کمر توڑ مہنگائی میں ایچ ای سی کا بجٹ سال 2018 سے بھی کم

حکومت نے ہائر ایجوکیشن کمیشن کے لئے 39 ارب 48 کروڑ 80 لاکھ روپے مختص کیے ہیں

اسلام آباد :پاکستان میں اعلیٰ تعلیم کے شعبے کو ایک بار پھر مالی مشکلات کا سامنا ہے۔ ہائر ایجوکیشن کمیشن (ایچ ای سی) کو جاری مالی سال 2025-26 کے بجٹ میں کٹوتی کا سامنا کرتے ہوئے صرف 39 ارب 48 کروڑ 80 لاکھ روپے مختص کیے گئے ہیں، جو گزشتہ برسوں کی نسبت نہ صرف کم ہیں بلکہ موجودہ کمر توڑ مہنگائی اور آپریشنل لاگت میں اضافے کے تناظر میں ناکافی بھی قرار دیے جا رہے ہیں۔

جاری اور نئی اسکیموں کے لیے ناکافی فنڈز

حکومت نے ہائر ایجوکیشن کمیشن کی زیر نگرانی جاری 140 ترقیاتی اسکیموں اور 12 نئی اسکیموں کے لیے پبلک سیکٹر ڈویلپمنٹ پروگرام (PSDP) کے تحت مجموعی طور پر 39 ارب 48 کروڑ 80 لاکھ روپے مختص کیے ہیں۔ ان اسکیموں میں مختلف نوعیت کے منصوبے شامل ہیں جن کا مقصد اندرون و بیرون ملک تعلیم کے فروغ کے ساتھ ساتھ تعلیمی انفراسٹرکچر کی بہتری ہے۔

منصوبے

علامہ محمد اقبال اسکالرشپ پروگرام: افغانستان، بنگلا دیش، ازبکستان اور دیگر دوست ممالک کے طلباء کے لیے خصوصی وظائف
اکیڈمک بلاک کی تعمیر: شہید ذوالفقار علی بھٹو میڈیکل یونیورسٹی
باچا خان یونیورسٹی: مرکزی کیمپس کی ترقی
نیشنل یونیورسٹی آف میڈیکل سائنسز، راولپنڈی
بلتستان یونیورسٹی: مختلف بلاکس کی اپ گریڈیشن
اسپورٹس اکیڈمیز: نوجوانوں کی جسمانی سرگرمیوں کے فروغ کے لیے
یوتھ اولمپکس: قومی سطح پر نوجوانوں کی شمولیت کے لیے ایک اہم اقدام

بیرون ملک وظائف اور تعلیمی اشتراک

ایچ ای سی کے تحت بین الاقوامی تعلیمی اشتراک کے متعدد منصوبے بھی جاری ہیں، جن کے لیے مختص بجٹ درج ذیل ہے:
فل برائٹ اسکالر شپ سپورٹ پروگرام (فیز 3): 10 کروڑ روپے
اوورسیز اسکالرشپ پروگرام برائے ایم ایس/ایم فل: 2 ارب 30 کروڑ روپے
پاک-امریکا نالج کوریڈور (فیز ون) کے تحت پی ایچ ڈی اسکالرشپ پروگرام: 3 ارب 67 کروڑ روپے
پاک-کوریا نیوٹریشن سینٹر: 80 کروڑ روپے

ماضی اور حال کا موازنہ

واضح رہے کہ سال 2018 میں ہائر ایجوکیشن کا ترقیاتی بجٹ 46 ارب 23 کروڑ روپے مختص کیا گیا تھا۔ تاہم سات سال بعد، جب مہنگائی میں غیر معمولی اضافہ اور اداروں کی آپریشنل لاگت میں کئی گنا بڑھوتری ہو چکی ہے، حکومت نے بجٹ کو کم کر کے 39 ارب 48 کروڑ 80 لاکھ روپے تک محدود کر دیا ہے۔ یہ فرق نہ صرف مالیاتی ترجیحات پر سوال اٹھاتا ہے بلکہ قومی تعلیمی پالیسی کی سمت پر بھی گہری تشویش پیدا کرتا ہے۔

تعلیمی ماہرین کا ردعمل

ملک کے نامور تعلیمی ماہرین، وائس چانسلرز، پروفیسرز اور ریسرچرز نے اس صورتحال پر فوری توجہ دینے کا مطالبہ کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ پاکستان جیسے ترقی پذیر ملک میں جہاں شرح خواندگی پہلے ہی تشویشناک حد تک کم ہے، وہاں اعلیٰ تعلیم کے لیے بجٹ میں کمی کرنا خطرناک رجحان ہے۔
انہوں نے تجویز دی ہے کہ:
حکومت فوری طور پر تعلیمی ایمرجنسی کا نفاذ کرے
اعلیٰ تعلیم کو قومی سلامتی کے مساوی اہمیت دی جائے
تمام بچوں کو یکساں اور آسان رسائی فراہم کرنے کے لیے بجٹ میں خاطر خواہ اضافہ کیا جائے
تعلیمی بجٹ کو مہنگائی کے تناسب سے بڑھایا جائے تاکہ یونیورسٹیوں کو بنیادی سہولیات کی فراہمی ممکن ہو

تجزیہ

موجودہ صورتحال میں بجٹ کٹوتی سے اعلیٰ تعلیمی ادارے براہ راست متاثر ہوں گے، تاہم اگر حکومت سنجیدگی کا مظاہرہ کرے تو بہتری کی گنجائش موجود ہے۔ پاکستان کے تعلیمی نظام کو دنیا کے ترقی یافتہ ممالک کے ہم پلہ لانے کے لیے ضروری ہے کہ ہم تعلیم کو سرمایہ کاری سمجھ کر اس میں دل کھول کر خرچ کریں۔
یہ بات تسلیم شدہ ہے کہ اعلیٰ تعلیم ملک کی معیشت، ٹیکنالوجی، سائنسی تحقیق اور مجموعی سماجی ترقی کی بنیاد ہے۔ بجٹ میں موجودہ کٹوتیاں وقتی سیاسی فیصلوں کا نتیجہ ہو سکتی ہیں، لیکن طویل المیعاد بنیادوں پر ان کے نتائج نقصان دہ ثابت ہو سکتے ہیں۔
حکومت کو چاہیے کہ وہ قومی بجٹ کی ترجیحات کا از سر نو جائزہ لے اور تعلیم جیسے بنیادی اور دیرپا شعبے کو وہ مقام دے جو اس کا حق ہے۔ اگر ہم تعلیم کو فروغ دینے میں کامیاب ہو جاتے ہیں تو نہ صرف پاکستان دنیا کی تعلیمی دوڑ میں اپنا مؤثر کردار ادا کرے گا بلکہ غربت، بے روزگاری اور انتہا پسندی جیسے مسائل کا بھی دیرپا حل ممکن ہو سکے گا۔

متعلقہ خبریں

مقبول ترین