زیادہ مؤثر وقت کون سا؟ بلڈ پریشر کی دوا کب لینی چاہیے؟

صبح کے اوقات میں بلڈ پریشر کا اچانک بڑھنا ایک عام رجحان ہے، جسے ’مارننگ سرج‘ کہا جاتا ہے

کراچی: ہائی بلڈ پریشر (ہائپر ٹینشن) کے مریضوں کے لیے ایک اہم پیش رفت سامنے آئی ہے۔ جدید تحقیق سے پتہ چلا ہے کہ بلڈ پریشر کی دوائیں رات کو سونے سے پہلے لینا زیادہ مؤثر ہو سکتا ہے، کیونکہ یہ نہ صرف بلڈ پریشر کو 24 گھنٹوں تک کنٹرول میں رکھتا ہے بلکہ صبح کے وقت ہارٹ اٹیک اور اسٹروک جیسے سنگین خطرات کو بھی نمایاں طور پر کم کرتا ہے۔ یہ دریافت ہائپر ٹینشن کے علاج میں ایک نئے نقطہ نظر کی طرف اشارہ کرتی ہے، جو لاکھوں مریضوں کی زندگیوں کو بہتر بنا سکتی ہے۔

رات کے وقت دوا لینے کے فوائد

ماہرین طب کے مطابق، بلڈ پریشر کی دوائیں رات کو لینے سے جسم کا قدرتی سرکیڈین ریدھم بہتر طور پر ہم آہنگ ہوتا ہے، جو بلڈ پریشر کو کنٹرول کرنے میں مدد دیتا ہے۔ صبح کے اوقات میں بلڈ پریشر کا اچانک بڑھنا ایک عام رجحان ہے، جسے ’مارننگ سرج‘ کہا جاتا ہے۔ یہ رجحان دل کے دورے اور فالج کے خطرات کو بڑھاتا ہے، خاص طور پر ان افراد میں جو پہلے سے ہائی بلڈ پریشر کا شکار ہیں۔ رات کو دوا لینے سے یہ خطرات کم ہوتے ہیں، کیونکہ دوا رات بھر جسم میں فعال رہتی ہے اور صبح کے نازک اوقات میں بلڈ پریشر کو مستحکم رکھتی ہے۔

2019 میں یورپین ہارٹ جرنل میں شائع ہونے والی ایک جامع تحقیق ’ہائی جین ٹرائل‘ (Hygia Trial) نے اس بات کو تقویت دی۔ اس مطالعے میں 19,000 سے زائد مریضوں کا جائزہ لیا گیا، جنہیں دو گروپوں میں تقسیم کیا گیا: ایک گروپ نے بلڈ پریشر کی دوا صبح لی، جبکہ دوسرے نے رات کو۔ نتائج سے پتہ چلا کہ رات کو دوا لینے والوں میں ہارٹ اٹیک، اسٹروک، اور دل کی دیگر بیماریوں کا خطرہ 45 فیصد تک کم ہوا۔ اس تحقیق نے یہ بھی ظاہر کیا کہ رات کے وقت دوا لینا بلڈ پریشر کے اتار چڑھاؤ کو کم کرتا ہے، جو دل و دماغ کی صحت کے لیے فائدہ مند ہے۔

نیند پر مثبت اثرات

ماہرین نے بتایا کہ رات کو دوا لینے کا ایک اضافی فائدہ نیند کے معیار پر اس کا مثبت اثر ہے۔ کچھ بلڈ پریشر کی ادویات، جیسے کہ بیٹا بلاکرز یا ACE انہیبیٹرز، میں ہلکا سا پرسکون (sedative) اثر ہوتا ہے، جو نیند کو بہتر بناتا ہے۔ اچھی نیند نہ صرف بلڈ پریشر کو کنٹرول کرنے میں مدد دیتی ہے بلکہ عمومی صحت پر بھی مثبت اثرات مرتب کرتی ہے۔ تاہم، ماہرین نے خبردار کیا کہ یہ اثر ہر دوا کے ساتھ نہیں ہوتا، اور مریضوں کو اپنے ڈاکٹر سے مشورے کے بغیر دوا کا وقت تبدیل نہیں کرنا چاہیے۔

کون سی ادویات کے لیے مؤثر؟

تحقیق کے مطابق، رات کو دوا لینے کا طریقہ خاص طور پر کچھ مخصوص اقسام کی ادویات کے ساتھ زیادہ مؤثر ہے۔ ان میں شامل ہیں:

کیلشیم چینل بلاکرز (CCBs): یہ ادویات خون کی شریانوں کو آرام دیتی ہیں اور بلڈ پریشر کو کم کرتی ہیں۔

اے آر بیز (Angiotensin Receptor Blockers): یہ دل پر دباؤ کم کرنے میں مددگار ہیں۔

اے سی ای انہیبیٹرز (ACE Inhibitors): یہ خون کی نالیوں کو کھولتے ہیں اور دل کے کام کو آسان بناتے ہیں۔

ڈائیوریٹکس (پیشاب آور ادویات): یہ جسم سے اضافی پانی اور نمک خارج کر کے بلڈ پریشر کو کنٹرول کرتی ہیں۔

ماہرین نے مشورہ دیا کہ ہر مریض کی حالت مختلف ہوتی ہے، اس لیے دوا کا وقت تبدیل کرنے سے پہلے ڈاکٹر سے مشورہ ضروری ہے، خاص طور پر اگر مریض دیگر ادویات بھی لے رہا ہو یا اسے دیگر بیماریاں ہوں۔

ہائپر ٹینشن کا عالمی چیلنج

ہائی بلڈ پریشر دنیا بھر میں دل کی بیماریوں اور اسٹروک کی سب سے بڑی وجہ ہے۔ ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن (WHO) کے مطابق، دنیا بھر میں تقریباً 1.28 بلین افراد ہائی بلڈ پریشر کا شکار ہیں، اور پاکستان میں یہ تعداد تقریباً 30 ملین ہے۔ بدقسمتی سے، بہت سے مریض اپنی حالت سے لاعلم ہوتے ہیں یا مناسب علاج نہیں کرواتے، جس سے سنگین پیچیدگیوں کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔ صبح کے اوقات میں بلڈ پریشر کا اچانک بڑھنا، خاص طور پر 50 سال سے زائد عمر کے افراد میں، دل کی بیماریوں کا ایک بڑا خطرہ ہے۔

سوشل میڈیا پر ردعمل

اس تحقیق نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر زبردست ردعمل حاصل کیا۔ ایک صارف نے لکھا، ’’رات کو بلڈ پریشر کی دوا لینا اتنا مؤثر ہو سکتا ہے، یہ جان کر حیرانی ہوئی۔ ڈاکٹر سے ضرور مشورہ کروں گا۔‘‘ ایک اور صارف نے تبصرہ کیا، ’’یہ تحقیق ہائپر ٹینشن کے مریضوں کے لیے گیم چینجر ہے۔ ہمیں ایسی معلومات زیادہ پھیلانی چاہئیں۔‘‘ کچھ صارفین نے اپنے ڈاکٹروں سے دوا کا وقت تبدیل کرنے کی درخواست کی، جبکہ دیگر نے خبردار کیا کہ بغیر مشورے کے دوا کا وقت تبدیل کرنا خطرناک ہو سکتا ہے۔

پاکستان میں ہائپر ٹینشن کا تناظر

پاکستان میں ہائی بلڈ پریشر ایک بڑھتا ہوا صحت عامہ کا مسئلہ ہے۔ غیر صحت مند خوراک، تناؤ، اور ورزش کی کمی جیسے عوامل اس کی شرح میں اضافے کا باعث ہیں۔ پاکستانی معاشرے میں، جہاں صبح کے اوقات میں دباؤ اور سرگرمیاں زیادہ ہوتی ہیں، بلڈ پریشر کے اچانک بڑھنے کے خطرات کو کم کرنے کے لیے رات کو دوا لینے کا طریقہ ایک مؤثر حکمت عملی ہو سکتا ہے۔ تاہم، پاکستان میں صحت کی سہولیات کی محدود دستیابی اور مریضوں میں آگاہی کی کمی اسے ایک چیلنج بناتی ہے۔

بلڈ پریشر کی دوا کے وقت کے بارے میں یہ نئی تحقیق ہائپر ٹینشن کے علاج میں ایک انقلابی تبدیلی لا سکتی ہے۔ رات کو دوا لینے کا طریقہ نہ صرف صبح کے خطرناک ’مارننگ سرج‘ کو کنٹرول کرتا ہے بلکہ دل کی بیماریوں اور اسٹروک کے خطرات کو بھی نمایاں طور پر کم کرتا ہے۔ یہ دریافت خاص طور پر پاکستان جیسے ممالک کے لیے اہم ہے، جہاں ہائی بلڈ پریشر ایک بڑھتا ہوا مسئلہ ہے اور صحت کی سہولیات ہر ایک کے لیے آسانی سے دستیاب نہیں ہیں۔

تاہم، اس تحقیق کے عملی اطلاق میں کچھ چیلنجز ہیں۔ سب سے پہلے، ہر مریض کی حالت مختلف ہوتی ہے، اور دوا کا وقت تبدیل کرنے سے پہلے ڈاکٹر سے مشورہ ضروری ہے۔ کچھ ادویات رات کو لینے سے نیند یا دیگر اثرات پر منفی اثر ڈال سکتی ہیں، خاص طور پر اگر مریض کو دیگر بیماریاں ہوں۔ دوم، پاکستان میں صحت سے متعلق آگاہی کی کمی ایک بڑا مسئلہ ہے۔ بہت سے مریض اپنی دوا کے وقت یا اس کی اہمیت سے لاعلم ہوتے ہیں، جس کی وجہ سے وہ اپنے ڈاکٹر کے مشورے پر عمل نہیں کرتے۔

اس تحقیق سے پاکستانی ڈاکٹروں اور صحت کے اداروں کو ایک موقع ملتا ہے کہ وہ مریضوں کو ہائپر ٹینشن کے علاج کے بہتر طریقوں کے بارے میں آگاہ کریں۔ خاص طور پر دیہی علاقوں میں، جہاں ڈاکٹروں تک رسائی محدود ہے، اس طرح کی سادہ لیکن مؤثر تبدیلیاں بڑا فرق لا سکتی ہیں۔ حکومت اور نجی شعبے کو چاہیے کہ وہ عوام میں ہائپر ٹینشن کے بارے میں آگاہی مہمات شروع کریں اور مریضوں کو باقاعدہ چیک اپ کی ترغیب دیں۔

آخر میں، رات کو بلڈ پریشر کی دوا لینے کی تحقیق ایک سادہ مگر طاقتور حل پیش کرتی ہے جو لاکھوں مریضوں کی زندگیاں بچا سکتی ہے۔ یہ نہ صرف صحت کے شعبے میں ایک نئی سوچ کو فروغ دیتی ہے بلکہ مریضوں کو اپنی صحت کے بارے میں زیادہ باشعور بننے کی ترغیب دیتی ہے۔ اگر پاکستانی ڈاکٹر اور مریض اس حکمت عملی کو اپناتے ہیں تو ہائپر ٹینشن سے متعلق اموات اور پیچیدگیوں میں نمایاں کمی لائی جا سکتی ہے۔ تاہم، اس کے لیے ڈاکٹروں کی رہنمائی، مریضوں کی تعلیم، اور صحت کے نظام کی بہتری ضروری ہے۔

متعلقہ خبریں

مقبول ترین