پشاور: خیبر پختونخوا کے ضلع کوہستان میں 40 ارب روپے کے مالیاتی گھپلے، جسے ’’کوہستان میگا کرپشن اسکینڈل‘‘ کا نام دیا گیا ہے، میں قومی احتساب بیورو (نیب) نے ایک بڑی پیش رفت حاصل کی ہے۔ نیب نے اس اسکینڈل کے کلیدی ملزمان کو گرفتار کر لیا ہے، جن میں دو سینئر سرکاری افسران اور تین ٹھیکیدار شامل ہیں۔ یہ گرفتاریاں جعلی چیکوں، منی لانڈرنگ، اور بے نامی اکاؤنٹس کے ذریعے اربوں روپے کی خردبرد کے الزامات کے بعد عمل میں آئیں۔ ملزمان کو آج پشاور کی احتساب عدالت میں پیش کیا جائے گا، جہاں ان کے ریمانڈ کی درخواست کی جائے گی۔ یہ اسکینڈل خیبر پختونخوا کی تاریخ کا سب سے بڑا مالیاتی گھوٹالہ قرار دیا جا رہا ہے، جس نے حکومتی اداروں میں مالیاتی نگرانی کے نظام پر سنگین سوالات اٹھائے ہیں۔
نیب کی کارروائی اور ملزمان کی گرفتاری
قومی احتساب بیورو نے کوہستان میگا کرپشن اسکینڈل کی تحقیقات کے دوران پانچ اہم ملزمان کو حراست میں لیا ہے۔ گرفتار ہونے والوں میں دو سرکاری افسران شامل ہیں، جن میں سے ایک ڈسٹرکٹ اکاؤنٹس آفیسر (DAO) شفیق الرحمان قریشی ہیں، جن پر الزام ہے کہ انہوں نے جعلی خزانہ چیکوں کی منظوری اور دستخط کرکے غیر موجود ترقیاتی منصوبوں کے لیے اربوں روپے کی ادائیگیوں کو ممکن بنایا۔ دیگر تین ملزمان ٹھیکیدار ہیں، جن پر جعلی تعمیراتی فرموں کے ذریعے بڑے پیمانے پر مالی ہیراپھیری اور منی لانڈرنگ کے الزامات ہیں۔ نیب کے مطابق، یہ ملزمان مواصلات و تعمیرات (C&W) ڈیپارٹمنٹ کے حکام کے ساتھ مل کر کام کر رہے تھے تاکہ ترقیاتی فنڈز کو بے نامی اکاؤنٹس اور جعلی کمپنیوں کے ذریعے ہڑپ کیا جا سکے۔
نیب کے ذرائع نے بتایا کہ یہ گرفتاریاں وسیع تحقیقات کے نتیجے میں عمل میں آئیں، جن میں جعلی بلنگ، غیر قانونی فنڈز کی منتقلی، اور جعلی چیکوں کے ذریعے مالیاتی دھوکہ دہی کے ثبوت ملے۔ سرکاری دستاویزات سے انکشاف ہوا کہ ڈسٹرکٹ اکاؤنٹس آفیسر نے غیر موجود منصوبوں کے لیے بجٹ ہیڈ G-10113 کے تحت چیک جاری کیے، جن کی منظوری میں ایڈیشنل اکاؤنٹنٹ جنرل آفس کے بعض حکام کی ملی بھگت شامل تھی۔ نیب نے اس اسکینڈل کی تہہ تک جانے کے لیے اپنی تحقیقات کو مزید وسعت دینے کا فیصلہ کیا ہے، اور ذرائع کے مطابق مزید گرفتاریاں بھی متوقع ہیں۔
اسکینڈل کی تفصیلات اور مالی ہیراپھیری
کوہستان میگا کرپشن اسکینڈل خیبر پختونخوا کے ترقیاتی فنڈز سے متعلق ہے، جو بالائی کوہستان میں مختلف منصوبوں کے لیے مختص کیے گئے تھے۔ تحقیقات سے پتہ چلا کہ ملزمان نے جعلی تعمیراتی کمپنیوں، جیسے کہ ہلال کنسٹرکشن، اعتماد کنسٹرکشن، اور کوہستان ہلز کنسٹرکشن کمپنی، کے ذریعے اربوں روپے کی رقوم ہتھیائیں۔ ان کمپنیوں نے مجموعی طور پر 11.15 ارب روپے سے زائد کی ادائیگیاں وصول کیں، جو جعلی دستاویزات اور بلنگ کے ذریعے حاصل کی گئیں۔ مزید برآں، ملزمان نے رشتہ داروں اور دوستوں کے نام پر بے نامی اکاؤنٹس کھول کر ان فنڈز کو منی لانڈرنگ کے ذریعے صاف کیا۔
ایک چونکا دینے والا انکشاف یہ تھا کہ ایک ملزم، محمد ریاض، جو پہلے داسو برانچ کے ایک بینک میں کیشیئر تھا، نے اپنی ملازمت چھوڑ کر جعلی ٹھیکیدار کے طور پر کام شروع کیا۔ اس نے متعدد فرضی کمپنیاں رجسٹر کیں اور ان کے ذریعے اربوں روپے کے فنڈز ہتھیائے۔ اسی طرح، دیگر ٹھیکیداروں، جیسے کہ دراج خان اور عامر سعید، نے اپنی کمپنیوں کے ذریعے بالترتیب 1.10 ارب اور 1 ارب روپے سے زائد کی رقوم وصول کیں، جو بعد میں ذاتی اکاؤنٹس اور جائیدادوں میں منتقل کی گئیں۔ نیب نے اب تک 73 بینک اکاؤنٹس منجمد کیے ہیں، جن میں 5 ارب روپے سے زائد کی رقم موجود ہے، اور 109 جائیدادوں پر قبضہ کیا ہے، جن کی مالیت تقریباً 17 ارب روپے ہے۔
اثاثوں کی بازیابی اور نیب کی پیش رفت
نیب نے اس اسکینڈل میں اب تک 25 ارب روپے کے اثاثے برآمد اور منجمد کیے ہیں، جن میں 77 لگژری گاڑیاں (بشمول پورشه ٹائیکان، ٹویوٹا لینڈ کروزر، بی ایم ڈبلیو، مرسڈیز، اور آڈی)، 3 کلوگرام سونا، 1 ارب روپے سے زائد کی نقدی، اور غیر ملکی کرنسی شامل ہیں۔ اس کے علاوہ، 109 جائیدادوں پر قبضہ کیا گیا ہے، جن میں 4 فارم ہاؤسز، 12 کمرشل پلازہ، 30 مکانات، 25 فلیٹس، اور 175 کنال زرعی زمین شامل ہے۔ یہ جائیدادیں اسلام آباد، راولپنڈی، پشاور، ایبٹ آباد، اور مانسہرہ میں واقع ہیں۔ ایک دلچسپ بات یہ ہے کہ برآمد شدہ اثاثوں میں ایک ایسی عالیشان بنگلہ بھی شامل ہے جو مشہور پاکستانی ڈرامہ سیریل ’’پری زاد‘‘ میں دکھایا گیا تھا۔
نیب نے اس اسکینڈل کو صوبے کی تاریخ کا سب سے بڑا مالیاتی دھوکہ قرار دیا ہے، جو ایک منظم نیٹ ورک کے ذریعے انجام دیا گیا۔ ملزمان نے سرکاری خزانے سے اربوں روپے کی رقوم کو نہ صرف ہتھیایا بلکہ اسے جائیدادوں، لگژری گاڑیوں، اور دیگر اثاثوں میں تبدیل کیا۔ تحقیقات سے یہ بھی پتہ چلا کہ اس دھوکہ دہی میں بینک عملے کی ملی بھگت شامل تھی، جنہوں نے غیر قانونی منتقلیوں کو ممکن بنایا۔ نیب نے اعلان کیا ہے کہ وہ اس اسکینڈل کے تمام کرداروں کو کیفر کردار تک پہنچانے کے لیے پرعزم ہے۔
احتساب عدالت میں پیشی
گرفتار ملزمان کو آج پشاور کی احتساب عدالت میں پیش کیا جائے گا، جہاں نیب ان کے جسمانی ریمانڈ کی درخواست کرے گا تاکہ مزید تفتیش کی جا سکے۔ ملزمان پر الزام ہے کہ انہوں نے منظم انداز میں سرکاری فنڈز کی لوٹ مار کی، اور ان کے خلاف ٹھوس شواہد موجود ہیں۔ نیب کے پراسیکیوٹر نے عدالت کو بتایا کہ شفیق الرحمان قریشی نے جعلی چیکوں کی منظوری میں کلیدی کردار ادا کیا، جبکہ دیگر ملزمان نے جعلی کمپنیوں کے ذریعے فنڈز کی غیر قانونی منتقلی اور منی لانڈرنگ کی۔ عدالت سے درخواست کی جائے گی کہ ملزمان کو ریمانڈ پر دیا جائے تاکہ اس نیٹ ورک کے دیگر شریک ملزمان تک پہنچا جا سکے۔
سوشل میڈیا پر ردعمل
اس اسکینڈل نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر زبردست ہلچل مچائی۔ ایک صارف نے لکھا، ’’کوہستان اسکینڈل نے خیبر پختونخوا کی انتظامیہ کے چہرے سے نقاب ہٹا دیا۔ نیب کو اس کی تہہ تک جانا چاہیے۔‘‘ ایک اور صارف نے تبصرہ کیا، ’’40 ارب روپے کی لوٹ مار اور کوئی مالیاتی ادارہ حرکت میں نہ آیا؟ یہ نظام کی مکمل ناکامی ہے۔‘‘ کچھ صارفین نے نیب کی کارروائی کو سراہا، جبکہ دیگر نے اسے سیاسی مقاصد کے لیے استعمال ہونے کا الزام لگایا۔ ایکس پر پوسٹس سے ظاہر ہوتا ہے کہ عوام اس اسکینڈل سے شدید نالاں ہیں اور شفاف تحقیقات کا مطالبہ کر رہے ہیں۔
کوہستان میگا کرپشن اسکینڈل خیبر پختونخوا کے مالیاتی نظام میں گہری خامیوں اور بدعنوانی کی ایک شرمناک تصویر پیش کرتا ہے۔ 40 ارب روپے کی لوٹ مار، جو ترقیاتی منصوبوں کے لیے مختص کیے گئے تھے، نہ صرف صوبے کے غریب عوام کے ساتھ دھوکہ ہے بلکہ حکومتی اداروں کی ناکامی کی عکاسی بھی کرتا ہے۔ ڈسٹرکٹ اکاؤنٹس آفیسر اور دیگر حکام کی ملی بھگت، جعلی کمپنیوں کا قیام، اور بینک عملے کی خاموشی اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ یہ بدعنوانی ایک منظم نیٹ ورک کے ذریعے کی گئی، جس میں اعلیٰ سطحی سیاسی اور انتظامی سرپرستی کے امکانات کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔
نیب کی کارروائی قابل تحسین ہے، لیکن اس اسکینڈل کی گہرائی اور اس کے اثرات کو دیکھتے ہوئے، محض چند ملزمان کی گرفتاری کافی نہیں۔ 25 ارب روپے کے اثاثوں کی بازیابی اور 73 بینک اکاؤنٹس کی منجمدگی ایک اہم قدم ہے، لیکن اس بات کی ضرورت ہے کہ اس نیٹ ورک کے اصل سرغنہ تک پہنچا جائے۔ ایکس پر عوامی ردعمل سے واضح ہے کہ لوگ اس اسکینڈل سے شدید ناراض ہیں اور وہ چاہتے ہیں کہ تمام ذمہ داروں کو سخت سزا دی جائے۔
پاکستان کے تناظر میں، جہاں معاشی حالات پہلے ہی دباؤ کا شکار ہیں، اس طرح کے اسکینڈلز عوام کا حکومتی اداروں پر اعتماد مزید کمزور کرتے ہیں۔ کوہستان جیسے پسماندہ علاقوں میں، جہاں ترقیاتی منصوبوں کی اشد ضرورت ہے، اربوں روپے کی لوٹ مار ترقی کے عمل کو برسوں پیچھے دھکیل دیتی ہے۔ نیب کو چاہیے کہ وہ اس کیس کو سیاسی دباؤ سے آزاد رکھتے ہوئے شفاف تحقیقات کرے اور اسے منطقی انجام تک پہنچائے۔
اس اسکینڈل سے یہ بھی عیاں ہوتا ہے کہ مالیاتی نگرانی کے نظام کو مضبوط کرنے کی فوری ضرورت ہے۔ جعلی چیکوں اور بے نامی اکاؤنٹس کا استعمال اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ اسٹیٹ بینک آف پاکستان اور دیگر مالیاتی اداروں کو اپنے قواعد کو سخت کرنا ہوگا۔ اس کے علاوہ، صوبائی حکومت کو چاہیے کہ وہ اپنے مالیاتی ڈھانچے کا ازسرنو جائزہ لے اور بدعنوانی کے مواقع کو کم کرنے کے لیے جدید ٹیکنالوجی، جیسے کہ ڈیجیٹل آڈٹ سسٹمز، کو اپنائے۔
آخر میں، کوہستان میگا کرپشن اسکینڈل ایک تلخ یاد دہانی ہے کہ بدعنوانی نہ صرف معاشی وسائل کو تباہ کرتی ہے بلکہ عوام کے مستقبل کو بھی خطرے میں ڈالتی ہے۔ نیب کی کارروائی سے امید کی جا سکتی ہے کہ اس اسکینڈل کے ذمہ داروں کو سزا ملے گی، لیکن اس کے لیے ایک غیر جانبدار اور جامع تفتیش ناگزیر ہے۔ اگر اس کیس کو منطقی انجام تک پہنچایا گیا تو یہ نہ صرف خیبر پختونخوا بلکہ پورے پاکستان کے لیے ایک مثال بن سکتا ہے کہ بدعنوانی کے خلاف جنگ جیتنا ممکن ہے۔





















