پیاسے پودوں کی آوازیں، کیڑے اور جانور سننے کی صلاحیت رکھتے ہیں: حیرت انگیز تحقیق

یہ ہائی فریکوئنسی آوازیں، جو انسانی کانوں سے سنی نہیں جا سکتیں

لاہور: سائنس نے فطرت کے ایک اور حیرت انگیز راز سے پردہ اٹھایا ہے۔ تل ابیب یونیورسٹی کی پروفیسر ہلڈا یونیم اور ان کی تحقیقی ٹیم نے ایک غیر معمولی دریافت کی ہے کہ پانی کی کمی کا شکار پودے اور درخت ’’آوازیں‘‘ نکالتے ہیں۔ یہ ہائی فریکوئنسی آوازیں، جو انسانی کانوں سے سنی نہیں جا سکتیں، کیڑوں اور جانوروں کے لیے ایک قدرتی پیغام ہیں کہ یہ پودا صحت مند نہیں ہے۔ یہ تحقیق نہ صرف پودوں کی زندگی کے بارے میں ہمارے علم کو وسعت دیتی ہے بلکہ فطرت کے نازک توازن کو سمجھنے میں ایک اہم پیش رفت ہے۔

پودوں کی پریشانی کی آواز

پروفیسر ہلڈا یونیم کی سربراہی میں کی گئی اس تحقیق سے پتہ چلا کہ جب پودوں یا درختوں کو پانی کی شدید کمی کا سامنا ہوتا ہے، تو وہ ایک خاص قسم کی الٹراسونک آواز پیدا کرتے ہیں۔ یہ آواز پتوں کے اندر موجود پانی کے ننھے بلبلوں کے پھٹنے سے بنتی ہے۔ عام حالات میں، پتوں میں پانی کے یہ بلبلے فی منٹ ایک کی شرح سے بنتے اور پھٹتے ہیں، لیکن تناؤ کے عالم میں، جیسے کہ پانی کی کمی کے دوران، یہ تعداد بڑھ کر 30 سے 40 بلبلے فی منٹ ہو جاتی ہے۔ ان بلبلوں کے پھٹنے سے ہائی فریکوئنسی آوازیں پیدا ہوتی ہیں، جو 20 کلو ہرٹز سے زیادہ ہونے کی وجہ سے انسانی سماعت سے باہر ہوتی ہیں۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ یہ آوازیں کیڑوں کی مادائیں، جیسے کہ تتلیاں یا دیگر حشرات، اور پتے کھانے والے جانور، جیسے کہ ہرن، سن سکتے ہیں۔ یہ آوازیں پودوں کی پریشانی کا ایک واضح اشارہ ہیں، جو کیڑوں کو بتاتی ہیں کہ یہ پودا ان کے انڈوں یا لاروا کے لیے موزوں نہیں، کیونکہ پانی کی کمی اس کی صحت کو متاثر کر رہی ہے۔ اسی طرح، ہرن جیسے جانور بھی ان پودوں کے پتوں سے گریز کرتے ہیں، کیونکہ ان میں غذائیت اور پانی کی مقدار کم ہوتی ہے۔ یہ فطرت کا ایک شاندار دفاعی نظام ہے جو پودوں کو کیڑوں اور جانوروں سے تحفظ فراہم کرتا ہے۔

تحقیق کا طریقہ کار

تل ابیب یونیورسٹی کی ٹیم نے مختلف اقسام کے پودوں، جیسے کہ ٹماٹر، گندم، اور انگور کے پودوں، پر تجربات کیے۔ انہوں نے پودوں کو پانی سے محروم رکھ کر ان کے پتوں میں بننے والے بلبلوں کی سرگرمی کو جدید الٹراسونک مائیکروفونز کے ذریعے ریکارڈ کیا۔ تحقیق سے پتہ چلا کہ پانی کی کمی کے دوران پتوں کے اندر ’’کیویٹیشن‘‘ (cavitation) نامی عمل تیز ہو جاتا ہے، جس میں پانی کے بخارات بنتے ہیں اور بلبلے پھٹتے ہیں، جو ہائی فریکوئنسی آواز کا باعث بنتے ہیں۔ پروفیسر یونیم نے بتایا کہ یہ آوازیں پودوں کی صحت کی حالت کو ظاہر کرتی ہیں اور ان کا ماحول کے ساتھ تعامل کا ایک اہم حصہ ہیں۔

اس تحقیق نے یہ بھی واضح کیا کہ ہر پودے کی آواز کی فریکوئنسی اور شدت اس کی نوعیت اور تناؤ کی سطح پر منحصر ہوتی ہے۔ مثال کے طور پر، پانی کی شدید کمی کے دوران گندم کے پودوں کی آواز کی شدت انگور کے پودوں سے مختلف ہوتی ہے، جو پودوں کی تنوع کی عکاسی کرتا ہے۔

فطرت کا دفاعی نظام

یہ تحقیق فطرت کے ایک حیرت انگیز نظام کی نشاندہی کرتی ہے، جس کے ذریعے پودے اپنی پریشانی کو ’’آواز‘‘ کے ذریعے ظاہر کرتے ہیں۔ یہ آوازیں کیڑوں اور جانوروں کے لیے ایک واضح پیغام ہیں کہ وہ اس پودے سے دور رہیں، کیونکہ یہ صحت مند نہیں ہے۔ اس سے کیڑوں کی مادائیں اپنے انڈوں کے لیے زیادہ صحت مند پودوں کا انتخاب کرتی ہیں، جبکہ جانور غذائیت سے بھرپور پتوں کی طرف راغب ہوتے ہیں۔ یہ نظام نہ صرف پودوں کو تحفظ فراہم کرتا ہے بلکہ ماحولیاتی توازن کو برقرار رکھنے میں بھی اہم کردار ادا کرتا ہے۔

پروفیسر یونیم نے کہا کہ یہ دریافت فطرت کی ایک ایسی حکمت کو ظاہر کرتی ہے جو پودوں، کیڑوں، اور جانوروں کے درمیان ایک پیچیدہ تعلق قائم کرتی ہے۔ انہوں نے اسے ’’فطرت کا الٹراسونک الارم سسٹم‘‘ قرار دیا، جو پودوں کو اپنے ماحول میں زندہ رہنے کے لیے ایک غیر معمولی صلاحیت عطا کرتا ہے۔

سوشل میڈیا پر ردعمل

اس تحقیق نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر زبردست جوش پیدا کیا۔ ایک صارف نے لکھا، ’’پودوں کی آوازیں! یہ فطرت کا ایک معجزہ ہے جو ہمیں اس کے راز سمجھنے پر مجبور کرتا ہے۔‘‘ ایک اور صارف نے تبصرہ کیا، ’’یہ تحقیق زراعت کے لیے ایک نئی راہ کھول سکتی ہے۔ اگر ہم پودوں کی پریشانی کو سمجھ سکیں تو فصلوں کی پیداوار بڑھائی جا سکتی ہے۔‘‘ کچھ صارفین نے اسے قدرت کی عظیم کاریگری کی مثال قرار دیا، جبکہ دیگر نے اسے زرعی اور ماحولیاتی سائنس کے لیے ایک انقلابی قدم کہا۔

زراعت اور ماحولیات کے لیے امکانات

یہ تحقیق زراعت اور ماحولیاتی سائنس کے لیے نئے دروازے کھولتی ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ پودوں کی ان آوازوں کو مانیٹر کرنے کے لیے الٹراسونک سینسرز تیار کیے جا سکتے ہیں، جو کسانوں کو فصلوں کی پانی کی ضروریات اور تناؤ کی حالت کے بارے میں فوری معلومات فراہم کریں گے۔ یہ ٹیکنالوجی پانی کے استعمال کو بہتر بنا سکتی ہے اور فصلوں کی صحت کو برقرار رکھنے میں مدد دے سکتی ہے، جو خاص طور پر پاکستان جیسے ممالک کے لیے اہم ہے جہاں پانی کی قلت ایک بڑا زرعی چیلنج ہے۔

اس کے علاوہ، یہ تحقیق جنگلات کی صحت اور موسمیاتی تبدیلیوں کے اثرات کو مانیٹر کرنے کے لیے بھی استعمال کی جا سکتی ہے۔ پودوں کی تناؤ کی حالت کو سمجھنے سے ماہرین کو یہ جاننے میں مدد ملے گی کہ کون سے علاقوں میں پانی کی کمی یا دیگر ماحولیاتی مسائل بڑھ رہے ہیں۔ یہ پودوں اور ان کے ماحول کے درمیان تعلقات کو سمجھنے کے لیے بھی ایک نیا زاویہ فراہم کرتی ہے۔

تل ابیب یونیورسٹی کی یہ تحقیق پودوں کی زندگی اور ان کے ماحول کے ساتھ تعامل کو سمجھنے کے لیے ایک اہم پیش رفت ہے۔ پودوں کی ہائی فریکوئنسی آوازوں کا تصور نہ صرف سائنسی طور پر دلچسپ ہے بلکہ یہ فطرت کے پیچیدہ اور حیرت انگیز نظام کی گہرائی کو بھی ظاہر کرتا ہے۔ یہ کہ پودے اپنی پریشانی کو آوازوں کے ذریعے کیڑوں اور جانوروں تک پہنچاتے ہیں، فطرت کی ایک ایسی حکمت کی عکاسی کرتا ہے جو ماحولیاتی توازن کو برقرار رکھنے میں کلیدی کردار ادا کرتی ہے۔

زراعت کے تناظر میں، یہ تحقیق پاکستان جیسے ممالک کے لیے ایک گیم چینجر ثابت ہو سکتی ہے، جہاں پانی کی قلت اور فصلوں کی صحت کے مسائل زرعی پیداوار کو متاثر کرتے ہیں۔ اگر کسان پودوں کی ان آوازوں کو مانیٹر کر سکیں تو وہ پانی کی تقسیم کو بہتر بنا سکتے ہیں اور فصلوں کے نقصان کو کم کر سکتے ہیں۔ اس کے علاوہ، یہ ٹیکنالوجی موسمیاتی تبدیلیوں کے اثرات کو سمجھنے اور جنگلات کے تحفظ کے لیے بھی اہم ہو سکتی ہے۔

تاہم، اس تحقیق کے عملی اطلاق میں کچھ چیلنجز بھی ہیں۔ الٹراسونک سینسرز کی تیاری اور ان کا بڑے پیمانے پر استعمال مہنگا ہو سکتا ہے، خاص طور پر ترقی پذیر ممالک کے لیے۔ اس کے علاوہ، مختلف پودوں کی آوازوں کی فریکوئنسی اور شدت کو سمجھنے کے لیے مزید تحقیق کی ضرورت ہے تاکہ اسے زرعی اور ماحولیاتی ایپلی کیشنز کے لیے معیاری بنایا جا سکے۔

پاکستان کے تناظر میں، یہ تحقیق زرعی یونیورسٹیوں اور تحقیقی اداروں کے لیے ایک ترغیب ہے کہ وہ اس طرح کے جدید طریقوں پر کام کریں۔ اگر پاکستانی سائنسدان اس ٹیکنالوجی کو اپناتے ہیں تو یہ نہ صرف زرعی پیداوار بڑھانے میں مدد دے گی بلکہ پانی کے وسائل کے بہتر استعمال کو بھی یقینی بنائے گی۔

آخر میں، یہ تحقیق فطرت کی گہرائی اور اس کی حکمت کو سمجھنے کی ایک شاندار کوشش ہے۔ یہ ہمیں یاد دلاتی ہے کہ پودے محض خاموش مخلوقات نہیں بلکہ ایک پیچیدہ نظام کا حصہ ہیں جو اپنی بقا کے لیے حیرت انگیز طریقے استعمال کرتے ہیں۔ اگر اس تحقیق کے نتائج کو عملی طور پر استعمال کیا جائے تو یہ زراعت، ماحولیاتی تحفظ، اور فطرت کے ساتھ ہمارے تعلق کو نئی جہت دے سکتی ہے۔

متعلقہ خبریں

مقبول ترین