اسلام آباد / راولپنڈی / چکوال / لاہور :ملک کے مختلف علاقوں خصوصاً وفاقی دارالحکومت اسلام آباد، راولپنڈی اور چکوال میں شدید موسلا دھار بارشوں کے باعث سیلابی صورتحال پیدا ہوگئی ہے۔ جڑواں شہروں میں صرف 15 گھنٹوں کے دوران 230 ملی میٹر بارش ریکارڈ کی گئی، جس سے ندی نالے بپھر گئے، پانی گھروں میں داخل ہو گیا، ٹریفک نظام درہم برہم ہوگیا، موٹروے بھی زیرِ آب آگئی جبکہ مختلف علاقوں میں ہنگامی امدادی کارروائیاں شروع کردی گئیں۔نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (NDMA) نے آئندہ 24 سے 48 گھنٹوں میں شدید بارشوں اور ندی نالوں میں طغیانی کی پیش گوئی کرتے ہوئے شہریوں سے احتیاطی تدابیر اختیار کرنے کی اپیل کی ہے۔ پی ڈی ایم اے کے مطابق گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران مون سون بارشوں کے نتیجے میں صوبہ بھر میں 63 افراد جاں بحق اور 290 زخمی ہوئے ہیں۔
راولپنڈی اور اسلام آباد میں شدید متاثرہ علاقے
جڑواں شہروں میں موسلا دھار بارش کا سلسلہ پندرہ گھنٹوں تک جاری رہا۔ نالہ لئی میں پانی کی سطح خطرناک حد تک بلند ہوگئی، جس کے باعث گوالمنڈی اور کٹاریاں کے مقامات پر پانی کی سطح بالترتیب 20 اور 21 فٹ تک پہنچ گئی۔ خطرے کے سائرن بجا دیے گئے اور قریبی مساجد سے اعلانات کا سلسلہ بھی شروع ہوگیا۔شدید بارش کے باعث مری روڈ، کمیٹی چوک انڈر پاس، بنی چوک، جامع مسجد روڈ اور اقبال روڈ سمیت دیگر کئی سڑکیں زیرِ آب آگئیں، جس سے ٹریفک کی روانی بری طرح متاثر ہوئی۔ کئی گاڑیاں پانی میں بہہ گئیں۔
واسا اور انتظامیہ کی فوری کارروائیاں
ڈپٹی کمشنر راولپنڈی نے ضلع بھر میں ایک روزہ تعطیل کا اعلان کرتے ہوئے شہریوں کو صرف انتہائی ضرورت کی صورت میں گھروں سے نکلنے کی ہدایت دی ہے۔ واسا، ویسٹ مینجمنٹ کمپنی، ضلعی انتظامیہ اور پاک فوج کی ٹیمیں متاثرہ علاقوں میں امدادی کارروائیوں میں مصروف ہیں۔ فوجی ہیلی کاپٹرز اور کشتیاں بھی عوام کی مدد کے لیے متحرک کر دی گئی ہیں۔
بارش کی مقدار
محکمہ موسمیات کے مطابق اسلام آباد کے سیدپور میں 132 ملی میٹر، گولڑہ (E-11) میں 164، بوکرا (I-12) میں 185، ایچ-8 میں 152 اور شمس آباد میں 158 ملی میٹر بارش ریکارڈ کی گئی۔ راولپنڈی میں چکلالہ کے قریب کچہری میں 235، پیرودھائی میں 196، گوالمنڈی میں 220 اور نیو کٹاریاں میں 200 ملی میٹر بارش ریکارڈ ہوئی۔
چکوال میں کلاؤڈ برسٹ اور ڈیم کا ٹوٹنا
چکوال میں کلاؤڈ برسٹ کے نتیجے میں صرف 10 گھنٹوں میں 423 ملی میٹر بارش ریکارڈ کی گئی، جس سے پنوال ڈیم کا بند ٹوٹ گیا اور بھٹہ خشت کا علاقہ زیر آب آگیا۔ کٹاس راج کا مقدس تالاب بھی سیلابی پانی کی زد میں آگیا، جس پر چکوال میں ایمرجنسی نافذ کر دی گئی۔
دیگر متاثرہ علاقے اور نقصانات
راولپنڈی کے علاقوں نیو چاکرا، ٹینچ بھاٹہ، جان کالونی، محلہ قریشی اور گرجا روڈ میں بھی پانی گھروں میں داخل ہوگیا، کئی رہائشیوں نے امدادی ٹیموں سے مدد کی اپیل کی۔چکری روڈ پر واقع لادیاں گاؤں میں پھنسی ایک فیملی کو نکالنے کے لیے ریسکیو ٹیم ناکام رہی، جس کے بعد ہیلی کاپٹر کے ذریعے ریسکیو کیا گیا۔
حکومتی اقدامات
وزیرِ اعظم شہباز شریف نے راولپنڈی میں بارش سے پیدا ہونے والی صورتحال پر چیف کمشنر اور ایم ڈی واسا سے فوری رپورٹ طلب کرلی ہے۔ وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز کی ہدایت پر پورے پنجاب میں رین ایمرجنسی نافذ کر دی گئی ہے اور تمام ادارے متحرک کر دیے گئے ہیں۔
مون سون بارشوں سے نقصانات کی تفصیل
پی ڈی ایم اے کے مطابق رواں سال مون سون سیزن کے دوران مجموعی طور پر 103 افراد جاں بحق اور 393 زخمی ہوئے، جب کہ 128 مکانات کو نقصان اور 6 مویشی ہلاک ہوئے۔ حکومت جاں بحق افراد کے لواحقین کو مالی امداد فراہم کرے گی۔
بارش کا الرٹ جاری
پی ڈی ایم اے نے آج بھی لاہور، راولپنڈی، فیصل آباد، گوجرانوالہ، ملتان، مری، گلیات سمیت دیگر اضلاع میں تیز بارش کی پیش گوئی کی ہے۔ مری اور پہاڑی علاقوں میں لینڈ سلائیڈنگ کا بھی خدشہ ظاہر کیا گیا ہے۔





















