تہران:ایران نے حال ہی میں ایک واضح موقف اختیار کیا ہے کہ اگر امریکہ نے جوہری مذاکرات کو یورینیم افزودگی کے خاتمے سے مشروط کیا تو تہران ایسی کسی بات چیت کا حصہ نہیں بنے گا۔ یہ بیان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ایران، امریکہ اور اسرائیل کے درمیان حالیہ کشیدگی اور فوجی تصادم کے بعد دوبارہ مذاکرات کی امیدیں پیدا ہو رہی تھیں۔ ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کے مشیر علی ولایتی نے سرکاری خبر رساں ایجنسی ایرنا سے گفتگو میں کہا کہ یورینیم افزودگی روکنے کی شرط پر مذاکرات ممکن نہیں۔ اس رپورٹ میں ایران کے جوہری پروگرام، حالیہ مذاکرات، علاقائی تنازعات اور ان کے اثرات کا تفصیلی جائزہ پیش کیا جائے گا۔
حالیہ پیش رفت
ایرانی حکام نے اپنے جوہری پروگرام کو پُرامن مقاصد کے لیے ضروری قرار دیتے ہوئے اسے جاری رکھنے کا عزم ظاہر کیا ہے۔ ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے کہا کہ ایران اور امریکہ کے درمیان کسی ممکنہ ملاقات کے لیے ابھی تک کوئی تاریخ یا مقام طے نہیں ہوا۔ انہوں نے اسرائیل اور امریکہ پر الزام عائد کیا کہ وہ مذاکرات سے قبل جارحیت کے ذریعے ایران پر دباؤ ڈال رہے ہیں۔
ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے سفارتکاری کی حمایت کرتے ہوئے کہا کہ ایران مذاکرات کے لیے تیار ہے، لیکن یورینیم افزودگی کے حق سے دستبرداری ممکن نہیں۔ دوسری جانب، امریکی نمائندہ خصوصی اسٹیو وٹکوف نے افزودگی کو مکمل طور پر روکنے کا مطالبہ کیا ہے، جو کہ ایران کے لیے ناقابل قبول ہے۔
13 جون سے شروع ہونے والے اسرائیلی حملوں اور اس کے بعد امریکی فضائی کارروائیوں نے خطے میں تناؤ کو عروج پر پہنچا دیا۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ان حملوں کو "تاریخی کامیابی” قرار دیتے ہوئے دعویٰ کیا کہ ایران کی جوہری تنصیبات مکمل طور پر تباہ ہو گئیں، لیکن ایرانی حکام اور آزاد ذرائع نے اس دعوے کی تردید کی، یہ کہتے ہوئے کہ تنصیبات سے جوہری مواد پہلے ہی منتقل کر دیا گیا تھا اور تابکاری کے کوئی آثار نہیں ملے۔
24 جون کو ٹرمپ نے جنگ بندی کا اعلان کیا، لیکن ایران اور اسرائیل نے اس کی تصدیق نہیں کی۔ ایران نے جوابی کارروائی کی دھمکی دیتے ہوئے آبنائے ہرمز بند کرنے اور مشرق وسطیٰ میں امریکی فوجی اڈوں کو نشانہ بنانے کی بات کی۔
پس منظر
ایران کا جوہری پروگرام گزشتہ دو دہائیوں سے عالمی تنازع کا ایک اہم نقطہ رہا ہے۔ 2015 میں ایران اور چھ عالمی طاقتوں (امریکہ، برطانیہ، فرانس، جرمنی، روس اور چین) کے درمیان جوائنٹ کمپری ہینسیو پلان آف ایکشن (JCPOA) پر دستخط ہوئے، جس کے تحت ایران نے اپنی جوہری سرگرمیوں پر پابندیاں قبول کیں اور بدلے میں اس پر عائد اقتصادی پابندیاں ہٹائی گئیں۔ تاہم، 2018 میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اس معاہدے سے یکطرفہ طور پر دستبرداری اختیار کی اور ایران پر "زیادہ سے زیادہ دباؤ” کی پالیسی کے تحت سخت پابندیاں دوبارہ عائد کر دیں۔ اس کے جواب میں ایران نے JCPOA کی حدود سے تجاوز کرتے ہوئے یورینیم کی افزودگی کو 60 فیصد تک بڑھا دیا، جو کہ جوہری ہتھیار بنانے کے لیے درکار 90 فیصد سے کم لیکن پُرامن مقاصد کے لیے درکار 3.67 فیصد سے کہیں زیادہ ہے۔
2021 سے ایران اور امریکہ کے درمیان عمان کی ثالثی میں مذاکرات کا سلسلہ شروع ہوا، لیکن یہ بات چیت کئی بار تعطل کا شکار ہوئی۔ حالیہ 13 جون 2025 کو اسرائیل کی جانب سے ایران کی جوہری تنصیبات (فردو، نطنز اور اصفہان) پر حملوں اور اس کے بعد امریکی حمایت یافتہ محدود فضائی حملوں نے مذاکراتی عمل کو شدید دھچکا پہنچایا۔
اہم اعداد و شمار
یورینیم افزودگی کی سطح: ایران فی الحال یورینیم کو 60 فیصد تک افزودہ کر رہا ہے، جو کہ JCPOA کی 3.67 فیصد کی حد سے کہیں زیادہ ہے۔
جوہری تنصیبات: ایران کی تین اہم جوہری تنصیبات—فردو، نطنز اور اصفہان—امریکی اور اسرائیلی حملوں کا ہدف رہی ہیں۔
ہلاکتیں: 13 جون سے جاری اسرائیلی حملوں میں ایران میں کم از کم 430 افراد ہلاک اور 3,500 زخمی ہوئے۔
مذاکرات کے ادوار: ایران اور امریکہ کے درمیان عمان کی ثالثی میں پانچ دور مذاکرات ہو چکے ہیں، لیکن کوئی معاہدہ طے نہیں پایا۔
تجزیہ
ایران کا جوہری پروگرام اور اس کے گرد گھومتی ہوئی کشیدگی خطے کے جغرافیائی سیاسی منظرنامے میں ایک پیچیدہ مسئلہ ہے۔ ایران کا یورینیم افزودگی جاری رکھنے کا عزم اس کے خودمختاری کے دعوے اور توانائی کے پُرامن استعمال کے حق سے جڑا ہے۔ تاہم، مغربی ممالک، خاص طور پر امریکہ اور اسرائیل، اسے جوہری ہتھیار بنانے کی صلاحیت کے طور پر دیکھتے ہیں، جو کہ خطے میں عدم استحکام کا باعث بن سکتا ہے۔
حالیہ امریکی اور اسرائیلی حملوں نے مذاکراتی عمل کو شدید نقصان پہنچایا ہے۔ ایران کا الزام ہے کہ یہ حملے مذاکرات کو سبوتاژ کرنے کی دانستہ کوشش تھی، جبکہ ٹرمپ انتظامیہ کا دعویٰ ہے کہ یہ ایران کے جوہری عزائم کو روکنے کے لیے ضروری تھا۔ آزاد ذرائع اور IAEA کے مطابق، حملوں سے ایران کا جوہری پروگرام صرف چند ماہ پیچھے گیا، لیکن مکمل تباہی کے دعوے درست نہیں ہیں۔
ایران کی جانب سے آبنائے ہرمز بند کرنے کی دھمکی عالمی توانائی کی منڈیوں کے لیے سنگین خطرہ ہے، کیونکہ یہ راستہ عالمی تیل کی ترسیل کا 20 فیصد حصہ سنبھالتا ہے۔ اس سے عالمی معیشت پر گہرے اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔
مذاکرات کی ناکامی کی ایک بڑی وجہ ایران اور امریکہ کے درمیان اعتماد کا فقدان ہے۔ ایران کا موقف ہے کہ وہ اپنی خودمختاری پر سمجھوتہ نہیں کرے گا، جبکہ امریکہ کی "زیادہ سے زیادہ دباؤ” کی پالیسی نے سفارتی حل کے امکانات کو کمزور کیا ہے۔ عمان کی ثالثی کے باوجود، اسرائیلی حملوں اور امریکی مداخلت نے صورتحال کو مزید پیچیدہ کر دیا ہے۔





















