پاکستان میں ذیابیطس کے 30 فیصد سے زائد مریض نفسیاتی مسائل کاشکار

پاکستان میں 3 کروڑ 30 لاکھ سے زیادہ افراد ذیابیطس کے مرض میں مبتلا ہیں،ماہر ذیابیطس

کراچی :پاکستان میں صحت عامہ کے ایک اور سنگین مسئلے کی جانب ماہرین صحت نے توجہ دلاتے ہوئے انکشاف کیا ہے کہ ملک میں ذیابیطس کے 30 فیصد سے زائد مریض ذہنی تناؤ جیسے نفسیاتی مسائل کا بھی شکار ہیں۔ ماہر ذیابیطس پروفیسر عبدالباسط نے ایک سیمینار سے خطاب میں بتایا کہ پاکستان میں 33 ملین (3 کروڑ 30 لاکھ) سے زیادہ افراد ذیابیطس کے مرض میں مبتلا ہیں، اور ان میں 30 سے 40 فیصد مریض شدید ذہنی دباؤ یا ڈپریشن جیسی کیفیات کا سامنا کر رہے ہیں۔

ماہرین کی تشویش

پروفیسر عبدالباسط کے مطابق ذیابیطس صرف جسمانی بیماری نہیں، بلکہ یہ مریض کی ذہنی، سماجی اور نفسیاتی زندگی پر بھی گہرا اثر ڈالتی ہے۔ مریض نہ صرف اپنی روزمرہ زندگی کے فیصلوں میں الجھ جاتے ہیں بلکہ مستقل انسولین، خوراک پر کنٹرول اور پیچیدگیوں کے خوف سے بھی ذہنی تناؤ کا شکار ہو جاتے ہیں۔
انہوں نے یہ بھی نشاندہی کی کہ پاکستان میں ذہنی صحت کے ماہرین کی شدید کمی ہے۔ ملک میں ایک محتاط اندازے کے مطابق ہر پانچ لاکھ افراد کے لیے محض ایک ماہر نفسیات موجود ہے، جو کہ عالمی معیار کے برعکس ایک نہایت تشویشناک صورت حال ہے۔

انڈس سپتال کی خدمات

اسی موقع پر انڈس اسپتال اینڈ ہیلتھ نیٹ ورک کے صدر ڈاکٹر عبدالباری خان نے بھی گفتگو کی اور کہا کہ ان کا ادارہ نہ صرف مستحق مریضوں کو مفت اور معیاری علاج فراہم کر رہا ہے، بلکہ وہ تحقیقی سرگرمیوں کے ذریعے صحت سے متعلق شعور اجاگر کرنے میں بھی فعال کردار ادا کر رہا ہے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ ذیابیطس جیسی بیماریوں کے ساتھ جڑے ذہنی مسائل کو سنجیدگی سے لینے کی ضرورت ہے، تاکہ مریض کی مجموعی زندگی کو بہتر بنایا جا سکے۔

پاکستان میں ذیابیطس اور ذہنی تناؤ کی یہ ملی جلی کیفیت ایک خاموش مگر خطرناک بحران کی جانب اشارہ کرتی ہے۔ یہ اعداد و شمار صرف ایک طبی مسئلے کی نشاندہی نہیں کرتے بلکہ یہ سماجی، معاشی اور پالیسی کی سطح پر موجود کمزوریوں کو بھی بے نقاب کرتے ہیں۔
ایک طرف تو 3 کروڑ سے زائد افراد ایک دائمی بیماری کے ساتھ زندگی گزار رہے ہیں، اور دوسری طرف ان کی جذباتی اور نفسیاتی فلاح و بہبود کا کوئی مستند، جامع نظام موجود نہیں۔ ایسے مریض، جو پہلے ہی دواؤں، خوراک کی پابندی، اور بار بار ٹیسٹوں کے بوجھ تلے دبے ہوتے ہیں، جب ذہنی تناؤ میں مبتلا ہوتے ہیں تو نہ صرف ان کی بیماری کی پیچیدگیاں بڑھتی ہیں بلکہ علاج سے وابستگی بھی کم ہو جاتی ہے۔
پاکستان جیسے ملک میں جہاں صحت کا بجٹ جی ڈی پی کا صرف 2 فیصد سے بھی کم ہے، وہاں ذہنی صحت جیسے حساس شعبے کو مسلسل نظرانداز کرنا خطرناک نتائج کا باعث بن سکتا ہے۔ اس کی سب سے بڑی قیمت عوام، خاص طور پر دائمی بیماریوں کے شکار افراد چکاتے ہیں۔
مزید برآں، معاشرتی بدنامی (stigma) کی وجہ سے بہت سے لوگ ذہنی تناؤ یا ڈپریشن کے بارے میں بات کرنے سے کتراتے ہیں، جس کے باعث ان کی حالت مزید بگڑتی ہے۔ ذیابیطس اور ذہنی بیماری کا یہ دوہرا بوجھ نہ صرف فرد بلکہ خاندان اور نظامِ صحت پر بھی بھاری پڑتا ہے۔
اس وقت پاکستان کو ایسی پالیسی اصلاحات کی اشد ضرورت ہے، جو صرف ذیابیطس یا ذہنی صحت کو الگ الگ نہیں بلکہ ان کے باہمی تعلق کو مدِنظر رکھ کر جامع حکمت عملی بنائیں۔ اسپتالوں، تعلیمی اداروں، اور میڈیا کے ذریعے عوامی شعور اجاگر کرنے کے ساتھ ساتھ، ڈاکٹروں اور پیرا میڈیکل سٹاف کی تربیت بھی وقت کی اہم ضرورت ہے تاکہ وہ ذیابیطس کے مریضوں کی جسمانی بیماری کے ساتھ ساتھ ان کے ذہنی دباؤ کا بھی مؤثر طور پر سامنا کر سکیں۔

متعلقہ خبریں

مقبول ترین