عوام پر مہنگائی کے نئے وار کی تیاری ، پیٹرول اور ڈیزل کی قیمت میں اضافہ متوقع

پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں بالترتیب 6 روپے 60 پیسے اور 5 روپے 27 پیسے فی لیٹر اضافے کا امکان ہے

حکومت نے عوام پر مہنگائی کا نیا وارکرنے کی تیاری مکمل کر لی، پیٹرول کی قیمت میں پھر اضافہ متوقع، عالمی منڈی میں نرخ کم ہونے کے باوجود حکومت کی ممکنہ بڑھوتری پر سوالیہ نشان ہے۔پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں بالترتیب 6 روپے 60 پیسے اور 5 روپے 27 پیسے فی لیٹر اضافے کا امکان ظاہر کیا جارہا ہے، حالانکہ دستیاب اعداد و شمار کے مطابق پچھلے چند دنوں میں عالمی سطح پر خام تیل کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ کے باوجود عمومی طور پر کمی کا رجحان دیکھا گیا ہے۔
ذرائع کے مطابق، پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں مجوزہ رد و بدل کی ابتدائی ورکنگ مکمل کرلی گئی ہے، اور اوگرا (آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی) جلد ہی اس حوالے سے سمری وزارت خزانہ کو ارسال کرے گا، جس کے بعد وزیرِاعظم شہباز شریف کی منظوری سے قیمتوں کا باضابطہ اعلان کیا جائے گا۔

متوقع تبدیلیاں:

پیٹرول: 6 روپے 60 پیسے فی لیٹر مہنگا
ہائی اسپیڈ ڈیزل: 5 روپے 27 پیسے فی لیٹر مہنگا
مٹی کا تیل: 3 روپے 74 پیسے فی لیٹر سستا
لائٹ ڈیزل آئل: 2 روپے 23 پیسے فی لیٹر سستا

عوامی ردعمل

عوامی حلقوں میں اس ممکنہ اضافے پر سخت تشویش کا اظہار کیا جا رہا ہے کیونکہ گزشتہ ماہ بھی پیٹرول کی قیمت میں 7 روپے فی لیٹر کا اضافہ کیا گیا تھا، جس سے ٹرانسپورٹ، اشیائے خورونوش اور دیگر روزمرہ ضروریات کی اشیاء مہنگی ہوگئیں۔
معاشی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ حکومت ہر بار عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں کو قیمت بڑھانے کا جواز بناتی ہے، لیکن جب انہی منڈیوں میں نرخ کم ہوتے ہیں تو اس کے فوائد صارفین تک منتقل نہیں کیے جاتے۔ حالیہ عالمی اعداد و شمار کے مطابق برینٹ کروڈ کی قیمتیں 83 ڈالر فی بیرل سے نیچے آئی ہیں، جو جولائی کے وسط میں 89 ڈالر کے قریب تھیں۔

حکومت کے ممکنہ مقاصد:

حکومت کو درپیش مالیاتی چیلنجز، بجٹ خسارہ، اور آئی ایم ایف کے ساتھ کیے گئے سخت معاہدے بھی پیٹرولیم مصنوعات پر لیوی اور سیلز ٹیکس بڑھانے کا سبب بن رہے ہیں۔ حکومت نے مالی سال 2024-25 کے بجٹ میں پیٹرولیم لیوی کی مد میں 960 ارب روپے جمع کرنے کا ہدف رکھا ہے۔ اس مقصد کے حصول کے لیے قیمتیں بڑھانا ناگزیر سمجھا جا رہا ہے۔

صنعتی ذرائع کی رائے:

آئل مارکیٹنگ کمپنیوں (OMCs) کے مطابق، عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں زیادہ رد و بدل نہیں ہوا، لیکن حکومت پیٹرولیم لیوی، ڈالر کے تبادلے کے نرخ، اور مقامی کرایوں میں اضافے کو بنیاد بنا کر قیمتوں میں رد و بدل کر رہی ہے۔

عوامی مشکلات:

پے درپے پیٹرول مہنگا ہونے سے ٹرانسپورٹ کے کرائے بڑھ چکے ہیں۔ زرعی شعبہ بھی شدید متاثر ہو رہا ہے کیونکہ ڈیزل مہنگا ہونے سے فصلوں کی کاشت، آبپاشی اور گڈز ٹرانسپورٹ مہنگی ہو جاتی ہے، جس کا اثر براہ راست سبزیوں، گندم، چینی اور دیگر اجناس کی قیمتوں پر پڑتا ہے۔
اگر حکومت نے واقعی پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتیں بڑھا دیں، تو یہ نہ صرف عوامی بوجھ میں اضافہ کرے گا بلکہ معاشی سست روی کو بھی مزید گہرا کرے گا۔ مہنگائی کی لہر پہلے ہی حد سے تجاوز کرچکی ہے، اور متوسط و نچلے طبقے کے لیے بنیادی ضروریات پوری کرنا دن بدن مشکل ہوتا جا رہا ہے۔اس ساری صورتحال کا سب سے تکلیف دہ پہلو یہ ہے کہ قیمتوں میں بار بار اضافے کا براہِ راست اثر ان غریب اور متوسط طبقے پر پڑتا ہے جو پہلے ہی مہنگائی کے بوجھ تلے دب چکے ہیں۔ ایسے میں جب روزمرہ کی اشیائے ضروریہ، بجلی، گیس اور ادویات کی قیمتیں قابو سے باہر ہو چکی ہوں، پٹرول اور ڈیزل مزید مہنگا ہونا ایک ایسا دھچکہ ہے جو نہ صرف جیبوں پر بوجھ ڈالے گا بلکہ ذہنی اضطراب میں بھی اضافہ کرے گا۔ یہ بات سمجھ سے بالاتر ہے کہ جب عالمی منڈی میں قیمتیں کم ہو رہی ہیں، تب بھی عوام کو ریلیف کیوں نہیں دیا جا رہا۔ اگر حکومت واقعی عوام دوست پالیسی پر عمل پیرا ہے تو اسے چاہیے کہ وہ شفاف بنیادوں پر قیمتوں کا تعین کرے اور ہر فیصلے سے قبل یہ ضرور سوچے کہ اس کا بوجھ کون اٹھا رہا ہے۔

متعلقہ خبریں

مقبول ترین