’’اپنی زمین اپنا گھر ‘‘سکیم ،4لاکھ 81 ہزار سے زائد درخواستیں جمع ، مزید درخواستوں کی وصولی بند

پنجاب حکومت کی طرف سے صوبے کے 19 اضلاع میں آن لائن درخواستوں کے ذریعے 2ہزار مفت پلاٹس دئیے جائینگے

پنجاب حکومت نے وزیراعلیٰ مریم نواز شریف کی خصوصی ہدایت پر جاری ’’اپنی زمین، اپنا گھر‘‘ پروگرام کے اگلے مرحلے کا آغاز کر دیا ہے، جس کے تحت صوبے کے 19 اضلاع میں 2 ہزار مستحق خاندانوں کو مفت رہائشی پلاٹس فراہم کیے جائیں گے۔ اس ضمن میں آن لائن درخواستوں کی وصولی کا عمل مکمل کر لیا گیا ہے اور مزید درخواستیں فی الوقت بند کر دی گئی ہیں۔
’’اپنی زمین، اپنا گھر‘‘ پنجاب حکومت کا ایک عوامی فلاحی منصوبہ ہے جس کا مقصد بے زمین اور کم آمدنی والے مستحق خاندانوں کو مفت رہائشی پلاٹس فراہم کرنا ہے۔ اس منصوبے کا آغاز وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز کی قیادت میں ہوا، جس کے تحت صوبے کے مختلف اضلاع میں شفاف اور جدید طریقہ کار کے ذریعے اہل خاندانوں کی نشاندہی کی گئی۔

 لاکھوں درخواستیں موصول

وزیر ہاؤسنگ پنجاب بلال یاسین کو ڈی جی پنجاب ہاؤسنگ اینڈ ٹاؤن پلاننگ سکندر ذیشان کی جانب سے دی گئی بریفنگ میں بتایا گیا کہ اس اسکیم کے تحت اب تک 4 لاکھ 81 ہزار سے زائد افراد درخواستیں جمع کرا چکے ہیں، جن میں سے 3 لاکھ 67 ہزار سے زائد درخواستیں ابتدائی اسکریننگ کے معیار پر پورا اتری ہیں۔ یہ اعداد و شمار اس بات کا مظہر ہیں کہ پنجاب میں غریب اور بے گھر خاندانوں کے لیے یہ منصوبہ انتہائی اہم اور متوقع امید کا ذریعہ بن چکا ہے۔

شفاف سکروٹنی کے لیے اضلاع میں کمیٹیاں قائم

وزیر ہاؤسنگ نے اجلاس میں بتایا کہ شفافیت اور غیر جانبداری کو یقینی بنانے کے لیے 19 اضلاع میں ڈپٹی کمشنرز کی سربراہی میں سکروٹنی کمیٹیاں قائم کر دی گئی ہیں جو ایک ماہ کے اندر اندر رپورٹ پیش کریں گی۔ ان کمیٹیوں کا بنیادی کام ان مستحق خاندانوں کی تصدیق اور مکمل جانچ پڑتال ہوگا جو پلاٹ کے اہل قرار دیے جائیں گے۔

اسکیموں کی بحالی اور قرض کی سہولت

وزیر ہاؤسنگ نے متعلقہ حکام کو ہدایت دی کہ پھاٹا کے تحت موجودہ اسکیموں کی جلد از جلد بحالی کو یقینی بنایا جائے تاکہ "اپنی زمین، اپنا گھر” پروگرام کو عملی شکل دی جا سکے۔
اس منصوبے کے تحت مستحق خاندانوں کو نہ صرف مفت پلاٹ دیے جائیں گے بلکہ وہ "اپنی چھت، اپنا گھر” پروگرام کے تحت 15 لاکھ روپے تک بلاسود قرض سے بھی فائدہ اٹھا سکیں گے، جس کے ذریعے وہ اپنے گھروں کی تعمیر شروع کر سکیں گے۔

ایک تاریخی فلاحی قدم اور معاشرتی تبدیلی کی نوید

اپنی زمین، اپنا گھر” پروگرام صرف ایک ہاؤسنگ اسکیم نہیں بلکہ سماجی تحفظ، غربت کے خاتمے، اور مساوی ترقی کی جانب ایک زبردست پیش رفت ہے۔ پاکستان جیسے ملک میں، جہاں لاکھوں خاندان اب بھی چھت سے محروم ہیں، پنجاب حکومت کا یہ اقدام ایک پالیسی انقلاب کی حیثیت رکھتا ہے۔
شفافیت کو یقینی بنانے کے لیے ڈپٹی کمشنرز کی نگرانی میں سکروٹنی کمیٹیاں قائم کرنا ایک دانشمندانہ اور قابلِ تقلید اقدام ہے۔
آن لائن درخواستوں کی سہولت نے دور دراز علاقوں کے لوگوں کو بھی موقع فراہم کیا، جو عام طور پر سرکاری منصوبوں تک رسائی حاصل نہیں کر پاتے۔
بلاسود قرضے کی فراہمی سے یہ اسکیم ایک مکمل ہاؤسنگ ماڈل کی شکل اختیار کر رہی ہے، جس میں صرف زمین نہیں بلکہ گھر کی تعمیر بھی ممکن بنائی جا رہی ہے۔

سماجی انصاف اور خواتین کو فائدہ

یہ منصوبہ بالخصوص ان بیوہ، طلاق یافتہ یا یتیم خواتین کے لیے ایک امید کی کرن ثابت ہو سکتا ہے جو معاشرتی طور پر محرومی کا شکار ہیں۔ اگر اس منصوبے میں خواتین کے لیے مخصوص کوٹے کو ترجیح دی جائے، تو یہ صنفی انصاف کی جانب ایک زبردست قدم ہوگا۔
پنجاب حکومت کا "اپنی زمین، اپنا گھر” پروگرام فلاحی سوچ، عملی اقدامات اور جدید حکمرانی کا مظہر ہے۔ اگر اس منصوبے پر دیانت داری اور شفافیت سے عمل کیا جائے، تو یہ لاکھوں افراد کی زندگی بدلنے کا ذریعہ بن سکتا ہے۔ اس کا دائرہ کار مزید اضلاع تک پھیلایا جانا چاہیے تاکہ پنجاب کا ہر مستحق شہری چھت کی نعمت سے محروم نہ رہے۔

متعلقہ خبریں

مقبول ترین