ڈھاکا: پاکستان اور بنگلہ دیش کی کرکٹ ٹیموں کے درمیان تین میچوں پر مشتمل ٹی 20 سیریز سے قبل ڈھاکا میں ایک شاندار تقریب میں ٹرافی کی رونمائی کر دی گئی۔ یہ تقریب شیر بنگلہ نیشنل کرکٹ اسٹیڈیم کے قریب ایک مقامی ہوٹل میں منعقد ہوئی، جہاں دونوں ٹیموں کے کپتانوں نے فوٹو شوٹ کے ذریعے اس سیریز کے لیے جوش و خروش کو عروج پر پہنچایا۔ یہ سیریز نہ صرف دونوں ٹیموں کے درمیان ایک زبردست مقابلے کی نوید لاتی ہے بلکہ 2026 کے آئی سی سی ٹی 20 ورلڈ کپ کی تیاریوں کے لیے بھی ایک اہم مرحلہ ہے۔
ٹرافی کی رونمائی اور تقریب
ڈھاکا کے ایک پرتعیش ہوٹل میں منعقدہ تقریب میں پاکستان کے کپتان سلمان علی آغا اور بنگلہ دیش کے کپتان لٹن داس نے مل کر ٹرافی کی رونمائی کی۔ دونوں کپتانوں نے ٹرافی کے ساتھ تصاویر بنوائیں، جو اس سیریز کی علامت ہے۔ یہ ٹرافی نہ صرف ایک خوبصورت ڈیزائن کی حامل ہے بلکہ جدید ٹی 20 کرکٹ کے جوش و جذبے کی عکاسی بھی کرتی ہے۔ تقریب میں دونوں کپتانوں نے اپنی ٹیموں کی تیاریوں اور جیت کے عزم کا اظہار کیا۔ لٹن داس نے کہا کہ ان کی ٹیم اپنے گھریلو میدان میں شاندار کارکردگی دکھانے کے لیے پرعزم ہے، جبکہ سلمان علی آغا نے پاکستانی ٹیم کی مضبوط تیاریوں اور نئے کھلاڑیوں کے جوہر دکھانے کی امید ظاہر کی۔
سیریز کا شیڈول اور اہمیت
تین میچوں پر مشتمل یہ ٹی 20 سیریز 20 جولائی سے شروع ہوگی، اور تمام میچز ڈھاکا کے تاریخی شیر بنگلہ نیشنل کرکٹ اسٹیڈیم میں کھیلے جائیں گے۔ پہلا میچ 20 جولائی کو شام 5 بجے (پاکستان اسٹینڈرڈ ٹائم) شروع ہوگا، جبکہ دوسرا اور تیسرا میچ بالترتیب 22 اور 24 جولائی کو کھیلا جائے گا۔ تمام میچز مقامی وقت کے مطابق شام 6 بجے شروع ہوں گے، جو پاکستانی وقت کے مطابق شام 5 بجے ہوں گے۔ یہ سیریز دونوں ٹیموں کے لیے 2025 ایشیا کپ اور 2026 ٹی 20 ورلڈ کپ کی تیاریوں کے لیے ایک اہم موقع فراہم کرتی ہے۔
پاکستان نے مئی 2025 میں لاہور کے قذافی اسٹیڈیم میں ہونے والی ٹی 20 سیریز میں بنگلہ دیش کو 3-0 سے کلین سوئپ کیا تھا۔ اس شاندار فتح نے پاکستان کو اس سیریز میں نفسیاتی برتری دی ہے، لیکن بنگلہ دیش اپنے گھریلو میدان میں اس شکست کا بدلہ لینے کے لیے پرعزم ہے۔ بنگلہ دیش نے حال ہی میں سری لنکا کے خلاف 2-1 سے سیریز جیت کر اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوایا ہے، جو ان کے لیے ایک بڑا حوصلہ ہے۔
پاکستانی ٹیم کی تیاری
پاکستانی ٹیم 15 رکنی اسکواڈ کے ساتھ بدھ کو ڈھاکا پہنچی تھی اور جمعرات کو آرام کے بعد جمعہ کو شیر بنگلہ اسٹیڈیم میں اپنا پہلا تربیتی سیشن مکمل کیا۔ کھلاڑیوں نے بیٹنگ، بولنگ، اور فیلڈنگ کی سخت مشقوں میں حصہ لیا تاکہ ڈھاکا کے گراؤنڈ کی کنڈیشنز سے ہم آہنگی پیدا کی جا سکے۔ پاکستانی ٹیم کی قیادت سلمان علی آغا کر رہے ہیں، جو اپنی آل راؤنڈ صلاحیتوں کے لیے مشہور ہیں۔ اسکواڈ میں نئے چہرے جیسے کہ حسن نواز، سلمان مرزا، اور احمد دانیال شامل ہیں، جو اپنے بین الاقوامی ڈیبیو کے منتظر ہیں۔ اس کے علاوہ، صائم ایوب، فخر زمان، اور محمد حارث جیسے جارحانہ بلے باز ٹیم کی بیٹنگ لائن کو مضبوط بنائیں گے، جبکہ ابرار احمد اور سفیان مقیم اسپن ڈیپارٹمنٹ کی قیادت کریں گے۔
بنگلہ دیشی ٹیم کی تیاری
بنگلہ دیش کرکٹ بورڈ (بی سی بی) نے اس سیریز کے لیے ایک متوازن اسکواڈ کا اعلان کیا ہے، جو سری لنکا کے خلاف حالیہ سیریز جیتنے والی ٹیم سے کوئی تبدیلی نہیں رکھتا۔ ٹیم کی قیادت لٹن داس کر رہے ہیں، جو اپنی جارحانہ بلے بازی اور قائدانہ صلاحیتوں کے لیے مشہور ہیں۔ اسکواڈ میں توحید ہردوئے، جاکر علی انک، اور تنزید حسن تمیم جیسے نوجوان کھلاڑی شامل ہیں، جبکہ مستفیض الرحمان اور تسکین احمد جیسے تجربہ کار بولرز ٹیم کی بولنگ کی طاقت ہیں۔ بی سی بی کے چیئرمین آف کرکٹ آپریشنز، نجم الابدین فہیم نے کہا کہ ٹیم کا فوکس تسلسل اور استحکام پر ہے تاکہ 2026 ٹی 20 ورلڈ کپ کے لیے تیاری کی جا سکے۔
ٹکٹوں کی فروخت اور شائقین کا جوش
بنگلہ دیش کرکٹ بورڈ نے اس سیریز کے لیے ٹکٹوں کی قیمتیں 300 ٹکہ سے 3,500 ٹکہ تک مقرر کی ہیں تاکہ ہر طبقے کے شائقین میچ سے لطف اندوز ہو سکیں۔ مشرقی اور شمالی گیلری کے ٹکٹ بالترتیب 300 اور 400 ٹکہ ہیں، جبکہ شہید ابو سید اسٹینڈ اور کلب ہاؤس کے ٹکٹ 800 ٹکہ میں دستیاب ہیں۔ پریمیم سیٹنگ کے لیے انٹرنیشنل گیلری اور لاؤنج کے ٹکٹ 1,500 سے 3,500 ٹکہ تک ہیں، جبکہ گرینڈ اسٹینڈ کے ٹکٹ 2,500 ٹکہ میں فروخت ہو رہے ہیں۔ بی سی بی نے ٹکٹوں کی فروخت کے لیے ڈیجیٹل پلیٹ فارم کو اپنایا ہے، اور 15 جولائی سے آن لائن بکنگ شروع ہو چکی ہے۔ شائقین اپنی پسندیدہ سیٹ، میچ کی تاریخ، اور ٹکٹوں کی تعداد منتخب کر کے کارڈ یا ڈیجیٹل والیٹ کے ذریعے ادائیگی کر سکتے ہیں۔
سیریز کی اہمیت اور ماضی کی کارکردگی
یہ سیریز دونوں ٹیموں کے لیے انتہائی اہمیت کی حامل ہے، کیونکہ یہ 2025 ایشیا کپ اور 2026 ٹی 20 ورلڈ کپ کی تیاریوں کا حصہ ہے۔ پاکستان نے بنگلہ دیش کے خلاف ٹی 20 فارمیٹ میں شاندار ریکارڈ رکھا ہے، جہاں دونوں ٹیموں کے درمیان 19 میچوں میں سے پاکستان نے 16 جیتے، جبکہ بنگلہ دیش نے صرف 3 میچوں میں کامیابی حاصل کی۔ تاہم، بنگلہ دیش اپنے گھریلو میدان میں اس ریکارڈ کو بہتر بنانے کے لیے پرعزم ہے۔ مئی 2025 میں لاہور میں ہونے والی سیریز میں پاکستان کی 3-0 سے جیت نے گرین شرٹس کو اعتماد دیا ہے، لیکن ڈھاکا کے اسپن دوست پچز اور کم باؤنس والی کنڈیشنز پاکستانی ٹیم کے لیے ایک چیلنج ہوں گے۔
سوشل میڈیا پر جوش و خروش
اس ٹرافی کی رونمائی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر زبردست جوش و خروش پیدا کیا۔ پاکستانی کرکٹ بورڈ (پی سی بی) اور بنگلہ دیش کرکٹ بورڈ (بی سی بی) نے ٹرافی کی رونمائی کی تصاویر شیئر کیں، جنہیں ہزاروں شائقین نے پسند کیا۔ ایک پاکستانی شائق نے ایکس پر لکھا، ’’سلمان علی آغا اور لٹن داس کے ساتھ ٹرافی کی رونمائی نے سیریز کے لیے جوش بڑھا دیا۔ گرین شرٹس کلین سوئپ کریں گے!‘‘ ایک بنگلہ دیشی شائق نے لکھا، ’’ہم اپنے گھر میں بدلہ لیں گے۔ لٹن داس کی قیادت میں بنگلہ دیش اس بار جیتے گا۔‘‘
پاکستان اور بنگلہ دیش کے درمیان یہ ٹی 20 سیریز کرکٹ شائقین کے لیے ایک دلچسپ مقابلے کی نوید لاتی ہے۔ پاکستان کی حالیہ کارکردگی، خاص طور پر مئی 2025 میں 3-0 کی فتح، اسے فیورٹ بناتی ہے، لیکن بنگلہ دیش اپنے گھریلو میدان میں ایک خطرناک حریف ثابت ہو سکتا ہے۔ ڈھاکا کی پچز، جو اسپنرز کے لیے مددگار ہوتی ہیں، پاکستانی بلے بازوں کے لیے ایک امتحان ہوں گی، خاص طور پر صائم ایوب اور محمد حارث جیسے جارحانہ بلے بازوں کے لیے۔ دوسری طرف، بنگلہ دیش کی مضبوط بولنگ لائن اپ، جس میں مستفیض الرحمان اور تسکین احمد شامل ہیں، پاکستانی بیٹنگ کو دباؤ میں لا سکتی ہے۔
پاکستان کے لیے یہ سیریز نئے کھلاڑیوں، جیسے کہ حسن نواز اور سلمان مرزا، کو آزمانے کا ایک سنہری موقع ہے۔ سلمان علی آغا کی قیادت میں ٹیم ایک متوازن یونٹ نظر آتی ہے، لیکن شاداب خان اور حارث رؤف کی عدم موجودگی ٹیم کے لیے ایک چیلنج ہو سکتی ہے۔ شاداب کی حالیہ سرجری اور حارث کی انجری نے ٹیم کی بولنگ کو متاثر کیا ہے، لیکن ابرار احمد اور سفیان مقیم جیسے اسپنرز اس کمی کو پورا کر سکتے ہیں۔
بنگلہ دیش کے لیے یہ سیریز اپنی گھریلو کنڈیشنز کا فائدہ اٹھانے اور مئی کی شکست کا بدلہ لینے کا موقع ہے۔ لٹن داس کی قیادت اور توحید ہردوئے جیسے نوجوان بلے بازوں کی موجودگی ٹیم کو ایک نئی توانائی دیتی ہے۔ بی سی بی کا ٹکٹوں کی مناسب قیمتوں اور ڈیجیٹل بکنگ کا فیصلہ شائقین کو اسٹیڈیم کی طرف راغب کرے گا، جو سیریز کے جوش کو مزید بڑھائے گا۔
پاکستان کے تناظر میں، یہ سیریز ٹیم کے مستقبل کے لیے اہم ہے۔ 2026 ٹی 20 ورلڈ کپ سے قبل، یہ سیریز پاکستان کو اپنی بیٹنگ اور بولنگ کے امتزاج کو آزمانے کا موقع فراہم کرتی ہے۔ اگر پاکستانی ٹیم ڈھاکا کی مشکل کنڈیشنز میں کامیابی حاصل کر لیتی ہے تو یہ اس کے اعتماد میں اضافہ کرے گی۔ دوسری طرف، بنگلہ دیش کے لیے یہ سیریز اپنی گھریلو ساکھ بحال کرنے اور عالمی کرکٹ میں اپنی پوزیشن مضبوط کرنے کا موقع ہے۔
آخر میں، یہ ٹی 20 سیریز دونوں ٹیموں کے لیے ایک اہم امتحان ہے، جو نہ صرف ان کی موجودہ کارکردگی بلکہ مستقبل کی تیاریوں کی عکاسی کرے گی۔ پاکستانی اور بنگلہ دیشی شائقین کے جوش و خروش سے یہ سیریز ایک یادگار مقابلہ بننے جا رہی ہے، اور ٹرافی کی رونمائی نے اس کی شروعات کو مزید شاندار بنا دیا ہے۔





















