خیبرپختونخوا کے 59 فیصد شہری بیروزگاری سے پریشان ہیں:گیلپ پاکستان

سروے میں 67 فیصد شہریوں نے صوبائی حکومت پر بیروزگاری کم کرنے کے لیے مؤثر اقدامات نہ کرنے پر شدید ناراضی کا اظہار کیا

پشاور:گیلپ پاکستان کی جانب سے خیبرپختونخوا میں حال ہی میں کرائے گئے ایک عوامی سروے کے نتائج نے صوبے میں بیروزگاری، کاروباری دشواریوں اور ترقیاتی کاموں کے فقدان پر عوامی عدم اطمینان کو نمایاں کر دیا ہے۔ عوام کی اکثریت نے صوبائی حکومت کی کارکردگی پر سخت مایوسی کا اظہار کرتے ہوئے بیروزگاری کے مسئلے کو سب سے اہم چیلنج قرار دیا ہے۔

بیروزگاری پر شدید عوامی تشویش

گیلپ پاکستان کے اس سروے کے مطابق خیبرپختونخوا کے 59 فیصد شہری صوبے میں بڑھتی ہوئی بیروزگاری پر تشویش کا شکار ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ موجودہ حکومت نوجوانوں کو روزگار کے مواقع فراہم کرنے میں مکمل طور پر ناکام رہی ہے۔ اسی تناظر میں 67 فیصد شہریوں نے صوبائی حکومت پر بیروزگاری کم کرنے کے لیے مؤثر اقدامات نہ کرنے پر شدید ناراضی کا اظہار کیا۔ یہ اعداد و شمار اس بات کی غمازی کرتے ہیں کہ عوام اپنے معاشی مستقبل کے حوالے سے غیر یقینی صورتحال کا شکار ہیں۔

کاروبار شروع کرنا بھی بڑا چیلنج

سروے میں شامل 63 فیصد شہریوں نے خیبرپختونخوا میں کاروبار شروع کرنے کو "مشکل” قرار دیا، جب کہ 59 فیصد نے یہ رائے دی کہ پنجاب کے مقابلے میں خیبرپختونخوا میں کاروبار کرنا زیادہ دشوار ہے۔ اس موازنہ سے واضح ہوتا ہے کہ نہ صرف روزگار کے مواقع محدود ہیں، بلکہ کاروبار کے لیے ماحول بھی سازگار نہیں رہا۔

حکومتی پروگرامز سے لاعلمی

سروے میں یہ بات بھی سامنے آئی کہ چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروبار کے لیے صوبائی حکومت کی جانب سے متعارف کردہ پروگرامز سے 54 فیصد شہری لاعلم ہیں۔ یہ لاعلمی حکومت کی پالیسیوں کی ناکافی تشہیر اور عوام تک رسائی میں ناکامی کو ظاہر کرتی ہے۔ البتہ صرف 27 فیصد شہریوں نے حکومت کے پروگرامز سے مطمئن ہونے کا اظہار کیا، جو ایک نہایت کمزور اطمینان بخش کارکردگی کا اشاریہ ہے۔

ترقیاتی منصوبوں کی عدم موجودگی پر نکتہ چینی

صوبے میں ترقیاتی منصوبوں کے حوالے سے بھی عوام نے سخت مایوسی کا اظہار کیا۔ 55 فیصد شہریوں کا کہنا تھا کہ موجودہ حکومت نے سڑکوں، پلوں اور بنیادی ڈھانچے کی بہتری کے لیے کوئی قابلِ ذکر منصوبہ شروع نہیں کیا۔ حیران کن طور پر، صوبے کی سب سے بڑی جماعت تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے 43 فیصد ووٹرز بھی اس حکومتی کارکردگی سے ناخوش نظر آئے۔ یہ اس بات کا اشارہ ہے کہ ناراضی صرف حزبِ اختلاف تک محدود نہیں بلکہ حکومتی حامیوں میں بھی بددلی بڑھ رہی ہے۔

پس منظر

خیبرپختونخوا وہ صوبہ ہے جہاں ماضی میں دہشتگردی، بدامنی اور غربت جیسے مسائل نے گہرا اثر چھوڑا۔ تاہم گزشتہ دہائی میں کچھ حد تک امن و امان کی بہتری اور تعمیر و ترقی کے دعوے کیے گئے۔ پی ٹی آئی کی حکومت نے طویل مدت تک اس صوبے میں حکمرانی کی، اور اس دوران بلدیاتی نظام، صحت کارڈ، تعلیمی اصلاحات اور دیگر اقدامات کو سراہا بھی گیا۔ لیکن موجودہ حالات اور معاشی بدحالی کے پیش نظر عوام کی توقعات پوری نہ ہونے کی وجہ سے مایوسی بڑھ رہی ہے۔
مہنگائی، بے روزگاری اور کاروباری بندش جیسے عوامل نے خیبرپختونخوا کے شہریوں کو معاشی لحاظ سے غیر محفوظ بنا دیا ہے۔ اسی کے نتیجے میں اب عوام محض وعدوں پر قناعت نہیں کر رہے، بلکہ عملی اقدامات کا تقاضا کر رہے ہیں۔

تجزیہ

گیلپ پاکستان کا حالیہ سروے خیبرپختونخوا حکومت کے لیے ایک تنبیہ ہے۔ عوامی ناراضی کا یہ اظہار اشارہ دیتا ہے کہ حکومت کو صرف دعووں پر نہیں بلکہ زمینی حقائق پر مبنی پالیسی سازی کی طرف توجہ دینا ہوگی۔ بیروزگاری صرف ایک معاشی مسئلہ نہیں بلکہ سماجی عدم استحکام، جرائم اور ذہنی دباؤ جیسے دیگر مسائل کی جڑ بھی بن سکتی ہے۔ اگر حکومت فوری طور پر اس مسئلے کے حل کے لیے حکمت عملی وضع نہیں کرتی تو صورتحال مزید بگڑ سکتی ہے۔
اسی طرح کاروباری مشکلات اور حکومتی پروگرامز سے عوام کی لاعلمی، صوبائی مشینری کی ناکامی کو واضح کرتی ہے۔ حکومت کو چاہیے کہ وہ نہ صرف نئے منصوبے بنائے بلکہ پہلے سے موجود اسکیموں کو بہتر انداز میں متعارف کروائے، مقامی سطح پر عوامی نمائندوں کو شامل کرے، اور میڈیا اور سوشل پلیٹ فارمز کے ذریعے بھرپور آگاہی مہم چلائے۔
ترقیاتی منصوبوں کا نہ ہونا، سڑکوں اور بنیادی سہولتوں کی بدحالی اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ حکومت کا فوکس محض سیاسی نعرے بازی تک محدود ہے۔ اگر ترقی کا کوئی وژن موجود ہے تو اسے زمین پر دکھانا ہوگا، بصورت دیگر عوام کا اعتماد مسلسل کم ہوتا جائے گا، اور یہ سیاسی نقصان کا پیش خیمہ ثابت ہو سکتا ہے۔

متعلقہ خبریں

مقبول ترین