امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے انکشاف کیا ہے کہ ان کے اندازے کے مطابق حالیہ پاک بھارت کشیدگی کے دوران پانچ بھارتی جنگی طیارے تباہ کیے گئے تھے۔
وائٹ ہاؤس میں ریپبلکن کانگریس اراکین سے خطاب کے دوران انہوں نے کہا کہ دونوں ممالک کے درمیان صورتِ حال نہایت تشویشناک ہو چکی تھی، اور ایٹمی تصادم کا خطرہ منڈلا رہا تھا۔
صدر ٹرمپ کے بقول، اگر بروقت سفارتی مداخلت نہ کی جاتی تو صورتحال قابو سے باہر ہو سکتی تھی۔ انہوں نے یہ واضح نہیں کیا کہ مذکورہ طیارے کس فریق نے گرائے، تاہم انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ حقیقتاً پانچ طیارے گرائے گئے تھے، اور کشیدگی کو روکنے کے لیے ان کی مداخلت فیصلہ کن ثابت ہوئی۔
امریکی ثالثی اور جنگ بندی
10 مئی 2025 کو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی ثالثی کے نتیجے میں دونوں ممالک نے فوری اور مکمل جنگ بندی پر اتفاق کیا۔ ٹرمپ نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر اعلان کیا کہ ان کی کوششوں سے دونوں ایٹمی طاقتوں کے درمیان خطرناک لڑائی کا خاتمہ ہوا۔ انہوں نے کہا کہ انہوں نے دونوں ممالک کو خبردار کیا تھا کہ اگر جنگ نہ روکی گئی تو امریکا دونوں کے ساتھ تجارت بند کر دے گا۔
پاکستان کے وزیراعظم شہباز شریف نے ٹرمپ کی ثالثی کی کوششوں کو سراہتے ہوئے ایکس پر کہا، "خطے میں امن کے لیے سرگرم کردار اور قیادت پر ہم صدر ٹرمپ کے شکر گزار ہیں۔” دوسری طرف، بھارتی وزیر خارجہ ایس جے شنکر نے امریکی ثالثی کا کوئی ذکر نہیں کیا اور بھارت نے جنگ بندی کو اپنی فوجی طاقت کا نتیجہ قرار دیا۔
کشمیر پر ثالثی کی پیشکش
صدر ٹرمپ نے جنگ بندی کے موقع پر مسئلہ کشمیر کے حل کے لیے ثالثی کی پیشکش کی، جس کا پاکستان نے خیرمقدم کیا۔ پاکستانی دفتر خارجہ نے بیان جاری کیا کہ "ہم صدر ٹرمپ کی کوششوں کو سراہتے ہیں جو خطے میں امن و سلامتی کے لیے اہم ہیں۔” پاکستان نے اسے کشمیر تنازعے کے حل کی طرف ایک اہم قدم قرار دیا۔ تاہم، بھارت نے اس پیشکش کو مسترد کر دیا اور امریکی کردار کو تسلیم کرنے سے بھی انکار کیا۔
نوبیل امن انعام کی نامزدگی
پاکستان نے صدر ٹرمپ کی سفارتی کامیابی کو تسلیم کرتے ہوئے انہیں 2026 کے نوبیل امن انعام کے لیے نامزد کرنے کی سفارش کی۔ نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحٰق ڈار نے نوبیل کمیٹی کو خط لکھ کر ٹرمپ کو ان کی "فیصلہ کن سفارتی مداخلت” اور "خطے کو ایٹمی تصادم سے بچانے” کے لیے اس انعام کا حقدار قرار دیا۔ تاہم، ٹرمپ نے طنزیہ انداز میں کہا کہ "میں کچھ بھی کرلوں، مجھے نوبیل نہیں ملے گا۔”
بھارت کا ردعمل
بھارت نے نہ صرف جنگ بندی میں امریکی کردار کو مسترد کیا بلکہ دعویٰ کیا کہ جنگ بندی اس کی فوجی طاقت کے دباؤ کا نتیجہ تھی۔ بھارتی وزیراعظم نریندر مودی نے کہا کہ پاکستان کے ساتھ مذاکرات صرف دہشت گردی اور کشمیر کے زیر انتظام علاقوں پر ہوں گے۔ بھارتی میڈیا نے بھی ٹرمپ کے دعووں پر تنقید کی، جیسے کہ صحافی ارنب گوسوامی نے کہا کہ "ٹرمپ کو صورتحال کی مکمل آگاہی حاصل کرنی چاہیے تھی۔”
تجزیہ
یہ تنازعہ ایک بار پھر جنوبی ایشیا میں امن کی نزاکت کو اجاگر کرتا ہے، جہاں دو ایٹمی طاقتیں کسی بھی وقت غیر ذمہ دارانہ اقدامات کی وجہ سے جنگ کے دہانے پر پہنچ سکتی ہیں۔ صدر ٹرمپ کی ثالثی نے نہ صرف فوری بحران کو روکا بلکہ عالمی طاقتوں کے خطے میں کردار کی اہمیت کو بھی واضح کیا۔
تاہم، ٹرمپ کی نامزدگی نوبیل امن انعام کے لیے متنازع رہی۔ پاکستان کی جانب سے اس کی حمایت سے ظاہر ہوتا ہے کہ وہ امریکی اثر و رسوخ کو خطے میں اپنے حق میں استعمال کرنا چاہتا ہے، جبکہ بھارت کی طرف سے اس کی مخالفت اس کے روایتی موقف کی عکاسی کرتی ہے کہ وہ کشمیر کے معاملے میں کسی تیسرے فریق کی مداخلت کو قبول نہیں کرتا۔
ٹرمپ کی تجارت بند کرنے کی دھمکی نے دونوں ممالک کو جنگ بندی پر مجبور کیا، جو ان کی معاشی کمزوریوں کو ظاہر کرتا ہے۔ تاہم، یہ دھمکی بھارت کے لیے خودمختاری پر سوال اٹھاتی ہے، جیسا کہ بھارتی اپوزیشن لیڈر سپریا شریناٹ نے ایکس پر کہا کہ "نریندر مودی نے ملک کے سوابھیمان کا سمجھوتہ کیوں کیا؟”
آخر میں، یہ واقعہ اس بات کی یاد دہانی ہے کہ کشمیر تنازعہ اب بھی خطے کے امن کے لیے سب سے بڑا خطرہ ہے۔ ٹرمپ کی ثالثی ایک عارضی حل تو فراہم کر سکتی ہے، لیکن مستقل امن کے لیے پاکستان اور بھارت کو مذاکرات کے ذریعے ایک دوسرے کے تحفظات دور کرنے ہوں گے۔ عالمی برادری، بالخصوص اقوام متحدہ، کو بھی اس تنازعے کے منصفانہ حل کے لیے اپنا کردار ادا کرنا چاہیے۔





















