لندن: انگلینڈ کے خلاف لندن ٹیسٹ میں بھارت کی شکست کے بعد پانچ میچوں کی ٹیسٹ سیریز میں 1-2 کے خسارے نے بھارتی کرکٹ شائقین کو مایوسی سے دوچار کر دیا ہے۔ اس نازک موقع پر 1983 کے ورلڈ کپ فاتح بھارتی آل راؤنڈر مدن لال نے سابق کپتان ویرات کوہلی سے اپنی ٹیسٹ ریٹائرمنٹ واپس لینے کی پرزور اپیل کی ہے۔ مدن لال کا کہنا ہے کہ کوہلی کی موجودگی نہ صرف بھارتی بیٹنگ لائن اپ کو مضبوط کرے گی بلکہ ان کا تجربہ نوجوان کھلاڑیوں کے لیے مشعل راہ ثابت ہوگا۔ کوہلی کی غیر موجودگی میں بھارت کی بیٹنگ لائن، خاص طور پر نمبر 4 پوزیشن پر، ایک واضح خلا محسوس کر رہی ہے، جسے پُر کرنے کے لیے کپتان شبمن گل نے شاندار کارکردگی دکھائی، لیکن حالیہ ناکامیوں نے کوہلی کی واپسی کی ضرورت کو اجاگر کر دیا ہے۔
مدن لال کی پرجوش اپیل
1983 کے ورلڈ کپ کے ہیرو مدن لال نے لندن سے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ویرات کوہلی کا ٹیسٹ کرکٹ سے اچانک ریٹائرمنٹ کا فیصلہ بھارتی کرکٹ کے لیے ایک بڑا دھچکا ہے۔ انہوں نے کہا کہ کوہلی کا جذبہ، تکنیک، اور میچ جیتنے کی صلاحیت بھارتی ٹیم کے لیے ناقابل تلافی ہے۔ ’’ویرات کوہلی نے ہمیشہ اپنی کارکردگی سے ٹیم کو مشکل حالات سے نکالا ہے۔ میری ان سے گزارش ہے کہ وہ اپنا فیصلہ واپس لیں اور کم از کم ایک سے دو سال مزید ٹیسٹ کرکٹ کھیلیں۔ یہ کوئی شرمندگی کی بات نہیں، بلکہ یہ ان کی عظمت کو اور بڑھائے گا۔‘‘
مدن لال نے مزید کہا کہ کوہلی کی واپسی سے نہ صرف ٹیم کا مورال بلند ہوگا بلکہ نوجوان کھلاڑیوں کو ان کے تجربے سے سیکھنے کا موقع ملے گا۔ انہوں نے زور دیا کہ اگر کوہلی اس سیریز میں واپسی نہ بھی کر سکیں تو اگلی سیریز میں ان کی موجودگی بھارتی کرکٹ کے لیے ایک نیا موڑ لا سکتی ہے۔ ان کے بقول، ’’ویرات ابھی اپنے کیریئر کے عروج پر ہیں اور ان کے پاس دینے کے لیے بہت کچھ ہے۔‘‘
لندن ٹیسٹ میں بھارت کی ناکامی
انگلینڈ کے خلاف جاری پانچ میچوں کی ٹیسٹ سیریز کے تیسرے میچ میں بھارت کو 22 رنز سے شکست کا سامنا کرنا پڑا، جس نے سیریز کا سکور 1-2 کر دیا۔ لندن ٹیسٹ میں بھارت کو جیت کے لیے 231 رنز کا ہدف ملا تھا، لیکن ٹیم 209 رنز پر ڈھیر ہو گئی۔ سابق انگلش کپتان مائیکل وان نے میچ کے بعد تبصرہ کیا کہ تیسرے ٹیسٹ کی تیسری شام کو انگلینڈ کی ٹیم نے شاندار حکمت عملی اپنائی، جس نے بھارتی بیٹنگ لائن کو دباؤ میں لا دیا۔ انہوں نے خاص طور پر شبمن گل کی کارکردگی پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ چوتھی شام کو گل اپنی روایتی پرسکون اور تکنیکی مضبوطی کھو بیٹھے، جس کے نتیجے میں وہ پہلی اننگز میں 16 اور دوسری میں صرف 6 رنز بنا سکے۔
بھارت کی بیٹنگ لائن کی ناکامی نے ویرات کوہلی کی غیر موجودگی کو شدت سے محسوس کیا۔ روِندرا جڈیجا اور لوئر آرڈر نے میچ کو بچانے کی بھرپور کوشش کی، لیکن کوہلی جیسے تجربہ کار بلے باز کی کمی واضح تھی۔ مدن لال سمیت کئی سابق کرکٹرز نے اس شکست کو کوہلی کے ریٹائرمنٹ سے جوڑتے ہوئے کہا کہ ان کی موجودگی میچ کا نتیجہ بدل سکتی تھی۔
ویرات کوہلی کا شاندار کیریئر
ویرات کوہلی نے انگلینڈ کے دورے سے صرف ایک ماہ قبل، جون 2025 میں، ٹیسٹ کرکٹ سے ریٹائرمنٹ کا اعلان کیا تھا، جس نے کرکٹ کی دنیا کو چونکا دیا۔ 36 سالہ کوہلی نے اپنے 14 سالہ ٹیسٹ کیریئر میں 113 میچز کھیلے، جن میں 9,230 رنز بنائے، جن میں 31 سنچریاں اور 31 نصف سنچریاں شامل ہیں۔ ان کی اوسط 46.85 رہی، اور وہ سچن ٹنڈولکر، راہول ڈریوڈ، اور سنیل گواسکر کے بعد بھارت کے چوتھے سب سے زیادہ رنز بنانے والے ٹیسٹ بلے باز ہیں۔ کوہلی کی قیادت میں بھارت نے 2018-19 میں آسٹریلیا میں تاریخی ٹیسٹ سیریز جیت کر عالمی شہرت حاصل کی تھی۔
کوہلی کی ریٹائرمنٹ سے بھارتی ٹیم کی بیٹنگ لائن میں نمبر 4 پوزیشن پر ایک واضح خلا پیدا ہو گیا ہے۔ اس پوزیشن پر کوہلی کی تکنیکی مہارت اور دباؤ میں کارکردگی نے ہمیشہ ٹیم کو سہارا دیا تھا۔ اگرچہ نوجوان کپتان شبمن گل نے اس خلا کو پُر کرنے کی بھرپور کوشش کی، لیکن حالیہ ناکامیوں نے کوہلی کی اہمیت کو ایک بار پھر اجاگر کیا۔
شبمن گل کی کارکردگی اور چیلنجز
نوجوان کپتان شبمن گل نے اس سیریز میں شاندار کارکردگی دکھائی ہے۔ لیڈز ٹیسٹ میں ان کی 147 رنز کی اننگز اور ایجبیسٹن ٹیسٹ میں 269 اور 161 رنز کی شاندار اننگز نے انہیں سیریز کا سب سے نمایاں بلے باز بنایا۔ اب تک وہ 607 رنز کے ساتھ 101.17 کی اوسط سے سیریز میں سب سے زیادہ رنز بنا چکے ہیں۔ تاہم، لندن ٹیسٹ میں ان کی ناکامی نے سوالات اٹھائے ہیں کہ کیا وہ دباؤ کے لمحات میں کوہلی کی طرح مستقل کارکردگی دکھا سکتے ہیں۔ مائیکل وان نے کہا کہ گل کی تکنیکی کمزوریاں تیسرے ٹیسٹ میں واضح ہوئیں، جہاں وہ انگلش بالرز کے سامنے مشکلات کا شکار رہے۔
بھارتی کرکٹ بورڈ کی پریشانی
بھارتی کرکٹ بورڈ (بی سی سی آئی) کو بھی روہت شرما اور ویرات کوہلی کی غیر موجودگی شدت سے محسوس ہو رہی ہے۔ روہت شرما نے گزشتہ سال ون ڈے کرکٹ سے ریٹائرمنٹ لی تھی، جبکہ کوہلی کے ٹیسٹ کرکٹ سے اچانک الگ ہونے نے ٹیم کی قیادت اور بیٹنگ لائن کو کمزور کیا ہے۔ بی سی سی آئی کے ایک عہدیدار نے ایکس پر پوسٹ کیا کہ ’’کوہلی اور روہت کی کمی بھارتی کرکٹ کے لیے ایک بڑا نقصان ہے۔ ہمیں ان جیسے کھلاڑیوں کی ضرورت ہے جو مشکل حالات میں ٹیم کو سہارا دیں۔‘‘
سوشل میڈیا پر ردعمل
کوہلی سے واپسی کی اپیل نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر زبردست بحث چھیڑ دی ہے۔ ایک صارف نے لکھا، ’’ویرات کوہلی کو واپس آنا چاہیے۔ ان کی جگہ کوئی نہیں لے سکتا۔ بھارت کو ان کی ضرورت ہے!‘‘ ایک اور صارف نے تبصرہ کیا، ’’شبمن گل شاندار ہیں، لیکن کوہلی کا تجربہ اور دباؤ میں کھیلنے کی صلاحیت بے مثال ہے۔‘‘ کچھ شائقین نے کوہلی کی ریٹائرمنٹ کو ذاتی فیصلہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ ان پر واپسی کے لیے دباؤ نہیں ڈالنا چاہیے، جبکہ دیگر نے مدن لال کی اپیل کی حمایت کی۔
پس منظر
ویرات کوہلی نے اپنے ٹیسٹ کیریئر کے دوران بھارت کو متعدد تاریخی فتوحات دلائیں، جن میں 2018-19 کی آسٹریلیا سیریز اور 2021 کی انگلینڈ سیریز شامل ہیں۔ ان کی قیادت اور بیٹنگ نے بھارت کو ٹیسٹ کرکٹ میں عالمی نمبر ایک پوزیشن دلائی۔ تاہم، گزشتہ چند سالوں میں مسلسل دباؤ اور ذاتی زندگی کے تقاضوں نے انہیں ریٹائرمنٹ کی طرف دھکیلا۔ جون 2025 میں انہوں نے اعلان کیا کہ وہ اپنے خاندان کے ساتھ وقت گزارنے اور نئی نسل کو موقع دینے کے لیے ٹیسٹ کرکٹ سے الگ ہو رہے ہیں۔
ویرات کوہلی سے ریٹائرمنٹ واپس لینے کی اپیل بھارتی کرکٹ کے موجودہ حالات اور ٹیم کی مشکلات کی عکاسی کرتی ہے۔ لندن ٹیسٹ میں بھارت کی شکست نے واضح کیا کہ شبمن گل جیسے نوجوان کھلاڑیوں نے بھرپور صلاحیت دکھائی ہے، لیکن دباؤ کے اہم لمحات میں کوہلی جیسے تجربہ کار کھلاڑی کی کمی شدت سے محسوس ہوتی ہے۔ نمبر 4 پوزیشن، جو کوہلی کا مضبوط قلعہ تھی، ابھی تک مکمل طور پر مستحکم نہیں ہو سکی، اور گل کی حالیہ ناکامی نے اس خلا کو مزید نمایاں کر دیا۔
مدن لال کی اپیل جذباتی اور عملی دونوں لحاظ سے اہم ہے۔ کوہلی کی واپسی سے نہ صرف بھارتی بیٹنگ لائن مضبوط ہوگی بلکہ شبمن گل اور دیگر نوجوان کھلاڑیوں کو ان کے تجربے سے سیکھنے کا موقع ملے گا۔ تاہم، یہ بھی حقیقت ہے کہ کوہلی نے اپنی ریٹائرمنٹ کا فیصلہ سوچ سمجھ کر کیا تھا، اور ان پر واپسی کے لیے دباؤ ڈالنا ان کے ذاتی فیصلے کی توہین ہو سکتا ہے۔ کرکٹ کی تاریخ میں کئی کھلاڑی، جیسے کہ عمران خان اور شین وارن، ریٹائرمنٹ کے بعد واپس آئے اور شاندار کارکردگی دکھائی، لیکن یہ فیصلہ ہمیشہ کھلاڑی کی ذاتی ترجیحات پر منحصر ہوتا ہے۔
شبمن گل کی کارکردگی اس سیریز میں غیر معمولی رہی ہے، لیکن لندن ٹیسٹ میں ان کی ناکامی سے ظاہر ہوتا ہے کہ وہ ابھی دباؤ کے لمحات میں مستقل مزاجی کے امتحان سے گزر رہے ہیں۔ کوہلی کی واپسی سے ان پر دباؤ کم ہو سکتا ہے، لیکن بی سی سی آئی کو طویل مدتی منصوبہ بندی پر بھی توجہ دینی ہوگی تاکہ کوہلی اور روہت شرما جیسے کھلاڑیوں کی جگہ لینے کے لیے نئے ٹیلنٹ کو تیار کیا جا سکے۔
پاکستان کے تناظر میں، یہ صورتحال پاکستانی کرکٹ کے لیے بھی ایک سبق ہے، جہاں بابر اعظم جیسے کھلاڑیوں پر ٹیم کی کارکردگی کا بڑا انحصار ہے۔ اگر مستقبل میں بابر جیسے کھلاڑی ریٹائرمنٹ کا فیصلہ کریں تو پاکستان کو بھی ایسی ہی مشکلات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ لہٰذا، نئے ٹیلنٹ کی تربیت اور مضبوط بنچ تیار کرنا ضروری ہے۔
آخر میں، ویرات کوہلی سے واپسی کی اپیل بھارتی کرکٹ کے لیے ایک جذباتی اور اسٹریٹجک مطالبہ ہے۔ اگر کوہلی واپس آتے ہیں تو یہ بھارتی ٹیم کے لیے ایک بڑا حوصلہ ہوگا، لیکن اگر وہ اپنے فیصلے پر قائم رہتے ہیں تو بی سی سی آئی کو نئے کھلاڑیوں پر بھروسہ کرنا ہوگا۔ یہ دیکھنا دلچسپ ہوگا کہ کیا کوہلی اپنے شائقین کی اس اپیل پر عمل کرتے ہیں یا اپنے فیصلے پر قائم رہتے ہیں۔





















