یوٹیوبر رجب بٹ ایک بار پھر بڑی مصیبت میں پھنس گئے

رجب بٹ نے اپنی ایک حالیہ سوشل میڈیا ویڈیو میں صحابہ کرام کے خلاف نازیبا اور توہین آمیز الفاظ استعمال کیے

لاہور: پاکستان کے معروف یوٹیوبر اور سوشل میڈیا سٹار رجب بٹ ایک بار پھر قانونی مشکلات سے دوچار ہو گئے ہیں۔ لاہور کی سیشن کورٹ میں ان کے خلاف صحابہ کرام کی شان میں توہین آمیز بیانات دینے کے الزام میں مقدمہ درج کرنے کی درخواست دائر کی گئی ہے۔ یہ درخواست ایک شہری کی جانب سے دائر کی گئی ہے، جس نے دعویٰ کیا کہ رجب بٹ نے اپنی ایک سوشل میڈیا ویڈیو میں قابل اعتراض مواد پوسٹ کیا۔ اس تنازعے نے سوشل میڈیا پر ایک نئی بحث چھیڑ دی ہے، جبکہ رجب بٹ کی حالیہ پوسٹ نے ان کے ارادوں کے بارے میں مزید سوالات اٹھائے ہیں۔

مقدمہ دائر کرنے کی درخواست

لاہور کی سیشن کورٹ میں شہری شہزادہ عدنان نے اپنے وکیل مدثر چوہدری کے ذریعے رجب بٹ کے خلاف مقدمہ درج کرنے کی درخواست جمع کرائی ہے۔ درخواست میں الزام لگایا گیا کہ رجب بٹ نے اپنی ایک حالیہ سوشل میڈیا ویڈیو میں صحابہ کرام کے خلاف نازیبا اور توہین آمیز الفاظ استعمال کیے، جو مذہبی جذبات کو مجروح کرنے کا باعث بنے۔ درخواست گزار نے یہ بھی بتایا کہ انہوں نے اس معاملے کی شکایت نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (NCCIA) سے کی تھی، لیکن ایجنسی نے مقدمہ درج کرنے سے گریز کیا۔ اس لیے انہوں نے عدالت سے استدعا کی کہ NCCIA کو رجب بٹ کے خلاف فوری طور پر مقدمہ درج کرنے کا حکم دیا جائے۔

ایڈیشنل سیشن جج نے اس درخواست پر ابتدائی سماعت کے بعد متعلقہ فریقین کو نوٹسز جاری کر دیے ہیں اور کیس کی مزید کارروائی کے لیے تاریخ مقرر کی ہے۔ عدالت کا یہ اقدام اس تنازعے کی سنگینی کو ظاہر کرتا ہے، کیونکہ پاکستان میں مذہبی جذبات کو مجروح کرنے کے الزامات کو انتہائی سنجیدگی سے لیا جاتا ہے۔

رجب بٹ کا متنازعہ ماضی

رجب بٹ، جن کے یوٹیوب پر 4.7 ملین سے زائد سبسکرائبرز اور انسٹاگرام پر 1.1 ملین فالوورز ہیں، اس سے قبل بھی متعدد تنازعات کا شکار رہے ہیں۔ مارچ 2025 میں ان کے خلاف لاہور کے تھانہ نشتر کالونی میں تعزیرات پاکستان کی دفعہ 295-A (مذہبی جذبات کو مجروح کرنا) اور پریوینشن آف الیکٹرانک کرائمز ایکٹ (پیکا) 2016 کے تحت مقدمہ درج کیا گیا تھا۔ اس مقدمے میں الزام لگایا گیا تھا کہ رجب بٹ نے اپنے ایک پرفیوم کے نام ’295‘ کے حوالے سے قابل اعتراض بیانات دیے، جنہیں توہین مذہب سے جوڑا گیا۔ اس تنازعے کے بعد رجب بٹ نے سعودی عرب میں عمرے کے دوران ایک ویڈیو جاری کی تھی، جس میں انہوں نے خانہ کعبہ کے سامنے کھڑے ہو کر معافی مانگی اور اپنے پرفیوم کی فروخت بند کرنے کا اعلان کیا۔

اس کے علاوہ، دسمبر 2024 میں رجب بٹ کو غیر قانونی اسلحہ اور بغیر لائسنس کے شیر کا بچہ رکھنے کے الزام میں گرفتار کیا گیا تھا، لیکن بعد میں انہیں ضمانت پر رہا کر دیا گیا۔ جون 2025 میں ان کے خلاف ایک ٹک ٹاکر خاتون کی جانب سے اغوا اور جنسی زیادتی کے الزامات پر مقدمہ درج کیا گیا، لیکن تفتیش کے دوران انہیں اس کیس سے بری کر دیا گیا۔ ان تنازعات نے رجب بٹ کو سوشل میڈیا پر ایک متنازع شخصیت بنا دیا ہے، اور ان کے ناقدین ان پر معاشرتی اقدار کو نقصان پہنچانے اور فحاشی پھیلانے کے الزامات عائد کرتے ہیں۔

رجب بٹ کی حالیہ سوشل میڈیا پوسٹ

اس نئے تنازعے کے بعد رجب بٹ نے ایک سوشل میڈیا اسٹوری پوسٹ کی، جس میں وہ جہاز میں سفر کرتے ہوئے نظر آئے۔ اس پوسٹ میں انہوں نے لکھا، ’’اگر مشہور ہونا ہے تو پاکستان سے باہر جا کر ہونا۔‘‘ اس بیان نے سوشل میڈیا پر ایک نئی بحث چھیڑ دی، جہاں کچھ صارفین نے اسے پاکستانی معاشرے اور قانون پر طنز قرار دیا، جبکہ دیگر نے اسے رجب بٹ کے ممکنہ طور پر ملک سے باہر جانے کی طرف اشارہ سمجھا۔ سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر ایک صارف نے لکھا، ’’رجب بٹ ہر بار تنازعہ کھڑا کرتے ہیں اور پھر معافی مانگ کر نکل جاتے ہیں۔ کیا یہ ان کا نیا ڈرامہ ہے؟‘‘ ایک اور صارف نے تبصرہ کیا، ’’اگر وہ واقعی پاکستان سے باہر جا رہے ہیں تو یہ ان کے لیے بہتر ہوگا، کیونکہ یہاں ان کے خلاف مقدمات کا سلسلہ ختم ہونے کا نام نہیں لے رہا۔‘‘

قبل ازیں، 13 جولائی 2025 کو ایکس پر ایک پوسٹ میں دعویٰ کیا گیا کہ نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی نے رجب بٹ کو انکوائری کے لیے طلب کیا تھا اور ان کا موبائل فون ضبط کر لیا گیا، جس میں مبینہ طور پر سنگین مواد موجود تھا۔ تاہم، اس کیس کی مزید تفصیلات اب تک سامنے نہیں آئیں، اور یہ واضح نہیں کہ یہ حالیہ درخواست سے متعلق ہے یا کوئی الگ معاملہ ہے۔

سوشل میڈیا پر ردعمل

اس نئے تنازعے نے سوشل میڈیا پر شدید ردعمل کو جنم دیا ہے۔ کچھ صارفین نے رجب بٹ پر سخت تنقید کی اور ان کے خلاف قانونی کارروائی کا مطالبہ کیا۔ ایکس پر ایک صارف نے لکھا، ’’رجب بٹ جیسے لوگ سوشل میڈیا پر فحاشی اور توہین پھیلاتے ہیں۔ ان پر پابندی لگنی چاہیے۔‘‘ دوسری جانب، رجب بٹ کے حامیوں نے ان کے دفاع میں آواز اٹھائی، جیسے کہ معروف یوٹیوبر ڈکی بھائی نے مارچ 2025 میں ان کے حق میں بیان دیا تھا کہ رجب بٹ پر جھوٹے الزامات لگائے جا رہے ہیں۔

ایک مذہبی تنظیم کے رہنما نے ایکس پر لکھا کہ رجب بٹ نے اپنی ویڈیوز میں صحابہ کرام کی توہین کی، اور ان کے خلاف فوری قانونی کارروائی کی جانی چاہیے۔ اسی طرح، اسلامی نظریاتی کونسل کے چیئرمین علامہ راغب حسین نعیمی کے ادارے نے بھی رجب بٹ کو گستاخی کا مرتکب قرار دیتے ہوئے ان کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کیا تھا۔

قانونی اور سماجی تناظر

پاکستان میں توہین مذہب کے الزامات انتہائی سنگین سمجھے جاتے ہیں، اور تعزیرات پاکستان کی دفعہ 295-A اور 295-C کے تحت اس جرم کی سزا سات سال قید سے لے کر سزائے موت تک ہو سکتی ہے۔ رجب بٹ کے خلاف اس سے قبل بھی اسی نوعیت کے الزامات پر مقدمات درج ہو چکے ہیں، لیکن انہوں نے ہر بار معافی مانگ کر یا قانونی چارہ جوئی کے ذریعے خود کو بچایا ہے۔ تاہم، حالیہ مقدمے کی درخواست سے ظاہر ہوتا ہے کہ ان کے خلاف عوامی اور قانونی دباؤ بڑھ رہا ہے۔

رجب بٹ کا حالیہ تنازعہ پاکستانی معاشرے میں سوشل میڈیا کے کردار اور اس سے جڑے قانونی و سماجی چیلنجز کو اجاگر کرتا ہے۔ رجب بٹ، جو اپنی فیملی وی لاگنگ اور تفریحی مواد کی وجہ سے لاکھوں مداحوں میں مقبول ہیں، بار بار تنازعات کی زد میں آ رہے ہیں، جو ان کی ساکھ کو نقصان پہنچا رہے ہیں۔ ان کے خلاف صحابہ کرام کی توہین کا الزام انتہائی سنگین ہے، کیونکہ پاکستان میں مذہبی جذبات کو مجروح کرنے والے معاملات نہ صرف قانونی بلکہ سماجی سطح پر بھی شدید ردعمل کا باعث بنتے ہیں۔

رجب بٹ کی حالیہ سوشل میڈیا پوسٹ، جس میں انہوں نے ’پاکستان سے باہر مشہور ہونے‘ کی بات کی، سے یہ تاثر ملتا ہے کہ وہ شاید ملک سے باہر جانے کی تیاری کر رہے ہیں یا اپنے ناقدین کو جواب دینے کی کوشش کر رہے ہیں۔ یہ بیان ان کے لیے مزید مشکلات پیدا کر سکتا ہے، کیونکہ اسے پاکستانی معاشرے اور قانون پر تنقید کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ ایکس پر صارفین کے ردعمل سے ظاہر ہوتا ہے کہ عوام اس معاملے پر منقسم ہیں؛ کچھ ان کے خلاف سخت کارروائی کا مطالبہ کر رہے ہیں، جبکہ دیگر ان کے حق میں ہیں۔

اس تنازعے سے یہ بھی واضح ہوتا ہے کہ پاکستان میں سوشل میڈیا پر مواد بنانے والوں کو اپنی بات کہتے وقت انتہائی احتیاط برتنی ہوتی ہے، خاص طور پر جب بات مذہبی یا حساس موضوعات سے متعلق ہو۔ رجب بٹ کے ماضی کے تنازعات، جیسے کہ پرفیوم ’295‘ سے متعلق مقدمہ یا غیر قانونی اسلحہ اور شیر کے بچے کی ملکیت، سے ظاہر ہوتا ہے کہ وہ اپنی شہرت کے باوجود بار بار غلط فیصلوں کا شکار ہو رہے ہیں۔

عدالتی کارروائی کے حوالے سے، اگر NCCIA کو مقدمہ درج کرنے کا حکم دیا گیا تو رجب بٹ کو ایک اور مشکل قانونی جنگ کا سامنا کرنا پڑے گا۔ ان کے وکیل کی ماضی کی حکمت عملی سے پتہ چلتا ہے کہ وہ اس قسم کے الزامات سے نمٹنے کے لیے قانونی چارہ جوئی اور عوامی معافی کا سہارا لیتے ہیں۔ تاہم، اس بار عوامی ردعمل اور مذہبی حلقوں کی جانب سے دباؤ کے پیش نظر ان کے لیے صورتحال زیادہ پیچیدہ ہو سکتی ہے۔

آخر میں، یہ تنازعہ پاکستانی سوشل میڈیا کے مستقبل اور اس پر مواد بنانے والوں کی ذمہ داریوں کے بارے میں اہم سوالات اٹھاتا ہے۔ رجب بٹ جیسے کانٹینٹ کری ایٹرز کو اپنی شہرت اور اثر و رسوخ کا استعمال کرتے وقت معاشرتی اور قانونی حدود کا خیال رکھنا ہوگا، ورنہ وہ نہ صرف اپنی ساکھ بلکہ اپنی آزادی بھی خطرے میں ڈال سکتے ہیں۔ اس کیس کا نتیجہ نہ صرف رجب بٹ کے کیریئر بلکہ پاکستان میں سوشل میڈیا کی آزادی کے بارے میں بھی اہم فیصلہ ہوگا۔

متعلقہ خبریں

مقبول ترین