صدر مملکت نے فرنٹیئر کانسٹیبلری ری آرگنائزیشن آرڈیننس 2025 جاری کر دیا ہے، جس کے تحت فرنٹیئر کانسٹیبلری کو فیڈرل کانسٹیبلری کے طور پر دوبارہ منظم کیا گیا ہے۔ اس آرڈیننس کے ذریعے فیڈرل کانسٹیبلری کا دائرہ کار پورے پاکستان، بشمول چاروں صوبوں، وفاقی دارالحکومت اسلام آباد، آزاد جموں و کشمیر، اور گلگت بلتستان تک پھیلایا گیا ہے۔ یہ اقدام فرنٹیئر کانسٹیبلری ایکٹ 1915 میں ترامیم کے بعد عمل میں لایا گیا ہے، جس کا مقصد داخلی سیکیورٹی، فسادات پر قابو، دہشت گردی کے خلاف کارروائیاں، اور عوامی تحفظ کو یقینی بنانا ہے۔
پس منظر
فرنٹیئر کانسٹیبلری (ایف سی) 1915 میں قائم کی گئی تھی اور اس کا بنیادی کردار خیبر پختونخوا اور سابقہ قبائلی علاقوں (فاٹا) میں سیکیورٹی اور امن و امان کی بحالی تھا۔ ایف سی بنیادی طور پر ایک نیم فوجی قوت کے طور پر کام کرتی رہی ہے، جو سرحدی علاقوں میں پاکستانی فوج کے ساتھ مل کر دہشت گردی اور دیگر جرائم کے خلاف کارروائیاں انجام دیتی ہے۔ تاہم، بدلتے ہوئے سیکیورٹی چیلنجز، خاص طور پر دہشت گردی، فسادات، اور داخلی سلامتی کے مسائل نے ایک ایسی قوت کی ضرورت کو اجاگر کیا جو نہ صرف صوبائی حدود تک محدود ہو بلکہ قومی سطح پر کام کر سکے۔
2017 سے لے کر اب تک، پاکستان میں سیکیورٹی کے حالات میں بہتری آئی ہے، لیکن حالیہ برسوں میں دہشت گردی کے واقعات میں اضافے نے وفاقی حکومت کو اپنی سیکیورٹی فورسز کی صلاحیتوں کو ازسرنو جائزہ لینے پر مجبور کیا۔ اس تناظر میں، فرنٹیئر کانسٹیبلری کو فیڈرل فورس میں تبدیل کرنے کا فیصلہ کیا گیا تاکہ اسے ملک گیر سطح پر زیادہ موثر اور منظم انداز میں استعمال کیا جا سکے۔
آرڈیننس کے اہم نکات
آرڈیننس کے متن کے مطابق، فیڈرل کانسٹیبلری کے ڈھانچے اور دائرہ کار میں اہم تبدیلیاں کی گئی ہیں:
نام کی تبدیلی اور دائرہ کار میں توسیع:
فرنٹیئر کانسٹیبلری کا نام تبدیل کر کے فیڈرل کانسٹیبلری رکھا گیا ہے۔
اس کا دائرہ کار اب چاروں صوبوں، اسلام آباد، آزاد جموں و کشمیر، اور گلگت بلتستان تک پھیلایا گیا ہے۔
تنظیمی ڈھانچہ:
فیڈرل کانسٹیبلری دو اہم ڈویژنز پر مشتمل ہوگی: سیکیورٹی ڈویژن اور فیڈرل ریزرو ڈویژن۔
ہر ڈویژن میں ایک ونگ کمانڈر تعینات کیا جائے گا، جس کا رینک ڈپٹی انسپیکٹر جنرل (ڈی آئی جی) کے برابر ہوگا۔
فیڈرل کانسٹیبلری کی کمانڈ پولیس سروس آف پاکستان کے افسران کے ہاتھ میں ہوگی، جبکہ انسپیکٹر جنرل کی تعیناتی وفاقی حکومت کرے گی۔
ذمہ داریاں:
فیڈرل کانسٹیبلری کی بنیادی ذمہ داریوں میں فسادات پر قابو، داخلی سیکیورٹی، دہشت گردی کے خلاف کارروائیاں، اور عوامی تحفظ شامل ہیں۔
وفاقی حکومت ضرورت پڑنے پر وفاقی ریزرو فورس بھرتی کر سکے گی تاکہ قانون و امان کی صورتحال کو کنٹرول کیا جا سکے۔
بھرتی اور تربیت:
فیڈرل کانسٹیبلری میں بھرتی کے لیے ملک بھر میں دفاتر قائم کیے جائیں گے۔
بھرتی کا عمل شفاف اور میرٹ کی بنیاد پر ہوگا، اور نئے اہلکاروں کو جدید سیکیورٹی چیلنجز سے نمٹنے کے لیے تربیت دی جائے گی۔
قانونی فریم ورک:
فیڈرل کانسٹیبلری سے متعلق نئے قواعد و ضوابط بنائے جائیں گے تاکہ اس کی کارکردگی کو بہتر بنایا جا سکے۔
یہ قوت فرنٹیئر کانسٹیبلری ایکٹ 1915 کی ترامیم کے تحت کام کرے گی۔
تجزیہ
فرنٹیئر کانسٹیبلری کو فیڈرل کانسٹیبلری میں تبدیل کرنے کا فیصلہ پاکستان کے سیکیورٹی ڈھانچے میں ایک اہم پیش رفت ہے۔ فیڈرل کانسٹیبلری کا دائرہ کار اب صوبائی حدود سے نکل کر قومی سطح پر پھیل گیا ہے۔ یہ خاص طور پر آزاد جموں و کشمیر اور گلگت بلتستان جیسے علاقوں میں سیکیورٹی کو مضبوط کرنے میں مددگار ثابت ہوگا، جہاں روایتی طور پر ایف سی کا کردار محدود تھا۔دہشت گردی، سائبر کرائم، اور شہری علاقوں میں فسادات جیسے جدید چیلنجز سے نمٹنے کے لیے فیڈرل کانسٹیبلری کو جدید ٹیکنالوجی اور تربیت سے لیس کیا جائے گا۔ اس سے پاکستان کی داخلی سیکیورٹی کی صلاحیت میں اضافہ ہوگا۔ملک بھر میں بھرتی دفاتر کے قیام اور پولیس سروس آف پاکستان کے افسران کی کمانڈ سے شفافیت اور پیشہ ورانہ مہارت کو فروغ ملے گا۔وفاقی حکومت کی زیر نگرانی انسپیکٹر جنرل کی تعیناتی اور وفاقی ریزرو فورس کی تشکیل سے فیڈرل کانسٹیبلری کی کارکردگی پر مرکزی کنٹرول بڑھے گا، جو ہنگامی حالات میں فوری فیصلہ سازی کو ممکن بنائے گا۔
فرنٹیئر کانسٹیبلری ری آرگنائزیشن آرڈیننس 2025 پاکستان کے سیکیورٹی ڈھانچے کو جدید خطرات کے مطابق ڈھالنے کی ایک اہم کوشش ہے۔ اس سے نہ صرف داخلی سیکیورٹی کو مضبوط کرنے میں مدد ملے گی بلکہ ملک بھر میں قانون و امان کی صورتحال کو بہتر بنانے کی صلاحیت بھی بڑھے گی۔ تاہم، اس کی کامیابی کا انحصار شفاف بھرتی، مناسب وسائل کی فراہمی، اور صوبوں کے ساتھ تعاون پر ہوگا۔ وفاقی حکومت کو چاہیے کہ وہ اس نئے ڈھانچے کو نافذ کرتے وقت عوامی اعتماد اور ادارہ جاتی شفافیت کو ترجیح دے۔





















