کوئٹہ :ریکوڈک مائننگ کارپوریشن (Reko Diq Mining Corporation – RDMC) نے انکشاف کیا ہے کہ کمپنی نے بلوچستان حکومت کو ٹیکس، رائلٹی اور سماجی سرمایہ کاری کی مد میں اب تک 2 کروڑ 80 لاکھ امریکی ڈالر سے زائد کی ادائیگیاں کی ہیں۔ یہ معلومات ریکوڈک منصوبے کی حالیہ پیشرفت کے حوالے سے منعقدہ ایک میڈیا بریفنگ میں شیئر کی گئیں۔
مالی ادائیگیوں کی تفصیل
ریکوڈک مائننگ کارپوریشن کی کمیونیکیشنز منیجر سامعہ علی شاہ نے بتایا کہ جون 2025 تک:
رائلٹی کی مد میں: 1 کروڑ 75 لاکھ ڈالر
ٹیکس (ملازمین اور دیگر فریقین سے وصول کردہ): تقریباً 38 لاکھ ڈالر
سماجی سرمایہ کاری: 72 لاکھ ڈالر
یہ ادائیگیاں اس بات کی عکاسی کرتی ہیں کہ ریکوڈک منصوبہ صرف معدنیات کے حصول تک محدود نہیں بلکہ بلوچستان کی معیشت میں براہِ راست مالی فوائد کا ذریعہ بھی بن رہا ہے۔
بلوچستان حکومت کی شراکت داری
سامعہ علی شاہ نے واضح کیا کہ بلوچستان حکومت ریکوڈک منصوبے میں 25 فیصد شراکت دار ہے، تاہم اس شراکت میں کوئی براہِ راست سرمایہ کاری نہیں کی گئی۔ انہوں نے مزید بتایا کہ یہ منصوبہ مجموعی طور پر حکومتِ پاکستان اور ریکوڈک مائننگ کارپوریشن (RDMC) کے درمیان برابر کی بنیاد پر شراکت داری پر مبنی ہے، جس میں بلوچستان حکومت کی شراکتداری حکومت پاکستان کی نمائندگی میں شامل ہے۔
اسے بھی پڑھیں: پاکستان کی معیشت دو ٹریلین ڈالر تک پہنچ سکتی ہے، برطانوی ہائی کمشنر
مقامی افرادی قوت کی ترقی
بریفنگ کے دوران ریکوڈک منصوبے میں مقامی نوجوانوں کی فنی تربیت اور استعداد کار میں اضافے کی کوششوں کو بھی اجاگر کیا گیا۔ اس حوالے سے:
ان نوجوانوں کو 18 ماہ کی بیرونِ ملک تربیت دی گئی ہے، جو اب ارجنٹائن سے تربیت مکمل کر کے واپس آ چکے ہیں۔
ان تربیت یافتہ نوجوانوں میں 14 فیصد خواتین بھی شامل ہیں، جو بلوچستان جیسے قدامت پسند معاشرے میں خواتین کی غیر معمولی شمولیت کی عکاس ہے۔
طویل المدتی فوائد
سامعہ علی شاہ نے اس بات پر زور دیا کہ ریکوڈک منصوبہ محض ایک معدنیاتی منصوبہ نہیں بلکہ اس خطے کی اقتصادی، فنی اور سماجی ترقی کے لیے ایک پائیدار موقع ہے۔ ان کے مطابق، یہ منصوبہ مستقبل میں نہ صرف روزگار کے مواقع پیدا کرے گا بلکہ مقامی معیشت کو بھی مستحکم کرے گا۔
تجزیہ:
ریکوڈک منصوبے کی حالیہ پیش رفت نہایت حوصلہ افزا اور مستقبل بین ثابت ہو رہی ہے۔ برسوں تک تنازعات، قانونی پیچیدگیوں اور سرمایہ کاری کی کمی کے باعث تعطل کا شکار رہنے والا یہ منصوبہ اب ملکی اور بین الاقوامی سرمایہ کاری کے ذریعے ترقی کی راہ پر گامزن ہے۔
بلوچستان حکومت کو 2 کروڑ 80 لاکھ ڈالر کی ادائیگیاں یہ ظاہر کرتی ہیں کہ منصوبہ پیداوار کے مرحلے سے قبل ہی خطے کو مالی فوائد پہنچا رہا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ مقامی افرادی قوت کی تربیت اور خواتین کی شمولیت جیسے پہلو اس امر کی غمازی کرتے ہیں کہ کمپنی صرف معدنیات کے حصول تک محدود نہیں بلکہ پائیدار سماجی ترقی پر بھی توجہ دے رہی ہے۔
تاہم، یہ بھی ضروری ہے کہ اس منصوبے کی شفافیت، مقامی حقوق کا احترام، ماحولیاتی تحفظ اور بلوچستان کے عوام کی فلاح و بہبود کو مستقل بنیادوں پر یقینی بنایا جائے۔ بلوچستان میں ماضی کے تجربات ہمیں یہ سکھاتے ہیں کہ اگر مقامی آبادی کو ترقی میں شریک نہ کیا جائے تو بڑے سے بڑا منصوبہ بھی ناپائیدار بن جاتا ہے۔
ریکوڈک منصوبے کی کامیابی کا انحصار اب صرف سونے اور تانبے کے ذخائر نکالنے پر نہیں، بلکہ اس بات پر بھی ہے کہ بلوچ عوام خود کو اس ترقی کا حصہ سمجھیں اور اس سے براہِ راست مستفید ہوں۔ حکومتِ پاکستان اور سرمایہ کار اداروں کو چاہیے کہ وہ اس منصوبے کو معاشی انصاف، مقامی شراکت داری اور ماحول دوست ترقی کی مثال بنائیں تاکہ یہ منصوبہ نہ صرف بلوچستان بلکہ پورے پاکستان کے لیے ایک رول ماڈل بن سکے۔





















