ڈھاکہ: پاکستان کرکٹ ٹیم کے وائٹ بال ہیڈ کوچ مائیک ہیسن نے بنگلہ دیش کے خلاف پہلے ٹی20 میچ میں سات وکٹوں سے شکست کے بعد شیر بنگلہ نیشنل اسٹیڈیم کی پچ کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ انہوں نے اسے بین الاقوامی کرکٹ کے معیار سے کم تر اور ’ناقابل قبول‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ ایسی پچز ٹیموں کی ایشیا کپ اور ٹی20 ورلڈ کپ کی تیاریوں کو نقصان پہنچاتی ہیں۔ تاہم، بنگلہ دیش کے کھلاڑیوں نے اس تنقید کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے پچ کے حالات کو بہتر طور پر سمجھا اور اس کا فائدہ اٹھایا۔ یہ تنازع کرکٹ کے حلقوں میں ایک نئی بحث کا باعث بن گیا ہے۔
میچ کا منظرنامہ
اتوار، 20 جولائی 2025 کو شیر بنگلہ نیشنل اسٹیڈیم میں کھیلے گئے پہلے ٹی20 میچ میں پاکستان ٹیم کو بنگلہ دیش کے ہاتھوں شرمناک شکست کا سامنا کرنا پڑا۔ پہلے بیٹنگ کرتے ہوئے پاکستان کی ٹیم 19.3 اوورز میں صرف 110 رنز پر ڈھیر ہوگئی، جو بنگلہ دیش کے خلاف ان کا اب تک کا سب سے کم ٹی20 اسکور ہے۔ فخر زمان نے 34 گیندوں پر 44 رنز کی جارحانہ اننگز کھیلی، جبکہ محمد عباس آفریدی (22) اور خوشدل شاہ (17) ہی دوسرے بیٹرز تھے جنہوں نے دوہرے ہندسے میں رنز بنائے۔ تاہم، آٹھویں اوور تک پاکستان کا اسکور 46 رنز پر پانچ وکٹوں تک گر چکا تھا۔
پاکستان کی بیٹنگ لائن اپ کی ناکامی کی وجہ غیر ضروری بڑے شاٹس کھیلنے کی کوشش اور تین رن آؤٹس تھے، جنہوں نے ٹیم کی مشکلات کو دوچند کر دیا۔ بنگلہ دیش کے فاسٹ بولرز تسکین احمد اور مستفیض الرحمٰن نے مجموعی طور پر پانچ وکٹیں حاصل کیں، جبکہ بنگلہ دیش نے 111 رنز کا ہدف صرف 15.3 اوورز میں تین وکٹوں کے نقصان پر پورا کر لیا۔ اوپنر پرویز حسین ایمان کی ناقابل شکست 56 رنز کی اننگز اور توحید ہردوئے کی 36 رنز کی دھیمی مگر مستقل اننگز نے بنگلہ دیش کو سات وکٹوں سے فتح دلائی۔
مائیک ہیسن کی تنقید
میچ کے بعد پریس کانفرنس میں مائیک ہیسن نے پچ کے معیار پر کھل کر تنقید کی۔ انہوں نے کہا، ’’یہ پچ کسی بھی ٹیم کے لیے سازگار نہیں تھی۔ ہم ایشیا کپ اور ٹی20 ورلڈ کپ جیسے بڑے ایونٹس کی تیاری کر رہے ہیں، اور ایسی وکٹ بین الاقوامی کرکٹ کے لیے ناقابل قبول ہے۔‘‘ انہوں نے تسلیم کیا کہ پاکستانی بیٹرز نے پچ کو درست طور پر نہیں پرکھا، لیکن ان کا زور اس بات پر تھا کہ پچ کا معیار عالمی معیار سے مطابقت نہیں رکھتا۔
ہیسن نے مزید کہا، ’’فخر زمان نے ابتدائی اوورز میں چند جارحانہ شاٹس کھیلے، جس سے ہمیں یہ غلط فہمی ہوئی کہ پچ بیٹنگ کے لیے آسان ہے۔ لیکن جیسے ہی گیند نے سیم کرنا اور اچھال لینا شروع کیا، ہم نے حالات کا درست اندازہ نہیں لگایا۔ ہماری شاٹ سلیکشن ناقص رہی، اور رن آؤٹس نے حالات کو مزید خراب کر دیا۔‘‘ انہوں نے یہ بھی کہا کہ ایسی پچز کھلاڑیوں کی تکنیکی ترقی کو نقصان پہنچاتی ہیں، کیونکہ اچھے کرکٹ وکٹس ہی کھلاڑیوں کی صلاحیتوں کو نکھارتے ہیں۔
ہیسن نے بنگلہ دیش پریمیئر لیگ (بی پی ایل) کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اسی گراؤنڈ پر بی پی ایل کے میچوں کے لیے اچھی وکٹیں تیار کی جاتی ہیں، جہاں اوسطاً 150 سے 200 رنز بنتے ہیں۔ لیکن بین الاقوامی میچوں کے لیے تیار کی جانے والی سست اور کم اچھال والی پچز کو وہ درست نہیں سمجھتے۔ انہوں نے کہا، ’’میں یہاں بنگلہ دیشی کرکٹ کو درست کرنے نہیں آیا، لیکن عالمی کرکٹ کے معیار کی بات کریں تو ایسی وکٹیں درست سمت نہیں ہیں۔ یہ بنگلہ دیش کے لیے بھی نقصان دہ ہے، کیونکہ ایسی پچز پر کھیلنے سے ان کی غیر ملکی کنڈیشنز میں کارکردگی متاثر ہوتی ہے۔‘‘
بنگلہ دیش کا جوابی بیانیہ
بنگلہ دیش کے کپتان لٹن داس اور میچ کے بہترین کھلاڑی پرویز حسین ایمان نے مائیک ہیسن کی تنقید کو یکسر مسترد کر دیا۔ لٹن داس نے کہا، ’’ہم نے میرپور میں بہت کرکٹ کھیلی ہے، اس لیے ہمیں اس پچ کے حالات کا بہتر علم ہے۔ یہ بیٹنگ کے لیے آسان وکٹ نہیں، لیکن ہم نے اپنی حکمت عملی سے اسے آسان بنا دیا۔ دوسری اننگز میں اوس کی وجہ سے گیند بیٹ پر بہتر آئی، اور ہماری بولنگ نے ابتدائی وکٹیں لے کر دباؤ بنایا۔‘‘
پرویز حسین ایمان نے کہا، ’’ہمیں پچ خراب نہیں لگی۔ ہم نے 16 اوورز سے کم وقت میں ہدف حاصل کر لیا۔ اگر ہم پوری 20 اوورز کھیلتے تو 150 سے 160 رنز بن سکتے تھے۔ پاکستان شاید حالات کو سمجھنے میں ناکام رہا، جبکہ ہم نے بہتر ایڈجسٹ کیا۔‘‘ انہوں نے مزید کہا کہ میرپور کی پچ عام طور پر بولرز کے لیے مددگار ہوتی ہے، لیکن انہوں نے اپنی حکمت عملی سے اس کا فائدہ اٹھایا۔
میچ کے اہم لمحات
پاکستان کی بیٹنگ کی ناکامی کی بڑی وجہ ان کی جارحانہ حکمت عملی تھی، جو اس پچ پر ناکام ثابت ہوئی۔ فخر زمان نے پہلے اوور میں نو رنز بنا کے آغاز کیا، لیکن اس کے بعد بیٹرز نے غیر ضروری خطرات مول لیے۔ حسان نواز، سلمان آغا، اور خوشدل شاہ کی رن آؤٹس نے ٹیم کی مشکلات کو بڑھایا، جبکہ بنگلہ دیش کے بولرز نے منظم حکمت عملی کے ساتھ پاکستان کو دباؤ میں رکھا۔
بنگلہ دیش کی بیٹنگ میں پرویز حسین ایمان کی ناقابل شکست نصف سنچری نے اہم کردار ادا کیا۔ انہوں نے حالات کو بہتر طور پر سمجھا اور جارحانہ مگر محتاط انداز میں بیٹنگ کی۔ توحید ہردوئے نے ان کا بھرپور ساتھ دیا، اور دونوں نے مل کر بنگلہ دیش کو 27 گیندوں قبل فتح سے ہمکنار کیا۔
سوشل میڈیا پر ردعمل
مائیک ہیسن کے بیانات نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر زبردست بحث چھیڑ دی۔ ایک صارف نے لکھا، ’’ہیسن کی تنقید درست ہے۔ ایسی پچز عالمی ایونٹس کی تیاری کے لیے نقصان دہ ہیں۔‘‘ ایک اور صارف نے تبصرہ کیا، ’’پاکستان کی شکست کا الزام پچ پر ڈالنا درست نہیں۔ بنگلہ دیش نے وہی پچ پر شاندار بیٹنگ کی۔ پاکستانی بیٹرز کی ناقص حکمت عملی ذمہ دار ہے۔‘‘ کچھ صارفین نے ہیسن کو ’ناقص شکست کا بہانہ باز‘ قرار دیا، جبکہ دیگر نے ان کے موقف کی حمایت کی۔
اگلا امتحان
بنگلہ دیش اب تین میچوں کی سیریز میں 1-0 سے آگے ہے، اور دوسرا ٹی20 میچ منگل، 22 جولائی کو اسی شیر بنگلہ نیشنل اسٹیڈیم میں کھیلا جائے گا۔ پاکستان کے لیے یہ میچ سیریز برابر کرنے کا اہم موقع ہوگا، لیکن ٹیم کو اپنی بیٹنگ حکمت عملی پر نظرثانی کرنا ہوگی۔ مائیک ہیسن نے کہا کہ ٹیم اس شکست سے سبق سیکھے گی اور اگلے میچ میں بہتر کارکردگی دکھائے گی۔
مائیک ہیسن کی تنقید نے شیر بنگلہ نیشنل اسٹیڈیم کی پچ کو ایک بار پھر بحث کا موضوع بنا دیا ہے۔ یہ کوئی نیا تنازع نہیں؛ اس سے قبل 2021 میں نیوزی لینڈ اور آسٹریلیا کے خلاف سیریز میں بھی اس گراؤنڈ کی سست اور کم اچھال والی پچز پر تنقید ہوئی تھی۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ بنگلہ دیش کے کپتان لٹن داس نے بھی اس پچ کو بیٹنگ کے لیے مشکل قرار دیا تھا، لیکن میچ میں ان کی ٹیم کی شاندار کارکردگی نے ہیسن کے دعوؤں کو کمزور کیا۔
ہیسن کا موقف جزوی طور پر درست ہو سکتا ہے کہ ایسی پچز عالمی ایونٹس کی تیاری کے لیے مثالی نہیں، کیونکہ ایشیا کپ اور ٹی20 ورلڈ کپ جیسے ٹورنامنٹس میں زیادہ متوازن وکٹیں ہوں گی۔ تاہم، ان کا یہ کہنا کہ پچ کسی کے لیے بھی موزوں نہیں تھی، بنگلہ دیش کی کارکردگی کی روشنی میں کمزور پڑتا ہے۔ بنگلہ دیش نے نہ صرف ہدف آسانی سے حاصل کیا بلکہ ان کے بیٹرز نے پچ کے حالات کو بہتر طور پر سمجھا۔ پرویز حسین ایمان کے الفاظ، ’’ہم نے حالات کو بہتر ایڈجسٹ کیا،‘‘ اس بات کی عکاسی کرتے ہیں کہ کرکٹ میں حالات سے ہم آہنگی کامیابی کی کلید ہے۔
پاکستان کی شکست کی بنیادی وجہ پچ سے زیادہ ان کی اپنی ناقص حکمت عملی تھی۔ تین رن آؤٹس اور غیر ضروری جارحانہ شاٹس نے ٹیم کی مشکلات کو بڑھایا۔ فخر زمان کی ابتدائی جارحیت کے بعد بیٹرز کو محتاط حکمت عملی اپنانے کی ضرورت تھی، لیکن وہ پچ کے بدلتے ہوئے رویے کو سمجھنے میں ناکام رہے۔ ہیسن کی تنقید کو کچھ حلقوں میں بطور ’بہانہ‘ دیکھا جا رہا ہے، کیونکہ بنگلہ دیش نے وہی پچ پر شاندار کارکردگی دکھائی۔
یہ تنازع اس بات کی طرف بھی اشارہ کرتا ہے کہ میزبان ٹیمیں اپنی کنڈیشنز کا فائدہ اٹھانے کے لیے مخصوص قسم کی پچز تیار کرتی ہیں۔ بنگلہ دیش نے ماضی میں بھی سست اور اسپنرز کے لیے مددگار پچز سے فائدہ اٹھایا ہے، جیسا کہ 2021 کی سیریز میں دیکھا گیا۔ لیکن ہیسن کا یہ کہنا درست ہے کہ ایسی پچز طویل مدت میں بنگلہ دیش کے کھلاڑیوں کے لیے بھی نقصان دہ ہو سکتی ہیں، کیونکہ وہ غیر ملکی کنڈیشنز میں ایڈجسٹ کرنے میں مشکل کا شکار ہو سکتے ہیں۔
پاکستان کے لیے اگلا میچ ایک امتحان ہوگا۔ ٹیم کو اپنی بیٹنگ لائن اپ میں استحکام لانا ہوگا اور رن آؤٹس جیسے بنیادی غلطیوں سے بچنا ہوگا۔ مائیک ہیسن کو بھی اپنی حکمت عملی پر نظرثانی کرنی ہوگی، کیونکہ ایسی پچز پر جارحانہ انداز سے زیادہ صبر اور حالات کے مطابق کھیل کی ضرورت ہوتی ہے۔ بنگلہ دیش، جو اس وقت اعتماد سے بھرپور ہے، سیریز جیتنے کے لیے پرعزم ہے، اور ان کی مقامی کنڈیشنز سے واقفیت ان کا سب سے بڑا ہتھیار ہے۔
یہ واقعہ کرکٹ کی عالمی گورننگ باڈی، آئی سی سی، کے لیے بھی ایک سوال اٹھاتا ہے کہ کیا بین الاقوامی میچوں کے لیے پچز کے معیار کو منظم کرنے کی ضرورت ہے؟ اگرچہ ہر ملک کو اپنی کنڈیشنز سے فائدہ اٹھانے کا حق ہے، لیکن ایسی پچز جو عالمی معیار سے کم ہوں، کھیل کے معیار کو متاثر کر سکتی ہیں۔ اس تنازع سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ کرکٹ میں کامیابی کا دارومدار نہ صرف صلاحیت بلکہ حالات سے ہم آہنگی پر بھی ہوتا ہے۔ پاکستان ٹیم کے لیے اب اہم ہے کہ وہ اس شکست سے سبق سیکھے اور اگلے میچ میں بہتر کارکردگی دکھائے۔





















