تہران: ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای نے امریکا اور اس کے اتحادیوں کو خبردار کیا ہے کہ اگر ایران پر کوئی نیا فوجی حملہ کیا گیا تو اس کا جواب گزشتہ ماہ قطر کے العدید ایئر بیس پر داغے گئے میزائلوں سے کہیں زیادہ شدید ہوگا۔ یہ بیان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب مشرق وسطیٰ میں کشیدگی عروج پر ہے، اور مغربی ممالک ایران پر جوہری مذاکرات دوبارہ شروع کرنے کے لیے دباؤ بڑھا رہے ہیں۔ خامنہ ای کے اس بیان نے عالمی سطح پر نئی بحث کو جنم دیا ہے، جبکہ ایران کی پارلیمنٹ نے بھی مذاکرات کے لیے مغرب کی پیشگی شرائط کو مسترد کر دیا ہے۔
آیت اللہ خامنہ ای کا سخت موقف
ایران کے سرکاری ٹی وی چینل پر نشر ہونے والے ایک خطاب میں آیت اللہ خامنہ ای نے کہا کہ ایران کی قوم نے ہمیشہ استکباری طاقتوں، خاص طور پر امریکا اور اسرائیل، کے سامنے ڈٹ کر مقابلہ کیا ہے۔ انہوں نے گزشتہ ماہ العدید ایئر بیس پر کیے گئے میزائل حملوں کو ’ابتدائی جواب‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ ایران کی اصل طاقت ابھی ظاہر ہونا باقی ہے۔ انہوں نے متنبہ کیا کہ اگر دشمن نے ایران کی خودمختاری کو چیلنج کرنے کی کوشش کی تو اسے ’ایسا جواب ملے گا جو اس کی توقعات سے کہیں بڑا ہوگا۔‘
خامنہ ای نے اپنے خطاب میں کہا کہ ایران اپنی دفاعی صلاحیتوں کو مضبوط کرنے کے لیے پرعزم ہے اور کسی بھی جارحیت کا منہ توڑ جواب دینے کے لیے تیار ہے۔ انہوں نے ایرانی سفارت کاروں کو ہدایت دی کہ وہ عالمی سطح پر ایران کے موقف کو مضبوطی سے پیش کریں اور ’رہنمائی‘ کے مطابق عمل کریں، اگرچہ انہوں نے اس رہنمائی کی تفصیلات واضح نہیں کیں۔ ان کے اس بیان سے ظاہر ہوتا ہے کہ ایران نہ صرف فوجی بلکہ سفارتی محاذ پر بھی اپنی پوزیشن کو مضبوط کرنے کے لیے تیار ہے۔
العدید ایئر بیس پر حملہ
گزشتہ ماہ ایران نے قطر میں واقع امریکی فوجی اڈے العدید پر میزائل حملے کیے تھے، جو مشرق وسطیٰ میں امریکی فوج کا ایک اہم مرکز سمجھا جاتا ہے۔ یہ حملہ ایران کی جوہری تنصیبات پر اسرائیل اور امریکا کے مشترکہ فضائی حملوں کے جواب میں کیا گیا تھا، جسے ایران نے اپنی خودمختاری پر حملہ قرار دیا۔ العدید ایئر بیس، جو امریکی سینٹرل کمانڈ (CENTCOM) کا صدر دفتر ہے، خطے میں امریکی فوجی آپریشنز کے لیے کلیدی اہمیت رکھتا ہے۔ ایرانی حملے سے اڈے کو جزوی نقصان پہنچا، لیکن امریکی حکام نے اسے ’محدود‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس سے کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔
یہ حملہ ایران کی جدید میزائل ٹیکنالوجی اور اس کی فوجی صلاحیتوں کا مظاہرہ تھا، جس نے مغربی ممالک میں تشویش کی لہر دوڑا دی۔ ایرانی حکام نے دعویٰ کیا کہ یہ حملہ ایک ’تنبیہی‘ اقدام تھا، لیکن اس نے خطے میں کشیدگی کو مزید بڑھا دیا۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ العدید پر حملہ ایران کی جانب سے اپنی دفاعی صلاحیتوں کا ایک واضح پیغام تھا کہ وہ کسی بھی جارحیت کا فوری اور موثر جواب دینے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
جوہری مذاکرات پر دباؤ
امریکا، فرانس، جرمنی، اور برطانیہ نے ایران پر جوہری مذاکرات (JCPOA) کو بحال کرنے کے لیے دباؤ بڑھا دیا ہے۔ ان ممالک نے اگست 2025 کے آخر تک مذاکرات دوبارہ شروع کرنے کی ڈیڈ لائن دی ہے، ورنہ ایران پر اقوام متحدہ کی نئی پابندیاں عائد کی جا سکتی ہیں۔ یہ پابندیاں ایران کی تیل کی برآمدات، مالیاتی نظام، اور بین الاقوامی تجارت کو شدید متاثر کر سکتی ہیں۔ تاہم، ایران کی پارلیمنٹ نے مغرب کی پیشگی شرائط کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ مذاکرات صرف مساوی بنیادوں پر ہو سکتے ہیں۔
ایرانی پارلیمنٹ کے ترجمان محمد باقر قالیباف نے کہا کہ ایران اپنے جوہری پروگرام کو اپنی قومی خودمختاری کا حصہ سمجھتا ہے اور کسی بھی دباؤ کے سامنے جھکنے کے لیے تیار نہیں۔ انہوں نے مغرب پر الزام لگایا کہ وہ ایران کو دھمکیوں کے ذریعے مذاکرات کی میز پر لانے کی کوشش کر رہا ہے، جو ’ناقابل قبول‘ ہے۔
سوشل میڈیا پر ردعمل
آیت اللہ خامنہ ای کے بیان نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر زبردست بحث چھیڑ دی ہے۔ ایک صارف نے لکھا، ’’ایران اپنی خودمختاری کے تحفظ کے لیے تیار ہے۔ خامنہ ای کا یہ بیان مغرب کے لیے واضح پیغام ہے کہ ایران کو کمزور نہ سمجھا جائے۔‘‘ ایک اور صارف نے تبصرہ کیا، ’’یہ بیان مشرق وسطیٰ میں ایک نئی جنگ کی تیاری کا اشارہ ہو سکتا ہے۔ عالمی برادری کو مذاکرات کے ذریعے کشیدگی کم کرنی چاہیے۔‘‘ کچھ صارفین نے ایران کے موقف کی حمایت کی، جبکہ دیگر نے اسے ’جارحانہ‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس سے خطے میں عدم استحکام بڑھے گا۔
پس منظر
ایران اور مغربی ممالک کے درمیان کشیدگی 2015 کے جوہری معاہدے (JCPOA) سے امریکا کے 2018 میں یک طرفہ انخلا کے بعد سے بڑھتی جا رہی ہے۔ اس کے بعد ایران نے اپنے جوہری پروگرام کو تیزی سے آگے بڑھایا، جسے مغرب اپنی سلامتی کے لیے خطرہ سمجھتا ہے۔ گزشتہ ماہ ایران کی جوہری تنصیبات پر اسرائیلی اور امریکی حملوں نے صورتحال کو مزید خراب کر دیا، اور ایران کے العدید ایئر بیس پر جوابی حملے نے مغرب کے ساتھ تنازع کو نئی بلندیوں پر پہنچا دیا۔
ایران نے دعویٰ کیا کہ اس کا جوہری پروگرام پرامن مقاصد کے لیے ہے، لیکن مغربی ممالک اسے جوہری ہتھیاروں کی تیاری کی کوشش سمجھتے ہیں۔ اقوام متحدہ کی پابندیوں کے خدشے اور فوجی کشیدگی نے ایران کو عالمی سطح پر تنہائی کا شکار کر دیا ہے، لیکن چین اور روس جیسے ممالک اس کی حمایت کر رہے ہیں۔
آیت اللہ خامنہ ای کا یہ بیان مشرق وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی اور ایران کی فوجی و سفارتی حکمت عملی کا واضح عکاس ہے۔ العدید ایئر بیس پر حملہ اور اب یہ سخت بیان اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ ایران نہ صرف اپنی دفاعی صلاحیتوں کو مضبوط کر رہا ہے بلکہ مغرب کے خلاف ایک جارحانہ پوزیشن بھی اپنا رہا ہے۔ خامنہ ای کا ’اصل طاقت ابھی باقی‘ والا بیان ایران کی جدید میزائل ٹیکنالوجی اور اس کی علاقائی طاقت کو ظاہر کرتا ہے، جو خطے میں طاقت کے توازن کو تبدیل کر سکتا ہے۔
تاہم، یہ بیان کئی خطرات بھی ساتھ لاتا ہے۔ اگر ایران اور مغرب کے درمیان کشیدگی بڑھتی ہے تو یہ ایک بڑے فوجی تصادم کا باعث بن سکتی ہے، جو نہ صرف مشرق وسطیٰ بلکہ عالمی معیشت کے لیے تباہ کن ہوگا۔ ایران کی تیل کی برآمدات پر پابندیوں سے عالمی توانائی کی منڈیوں میں خلل پڑ سکتا ہے، جس سے تیل کی قیمتیں بڑھیں گی اور ترقی پذیر ممالک، جیسے کہ پاکستان، کو معاشی مشکلات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
ایران کی پارلیمنٹ کا مذاکرات کے لیے پیشگی شرائط مسترد کرنا اس بات کی طرف اشارہ کرتا ہے کہ ایران اپنی خودمختاری پر کسی قسم کا سمجھوتہ کرنے کے لیے تیار نہیں۔ یہ موقف ایران کو سفارتی تنہائی کی طرف دھکیل سکتا ہے، لیکن چین اور روس کی حمایت اسے عالمی دباؤ کا مقابلہ کرنے کی ہمت دے رہی ہے۔ مغرب کی اگست کی ڈیڈ لائن اور اقوام متحدہ کی ممکنہ پابندیاں اس تنازع کو مزید پیچیدہ بنا سکتی ہیں۔
پاکستان کے تناظر میں، یہ صورتحال اس لیے اہم ہے کہ وہ ایران کا پڑوسی ملک ہے اور دونوں ممالک کے درمیان تاریخی اور معاشی تعلقات ہیں۔ اگر ایران پر نئی پابندیاں عائد ہوئیں تو پاکستان کی ایران سے گیس پائپ لائن جیسے منصوبوں پر اثر پڑ سکتا ہے۔ اس کے علاوہ، خطے میں فوجی کشیدگی پاکستان کے لیے سیکورٹی خطرات کو بڑھا سکتی ہے۔
آخر میں، آیت اللہ خامنہ ای کا یہ بیان عالمی سیاست کے ایک نازک موڑ کی نشاندہی کرتا ہے۔ ایران کی فوجی طاقت اور سفارتی عزم مغرب کے لیے ایک بڑا چیلنج ہے، لیکن اس سے خطے میں عدم استحکام کا خطرہ بھی بڑھ رہا ہے۔ عالمی برادری کو مذاکرات کے ذریعے اس کشیدگی کو کم کرنے کی ضرورت ہے، ورنہ یہ تنازعہ ایک ایسی جنگ کا پیش خیمہ بن سکتا ہے جو کسی کے مفاد میں نہیں ہوگی۔





















