اگر والد شوبز میں نہ ہوتے تو شاید خودکشی کرلیتا، فیضان خواجہ کا انکشاف

معاوضہ حاصل کرنے کے لیے پروڈیوسرز کے پیچھے بھاگنا پڑا اور منتیں کرنی پڑیں

کراچی: پاکستانی شوبز انڈسٹری کے معروف اداکار فیضان خواجہ نے انسٹاگرام پر جاری کردہ ویڈیوز کے ذریعے انڈسٹری کی مالیاتی اور ذہنی مشکلات پر کھل کر بات کی ہے۔ انہوں نے ایک چونکا دینے والا انکشاف کیا کہ اگر ان کے والد، مشہور اداکار و پروڈیوسر راشد خواجہ، اس انڈسٹری کا حصہ نہ ہوتے تو وہ مالی دباؤ اور ذہنی تناؤ کے باعث خودکشی جیسے انتہائی قدم پر غور کر سکتے تھے۔ فیضان نے انڈسٹری میں اداکاروں کو بروقت معاوضہ نہ ملنے کے مسئلے کو اجاگر کیا اور کہا کہ وہ اس موضوع پر بات کر رہے ہیں تاکہ جدوجہد کرنے والے فنکاروں کے مسائل منظر عام پر آئیں۔ یہ بیانات شوبز انڈسٹری کی تلخ حقیقتوں کو بے نقاب کرتے ہیں اور معاوضوں کی عدم ادائیگی کے سنگین نتائج کی طرف اشارہ کرتے ہیں۔

فیضان خواجہ کے انکشافات

فیضان خواجہ نے اپنی حالیہ انسٹاگرام ویڈیوز میں شوبز انڈسٹری کے تلخ حقائق پر روشنی ڈالی۔ انہوں نے کہا کہ انڈسٹری میں معاوضوں کی عدم ادائیگی ایک سنگین مسئلہ ہے، جس سے نہ صرف نئے بلکہ سینئر اداکار بھی متاثر ہیں۔ انہوں نے سینئر اداکار محمد احمد اور اداکارہ مہرین جبار کی شکایات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ وہ ان کے دکھ سے مکمل طور پر متفق ہیں۔ فیضان نے واضح کیا کہ ان کی ویڈیوز کا مقصد کسی کو بے نقاب کرنا یا سوشل میڈیا پر وائرل ہونا نہیں، بلکہ وہ صرف سچ بول رہے ہیں تاکہ ان فنکاروں کی آواز اٹھائی جا سکے جو اپنے جائز معاوضوں کے لیے جدوجہد کر رہے ہیں۔

انہوں نے اداکارہ حمیرا اصغر کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ان کے سات لاکھ فالوورز ہونے کے باوجود وہ ان کے کسی کام نہ آئے، جو اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ سوشل میڈیا کی شہرت مالی مشکلات سے نمٹنے میں ناکافی ہے۔ فیضان نے اپنا تجربہ شیئر کیا کہ ایک کمرشل کے لیے انہیں معاوضہ حاصل کرنے کے لیے پروڈیوسرز کے پیچھے بھاگنا پڑا اور منتیں کرنی پڑیں۔ اس تجربے کے بعد انہوں نے کمرشل نہ کرنے کا فیصلہ کیا، لیکن جب ان کی فلمیں اور ڈرامے کامیاب ہوئے تو ایک اور کمرشل کی پیشکش آئی، مگر وہی مسائل دوبارہ سامنے آئے۔

معاوضوں کی عدم ادائیگی کا مسئلہ

فیضان نے کہا کہ شوبز انڈسٹری میں 99 فیصد لوگ اچھے ہیں اور وقت پر ادائیگی کرتے ہیں، لیکن وہ اس ایک فیصد کی بات کر رہے ہیں جو فنکاروں کے جائز معاوضوں کی ادائیگی میں ناکام رہتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ان کا مقصد ان فنکاروں کی مشکلات کو اجاگر کرنا ہے جو اس موضوع پر کھل کر بات کرنے سے گریز کرتے ہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ انہوں نے اداکاری نہیں چھوڑی، بلکہ صرف ان پروڈیوسرز کے ساتھ کام بند کیا ہے جو وقت پر معاوضہ ادا نہیں کرتے۔ انہوں نے یہ بھی بتایا کہ ان کا آخری ڈرامہ پانچ سال قبل ریلیز ہوا تھا، جو اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ وہ اپنے اصولوں پر سختی سے قائم ہیں۔

فیضان نے انکشاف کیا کہ انڈسٹری کے مالی وسائل کے بارے میں غلط فہمی عام ہے۔ انہوں نے کہا کہ لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ پروڈکشن ہاؤسز یا چینلز کے پاس پیسے نہیں ہوتے، لیکن حقیقت یہ ہے کہ ایک انٹرٹینمنٹ چینل ایک مہینے میں اتنی کمائی کرتا ہے جتنی مشہور یوٹیوبرز جیسے کہ ڈکی بھائی یا رجب بٹ ایک سال میں کرتے ہیں۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ اگر چینلز اتنے وسائل رکھتے ہیں تو فنکاروں کو ان کی محنت کی کمائی کے لیے کیوں بھاگنا پڑتا ہے؟

ذہنی تناؤ اور خودکشی کا خیال

فیضان خواجہ نے اپنی گفتگو میں سب سے چونکا دینے والا انکشاف یہ کیا کہ شوبز انڈسٹری کی مالی اور ذہنی مشکلات نے انہیں اس حد تک مایوس کیا کہ اگر ان کے والد راشد خواجہ، جو خود ایک معروف اداکار و پروڈیوسر ہیں، ان کی رہنمائی نہ کرتے تو وہ اپنے کیریئر کی بلندی پر خودکشی جیسا قدم اٹھانے پر غور کر سکتے تھے۔ انہوں نے کہا کہ ان کے والد کی موجودگی نے انہیں مشکل حالات سے نکلنے میں مدد دی، لیکن بہت سے فنکاروں کو ایسی رہنمائی میسر نہیں ہوتی۔ انہوں نے اپنی ویڈیوز کے ذریعے ان جدوجہد کرنے والے فنکاروں کی آواز بننے کی کوشش کی، جن کا روزگار شوبز انڈسٹری سے وابستہ ہے اور جو مالی دباؤ اور عدم تحفظ کا شکار ہیں۔

فیضان نے اعلان کیا کہ وہ اپنی اگلی ویڈیو میں اس پروڈیوسر کا نام بھی ظاہر کریں گے جس نے ان کا معاوضہ ادا نہیں کیا۔ انہوں نے کہا کہ ان کا مقصد انڈسٹری کو بے نقاب کرنا نہیں بلکہ اسے بہتر بنانا ہے تاکہ فنکاروں کو ان کی محنت کا جائز صلہ مل سکے۔

سوشل میڈیا پر ردعمل

فیضان خواجہ کی ویڈیوز نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر زبردست ہلچل مچائی۔ ایک صارف نے لکھا، ’’فیضان خواجہ نے بالکل درست بات کی۔ شوبز میں فنکاروں کو ان کی محنت کا معاوضہ ملنا چاہیے۔ یہ ایک بڑا مسئلہ ہے جو حل طلب ہے۔‘‘ ایک اور صارف نے تبصرہ کیا، ’’یہ سن کر دل دکھا کہ فیضان جیسا اداکار خودکشی تک سوچ سکتا ہے۔ انڈسٹری کو اپنے فنکاروں کی قدر کرنی چاہیے۔‘‘ کچھ صارفین نے ان کی ہمت کی تعریف کی، جبکہ دیگر نے کہا کہ اس موضوع پر کھل کر بات کرنے کی ضرورت ہے تاکہ انڈسٹری میں اصلاحات لائی جا سکیں۔

فیضان خواجہ کا یہ انکشاف پاکستانی شوبز انڈسٹری کی تلخ حقیقتوں کو سامنے لاتا ہے، جہاں فنکاروں کو نہ صرف مالی مشکلات بلکہ ذہنی دباؤ کا بھی سامنا کرنا پڑتا ہے۔ ان کا خودکشی جیسے انتہائی قدم پر غور کرنے کا ذکر انڈسٹری کے غیر مستحکم حالات اور فنکاروں کے لیے تحفظ کی کمی کو عیاں کرتا ہے۔ یہ بات قابل غور ہے کہ فیضان، جو ایک معروف اداکار اور ایک تجربہ کار پروڈیوسر کے بیٹے ہیں، کو بھی معاوضوں کے لیے جدوجہد کرنا پڑی۔ اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ نئے اور کم وسائل رکھنے والے فنکاروں کو کس قدر مشکلات کا سامنا ہوگا۔

پاکستانی شوبز انڈسٹری، جو گزشتہ دو دہائیوں میں تیزی سے ترقی کر رہی ہے، اب بھی پیشہ ورانہ معیارات کے لحاظ سے پیچھے ہے۔ معاوضوں کی عدم ادائیگی کا مسئلہ کوئی نیا نہیں، لیکن فیضان کی ویڈیوز نے اسے ایک بار پھر قومی بحث کا موضوع بنا دیا ہے۔ ان کا یہ کہنا کہ ایک انٹرٹینمنٹ چینل ایک مہینے میں کروڑوں روپے کماتا ہے، اس بات کی طرف اشارہ کرتا ہے کہ یہ مسئلہ وسائل کی کمی کی وجہ سے نہیں بلکہ بدانتظامی اور غیر پیشہ ورانہ رویوں کی وجہ سے ہے۔

پاکستان کے تناظر میں، جہاں شوبز انڈسٹری نئی نسل کے لیے ایک پرکشش کیریئر سمجھا جاتا ہے، اس طرح کے مسائل فنکاروں کے جذبے کو کمزور کرتے ہیں۔ فیضان کا حمیرا اصغر کا ذکر کرنا اس بات کی یاد دہانی ہے کہ سوشل میڈیا کی شہرت یا فالوورز کی تعداد مالی استحکام کی ضمانت نہیں۔ انڈسٹری کو چاہیے کہ وہ معاوضوں کی ادائیگی کے لیے شفاف نظام بنائے، جیسے کہ معاہدوں میں واضح شرائط، ادائیگی کے شیڈول، اور قانونی تحفظ۔

فیضان کی ہمت قابل تحسین ہے کہ انہوں نے نہ صرف اپنی ذاتی جدوجہد کا ذکر کیا بلکہ دیگر فنکاروں کے لیے آواز اٹھائی۔ ان کا یہ اعلان کہ وہ اگلی ویڈیو میں پروڈیوسر کا نام ظاہر کریں گے، انڈسٹری کے لیے ایک وارننگ ہے کہ اب خاموشی قبول نہیں کی جائے گی۔ تاہم، اس سے یہ خطرہ بھی ہے کہ وہ تنازعات کا شکار ہو سکتے ہیں، کیونکہ شوبز انڈسٹری میں ایسی کھلی تنقید کو عموماً پسند نہیں کیا جاتا۔

اس مسئلے کے حل کے لیے پروڈیوسرز، چینلز، اور فنکاروں کے درمیان ایک منظم فورم کی ضرورت ہے جو معاوضوں کی ادائیگی کے مسائل کو حل کر سکے۔ اس کے علاوہ، فنکاروں کے لیے ایک یونین یا تنظیم کا قیام بھی ضروری ہے جو ان کے حقوق کا تحفظ کرے۔ پاکستانی شوبز انڈسٹری کو اپنی ترقی کو برقرار رکھنے کے لیے پیشہ ورانہ معیارات کو اپنانا ہوگا، ورنہ یہ مسائل نئے ٹیلنٹ کو انڈسٹری سے دور کر سکتے ہیں۔

آخر میں، فیضان خواجہ کی ویڈیوز نہ صرف شوبز انڈسٹری کی مالی مشکلات کو اجاگر کرتی ہیں بلکہ یہ بھی یاد دلاتی ہیں کہ ذہنی صحت کے مسائل ہر شعبے میں سنگین ہو سکتے ہیں۔ ان کا یہ اقدام انڈسٹری میں اصلاحات کی راہ ہموار کر سکتا ہے، بشرطیکہ پروڈیوسرز اور چینلز اسے سنجیدگی سے لیں۔ یہ وقت ہے کہ شوبز انڈسٹری اپنے فنکاروں کی قدر کرے اور انہیں وہ عزت اور معاوضہ دے جو ان کی محنت کا حق ہے۔

متعلقہ خبریں

مقبول ترین