا ہے کہ تجارتی سطح پر اس طریقے کے استعمال سے قبل مزید تحقیق اور تجربات کی ضرورت ہے۔ صنعتی پیمانے پر دوا سازی میں اعلیٰ معیار، حفاظت اور مستقل مزاجی کی ضرورت ہوتی ہے، جس پر محققین آئندہ مرحلوں میں کام کریں گے۔

تجزیہ

یہ تحقیق نہ صرف ماحولیاتی تحفظ کے لیے ایک بڑی پیش رفت ہے بلکہ دواسازی کے شعبے میں بھی ایک انقلابی قدم ثابت ہو سکتی ہے۔ پلاسٹک کا فضلہ، جو دنیا بھر میں ماحولیاتی آلودگی کی سب سے بڑی وجوہات میں شمار ہوتا ہے، اب کارآمد دواؤں میں بدلا جا سکتا ہے۔ اس سے نہ صرف زمین کا بوجھ کم ہو گا بلکہ پیراسیٹامول جیسی دوائیں سستے داموں، ماحول دوست انداز میں تیار کی جا سکیں گی۔
اگر یہ طریقہ کامیابی سے تجارتی سطح پر اپنایا جائے، تو ترقی پذیر ممالک میں دواؤں کی قلت اور قیمتوں کا مسئلہ بھی کسی حد تک حل ہو سکتا ہے۔ مزید برآں، یہ اقدام دنیا بھر میں ری سائیکلنگ اور بایو ٹیکنالوجی کے شعبے میں بھی نئی راہیں کھول سکتا ہے۔
عالمی اداروں، حکومتوں اور دوا ساز کمپنیوں کو چاہیے کہ وہ ایسی اختراعی تحقیق کی سرپرستی کریں تاکہ انسانیت کو درپیش ماحولیاتی اور صحت کے مسائل کا دیرپا اور پائیدار حل تلاش کیا جا سکے۔
سائنس کی ترقی روز بروز حیران کن رفتار سے آگے بڑھ رہی ہے اور ہر گزرتے دن کے ساتھ نئی ایجادات اور دریافتیں انسانی زندگی کو بدل رہی ہیں۔ کبھی جو کام محال تصور کیے جاتے تھے، آج وہ حقیقت بن چکے ہیں؛ خودکار مشینیں، مصنوعی ذہانت، جینیاتی علاج، خلائی تحقیقات اور ماحولیاتی تحفظ جیسے شعبے اب معمول کا حصہ بن چکے ہیں۔ سائنس نے نہ صرف علاج و معالجے کے شعبے میں انقلابی تبدیلیاں لائی ہیں بلکہ توانائی، زراعت، مواصلات اور صنعت میں بھی ترقی کی نئی راہیں کھولی ہیں۔ آج کی دنیا میں سائنس محض ایک مضمون نہیں بلکہ انسان کی بقا، سہولت اور فلاح کا ضامن بن چکی ہے، اور اس کی روز افزوں پیش رفت ایک روشن اور جدید مستقبل کی نوید ہے۔

متعلقہ خبریں

مقبول ترین