اسلام آباد :
پاکستان میں اسلامی معیشت کے فروغ اور مالیاتی نظام میں تنوع لانے کے لیے سنٹرل ڈائریکٹوریٹ آف نیشنل سیونگز (CDNS) نے مالی سال 2024-25 کے لیے اسلامی مالیاتی شعبے میں سرمایہ کاری کا نیا ہدف 140 ارب روپے مقرر کر دیا ہے۔ اس اقدام کو نہ صرف مالیاتی منظرنامے کی اسلامی خطوط پر تشکیل نو کی کوشش کے طور پر دیکھا جا رہا ہے بلکہ اس سے اسلامی سرمایہ کاری کی جانب عوامی رجحان کو بھی فروغ ملنے کی توقع ہے۔
قومی بچت اسکیمز کی کامیابی
ترجمان قومی بچت کے مطابق گزشتہ مالی سال کے دوران قومی بچت اسکیمز میں مجموعی سرمایہ کاری کا حجم 255 ارب روپے تک پہنچا، جو کہ مقررہ ہدف 106 ارب روپے سے دگنے سے بھی زیادہ ہے۔ یہ کارکردگی اس بات کی عکاس ہے کہ عوام بچت اور سرمایہ کاری کی طرف متوجہ ہو رہے ہیں، بالخصوص ایسے وقت میں جب معاشی غیر یقینی صورتحال نے بینکنگ اور اسٹاک مارکیٹ پر اعتماد کو متاثر کیا ہے۔
اسی تناظر میں رواں مالی سال (2024-25) کے لیے قومی بچت اسکیمز کا مجموعی ہدف 14 کھرب روپے رکھا گیا ہے، جو ملکی تاریخ کا ایک بلند ہدف ہے اور اس سے حکومت کے مالیاتی ذرائع کو تقویت ملنے کی امید ہے۔
اسلامی مالیات کی طرف جھکاؤ:
پاکستان میں اسلامی مالیاتی نظام کو تقویت دینے کی کوششیں کئی سالوں سے جاری ہیں، مگر اب حکومتی ادارے اس شعبے میں سنجیدہ پیش رفت دکھا رہے ہیں۔ CDNS کا اسلامی مالیاتی شعبے میں 140 ارب روپے کی سرمایہ کاری کا نیا ہدف اسی تسلسل کی ایک کڑی ہے۔
اسلامی سرمایہ کاری اکاؤنٹس، شریعہ سے ہم آہنگ سیونگ اسکیمز، اور منافع کی تقسیم کے شرعی اصولوں پر مبنی پراڈکٹس کو متعارف کروا کر حکومت عوام کو سود سے پاک سرمایہ کاری کے مواقع فراہم کر رہی ہے۔ یہ اقدام نہ صرف مذہبی رجحان رکھنے والے سرمایہ کاروں کو متوجہ کرے گا بلکہ اسلامی بینکنگ اور فنانس کے عالمی شعبے میں پاکستان کی موجودگی کو بھی مضبوط کرے گا۔
منافع کی شرح میں تبدیلی: عوام پر اثرات
جون کے آخری ہفتے میں CDNS نے مختلف بچت اسکیمز پر منافع کی شرح میں نمایاں کمی کی ہے:
ڈیفنس سیونگ سرٹیفکیٹس پر شرح منافع 11.91% سے کم ہو کر 11.76% کر دی گئی۔
اسپیشل سیونگ سرٹیفکیٹس کی شرح منافع 10.90% سے کم ہو کر 10.60% کر دی گئی۔
شہداء فیملی ویلفیئر اکاؤنٹ پر بھی 20 بیسس پوائنٹس کی کمی کی گئی۔
سب سے نمایاں کمی اسلامک سیونگ اکاؤنٹ پر کی گئی جہاں منافع میں 59 فیصد کمی کی گئی ہے۔
یہ منافع کمی کی پالیسی مہنگائی، مالیاتی پالیسی میں تبدیلیوں اور حکومتی قرض گیری کے انداز میں توازن لانے کی کوشش کا نتیجہ ہو سکتی ہے۔ البتہ، اس سے چھوٹے سرمایہ کاروں کو مایوسی ہو سکتی ہے جو محفوظ سرمایہ کاری کے طور پر قومی بچت اسکیمز پر انحصار کرتے ہیں۔
عوامی ردِ عمل اور ماہرین کی رائے
ماضی میں جب بھی قومی بچت اسکیمز پر منافع کم کیا گیا، عوام کی جانب سے اعتماد میں کمی اور سرمایہ کاری میں سست روی دیکھنے میں آئی۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگرچہ حکومت کو مالیاتی نظم و ضبط اور سودی ادائیگیوں کے بوجھ کو کم کرنے کے لیے یہ اقدامات ضروری نظر آتے ہیں، مگر عوام کے اعتماد کو برقرار رکھنے کے لیے متبادل مراعات یا سہولیات فراہم کرنا بھی ناگزیر ہے۔
اسلامی اسکیمز کی ترقی کے لیے شفافیت، رسک مینجمنٹ اور شرعی نگرانی کے اعلیٰ معیار کو یقینی بنانا ہوگا۔ اسلامی سرمایہ کاری میں عوام کو زیادہ فائدہ دینے کے لیے حکومت کو طویل المدتی، شریعہ کمپلائنس مصنوعات کی طرف جانا چاہیے جو روایتی اسکیمز کے مساوی یا بہتر منافع فراہم کر سکیں۔
اسلامی مالیاتی منظرنامے میں ایک اہم سنگ میل
قومی بچت ادارے کی جانب سے اسلامی مالیاتی شعبے میں 140 ارب روپے کی سرمایہ کاری کا ہدف اس بات کی علامت ہے کہ حکومت معاشی ڈھانچے کو شرعی اصولوں سے ہم آہنگ بنانے میں سنجیدہ ہے۔ یہ فیصلہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب پاکستان کو اندرونی و بیرونی مالی دباؤ، کرنسی گراوٹ، اور سودی قرضوں کے بوجھ کا سامنا ہے۔
اسلامی معیشت کی طرف یہ قدم نہ صرف ایک نظریاتی ضرورت ہے بلکہ عملی طور پر بھی اس کا فائدہ عالمی اسلامی مالیاتی مارکیٹ میں پاکستان کی ساکھ کو بہتر بنانے میں ہوگا۔ تاہم، اگر منافع کی شرح میں مسلسل کمی جاری رہی تو عوامی اعتماد متزلزل ہو سکتا ہے۔
یہ وقت ہے کہ حکومت ایک مربوط پالیسی کے ذریعے اسلامی مالیاتی اداروں، علماء، اور سرمایہ کاروں کے ساتھ مل کر ایسی مصنوعات ترتیب دے جو شرعی اصولوں کے ساتھ ساتھ سرمایہ کاری کی بنیاد پر بھی پرکشش ہوں۔
اسلامی مالیات کے فروغ سے نہ صرف ملکی سرمایہ کاری کے افق پر وسعت آئے گی بلکہ پاکستان عالمی اسلامی فنانشل سینٹرز کے ساتھ بہتر معاشی روابط بھی قائم کر سکے گا۔
قومی بچت ادارے کا یہ اقدام وقتی طور پر منافع میں کمی کے باعث عوامی اعتماد کو آزمائش میں ڈال سکتا ہے، مگر طویل مدت میں اگر اسلامی مالیاتی اسکیمز کو شفافیت، منافع بخشی اور شرعی ہم آہنگی کے اصولوں پر مضبوط کیا جائے تو یہ پاکستان کی معیشت کے لیے انقلابی قدم ثابت ہو سکتا ہے۔





















