ایشین انڈر 16 والی بال چیمپئن شپ؛ پاکستان سیمی فائنل میں پہنچ گیا

پاکستان اس چیمپیئن شپ میں سیمی فائنل میں جگہ بنانے والی پہلی ٹیم بن گئی ہے

 تھائی لینڈ: پاکستان کی انڈر 16 والی بال ٹیم نے ایشین انڈر 16 والی بال چیمپیئن شپ 2025 میں شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے انڈونیشیا کو 3-0 سے شکست دے کر سیمی فائنل میں جگہ بنا لی ہے۔ یہ فتح نہ صرف پاکستان کو ٹورنامنٹ کے فائنل فور میں لے آئی بلکہ اس نے 2026 کے ایف آئی وی بی انڈر 17 ورلڈ چیمپیئن شپ کے لیے بھی کوالیفائی کر لیا ہے۔ پاکستان اس چیمپیئن شپ میں سیمی فائنل میں جگہ بنانے والی پہلی ٹیم بن گئی ہے، جو اس کی ناقابل شکست کارکردگی کی عکاسی کرتی ہے۔

کوارٹر فائنل میں انڈونیشیا کے خلاف شاندار فتح

تھائی لینڈ کے شہر ناخون پھاتھوم میں جاری اس چیمپیئن شپ کے کوارٹر فائنل مرحلے میں پاکستان نے بدھ کے روز انڈونیشیا کے خلاف ایک زبردست میچ کھیلا۔ پاکستانی ٹیم نے اپنی مہارت، حکمت عملی، اور ٹیم ورک کے شاندار مظاہرے سے انڈونیشیا کو 3-0 سے زیر کیا، جس میں سیٹ اسکورز 25-23، 25-20، اور 25-20 رہے۔ یہ میچ پاکستان کے لیے ایک چیلنج تھا، کیونکہ پہلے سیٹ میں وہ 3-12 سے پیچھے تھے، لیکن کھلاڑیوں نے غیر معمولی صلاحیت اور عزم کا مظاہرہ کرتے ہوئے واپسی کی اور سیٹ اپنے نام کیا۔ محمد جنید، فیضان اللہ، ثوران بیگ، اور طلحہ ماہر اس میچ کے ہیرو رہے، جنہوں نے بالترتیب 15، 11، اور دیگر اہم پوائنٹس اسکور کیے۔

یہ فتح پاکستان کی گروپ اسٹیج کی شاندار کارکردگی کا تسلسل تھی، جہاں اس نے گروپ ڈی میں جنوبی کوریا، سعودی عرب، اور چائینیز تائپے کو بغیر کوئی سیٹ ہارے شکست دی تھی۔ اس شاندار کارکردگی نے پاکستان کو گروپ چیمپیئن کے طور پر کوارٹر فائنل میں جگہ دلائی، اور اب انڈونیشیا کے خلاف فتح نے اسے سیمی فائنل تک پہنچا دیا۔

گروپ اسٹیج میں ناقابل شکست رہنما

پاکستان نے ٹورنامنٹ کے گروپ اسٹیج میں اپنی صلاحیتوں کا بھرپور مظاہرہ کیا۔ اس نے اپنے ابتدائی میچ میں جنوبی کوریا کو 3-0 سے شکست دی، جس میں سیٹ اسکورز 25-16، 25-19، اور 25-8 رہے۔ اس کے بعد سعودی عرب کے خلاف دوسرے میچ میں بھی پاکستان نے 25-14، 25-13، اور 25-12 کے اسکور سے غلبہ حاصل کیا۔ گروپ اسٹیج کے آخری میچ میں چائینیز تائپے، جو 2023 کی چیمپیئن شپ میں کانسی کا تمغہ جیتنے والی ٹیم تھی، کو 26-24، 25-14، اور 25-16 سے ہرایا گیا۔ ان میچوں میں فیضان اللہ، طلحہ ماہر، محمد جنید، اور وہاب نے کلیدی کردار ادا کیا، جنہوں نے اپنی جارحانہ سروسز، مضبوط بلاکس، اور شاندار حملوں سے مخالفین کو دباؤ میں رکھا۔

پاکستان نے گروپ ڈی میں تینوں میچز بغیر کوئی سیٹ ہارے جیتے، جس سے وہ گروپ چیمپیئن کے طور پر ابھرا اور کوارٹر فائنل میں انڈونیشیا کے ساتھ مقابلے کے لیے تیار ہوا۔ اس ناقابل شکست ریکارڈ نے پاکستانی ٹیم کو ٹورنامنٹ کی مضبوط دعویداروں میں شامل کر دیا ہے۔

سیمی فائنل سے پہلے ایران کے ساتھ مقابلہ

پاکستان اب جمعرات کو ایک رسمی میچ میں ایران کا سامنا کرے گا، جو ٹورنامنٹ کی دفاعی چیمپیئن ہے۔ اگرچہ یہ میچ سیمی فائنل سے پہلے ایک اضافی مقابلہ ہے، لیکن پاکستان کی موجودہ فارم سے ظاہر ہوتا ہے کہ وہ اس میچ میں بھی اپنی برتری برقرار رکھنے کی کوشش کرے گی۔ سیمی فائنل اور فائنل میچز 19 جولائی کو کھیلے جائیں گے، جہاں ایشیا کے انڈر 16 چیمپیئن کا فیصلہ ہوگا۔ اس چیمپیئن شپ کے ٹاپ فور ٹیموں کو 2026 کے ایف آئی وی بی انڈر 17 ورلڈ چیمپیئن شپ کے لیے براہ راست کوالیفکیشن ملے گی، جو 24 ٹیموں کے ساتھ منعقد ہوگی۔ پاکستان نے انڈونیشیا کے خلاف فتح کے ساتھ یہ کوالیفکیشن پہلے ہی حاصل کر لی ہے، جو اس کے لیے ایک تاریخی کامیابی ہے۔

ٹورنامنٹ کا ڈھانچہ اور اہمیت

ایشین انڈر 16 والی بال چیمپیئن شپ، جو ایشین والی بال کنفیڈریشن (AVC) کے زیر اہتمام 12 سے 19 جولائی 2025 تک تھائی لینڈ کے شہروں ناخون پھاتھوم اور رچھابوری میں منعقد ہو رہی ہے، ایشیا کی 16 بہترین انڈر 16 ٹیموں کے درمیان مقابلہ ہے۔ ٹیموں کو چار گروپس میں تقسیم کیا گیا ہے، اور ہر گروپ کی ٹاپ دو ٹیمیں کلاسیفکیشن راؤنڈ میں پہنچتی ہیں۔ پاکستان گروپ ڈی میں چائینیز تائپے، جنوبی کوریا، اور سعودی عرب کے ساتھ شامل تھا اور اپنی شاندار کارکردگی کی بدولت گروپ لیڈر کے طور پر ابھرا۔ اس ٹورنامنٹ کے ٹاپ فور ٹیمیں نہ صرف ایشین چیمپیئن شپ کا اعزاز حاصل کریں گی بلکہ عالمی سطح پر اپنی صلاحیتوں کا مظاہرہ کرنے کا موقع بھی پائیں گی۔

سوشل میڈیا پر ردعمل

پاکستان کی اس کامیابی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر زبردست ردعمل حاصل کیا۔ ایک صارف نے لکھا، ’’پاکستان کی انڈر 16 والی بال ٹیم نے ناقابل شکست رہتے ہوئے سیمی فائنل میں جگہ بنائی۔ یہ ہمارے نوجوان کھلاڑیوں کی محنت اور عزم کا ثبوت ہے!‘‘ ایک اور صارف نے تبصرہ کیا، ’’یہ ہے نئی نسل کا جذبہ! پاکستان کا پرچم ہر میدان میں بلند ہو رہا ہے۔‘‘ پاکستانی والی بال فیڈریشن نے بھی ٹیم کی کارکردگی کو سراہتے ہوئے کہا کہ یہ کامیابی پاکستان میں والی بال کے روشن مستقبل کی عکاسی کرتی ہے۔

مستقبل کے امکانات

پاکستان کی انڈر 16 ٹیم کی اس شاندار کارکردگی نے نہ صرف ایشین سطح پر بلکہ عالمی سطح پر بھی ملک کا نام روشن کیا ہے۔ ایف آئی وی بی انڈر 17 ورلڈ چیمپیئن شپ کے لیے کوالیفکیشن حاصل کرنا پاکستانی والی بال کے لیے ایک تاریخی لمحہ ہے، کیونکہ یہ ٹیم پہلی بار اس عالمی ایونٹ میں شرکت کرے گی۔ ماہرین کا خیال ہے کہ یہ ٹیم اپنی موجودہ فارم کے ساتھ نہ صرف سیمی فائنل بلکہ فائنل میں بھی مضبوط دعویدار ہو سکتی ہے۔

پاکستان والی بال فیڈریشن (PVF) نے اس کامیابی پر ٹیم اور کوچنگ اسٹاف کو خراج تحسین پیش کیا اور امید ظاہر کی کہ یہ ٹیم ٹورنامنٹ کے اختتام تک اپنی شاندار کارکردگی کو برقرار رکھے گی۔ فیڈریشن کے صدر چوہدری محمد یعقوب نے کہا کہ یہ کامیابی پاکستان میں والی بال کے فروغ اور نوجوان کھلاڑیوں کی تربیت کے لیے کی گئی کوششوں کا نتیجہ ہے۔

تجزیہ

پاکستان کی انڈر 16 والی بال ٹیم کی یہ کامیابی نہ صرف کھیلوں کے میدان میں ایک سنگ میل ہے بلکہ پاکستانی معاشرے کے لیے ایک عظیم ترغیب بھی ہے۔ اس ٹیم نے نہ صرف اپنی صلاحیتوں اور ٹیم ورک سے ایشین چیمپیئن شپ میں اپنا مقام بنایا بلکہ عالمی سطح پر پاکستان کی نمائندگی کے لیے ایک نیا دروازہ بھی کھول دیا۔ انڈونیشیا کے خلاف کوارٹر فائنل میں 3-12 کے خسارے سے واپسی کرنا اس ٹیم کے عزم اور جذبے کی واضح مثال ہے، جو نئی نسل کے کھلاڑیوں کے لیے ایک رول ماڈل ہے۔

یہ کامیابی پاکستانی والی بال کے لیے ایک نئے دور کا آغاز ہو سکتی ہے۔ ماضی میں، پاکستان کی سینئر والی بال ٹیم نے 1962 کے ایشین گیمز میں کانسی کا تمغہ اور 2022 کے سنٹرل ایشین والی بال چیمپیئن شپ میں گولڈ میڈل جیتا تھا، لیکن انڈر 16 ٹیم کی موجودہ کارکردگی اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ ملک کا جونیئر پروگرام بھی عالمی معیار تک پہنچ رہا ہے۔ اس ٹورنامنٹ میں پاکستان کی ناقابل شکست کارکردگی، خاص طور پر مضبوط ٹیموں جیسے چائینیز تائپے اور انڈونیشیا کے خلاف فتح، اس بات کا ثبوت ہے کہ پاکستانی کھلاڑی تکنیکی اور ذہنی طور پر بہترین ہیں۔

تاہم، سیمی فائنل اور ممکنہ فائنل میں ایران اور جاپان جیسی مضبوط ٹیموں کے خلاف مقابلہ ایک بڑا چیلنج ہوگا۔ ایران، جو دفاعی چیمپیئن ہے، اور جاپان، جو اپنی تکنیکی مہارت کے لیے مشہور ہے، پاکستانی ٹیم کے لیے سخت امتحان ہوں گے۔ اس کے باوجود، پاکستانی ٹیم کی موجودہ فارم اور کھلاڑیوں کی خود اعتمادی سے یہ امید کی جا سکتی ہے کہ وہ فائنل تک رسائی حاصل کر سکتی ہے۔

پاکستان میں والی بال کو کرکٹ کے مقابلے میں کم توجہ ملتی ہے، لیکن اس کامیابی نے سوشل میڈیا پر عوام کا جوش بڑھایا ہے۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ اگر پاکستانی والی بال فیڈریشن اس مومینٹم کو برقرار رکھے اور نوجوان کھلاڑیوں کی تربیت کے لیے سرمایہ کاری کرے تو یہ کھیل ملک میں زیادہ مقبول ہو سکتا ہے۔ اس کے علاوہ، ایف آئی وی بی انڈر 17 ورلڈ چیمپیئن شپ کے لیے کوالیفکیشن پاکستان کے نوجوان کھلاڑیوں کو عالمی سطح پر اپنی صلاحیتوں کو ثابت کرنے کا ایک نادر موقع فراہم کرے گی۔

آخر میں، پاکستان کی انڈر 16 والی بال ٹیم کی یہ کامیابی نہ صرف کھیلوں کے شائقین کے لیے فخر کا باعث ہے بلکہ یہ پاکستان کے نوجوانوں کے لیے ایک پیغام ہے کہ محنت، عزم، اور ٹیم ورک سے کوئی بھی منزل حاصل کی جا سکتی ہے۔ اگر یہ ٹیم اپنی موجودہ کارکردگی کو برقرار رکھتی ہے تو نہ

متعلقہ خبریں

مقبول ترین