سرکاری ملازمین کیلئے شادی پر 10 چھٹیوں کا اعلان

کسی بھی ملازم کو شادی کی رخصت کے دوران واپس نہیں بلایا جا سکتا سوائے فوجی اہلکاروں کے

شادی پر چھٹیوں کی اہمیت صرف ایک رسمی سہولت نہیں بلکہ ایک انسان دوست پالیسی کی علامت ہے۔ شادی زندگی کا نیا باب ہوتی ہے جس میں وقت، توجہ اور جذباتی توازن کی ضرورت ہوتی ہے۔ اگر ملازمین کو اس اہم موقع پر مناسب رخصت نہ دی جائے تو وہ ذہنی دباؤ، تھکن اور غیر توجہی کا شکار ہو سکتے ہیں، جس سے نہ صرف ان کی ذاتی زندگی متاثر ہوتی ہے۔ایسے میں متحدہ عرب امارات کے نائب صدر اور دبئی کے حکمران شیخ محمد بن راشد المکتوم نے ایک اہم اور خوش آئند قدم اٹھاتے ہوئے دبئی کے سرکاری ملازمین کو شادی کے موقع پر دس روزہ رخصت دینے کا قانون منظور کر لیا ہے

اہم نکات

10 دن کی شادی کی چھٹی: ہر سرکاری ملازم کو شادی کے موقع پر 10 دن کی رخصت دی جائے گی۔
تمام سرکاری ادارے شامل: اس قانون کا اطلاق صرف سرکاری دفاتر پر نہیں بلکہ خصوصی زونز، آزاد تجارتی علاقوں، عدلیہ اور فوجی اہلکاروں پر بھی ہو گا۔
دوران رخصت واپس بلانے کی اجازت نہیں: کسی بھی ملازم کو شادی کی رخصت کے دوران واپس نہیں بلایا جا سکتا سوائے فوجی اہلکاروں کے ، لیکن وہ بھی صرف ہنگامی حالات میں۔
رخصت کا التواء: اگر کسی وجہ سے رخصت مقررہ وقت پر نہ لی جا سکے تو معقول وجہ اور سپروائزر کی منظوری کے بعد اگلے سال کے لیے منتقل کی جا سکتی ہے۔
فوجی اہلکاروں کے لیے رعایت: اگر کسی فوجی کو رخصت کے دوران واپس بلایا گیا، تو باقی ماندہ دن بعد میں دیے جائیں گے۔

بین الاقوامی تقابل

دنیا کے کئی ترقی یافتہ ممالک جیسے سویڈن، ناروے، جرمنی میں بھی شادی یا والدین بننے پر خصوصی رخصت دی جاتی ہے، مگر خلیجی ریاستوں میں ایسی پالیسیوں کا رواج کم رہا ہے۔ دبئی کی یہ پیش رفت نہ صرف عرب دنیا بلکہ عالمی سطح پر ورک لائف بیلنس کی جانب ایک اہم قدم تسلیم کی جا رہی ہے۔
بصیرت افروز قدم
شادی صرف دو افراد کا بندھن نہیں بلکہ ایک نئے خاندانی ادارے کا آغاز ہے۔ جب حکومت اس موقع پر سہولت دیتی ہے تو یہ اس بات کی علامت ہے کہ وہ خاندان کو ریاست کی بنیادی اکائی سمجھتی ہے۔شادی کے موقع پر چھٹی کا نہ ہونا اکثر ذہنی دباؤ کا باعث بنتا ہے۔ جب ملازم کو یقین ہو کہ اُسے وقت اور سہولت میسر آئے گی، تو وہ بہتر طریقے سے شادی کے بعد کام میں بھی واپس آتا ہے۔ایسے فلاحی اقدامات ملازمین کو اپنے ادارے سے وابستہ کرتے ہیں اور وہ زیادہ وفاداری اور محنت سے کام کرتے ہیں۔ اس کا براہ راست اثر کارکردگی پر بھی پڑتا ہے۔خاص طور پر فوجی اہلکاروں کے لیے اس قانون میں نرمی دینا اس بات کا ثبوت ہے کہ ریاست اپنے محافظوں کی قربانیوں کو سمجھتی ہے اور اُن کی ذاتی زندگی کو بھی اہمیت دیتی ہے۔رخصت کی اگلے سال منتقلی اس نظام کی لچک کو ظاہر کرتی ہے۔ ہر فرد کی زندگی مختلف ہوتی ہے، اور یہ اصول اس کا احترام کرتا ہے۔

مستقبل کی جھلک

یہ قدم مستقبل کی اُس ویلفیئر اسٹیٹ کی جھلک ہے جس کی بنیاد پر ریاستوں کو حقیقی معنوں میں کامیاب اور پائیدار کہا جا سکتا ہے۔ اگر خلیجی ریاستیں اسی طرز پر انسانی خوشی، سماجی ہم آہنگی اور خاندانی نظام کی بہتری کے لیے پالیسیاں بناتی رہیں تو صرف معیشت ہی نہیں بلکہ سماج بھی ترقی کرے گا۔

اس قانون کی اہمیت

متحدہ عرب امارات، بالخصوص دبئی، کئی دہائیوں سے صرف معاشی ترقی کا ہی نہیں بلکہ انسانی فلاح و بہبود اور سماجی توازن کا بھی عالمی نمونہ رہا ہے۔ دنیا بھر سے لاکھوں افراد یہاں آ کر روزگار حاصل کرتے ہیں، لیکن اماراتی حکومت ہمیشہ اپنے شہریوں اور مستقل رہائشیوں کے لیے فلاحی اقدامات کو ترجیح دیتی آئی ہے۔اس قانون کا نفاذ دبئی حکومت کے ان اقدامات کی ایک اور کڑی ہے جو وہ سرکاری ملازمین کی ذاتی اور پیشہ ورانہ زندگی کے درمیان توازن قائم کرنے کے لیے متعارف کروا رہی ہے۔ شادی زندگی کا ایک نیا اور اہم آغاز ہوتا ہے، اور ایسے وقت میں سرکاری سطح پر 10 دن کی مکمل رخصت دینا نہ صرف انسانی ہمدردی کی مثال ہے بلکہ ایک جدید اور حساس حکمرانی کا عملی مظاہرہ بھی ہے۔

 

متعلقہ خبریں

مقبول ترین