پاکستان نے مالی سال 2024-25 کے دوران خوردنی تیل کی درآمدات پر 1065 ارب روپے خرچ کیے، جس میں سے 967 ارب روپے کا پام آئل اور 98 ارب روپے کا سویا بین آئل شامل تھا۔ سرکاری دستاویزات کے مطابق، اس عرصے میں 32 لاکھ 13 ہزار میٹرک ٹن پام آئل درآمد کیا گیا، جس کی کل مالیت 3 ارب 39 کروڑ 33 لاکھ ڈالر رہی۔ پام آئل کی درآمدات میں 22.13 فیصد اضافہ ہوا، جو گزشتہ سال 2023 کے مقابلے میں 2 ارب 77 کروڑ 50 لاکھ ڈالر سے بڑھ کر نمایاں نمو کو ظاہر کرتا ہے۔ اسی طرح، جون 2024 میں سویا بین آئل کی درآمدات میں 196.41 فیصد کا غیر معمولی اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ یہ اعداد و شمار پاکستان کی معیشت پر خوردنی تیل کی درآمدات کے بڑھتے ہوئے انحصار کی نشاندہی کرتے ہیں، جو ملکی زرمبادلہ کے ذخائر اور معاشی استحکام کے لیے اہم چیلنجز پیش کرتے ہیں۔
پس منظر
پاکستان میں خوردنی تیل کی طلب سالانہ 5 لاکھ ٹن سے زائد ہے، جبکہ ملکی پیداوار صرف 7 لاکھ 45 ہزار ٹن ہے، جو کل ضرورت کا 8 فیصد ہے۔ اس کمی کی وجہ سے پاکستان کو پام آئل اور سویا بین آئل کی بڑی مقدار درآمد کرنا پڑتی ہے، جو بنیادی طور پر ملائیشیا اور انڈونیشیا سے منگوائی جاتی ہے۔ گزشتہ چند سالوں میں پام آئل کی درآمدات کا حجم مسلسل بڑھ رہا ہے۔ مثال کے طور پر، مالی سال 2022 میں پام آئل کی درآمدات پر 3.151 ارب ڈالر خرچ ہوئے، جبکہ 2021 میں یہ حجم 3.059 ارب ڈالر تھا۔ اسی طرح، سویا بین آئل کی درآمدات 2022 میں 238.96 ملین ڈالر تھیں، جو 2024-25 کے پہلے 10 ماہ میں 27 کروڑ 90 لاکھ 63 ہزار ڈالر تک بڑھ گئیں۔
تاریخی طور پر، پاکستان نے پام آئل کی مقامی پیداوار کے لیے کوششیں کی ہیں۔ 1996 میں بینظیر بھٹو کی حکومت نے ملائیشیا سے پام آئل کے 1000 پودے منگوا کر ٹھٹہ میں تجرباتی کاشت شروع کی، لیکن یہ منصوبہ کامیاب نہ ہو سکا۔ 2016 میں دوبارہ اس منصوبے پر توجہ دی گئی، اور سندھ کے ساحلی علاقوں میں کاشت کے تجربات سے حوصلہ افزا نتائج ملے۔ تاہم، 27 سال بعد بھی پام آئل کی مقامی پیداوار تجرباتی مراحل میں ہے، جبکہ بھارت نے 2000 سے اس شعبے میں کام شروع کر کے 8 لاکھ ایکڑ پر کاشت کو وسعت دی۔
اثرات اور وجوہات
معاشی اثرات
خوردنی تیل کی درآمدات پر بڑھتا ہوا انحصار پاکستان کے زرمبادلہ کے ذخائر پر دباؤ ڈال رہا ہے۔ مالی سال 2024-25 میں کل درآمدی بل 7 ارب ڈالر تک پہنچ گیا، جس میں پام آئل اور سویا بین آئل کا حصہ نمایاں ہے۔ اس اضافے نے تجارتی خسارے کو بڑھانے میں اہم کردار ادا کیا، جو جولائی 2024 سے جنوری 2025 تک 2 ارب 31 کروڑ 30 لاکھ ڈالر رہا۔ عالمی منڈی میں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے نے مال برداری کی لاگت کو بڑھایا، جس سے پام آئل کی درآمدات مہنگی ہوئیں۔ مزید برآں، روس-یوکرین جنگ نے سورج مکھی اور سویا بین آئل کی عالمی پیداوار کو متاثر کیا، جس سے پام آئل کی طلب اور قیمتوں میں اضافہ ہوا۔
وجوہات
ملکی طلب میں اضافہ: پاکستان کی بڑھتی ہوئی آبادی اور کھانے پکانے کے تیل کی بڑھتی ہوئی کھپت نے درآمدات کو ناگزیر بنا دیا ہے۔
عالمی منڈی کے رجحانات: پام آئل کی عالمی قیمتوں میں اضافہ، خاص طور پر پیٹرولیم کی قیمتوں اور روس-یوکرین جنگ کے اثرات کی وجہ سے، درآمدات کے اخراجات کو بڑھا رہا ہے۔
مقامی پیداوار کی کمی: زرعی شعبے کی صلاحیت کے باوجود، پام آئل کی مقامی کاشت ابھی ابتدائی مراحل میں ہے، جس سے درآمدات پر انحصار بڑھتا ہے۔
سویا بین آئل کی درآمدات میں اضافہ: جون 2024 میں سویا بین آئل کی درآمدات میں 196.41 فیصد اضافہ عالمی منڈی میں متبادل تیلوں کی دستیابی اور قیمتوں کے اتار چڑھاؤ کی عکاسی کرتا ہے۔
ممکنہ حل
مقامی پیداوار میں اضافہ: پاکستان کے ساحلی علاقوں، خاص طور پر سندھ میں، پام آئل کی کاشت کے لیے لاکھوں ایکڑ زمین موزوں ہے۔ وفاقی اور صوبائی حکومتوں کو مل کر پام آئل کی کاشت کے منصوبوں کو وسعت دینے کی ضرورت ہے۔ سندھ حکومت نے 3 ہزار ایکڑ زمین مختص کرنے کا اعلان کیا تھا، لیکن اس پر عمل درآمد تاحال نہیں ہوا۔
زرعی تحقیق اور ترقی: زرعی تحقیقاتی اداروں کو پام آئل کی ایسی اقسام تیار کرنے پر توجہ دینی چاہیے جو مقامی ماحول کے مطابق ہوں اور زیادہ پیداوار دیں۔
درآمدات پر ٹیکس اور سبسڈی: درآمد شدہ خوردنی تیل پر ٹیکس بڑھانے اور مقامی پیداوار کو سبسڈی دینے سے درآمدات پر انحصار کم کیا جا سکتا ہے۔
متبادل تیلوں کی تلاش: سویا بین اور سورج مکھی کے تیل کی مقامی پیداوار بڑھانے کے لیے زرعی پالیسیوں کو بہتر کرنے کی ضرورت ہے تاکہ پام آئل پر انحصار کم ہو۔
پاکستان کی خوردنی تیل کی درآمدات، خاص طور پر پام آئل اور سویا بین آئل، ملکی معیشت پر بھاری بوجھ ڈال رہی ہیں۔ مالی سال 2024-25 میں پام آئل کی درآمدات میں 22.13 فیصد اور سویا بین آئل کی درآمدات میں جون 2024 میں 196.41 فیصد اضافہ اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ ملکی طلب اور عالمی منڈی کے حالات پاکستان کو مہنگے درآمدی تیل پر انحصار کرنے پر مجبور کر رہے ہیں۔ مقامی پیداوار کو فروغ دینے اور زرعی شعبے میں سرمایہ کاری کے بغیر اس انحصار کو کم کرنا مشکل ہے۔ اگر پاکستان اپنے ساحلی علاقوں میں پام آئل کی کاشت کو وسعت دے اور زرعی تحقیق پر توجہ دے تو اربوں ڈالر کے زرمبادلہ کی بچت ممکن ہے، جو معاشی استحکام کے لیے ناگزیر ہے۔





















