نوجوانوں میں کینسر تیزی سے کیوں بڑھ رہا ہے؟ ماہرین نے وجوہات بتادیں

2020 میں دنیا بھر میں 18 سے 39 سال کی عمر کے افراد میں کینسر کے تقریباً 1.2 ملین نئے کیسز رپورٹ ہوئے،عالمی ادارہ صحت

لاہور:حالیہ عالمی صحت اداروں کی رپورٹس اور تحقیق کے مطابق، دنیا بھر میں نوجوانوں میں کینسر کے کیسز میں خطرناک حد تک اضافہ ہو رہا ہے۔ ماہرین اس رجحان کی بڑی وجوہات میں ماحولیاتی آلودگی، پلاسٹک کے کیمیکلز کے بڑھتے ہوئے ایکسپوژر، اور غیر صحت مند غذا کو قرار دے رہے ہیں۔ یہ عوامل نہ صرف صحت کے نظام کو متاثر کر رہے ہیں بلکہ نوجوان نسل کو طویل مدتی بیماریوں کی طرف دھکیل رہے ہیں۔

ماحولیاتی آلودگی: ایک خاموش قاتل

فضائی آلودگی، بالخصوص PM2.5 جیسے مائیکرو پارٹیکلز، سانس کے ذریعے جسم میں داخل ہو کر پھیپھڑوں، خون، اور خلیوں تک نقصان پہنچاتے ہیں۔ عالمی ادارہ صحت (WHO) کے مطابق، فضائی آلودگی سالانہ لاکھوں افراد کی قبل از وقت موت کا سبب بنتی ہے، جن میں سے کئی کینسر سے متاثر ہوتے ہیں۔ پانی اور مٹی کی آلودگی بھی زہریلے کیمیکلز جیسے کہ بھاری دھاتیں (لیڈ، کیڈمیم) اور کیڑے مار ادویات کو جسم میں داخل کرتی ہے، جو خلیاتی تبدیلیوں اور ڈی این اے کی خرابی کا باعث بنتے ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ ترقی پذیر ممالک، جیسے کہ پاکستان، جہاں صنعتی ضابطوں کی کمی اور فضائی آلودگی کی بلند سطح ہے، وہاں یہ خطرہ اور بھی زیادہ ہے۔

پلاسٹک ایکسپوژر

پلاسٹک کی اشیاء، جیسے کہ پانی کی بوتلیں، فوڈ پیکنگ، اور روزمرہ کے استعمال کی دیگر اشیاء، میں موجود کیمیکلز جیسے کہ فتھیلٹس (phthalates) اور بسفینول اے (BPA) ہارمونل نظام کو شدید متاثر کرتے ہیں۔ یہ کیمیکلز اینڈوکرائن ڈسپریٹرز کے طور پر کام کرتے ہیں، جو ہارمونز کے توازن کو بگاڑ کر بلوغت کے عمل، تولیدی نظام، اور کینسر کے خطرے کو بڑھاتے ہیں۔ حالیہ تحقیق سے پتہ چلتا ہے کہ یہ کیمیکلز بریسٹ کینسر، پروسٹیٹ کینسر، اور لیوکیمیا جیسے امراض سے منسلک ہیں۔ خاص طور پر نوجوان خواتین میں بریسٹ کینسر کے کیسز کی تعداد میں اضافہ تشویشناک ہے، جو پلاسٹک کے بے تحاشا استعمال سے جوڑا جا رہا ہے۔

غیر صحت مند غذا: کینسر کا ایک اور محرک

پروسسڈ فوڈز، زیادہ چینی، مصنوعی رنگ، اور کم فائبر والی غذا کا بڑھتا ہوا استعمال جسم میں سوزش (inflammation) پیدا کرتا ہے، جو کینسر کے خطرے کو بڑھاتا ہے۔ عالمی کینسر ریسرچ فنڈ کے مطابق، موٹاپا کئی اقسام کے کینسر، جیسے کہ جگر، بڑی آنت، اور لبلبہ کے کینسر کا ایک بڑا خطرہ ہے۔ پاکستان جیسے ممالک میں فاسٹ فوڈ اور پروسسڈ فوڈز کی بڑھتی ہوئی مقبولیت نے نوجوانوں میں موٹاپے کی شرح کو بڑھایا ہے، جو بالواسطہ طور پر کینسر کے خطرات کو بڑھا رہا ہے۔

پس منظر

نوجوانوں میں کینسر کے بڑھتے ہوئے کیسز کا رجحان گزشتہ دو دہائیوں سے عالمی سطح پر دیکھا جا رہا ہے۔ عالمی ادارہ صحت کے مطابق، 2020 میں دنیا بھر میں 18 سے 39 سال کی عمر کے افراد میں کینسر کے تقریباً 1.2 ملین نئے کیسز رپورٹ ہوئے، جو کہ ایک دہائی قبل کے مقابلے میں 20 فیصد زیادہ ہیں۔ ترقی پذیر ممالک میں، جہاں ماحولیاتی ضابطوں کی کمی، صنعتی ترقی کی وجہ سے آلودگی بڑھ رہی ہے، یہ رجحان زیادہ واضح ہے۔ پاکستان میں، شہری علاقوں جیسے کہ کراچی، لاہور، اور فیصل آباد میں فضائی آلودگی کی بلند سطح اور پلاسٹک کے بے تحاشا استعمال نے صحت کے مسائل کو مزید سنگین کر دیا ہے۔

یہ رجحان نہ صرف تشویشناک ہے بلکہ اس سے نمٹنے کے لیے فوری اقدامات کی ضرورت ہے۔ ماحولیاتی آلودگی کو کم کرنے کے لیے سخت صنعتی ضابطوں، صاف توانائی کے استعمال، اور پانی کی صفائی کے نظام کو بہتر بنانے کی ضرورت ہے۔ پلاسٹک کے استعمال کو کم کرنے کے لیے، متبادل مواد جیسے کہ شیشہ یا دھاتی بوتلوں کو فروغ دینا اور پلاسٹک کے ری سائیکلنگ کے نظام کو بہتر بنانا ضروری ہے۔ اسی طرح، صحت مند غذا کو فروغ دینے کے لیے تعلیمی مہمات اور فاسٹ فوڈ پر ٹیکس جیسے اقدامات اہم ہو سکتے ہیں۔
حکومتی اور غیر سرکاری اداروں کو چاہیے کہ وہ عوامی آگاہی مہمات شروع کریں تاکہ لوگوں کو ان خطرات سے آگاہ کیا جا سکے۔ اس کے علاوہ، کینسر کی جلد تشخیص کے لیے اسکریننگ پروگرامز اور صحت کے بنیادی ڈھانچے کو مضبوط کرنا بھی ناگزیر ہے۔ اگر ان عوامل کو کنٹرول نہ کیا گیا تو آنے والے سالوں میں کینسر کے کیسز میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے، جو صحت کے نظام اور معاشرے پر بوجھ بڑھائے گا۔
نتیجہ
نوجوانوں میں کینسر کے بڑھتے ہوئے کیسز ایک عالمی چیلنج ہیں، جن کا مقابلہ کرنے کے لیے مربوط حکمت عملی اور فوری اقدامات کی ضرورت ہے۔ ماحولیاتی تحفظ، پلاسٹک کے استعمال میں کمی، اور صحت مند طرز زندگی کو فروغ دینا اس مسئلے کے حل کی طرف اہم قدم ہو سکتے ہیں۔

متعلقہ خبریں

مقبول ترین