کوئٹہ: پسند کی شادی پر جوڑے کے قتل میں ملوث مرکزی ملزم سمیت 20 گرفتار

یہ افسوسناک واقعہ عیدالاضحیٰ کے قریب پیش آیا، جب احسان سمالانی اور بانو ستک زئی نے اپنی مرضی سے شادی کی

کوئٹہ: بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ کے نواح میں ایک دلخراش واقعے نے انسانی حقوق اور انصاف کے تقاضوں پر سوالیہ نشان لگا دیا ہے۔ ایک جوڑے، احسان سمالانی اور بانو ستک زئی، کو پسند کی شادی کرنے کی پاداش میں سفاکانہ طور پر قتل کر دیا گیا۔ اس ’غیرت کے نام پر قتل‘ کے واقعے کے بعد بلوچستان پولیس نے فوری کارروائی کرتے ہوئے 11 ملزمان کو گرفتار کر لیا ہے۔ سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی ایک دل دہلا دینے والی ویڈیو نے اس واقعے کو قومی سطح پر توجہ کا مرکز بنا دیا، جس کے بعد حکام نے سخت ایکشن لیا۔

واقعے کی تفصیلات

یہ افسوسناک واقعہ عیدالاضحیٰ کے قریب پیش آیا، جب احسان سمالانی اور بانو ستک زئی نے اپنی مرضی سے شادی کی۔ اس فیصلے سے دونوں کے خاندان شدید ناراض ہوئے، اور معاملہ مقامی ’بزرگوں‘ کے پاس پہنچا۔ ذرائع کے مطابق، مقامی جرگے نے جوڑے کے خلاف موت کی سزا کا فیصلہ سنایا، جسے غیرت کے نام پر جائز قرار دیا گیا۔ جوڑے کو ایک دیہی علاقے، ڈگری، میں کھانے کی دعوت کے بہانے بلایا گیا۔ وہاں سے انہیں ایک سنسان مقام پر لے جایا گیا، جہاں جرگے کے فیصلے پر عملدرآمد کیا گیا۔

سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی ویڈیو میں یہ ہولناک منظر دیکھا جا سکتا ہے کہ مسلح افراد جوڑے کو گولیاں مار رہے ہیں۔ ویڈیو کے مطابق، مقتولہ بانو نے اپنی آخری لمحات میں ناقابل یقین ہمت کا مظاہرہ کیا۔ اس نے براہوی زبان میں قاتلوں سے کہا، ’’تمہیں صرف گولی مارنے کی اجازت ہے، اس سے زیادہ کچھ نہیں۔‘‘ اس نے مزید کہا کہ اسے سات قدم چلنے دیا جائے، جس کے بعد مبینہ طور پر اس کے اپنے بھائی نے تین گولیاں مار کر اسے قتل کر دیا۔ اس کے فوراً بعد، احسان سمالانی کو بھی گولیوں کا نشانہ بنایا گیا۔ یہ ویڈیو، جو غالباً عیدالاضحیٰ سے چند روز قبل بنائی گئی، قومی سطح پر غم و غصے کی لہر کا باعث بنی۔

حکومتی ردعمل اور گرفتاریاں

ویڈیو کے وائرل ہونے کے بعد بلوچستان کے وزیراعلیٰ سردار سرفراز بگٹی نے فوری نوٹس لیا اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کو ملزمان کی گرفتاری کا حکم دیا۔ سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر اپنی پوسٹ میں انہوں نے اعلان کیا کہ اب تک 11 ملزمان کو حراست میں لیا جا چکا ہے، اور آپریشن اب بھی جاری ہے۔ انہوں نے عزم ظاہر کیا کہ تمام ملوث افراد کو انصاف کے کٹہرے میں لایا جائے گا۔ انہوں نے کہا، ’’ریاست مظلوم کے ساتھ کھڑی ہے، اور اس طرح کے جرائم کو کسی صورت برداشت نہیں کیا جائے گا۔‘‘

بلوچستان حکومت نے اس واقعے کو ’غیرت کے نام پر قتل‘ کے بجائے دہشت گردی قرار دیتے ہوئے انسداد دہشت گردی کے قوانین کے تحت مقدمہ درج کیا۔ حکام کے مطابق، نہ تو مقتولین کے رشتہ داروں اور نہ ہی مقامی لوگوں نے لیویز یا محکمہ انسداد دہشت گردی (سی ٹی ڈی) کو کوئی باقاعدہ شکایت درج کرائی، جس کی وجہ سے ویڈیو کی بنیاد پر تحقیقات شروع کی گئیں۔ لیویز اور سی ٹی ڈی کی مشترکہ ٹیموں نے ویڈیو میں موجود افراد اور مقام کی شناخت کے بعد کارروائی کی، جس کے نتیجے میں ایک مرکزی ملزم کو ابتدائی طور پر گرفتار کیا گیا، اور بعد میں مزید 10 ملزمان کو حراست میں لیا گیا۔

حکام نے بتایا کہ ملزمان کی شناخت نیشنل ڈیٹا بیس اینڈ رجسٹریشن اتھارٹی (NADRA) کے تعاون سے کی گئی، لیکن فی الحال ان کے نام ظاہر نہیں کیے گئے۔ تفتیش کو مزید پیچیدہ بنانے والی بات یہ ہے کہ مقتولین کی لاشیں تاحال برآمد نہیں ہو سکیں، جو اس کیس کی حساسیت کو بڑھا رہی ہے۔ لیویز اور سی ٹی ڈی کی ٹیمیں باقی ماندہ ملزمان کی گرفتاری کے لیے چھاپے مار رہی ہیں، اور حکام نے یقین دہانی کرائی ہے کہ اس کیس میں کوئی دباؤ قبول نہیں کیا جائے گا۔

معاشرتی اور قانونی تناظر

پاکستان میں ’غیرت کے نام پر قتل‘ کے واقعات، خاص طور پر بلوچستان جیسے قبائلی علاقوں میں، کوئی نئی بات نہیں۔ یہ واقعات اکثر خاندانی روایات اور جرگوں کے فیصلوں کی آڑ میں ہوتے ہیں، جو آئینی قانون سے بالاتر سمجھے جاتے ہیں۔ اس کیس میں بھی جرگے کے فیصلے کو جوڑے کی موت کا ذمہ دار قرار دیا جا رہا ہے۔ تاہم، پاکستان علماء کونسل نے اس عمل کو ’غیر اسلامی، شرعی قوانین کے خلاف، اور دہشت گردی‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ ایسی حرکتوں کے خلاف دہشت گردی کے مقدمات درج کیے جائیں۔

قانونی طور پر، پاکستان نے 2016 میں غیرت کے نام پر قتل کے خلاف قوانین کو سخت کیا تھا، جس کے تحت قاتلوں کو لازمی عمر قید کی سزا دی جاتی ہے، اور خاندان کی طرف سے معافی کا آپشن ختم کر دیا گیا۔ اس کے باوجود، انسانی حقوق کے اداروں کا کہنا ہے کہ ایسی سزاؤں پر عملدرآمد میں کمی ہے، اور اکثر ملزمان کم سزا یا بریت حاصل کر لیتے ہیں۔

سوشل میڈیا پر ردعمل

اس واقعے کی ویڈیو کے سوشل میڈیا پر وائرل ہونے کے بعد عوام میں شدید غم و غصہ دیکھا گیا۔ ایکس پر ایک صارف نے لکھا، ’’یہ انسانیت کے منہ پر طمانچہ ہے۔ پسند کی شادی کو جرم سمجھنا اور جرگے کے فیصلے پر قتل کرنا وحشیانہ عمل ہے۔‘‘ ایک اور صارف نے تبصرہ کیا، ’’بلوچستان حکومت کو چاہیے کہ جرگوں کے اس غیر قانونی نظام کو ختم کرے اور انصاف یقینی بنائے۔‘‘ کئی صارفین نے وزیراعلیٰ سرفراز بگٹی کی فوری کارروائی کی تعریف کی، جبکہ دیگر نے مطالبہ کیا کہ ملزمان کو سخت سے سخت سزا دی جائے۔

کوئٹہ میں پیش آنے والا یہ دلخراش واقعہ پاکستان کے قبائلی علاقوں میں رائج غیرت کے نام پر قتل کے رواج کی ایک اور ہولناک مثال ہے۔ احسان اور بانو کی داستان محبت، جو ایک خوشگوار انجام کی امید رکھتی تھی، جرگے کے غیر قانونی فیصلے کی بھینٹ چڑھ گئی۔ بانو کی آخری لمحات میں ہمت اور اس کے کہے گئے الفاظ، ’’صرف گولی مارنے کی اجازت ہے،‘‘ اس کی بے پناہ جرات اور عزت نفس کی عکاسی کرتے ہیں، جو اس معاشرتی ظلم کے خلاف ایک خاموش احتجاج ہے۔

یہ واقعہ نہ صرف ایک ذاتی المیہ ہے بلکہ پاکستان کے قانونی اور سماجی نظام کی خامیوں کو بھی اجاگر کرتا ہے۔ جرگے، جو قبائلی علاقوں میں متوازی عدالتی نظام کے طور پر کام کرتے ہیں، آئینی قانون کی حکمرانی کو چیلنج کرتے ہیں۔ اگرچہ بلوچستان حکومت نے فوری کارروائی کرکے 11 ملزمان کو گرفتار کیا، لیکن یہ سوال باقی ہے کہ کیا یہ گرفتاریاں انصاف کے حصول کی طرف ایک مکمل قدم ہیں؟ لاشوں کی عدم برآمدگی تفتیش کو پیچیدہ بنا رہی ہے، اور یہ خطرہ موجود ہے کہ کیس کمزور پڑ جائے اگر ثبوت ناکافی رہے۔

پاکستان میں غیرت کے نام پر قتل کے واقعات کی تعداد تشویشناک ہے۔ انسانی حقوق کمیشن آف پاکستان کے مطابق، 2022 میں 384 ایسی ہلاکتیں رپورٹ ہوئیں، اور یہ تعداد صرف رپورٹ شدہ واقعات کی ہے۔ یہ واقعات نہ صرف خواتین بلکہ مردوں کو بھی نشانہ بناتے ہیں، جیسا کہ احسان اور بانو کے کیس میں دیکھا گیا۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ غیرت کا تصور صرف خواتین تک محدود نہیں، بلکہ یہ پورے معاشرے کے لیے ایک چیلنج ہے۔

حکومت کی طرف سے اس کیس کو دہشت گردی کے زمرے میں لانا ایک مثبت قدم ہے، کیونکہ یہ جرگے کے فیصلوں کو غیر قانونی قرار دیتا ہے۔ تاہم، جب تک جرگوں کا نظام مکمل طور پر ختم نہیں ہوتا، اور مقامی پولیس و عدلیہ کے رویوں میں تبدیلی نہیں آتی، اس طرح کے واقعات جاری رہ سکتے ہیں۔ انسانی حقوق کے کارکنوں کا مطالبہ کہ جرگوں کے خلاف سخت ایکشن لیا جائے، جائز ہے، کیونکہ یہ غیر آئینی ادارے خواتین اور مردوں کے بنیادی حقوق کو پامال کرتے ہیں۔

اس واقعے سے یہ بھی عیاں ہوتا ہے کہ معاشرتی تبدیلی کے لیے تعلیم، آگاہی، اور قانونی اصلاحات کی ضرورت ہے۔ بلوچستان جیسے علاقوں میں، جہاں قبائلی روایات گہری جڑیں رکھتی ہیں، لوگوں کو یہ سمجھانا ضروری ہے کہ پسند کی شادی کوئی جرم نہیں، بلکہ ایک بنیادی انسانی حق ہے۔ مقامی علماء اور سول سوسائٹی کو اس میں اہم کردار ادا کرنا ہوگا کہ غیرت کے نام پر قتل کو غیر اسلامی اور غیر انسانی قرار دیا جائے۔

آخر میں، احسان اور بانو کا قتل ایک قومی المیہ ہے، جو ہمیں اپنے معاشرتی اور قانونی نظام پر نظرثانی کرنے پر مجبور کرتا ہے۔ بلوچستان حکومت کی فوری کارروائی قابل تحسین ہے، لیکن یہ کافی نہیں۔ اس کیس کے تمام ملزمان کو کیفر کردار تک پہنچانا اور جرگے کے نظام کو مکمل طور پر ختم کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ یہ واقعہ ہمیں یاد دلاتا ہے کہ محبت اور آزادی کے حق کو تسلیم کرنے کے لیے ہمیں اپنی سوچ اور روایات کو بدلنا ہوگا، ورنہ ایسی دلخراش داستانیں ہمارے معاشرے کا حصہ رہیں گی۔

متعلقہ خبریں

مقبول ترین