نبی اکرمﷺ بلاآخر نبی آخری الزمان ہی ہیں

سب سے اہم چیز رسول اللہ ﷺ کا بطور ایک عام شہری کے ذاتی کردار ہے

مولانا سید مودودی صاحب فرماتے ہیں اسلام کو سمجھنا ہے مجاز شناس رسولﷺ ہونا چاہئے،جبکہ علامہ غلام احمد پرویز کہتے ہیں اسلام کو سمجھنا ہے تو انسان کو زبان شناس رسولﷺ ہونا چاہے، یہ محض سوچنے میں ایک اسان سی پہیلی لگتی ہے مگر سوچنے میں اس کو شائد صدیوں کا سفر کہنا کم نہ ہوگا ،مگر اک بات ضرور سمجھ میں آئی کہ مجاز شناس رسولﷺ اور ساتھی ہی زبان شناس رسول ہوکر اگر اسلام کو سمجھا جائے تو پھر ہی جاکر اسلام سمجھ میں آنا شروع ہوتا ہے
اب اس کے ساتھ ہی مجاز شناس عرب اور زبان شناس عرب ہونا بھی ضروری ہے، کیونکہ اللہ کا پیغمبر زبان الہی ہی بولتا ہے مگر عرب تو بتوں کی زبان بھی بولتے تھے میرا مطلب بتوں کی پوجا کرنا بھی بوتوں کی زبان بولنا ہی ہے، عرب سود کی زباب بولتے تھے، عرب جوئے بازی کی زبان بھی بولتے تھے، عرب شراب بنانے سے لیکر پینے اور فروخت کرنے والی زبان بھی بولتے تھے جبکہ نبی اللہ یا پیغمبر الہی تو یہ زبان نہیں بولتے مگر اس زبان کو سمجھنا تو آتا ہے کیونکہ وحی اللہ تو ان بدذات لوگوں کو راہ راست پر لانے کیلئے اترتی ہے، ان کو جہنم کے عذاب سے نکالنے کیلئے، جنت می مقام فرودس دینے کیلئے اترتی ہے
سیرت النبی ﷺ کو پڑھنے کیلئے سب سے پہلے عرب معاشرے کی ثقافت ، تہذیب ، روایات اور زبان و ادب کا پس منظر سمجھنا ضروری ہے۔دوسرے مرحلے میں سب سے اہم چیز رسول اللہ ﷺ کا بطور ایک عام شہری کے ذاتی کردار ہے۔جس کو توجہ سے پڑھنا اور جاننا اشد ضروری ہے۔اس کے بعد پہلے نبوی سنین یعنی نبوت کا پہلا ، دوسرا ، تیسرا ، تیرہ سالوں کے حالات و واقعات کو ترتیب سے پڑھیں اور یاد رکھیں۔پھر ہجری سنین یعنی ہجرت کے پہلے سال سے لے کر رسول اللہ ﷺ کے وصال تک کے تمام حالات کو ہجری سالوں کے حساب سے پڑھیں۔سیرت النبی ﷺ کا مطالعہ مکمل کرنے کے بعد پھر قرآن کا ترجمہ اور تفسیر توجہ سے پڑھیں۔آپ نے سیرت النبی ﷺ اور قرآن کا مطالعہ کر لیا تو میں آپ کو ضمانت دیتا ہوں کہ اب کوئی فرقہ پرست مولوی نہ آپ کو ڈرا سکے گا۔نہ گمراہ کر سکے گا
اور نہ ہی آپ کو اپنے پراپیگنڈے کا شکار بنا سکے گا، ہم ان مولویوں سے متاثر محض اس لئے ہو جاتے ہیں کہ ہم نے خود نہ سیرت النبی ﷺ کو پڑھا پوتا ہے اور نہ ہی قرآن کا دامن تھاما ہوتا ہے۔آپ اپنے بچے کو پی ایچ ڈی کروا دیں۔یہ آپ کی مادی ضرورت ہے۔اللہ اس سے راضی نہیں ہو گا۔مگر اگر آپ نے اپنے بچے کو سیرت النبی ﷺ اور قرآن کا مکمل علم دے دیا۔تو آپ کا بچہ آپ کیلئے صدقہ جاریہ بن جائے گا۔اور اللہ بھی راضی ہو جائے گا۔اور یہ وہ علم ہے۔جو ہر مسلمان مرد و عورت پر فرض ہے
سیرت النبی ﷺ کے مطالعے کیلئے :۔مولانا شبلی نعمانی کی ” سیرت النبی ﷺ”۔پیر کرم شاہ الازہری کی ” ضیاء النبی ﷺ”۔ڈاکٹر طاہر القادری کی ” سیرۃُ الرسول ﷺ”
ان کتب سیرت سے استفادہ کریں۔اردو زبان میں قرآن کا بہترین ترجمہ مولانا مودودی صاحب کا ” تفہیم القرآن ” ہے۔ڈاکٹڑ اسرار احمد مرحوم کی تفسیر” بیان القرآن ” بھی عمدہ تفسیر ہے۔علامہ نقی نقن نقوی صاحب کی سیرت النبیﷺ۔پروفیسر خواجہ لطیف انصاری صاحب کی سیرت النبیﷺ۔قاضی سلمان منصور پوری صاحب کی سیرت النبیﷺ۔ اس کے علاوہ درجنوں اعلیٰ پائے کے محققین ہیں جنہوں نے عمر بھر کا سرمایہ لگا کر نبی خداﷺ کی شان اقدس مبارک میں سیرت النبیﷺ لکھی ہے
اور یاد رکھیں :
سیرت و ترجمے کی درجہ بندی کسی فرقے کے اعتبار سے نہیں زبان و بیان پہ مہارت اور اسلوب کی چاشنی کے مطابق کی جاتی ہے۔سیرت النبی لکھنے کا مطلب تعریف نبیﷺ لکھنا جس میں جناب نبی خدا ﷺ سے جڑی چھوٹی سے چھوٹی بات کو محض اس لئے نظر انداز نہیں کیا جا سکتا کہ یہ میرے مسلک یا فرقے سے مناسبت نہیں رکھتی،شائد ایسا کہنا اس وقت کے حالات کا متقاضی تھا اب حالات بدل چکے ہیں ۔اب زمانہ بدل چکا ہے اب زمانہ نبی اللہﷺ کا زمانہ نہیں ،
خدا جب اپنا پیغمبر روئے ارض پر بھیجتا ہے تو اللہ سب کچھ دیکھ کر ہی بھیجتا ہے انسانوں کی مرضی سے کوئی ایک بھی نبی، رسول یا پیغمبر نہیں بھیجا گیا۔کسی قوم یا کسی قبیلے کی خواہش پر بھی اللہ نے ایسا کوئی فیصلہ نہیں کیا، اللہ نے جب چاہا تب ہی نبی ،رسول یا پیغمبر بھیجا
نبی اکرمﷺ کو اخری نبی بنا کر بھیجنے کا خدائی فیصلہ صرف خدا ہی کی سمجھ میں آسکتا ہے یہ کسی انسان کی سمجھ سے بالاتر ہے ، ہر نبی واپس جنت میں جانے سے پہلے اپنا ولی ضرور مقرر کرکے جاتا رہا ، یہی نبی اکرمﷺ نے حکم اللہ سے کیا، من کنت مولا فھذا علی مولا ۔غدیر خم میں میرے آقا نے امت کو حکم الہی سے آگا کردیا تھا، ادھی سے کم امت نے اس فیصلے کو قبول کیا باقی امت نے اسی مقام پہ فیصلہ پر ناگواری کا اظہار کیا مگر زبان اقرار نہ کیا
جیسے جیسے وقت گزرتا گیا ویسے ویسے امت میں اسی وقت سے دو گروہ سامنے آنے شروع ہوئے ،جس جس نے نبی اکرمﷺ کا فیصلہ من کنت مولا فھذا علی مولا مان لیا وہ نبی اکرمﷺ کے قریب رہنے لگے جبکہ دوسرا گروہ منصوبی سازیوں میں پڑ گیا بلکل ویسے ہی جیسے جناب موسیٰ کے کوہ طور پر جانےکے بعد بنی اسرائیل مینڈھے کی پوجا میں لگ گئی،یہاں امت نے بظاہری شکل کا مینڈھا تو نہ بنایا مگر اپنے دل و دماغ میں کئیں مینڈھے پال لئے،اور ان کے ارد گرد امت پڑ گئی
اس کی پہلی مثال بنی سقیفہ م،یں کھل کر سامنے آئی،دوسری مثال جناب فاطمہ کے دروازے پر حملہ۔تیسری بڑی مثال جناب حضرت عثمان کا قتل(شہادت)، چوتھی مثال جناب علی ؑعلیہ اسلام کا مسجد میں قتل(شہادت)،پانچویں مثال جناب امام حسن کو زہر دیکر قتل(شہادت) ساتویں مثال جناب عائشہ کے ساتھ امیر شام کا سخت گیر انسانیت سوز رویہ۔ آٹھویں مثال،واقع کربلا میں مکہ ،اور مدینہ سمیت پوری 22لاکھ مربع میل کی امت کا خاموش رہنا اور یزید کی بیت کرنا ۔ دسویں مثال ایسے صحابی کا جن کی تعداد ہزاروں میں تھی جنہوں نے جناب امام حسین علیہ اسلام کا ساتھ دینے کی بجائے الٹا یزید کی فوج کے ساتھ امام حسین علیہ اسلام کے سامنے آنا ، گیارہویں مثال کربلا سے لیکر شام تک نسل علی علیہ اسلام کو قید کر اولاد صحابہ بھی جن میں شامل تھے ملک شال لیکر جانا اور ایک بار بھی یہ محسوس نہ کرنا کہ یہ نسل نبیﷺ ہے یا اولاد علی علیہ اسلام جن کو اہل بیت کہتے ہیں، جن کے گھر سے جنت لینے جانا تھا
امت کی مسلسل خاموشی نے اسلام کو اس قدر نقصان پہنچایا ہے جس کو اب بھولنا یا بھولانا یا در گزر کرنا ممکن ہی نہیں،
نبی اکرم ﷺ نے مدینہ میں شائد درجنوں بار امت سے کہا کہ فاطمہ میں جگر کا ٹکڑا ہے، حسین مجھ سے اور میں حسین سے ہوں، میرے اہل بیت کا ساتھ دینا، میرے گھرانے پہ رحم کرنا ، اس کا ساتھ مت چھوڑنا ، مگر امت نے چند لزتوں کے بدلے احکام نبیﷺ کو بلاطاق رکھا اور وقت کے یزید کے سامنے اپنا ایمان ہی بیچ دیا،وہ امت جو نبیﷺ کے سامنے بیت نبی ﷺ کرتے وقت بار بار عہد کرتی رہی کہ اے اللہ کے رسول ہم اپ کا ساتھ نہیں چھوڑیں گے، نبی اکرمﷺ کے واپس جنت جاتے ہی پوری امت نے اندر کے مینڈھے باہر نکالے اور دل کے مندر میں سجا کر مینڈھوں کی کھل کر پوجا کرنا شروع کردی ۔ ام پچاس سال کے اندر اندر ہی بھول گئی کہ ان کے پاس صحابی رسول کا مرتبہ ہے جس کو دوبارہ نہیں حاصل کیا جا سکتا ،بسد افسوس امت نے وہ رتبہ بھی نگاہ الہی کے سامنے داو پیہ لگا دیا
کربلا میں زبح کئے گئے نسل رسول ﷺ کے سوگ کو لعنت بنا دیا گیا، کفر کے فتویٰ میں بدل دیا گیا۔
رسولﷺ کے چچا جناب امیر حمزہ جب شہید ہوئے تو اپ غمگین افسردہ حالت میں بیٹھے تھے، جناب عمرؓ آئے اور پوچھا،اے محمدﷺ اپ زنجیدہ کیوں بیٹھے ہیں تو اپ نے جواب دیا کہ کاش میرے گھر میں اتنی عورتیں ہوتی کہ میرے چچا امیر حمزہ کا سوگ مناتی،عرب میں سوگ منانے کو ماتم کہتے ہیں،عرب کی روایت ھتی کہ گھر کے فرد کی موت پر عورتیں بال کھول دیتے تھیں، سر میں مکہ یا مدینہ کی زمین کی خاک ڈال لیا کرتی تھیں اور سر پر ہاتھ مارتیں تھی،جناب عمرؓ نے جب یہ الفاظ سنے تو وہ گھر گئے اور اپنے قبیلے کی تمام عورتوں کو کہا کہ محمدﷺ کے گھر جاو اور ویسے ہی ماتم کرنا جیسے اپنے گھر کے سربراہ کی موت پر کرتی ہو ،تاریخ کہتی ہے کہ 10سال تک مدینہ میں جب بھی کوئی مرتا تو سب سے پہلے نبیﷺ کے چچا کا ذکر شروع ہوتا اور اسی نام سے مرنے والے کا ماتم کیا جاتا
جناب امیر حمزہ اور جناب خدیجہ علیہ اسلام کی وفات چند ماہ کے دوران ہی ہوئی تھی تو اس سال کو ماتم یا سوگ کا سال قرار دیا گیا، مدینہ میں پورا ساتھ جناب امیر حمزہ اور جناب خدیجہ کا نام لیکر سوگ شروع کیا جاتا تھا ، جبکہ اب یہ سوال ہر کوئی فیشن سمجھ کر کرتا ہے کہ ماتم دیکھا و، فکر یزید کی پرستش کرنے والوں کی عقل پہ ماتم کرنے کو ہر ذشعور کا دل کرتا ہے
قرآن بتاتا ہے :
کہ صحابہ میں تین قسم کے گروہ تھے
ایک السابقون الاولون کہ جن کو رضی اللہ عنہ کا ٹائٹل دیا گیا
دوسرے وہ جو ملے جلے اعمال کرتے تھے
ان کو توبہ قبول ہونے کی امید دلائی گئی
اور تیسرا گروہ منافقین کا تھا
کہ جو بظاہر رسول اللہ ﷺ کے ساتھی تھے مگر اندر سے ایمان نہ لائے تھے
ان کیلئے جہنم کے عذاب کی وعید سنائی گئی
( سورہ توبہ آیات نمبر 101 تا 103)
یہ جو ملا ازم نے عظمت صحابہ کا خود ساختہ عقیدہ گھڑ رکھا ہے
اس کے مطابق کون سے صحابہ کو عزت دینا ہے ؟؟
السابقون الاولون صحابہ کرام کہ جو نیکیوں میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیتے تھے
دین کیلئے ہجرت کی ، جہاد کیا
اللہ ان سے راضی ہوا
انہوں نے یقینی فلاح پائی
ان پر جنت واجب ہے
ان کو ہماری ضرورت ہی نہیں
رہا دوسرا گروہ تو ان میں سے جن کی توبہ قبول ہو گئی وہ بھی کامیاب ہوئے
اللہ ان پہ احسان فرمائے گا
اور آخر میں تیسرا گروہ کہ جس کیلئے ہم تو دور اللہ نے فرمایا اے نبی ﷺ اگر تم ستر بار بھی ان کیلئے دعا کرو گے تو میں قبول نہیں کروں گا
حتمی نتیجہ یہ ہے
کہ صحابہ ایک جماعت تھی
جو گزر چکی
ان کے اعمال ان کے ساتھ تھے
ہمارے اعمال ہمارے ساتھ ہیں
حشر میں نہ تو ان سے ہمارے بارے میں کوئی سوال ہو گا
نہ ہی ہم سے ان کے بارے میں کوئی سوال ہو گا
لہذا سمجھ لیں کہ یہ صرف ملا ازم کا دھندہ ہے
اور کچھ نہیں ہے
اگر آخرت میں فلاح چاہتے ہیں
آپ بھی رضی اللہ عنہ کا شرف حاصل کرنا چاہتے ہیں تو اپنے نفس کو پاک کریں
قرآن کہتا ہے :
فلاح صرف اسے ملے گی جو اپنے نفس کا تزکیہ کرے گا
اور جو نفس مطمئنہ ہو گا
اللہ اس سے راضی ہو گا
اور اسے اپنی جنت میں داخل کرے گا
(سورہ الشمس، سورہ فجر)
اللھم صل علی محمد و علی آل محمد

متعلقہ خبریں

مقبول ترین