پنجاب میں منشیات فروشوں کیخلاف بڑے کریک ڈائون کا فیصلہ

نئی انسدادِ منشیات فورس کی تربیت مکمل ہو چکی ہے، جس میں حساس اداروں کے 500 سے زائد افسران اور اہلکار شامل ہیں

لاہور: پنجاب حکومت نے صوبے کو منشیات کے ناسور سے پاک کرنے کے لیے ایک بڑا اور فیصلہ کن قدم اٹھا لیا ہے۔ حالیہ اعلان کے مطابق، منشیات فروشوں اور منشیات کی غیرقانونی تجارت میں ملوث بڑے نیٹ ورکس کے خلاف بھرپور کریک ڈاؤن شروع کیا جا رہا ہے۔ اس مقصد کے لیے ایک نئی خصوصی فورس تشکیل دی گئی ہے، جو نہ صرف مکمل تربیت یافتہ ہے بلکہ حساس اداروں کی معاونت سے جدید ٹیکنالوجی سے بھی لیس کی گئی ہے۔ یہ فورس آئندہ دو دنوں میں باقاعدہ طور پر کارروائیاں شروع کر دے گی۔

انسدادِ منشیات کے لیے نئی فورس کی تشکیل

پنجاب حکومت کی طرف سے بنائی گئی یہ خصوصی فورس، انسدادِ منشیات کے لیے ایک نئے ماڈل ’’سی سی ڈی‘‘ کی طرز پر کام کرے گی۔ سی سی ڈی یعنی Counter Crime Division کی طرز پر بنائی گئی یہ فورس ڈرگ ڈیلرز کے خلاف مکمل خودمختاری کے ساتھ کارروائی کرے گی۔ اسے نہ صرف منشیات کے مقدمات درج کرنے بلکہ ان کی تفتیش کا اختیار بھی حاصل ہو گا۔ یہ فورس عدالتی کارروائی کے لیے ٹھوس شواہد اکٹھے کرے گی اور ان کے ذریعے منشیات فروشوں کو قانون کے کٹہرے میں لایا جائے گا۔

تربیت اور تیاری

اس نئی انسدادِ منشیات فورس کی تربیت مکمل ہو چکی ہے، جس میں حساس اداروں کے 500 سے زائد افسران اور اہلکار شامل ہیں۔ ان اہلکاروں کو منشیات کی ترسیل، خرید و فروخت، اور ذخیرہ اندوزی جیسے جرائم کی شناخت، نگرانی، اور ثبوت اکٹھے کرنے کے جدید طریقے سکھائے گئے ہیں۔ فورس کو اس بات کی بھی تربیت دی گئی ہے کہ وہ بغیر کسی سیاسی دباؤ کے آزادانہ طور پر کارروائیاں انجام دے۔

ٹیکنالوجی اور انٹیلی جنس کا استعمال

حکام کے مطابق، فورس کو جدید انٹیلی جنس سسٹمز اور ٹریکنگ آلات سے لیس کیا جا رہا ہے۔ اس کے علاوہ، ڈرون، سی سی ٹی وی سسٹمز، اور ڈیجیٹل مانیٹرنگ جیسے جدید ذرائع بھی استعمال میں لائے جائیں گے تاکہ منشیات فروشوں کے نیٹ ورکس کی نشاندہی کی جا سکے۔ فورس کو یہ سہولت حاصل ہو گی کہ وہ کسی بھی مشتبہ سرگرمی پر فوری ایکشن لے اور قانونی کارروائی شروع کرے۔

پولیس اور دیگر اداروں کی معاونت

اگرچہ یہ فورس آزادانہ کارروائیاں کرے گی، لیکن پولیس اور دیگر قانون نافذ کرنے والے ادارے بھی اس کی معاونت کریں گے۔ ذرائع کے مطابق، مختلف سطحوں پر کوآرڈی نیشن کمیٹیاں بنائی جا رہی ہیں تاکہ فورس اور دیگر اداروں کے درمیان رابطے کو موثر بنایا جا سکے۔ اس کا مقصد یہ ہے کہ کسی بھی بڑی کارروائی میں مطلوبہ تعاون فوری اور مؤثر طریقے سے حاصل ہو سکے۔

تاریخی پس منظر اور ضرورت

پاکستان، بالخصوص پنجاب، گذشتہ کئی دہائیوں سے منشیات کے مسئلے سے دوچار رہا ہے۔ افغانستان سے منسلک سرحدی راستوں کے ذریعے ہیروئن، چرس، آئس، اور دیگر نشہ آور اشیاء پاکستان میں داخل ہوتی رہی ہیں۔ اس غیر قانونی دھندے نے نہ صرف نوجوان نسل کو تباہ کیا بلکہ معاشرتی ڈھانچے، امن و امان، اور خاندانی نظام کو بھی نقصان پہنچایا۔ خاص طور پر تعلیمی اداروں میں آئس اور دیگر مصنوعی منشیات کی دستیابی نے والدین اور معاشرے کو شدید تشویش میں مبتلا کیا ہے۔

حکومت کا مؤقف اور مستقبل کی حکمت عملی

پنجاب حکومت کے ترجمان کے مطابق، اس اقدام کا بنیادی مقصد منشیات کی خرید و فروخت اور ترسیل کا مستقل خاتمہ ہے۔ حکومت کی پالیسی یہ ہے کہ صرف چھوٹے ڈیلرز کو نہیں بلکہ بڑے نیٹ ورکس کو نشانہ بنایا جائے گا جو اس کاروبار کو منظم انداز میں چلا رہے ہیں۔ اس مقصد کے لیے انٹیلی جنس رپورٹس، مالی لین دین کی چھان بین، اور سوشل میڈیا پر مانیٹرنگ جیسے ذرائع بھی استعمال کیے جائیں گے۔

عوام کی شرکت اور آگاہی مہم

انسداد منشیات کی اس مہم میں عوامی شعور بیدار کرنے پر بھی زور دیا جا رہا ہے۔ حکومت مختلف ذرائع سے آگاہی مہمات چلانے کی منصوبہ بندی کر رہی ہے تاکہ عوام کو منشیات کے نقصانات سے آگاہ کیا جا سکے اور وہ اس مسئلے کے حل میں حکومتی اداروں کے ساتھ تعاون کریں۔ خاص طور پر والدین، اساتذہ، اور مذہبی رہنماؤں کو اس مہم کا حصہ بنایا جائے گا تاکہ نوجوان نسل کو اس تباہی سے بچایا جا سکے۔

فیصلہ کن موڑ کی طرف

پنجاب حکومت کی یہ نئی کارروائی محض روایتی اقدامات کا تسلسل نہیں بلکہ ایک نیا اور بھرپور اندازِ حکمرانی کا مظہر ہے۔ اگر یہ فورس اپنے مقاصد میں کامیاب ہوتی ہے تو نہ صرف منشیات فروشوں کا نیٹ ورک ٹوٹے گا بلکہ معاشرتی سطح پر بھی بہتری دیکھنے کو ملے گی۔ وقت بتائے گا کہ یہ کوشش کس حد تک کامیاب ہوتی ہے، لیکن اس میں کوئی شک نہیں کہ یہ اقدام ایک سنگ میل کی حیثیت رکھتا ہے۔
منشیات کا خاتمہ محض حکومتی اداروں کی ذمہ داری نہیں بلکہ یہ ایک اجتماعی فریضہ ہے۔ اگر معاشرہ، والدین، اساتذہ، اور نوجوان خود اس ناسور کے خلاف کھڑے ہوں تو ایک صحت مند اور روشن پاکستان کا خواب حقیقت میں بدلا جا سکتا ہے۔ پنجاب حکومت کی یہ کوشش اس خواب کی تعبیر کی طرف ایک اہم قدم ہے۔

متعلقہ خبریں

مقبول ترین