بھارت کا تعلیمی نظام شدید بحران کا شکار ،لاکھوں طلبہ کا مستقبل خطرے میں

نویں جماعت کے 69 فیصد طلبہ بنیادی نمبر سسٹم اور فیصد کا حساب نہیں سمجھ سکتے، جبکہ 66 فیصد جاندار اور بے جان کے درمیان فرق نہیں کر سکتے

نئی دہلی :نریندر مودی کی حکومت کے دور میں بھارت کا تعلیمی نظام شدید بحران کا شکار ہے، جس نے لاکھوں طلبہ کے مستقبل کو خطرے میں ڈال دیا ہے۔ ہندو انتہا پسند جماعت بی جے پی کے زیر اثر مودی سرکار پر الزام ہے کہ وہ تعلیم کو دانستہ طور پر نظر انداز کر رہی ہے تاکہ ہندوتوا ایجنڈے کو فروغ دیا جا سکے۔ ایک حالیہ سروے نے بھارتی تعلیمی نظام کی افسوسناک حقیقت کو بے نقاب کیا ہے، جو نہ صرف تعلیمی معیار کی گراوٹ بلکہ قومی ترقی کے لیے ایک ہنگامی صورتحال کی نشاندہی کرتا ہے۔

تعلیمی نظام کی زبوں حالی

ایک جامع سروے کے مطابق، بھارت کے تعلیمی نظام میں بنیادی صلاحیتوں کی کمی تشویشناک حد تک بڑھ چکی ہے۔ رپورٹ کے اہم نکات یہ ہیں:
خواندگی اور بنیادی مہارتوں کی کمی: تقریباً نصف طلبہ خواندگی، حساب کتاب، اور حالات کے مطابق فیصلہ سازی کی بنیادی مہارتوں سے محروم ہیں۔
ابتدائی تعلیم میں ناکامی: تیسری جماعت کے 45 فیصد طلبہ 99 تک کے ہندسوں کو ترتیب دینے سے قاصر ہیں، جو بنیادی تعلیم کی ناکامی کی عکاسی کرتا ہے۔
سائنسی سمجھ کی کمی: نویں جماعت کے 69 فیصد طلبہ بنیادی نمبر سسٹم اور فیصد کا حساب نہیں سمجھ سکتے، جبکہ 66 فیصد جاندار اور بے جان کے درمیان فرق نہیں کر سکتے۔ یہ اعدادوشمار طلبہ کی سوچنے سمجھنے کی صلاحیت میں سنگین کمی کو ظاہر کرتے ہیں۔
دیہی علاقوں میں بدتر حالات: دیہی علاقوں میں تعلیمی معیار انتہائی ناقص ہے۔ ناکافی اساتذہ، بنیادی سہولیات کی کمی، اور ناقص انفراسٹرکچر نے صورتحال کو مزید خراب کر دیا ہے۔
یہ اعدادوشمار صرف تعلیمی ناکامی کی کہانی نہیں سنانے بلکہ ایک قومی ہنگامی صورتحال کی طرف اشارہ کرتے ہیں، جو بھارت کی معاشی اور سماجی ترقی کو طویل مدتی نقصان پہنچا سکتی ہے۔

ہندوتوا ایجنڈا اور تعلیم کی نظر اندازی

مودی سرکار پر الزام ہے کہ وہ تعلیمی نظام کی بہتری کے بجائے ہندوتوا کے ایجنڈے کو فروغ دینے پر توجہ دے رہی ہے۔ رپورٹس کے مطابق، مودی کی سیاست کا محور شعور کی بیداری نہیں بلکہ اندھی عقیدت اور نفرت کا فروغ ہے۔ تعلیم کو دانستہ طور پر پس پشت ڈال کر، بھارتی نسلوں کو ہندوتوا ایجنڈے کا ایندھن بنانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ اس پالیسی نے نہ صرف تعلیمی معیار کو گرایا بلکہ بھارتی نوجوانوں کو عالمی مقابلے سے دور کر دیا ہے۔

عالمی مقابلہ اور مصنوعی ذہانت سے پیچھے رہ جانا

جب دنیا مصنوعی ذہانت (AI) اور مشین لرننگ کی طرف تیزی سے بڑھ رہی ہے، بھارت میں بنیادی تعلیمی سہولیات کی کمی نے نوجوانوں کو عالمی مقابلے سے باہر کر دیا ہے۔ جدید ٹیکنالوجیز کے دور میں، جہاں ہنر مند افرادی قوت کی مانگ بڑھ رہی ہے، بھارتی طلبہ بنیادی ریاضیاتی اور سائنسی صلاحیتوں سے محروم ہیں۔ یہ صورتحال بھارت کی معاشی ترقی کے امکانات کو شدید نقصان پہنچا رہی ہے۔

دیہی علاقوں کی صورتحال

دیہی علاقوں میں تعلیمی نظام کی حالت خاص طور پر تشویشناک ہے۔ ناقص اساتذہ، بنیادی سہولیات جیسے بجلی، پینے کا پانی، اور واش رومز کی کمی نے دیہی طلبہ کے لیے تعلیم حاصل کرنا ایک مشکل عمل بن چکا ہے۔ اساتذہ کی تربیت اور قابلیت بھی اکثر ناکافی ہوتی ہے، جس سے تعلیمی معیار مزید خراب ہوتا ہے۔

مودی کا ’وکاس‘ منصوبہ: ایک سیاسی دھوکا؟

مودی سرکار کا ’وکاس‘ (ترقی) کا نعرہ تعلیمی نظام کی موجودہ حالت کے تناظر میں ایک سیاسی دھوکے سے زیادہ کچھ نہیں لگتا۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ مودی کی حکومت نے تعلیمی بجٹ کو بڑھانے اور اصلاحات لانے کے بجائے سیاسی ایجنڈوں کو ترجیح دی ہے۔ نتیجتاً، بھارت کا تعلیمی نظام زوال پذیر ہے، اور طلبہ کا مستقبل خطرے میں پڑ چکا ہے۔

تعلیمی بحران کے اسباب اور نتائج

بھارت کا تعلیمی نظام کئی دہائیوں سے مسائل کا شکار رہا ہے، لیکن مودی کے دور میں یہ بحران شدت اختیار کر گیا ہے۔ بنیادی اسباب میں شامل ہیں:
سیاسی ترجیحات: ہندوتوا ایجنڈے کو فروغ دینے کے لیے تعلیم کو نظر انداز کیا جا رہا ہے، جس سے نصاب اور تعلیمی پالیسیوں پر منفی اثر پڑا ہے۔
نجکاری کا بڑھتا رجحان: نجی تعلیمی اداروں کی تعداد میں اضافے نے تعلیم کو مہنگا کر دیا ہے، جس سے غریب اور متوسط طبقہ بنیادی تعلیم سے محروم ہو رہا ہے۔
دیہی-شہری تفاوت: شہری علاقوں کے مقابلے میں دیہی علاقوں میں تعلیمی سہولیات کی شدید کمی ہے، جو طلبہ کی صلاحیتوں کو محدود کر رہی ہے۔
معیار کی کمی: امتحانات اور ڈگریوں پر مبنی نظام نے تخلیقی صلاحیتوں اور عملی ہنر کو فروغ دینے کے بجائے رٹا سسٹم کو فروغ دیا ہے۔

نتائج

معاشی نقصان: ہنر مند افرادی قوت کی کمی بھارت کی عالمی معاشی مسابقت کو کمزور کر رہی ہے۔
سماجی عدم مساوات: تعلیمی تفاوت نے غریب اور امیر کے درمیان خلیج کو بڑھا دیا ہے۔
قومی ترقی میں رکاوٹ: تعلیمی بحران بھارت کی معاشی اور سماجی ترقی کے لیے ایک بڑا خطرہ ہے۔
اس بحران سے نمٹنے کے لیے فوری اصلاحات کی ضرورت ہے، جیسے کہ تعلیمی بجٹ میں اضافہ، اساتذہ کی تربیت، نصاب کی تجدید، اور دیہی علاقوں میں بنیادی سہولیات کی فراہمی۔ بصورت دیگر، بھارت کا تعلیمی نظام اور اس کے طلبہ کا مستقبل مزید تاریک ہو سکتا ہے۔

متعلقہ خبریں

مقبول ترین