ماحولیاتی استحکام اور انسانی بقاء : چیلنجز اور ہماری ذمے داریاں

صرف فضائی آلودگی ہی ہر سال 42 لاکھ سے زائد اموات کا سبب بنتی ہے

پروفیسر ڈاکٹر حسین محی الدین قادری (ماہر معاشیات )

21ویں صدی کے پہلے نصف میں دنیا کو درپیش سب سے بڑے خطرات میں ماحولیاتی بحران سرِفہرست ہے۔ عالمی درجہ حرارت میں اضافہ، غیر موسمی بارشیں، پگھلتے گلیشیئرز، شدید گرمی کی لہر، پانی کی قلت، اور آلودہ فضایہ سب ایک ایسی خاموش تباہی کا پیش خیمہ ہیں جو انسانیت کے بقا کے لیے چیلنج بن چکی ہے۔ اقوامِ متحدہ کی رپورٹس اور ماحولیاتی تنظیموں کی وارننگز اس امر کی غماز ہیں کہ اگر موجودہ روش نہ بدلی گئی، تو آنے والی نسلیں شدید ماحولیاتی بدحالی کا شکار ہوں گی۔ آج کا انسان اگر ترقی یافتہ ٹیکنالوجی اور معاشی وسائل کے باوجود بیماریوں، غربت، خوراک کی کمی اور قدرتی آفات میں پھنسا ہوا ہے تو اس کی ایک بڑی وجہ اس کا اپنے ماحول سے غیر ذمہ دارانہ رویہ ہے۔ ایسے میں انسانی فلاح کا تصور اس وقت تک ادھورا ہے جب تک ماحول کو محفوظ اور متوازن نہ بنایا جائے۔

انسانی فلاح و بہبود کا ماحولیاتی استحکام سے ایک گہرا تعلق ہے۔ اگر ماحول آلودہ، پانی مضرِ صحت، ہوا زہریلی اور زمین بنجر ہو جائے، تو نہ صرف انسان کی جسمانی صحت متاثر ہوتی ہے بلکہ سماجی ڈھانچہ بھی عدم توازن کا شکار ہو جاتا ہے۔عالمی ادارۂ صحت (WHO) کے مطابق ہر سال دنیا بھر میں تقریباً 70 لاکھ افراد ماحولیاتی آلودگی کے باعث قبل از وقت موت کا شکار ہو جاتے ہیں۔ ان میں زیادہ تر اموات آلودہ ہوا، پینے کے پانی میں جراثیم، ناقص نکاسیِ آب، اور مضرِ صحت ماحول کے باعث ہوتی ہیں۔ صرف فضائی آلودگی ہی ہر سال 42 لاکھ سے زائد اموات کا سبب بنتی ہے۔ پاکستان جیسے ترقی پذیر ملک میں صورتحال مزید ابتر ہے، جہاں 90 فیصد سے زائد شہری آبادی آلودہ ہوا میں سانس لینے پر مجبور ہے۔ لاہور، کراچی، فیصل آباد اور پشاور دنیا کے آلودہ ترین شہروں کی فہرست میں شامل ہو چکے ہیں۔ماحولیاتی آلودگی کا براہِ راست اثر بچوں، بوڑھوں، حاملہ خواتین اور کمزور قوتِ مدافعت رکھنے والے افراد پر ہوتا ہے۔

WHO کے مطابق ہر سال پانچ سال سے کم عمر کے7.1 ملین بچے ماحولیاتی وجوہات کی بنا پر جان کی بازی ہار جاتے ہیں۔ ان اموات کی بڑی وجوہات میں ڈائریا، نمونیا، اور ملیریا شامل ہیں، جن کا تعلق صاف پانی اور صحت مند ماحول سے ہے۔ اسی طرح اقوامِ متحدہ کی رپورٹ کے مطابق 2030 تک دنیا کی نصف آبادی کو پانی کی شدید قلت کا سامنا ہو سکتا ہے، جو صرف انسانوں کی صحت ہی نہیں بلکہ خوراک اور معاشی نظام کو بھی برباد کر سکتا ہے۔ان مسائل کی شدت کو سمجھنے کے لیے ہمیں یہ تسلیم کرنا ہوگا کہ انسانی فلاح کا انحصار صرف علاج، تعلیم یا روزگار پر نہیں بلکہ ان تمام سہولیات کے لیے سازگار ماحول کی دستیابی پر بھی ہے۔ صاف ہوا، محفوظ پانی، زرخیز زمین اور متوازن ماحولیاتی نظام کسی بھی معاشرے کی بقاء اور ترقی کے بنیادی ستون ہیں۔ ان عناصر کی غیر موجودگی میں نہ تعلیم مؤثر ہو سکتی ہے، نہ معاشی سرگرمیاں جاری رہ سکتی ہیں اور نہ ہی صحت مند معاشرہ تشکیل پا سکتا ہے۔

اسلامی تعلیمات میں ماحول کے تحفظ کو صرف ایک سماجی یا فطری تقاضا نہیں بلکہ دینی فریضہ قرار دیا گیا ہے۔ قرآن مجید میں بارہا زمین میں فساد نہ پھیلانے، اعتدال سے استعمال کرنے اور اللہ کی پیدا کی ہوئی نعمتوں کا ضیاع نہ کرنے کی تاکید کی گئی ہے۔ سورۃ الاعراف کی آیت 31 میں فرمایا گیا: "کھاؤ، پیو اور اسراف نہ کرو، بے شک اللہ اسراف کرنے والوں کو پسند نہیں کرتا۔” اسی طرح نبی کریم ﷺ نے درخت لگانے، پانی کے ضیاع سے بچنے، اور جانوروں کے ساتھ حسنِ سلوک کی تعلیمات دے کر ہمیں ماحول دوست طرزِ زندگی کا نمونہ عطا فرمایا۔

موجودہ عالمی صورتحال میں ماحولیاتی تبدیلی ایک عالمی چیلنج بن چکی ہے۔ عالمی درجہ حرارت میں صرف 2.1 ڈگری سینٹی گریڈ اضافہ زمین کے درجہ حرارت میں غیر معمولی تغیرات پیدا کر چکا ہے۔ اقوام متحدہ کے انٹرگورنمنٹل پینل آن کلائمیٹ چینج (IPCC) کی تازہ رپورٹ کے مطابق اگر گرین ہاؤس گیسز کے اخراج پر قابو نہ پایا گیا تو 2050 ءتک دنیا کے کئی ساحلی شہر زیرِ آب آ سکتے ہیں، کروڑوں افراد نقل مکانی پر مجبور ہوں گےاور عالمی خوراک کا نظام شدید متاثر ہو گا۔پاکستان میں موسمیاتی تبدیلی کے اثرات پہلے ہی نمایاں ہو چکے ہیں۔ 2022 میں آنے والے تباہ کن سیلاب نے ملک کے ایک تہائی سے زائد رقبے کو متاثر کیا، جس میں 1700 سے زائد افراد جاں بحق، لاکھوں گھر تباہ اور کھربوں روپے کا نقصان ہوا۔ ان آفات کا براہِ راست تعلق جنگلات کی کمی، دریاؤں میں غیر قدرتی رکاوٹیں، بے ہنگم تعمیرات اور ماحولیاتی غفلت سے ہے۔ یہ سب عوامل ہمیں یہ سوچنے پر مجبور کرتے ہیں کہ ماحولیاتی استحکام کے بغیر ترقی کا خواب ممکن نہیں۔اس سنگین صورتحال سے بچاؤ کے لیے عالمی سطح پر ٹھوس اقدامات ناگزیر ہو چکے ہیں۔ پیرس معاہدہ، اقوامِ متحدہ کے 17 پائیدار ترقیاتی اہداف (SDGs)، اور عالمی ماحولیاتی کانفرنسز یقیناً مثبت کوششیں ہیں، مگر ان کے ثمرات تبھی حاصل ہوں گے جب ان پر سنجیدگی سے عملدرآمد ہو اور ہر ملک اپنے حصے کی ذمے داری قبول کرے۔ پاکستان جیسے ممالک کو اپنی ماحولیاتی پالیسیوں میں شفافیت، قابلِ عمل منصوبہ بندی اور تعلیم و شعور کی فراہمی کو اولین ترجیح دینی چاہیے۔ماحول اور انسانی فلاح کے باہمی تعلق کو سمجھنا دراصل ایک اجتماعی شعور کی تشکیل ہے۔ ہمیں اس بات کو سمجھنا ہوگا کہ ماحولیاتی توازن صرف درخت لگانے یا کچرا صاف کرنے کا عمل نہیں بلکہ ایک ایسا مربوط نظام ہے جس کا اثر انسانی صحت، معیشت، تعلیم، امن اور مذہبی فرائض پر بھی پڑتا ہے۔ اس لیے عالمی سطح پر باہمی اتفاق رائے سے تمام ممالک کو اپنی ذمہ داری سمجھنی ہو گی کہ قدرت کے ساتھ ہم آہنگی میں ہی انسانی بقاء کا راز پوشیدہ ہے ۔

متعلقہ خبریں

مقبول ترین