ہیروشیما: روزمرہ مشروبات، دہی، اور چیونگ گم میں استعمال ہونے والا چینی کا قدرتی متبادل، اسٹیویا، اب سائنسی تحقیق کے مرکز میں ہے۔ ایک تازہ مطالعے نے انکشاف کیا ہے کہ اسٹیویا کا خمیر شدہ عرق لبلبے کے کینسر جیسے مہلک مرض کے خلاف ایک موثر ہتھیار ہو سکتا ہے۔ ہیروشیما یونیورسٹی کے محققین نے پایا کہ اسٹیویا کا عرق نہ صرف کینسر کے خلیوں کو ختم کرتا ہے بلکہ صحت مند خلیوں کو کوئی نقصان نہیں پہنچاتا۔ یہ دریافت طبی سائنس میں ایک اہم پیش رفت ثابت ہو سکتی ہے، جو اسٹیویا کو کینسر کے علاج میں ایک امید افزا امیدوار بناتی ہے۔
اسٹیویا اور کینسر کے خلاف تحقیق
ہیروشیما یونیورسٹی کے سائنسدانوں نے اپنی تحقیق میں اسٹیویا کے پتوں سے حاصل کردہ عرق کو بیکٹیریا کے ذریعے خمیر کرنے کا تجربہ کیا۔ اس عمل نے اسٹیویا کے کیمیائی ڈھانچے میں تبدیلی لائی، جس سے بائیو ایکٹیو میٹابولائٹس پیدا ہوئے جو کینسر کے خلیوں کے خلاف موثر ثابت ہوئے۔ محققین نے اس خمیر شدہ عرق کو لبلبے کے کینسر کے خلیوں پر آزمایا اور نتائج حیران کن تھے۔ اس عرق نے کینسر کے خلیوں کو تباہ کیا جبکہ صحت مند خلیوں پر اس کا کوئی منفی اثر نہیں پڑا۔ یہ خصوصیت اسٹیویا کو روایتی کینسر علاج، جیسے کہ کیموتھراپی، سے ممتاز کرتی ہے، جو اکثر صحت مند خلیوں کو بھی نقصان پہنچاتی ہے۔
تحقیق کے سربراہ پروفیسر ماسانوری سوگیاما نے بتایا کہ "خمیر کا عمل اسٹیویا جیسے قدرتی پودوں کی طبی صلاحیت کو بڑھاتا ہے۔ یہ عمل نہ صرف اس کے کیمیائی اجزاء کو فعال کرتا ہے بلکہ اسے کینسر کے علاج کے لیے زیادہ موثر بناتا ہے۔” انہوں نے مزید کہا کہ اسٹیویا کے پتوں میں موجود اینٹی کینسر خصوصیات کو ماضی کی تحقیقات میں بھی نوٹ کیا گیا تھا، لیکن خمیر کے عمل نے اس کی تاثیر کو کئی گنا بڑھا دیا ہے۔
لبلبے کا کینسر ایک مہلک مرض
لبلبے کا کینسر نظام ہاضمہ کے خطرناک ترین ٹیومرز میں سے ایک ہے، جو اپنی تشخیص میں دشواری اور تیزی سے پھیلنے کی وجہ سے بدنام ہے۔ شریک مصنف پروفیسر نارندلائی دنشیت سوڈول نے بتایا کہ "لبلبے کے کینسر کی تشخیص اکثر دیر سے ہوتی ہے، کیونکہ اس کے ابتدائی مراحل میں علامات نمایاں نہیں ہوتیں۔ اس کی شرح بقا انتہائی کم ہے، اور موجودہ علاج محدود ہیں۔” انہوں نے مزید کہا کہ اسٹیویا کا خمیر شدہ عرق اس مہلک مرض کے خلاف ایک نئی امید جاگا سکتا ہے، کیونکہ یہ کینسر کے خلیوں کو ہدف بناتا ہے بغیر صحت مند خلیوں کو نقصان پہنچائے۔
اس تحقیق میں اسٹیویا کو زیرو کیلوری سویٹنر کے طور پر استعمال کیا گیا، جو عام طور پر مشروبات، دہی، اور چیونگ گم میں چینی کے متبادل کے طور پر شامل کیا جاتا ہے۔ اس کے پتوں سے حاصل کردہ عرق، جسے اسٹیویوسائیڈ کہا جاتا ہے، نہ صرف مٹھاس فراہم کرتا ہے بلکہ اینٹی آکسیڈنٹ اور اینٹی انفلامیٹری خصوصیات بھی رکھتا ہے۔ ماضی کی تحقیقات نے اسے بریسٹ کینسر اور دیگر امراض کے خلاف بھی فائدہ مند قرار دیا تھا، لیکن لبلبے کے کینسر کے خلاف اس کی تاثیر ایک نئی دریافت ہے۔
اسٹیویا: ایک قدرتی متبادل
اسٹیویا ایک پودا ہے جو جنوبی امریکہ میں پایا جاتا ہے اور اس کے پتے صدیوں سے مٹھاس کے لیے استعمال ہوتے ہیں۔ یہ چینی سے 200 سے 300 گنا زیادہ میٹھا ہوتا ہے، لیکن اس میں کوئی کیلوریز نہیں ہوتیں، جس کی وجہ سے یہ ذیابیطس کے مریضوں اور وزن کم کرنے والوں کے لیے مقبول ہے۔ پاکستان میں اسٹیویا کو مشروبات جیسے کہ سبز چائے، کافی، اور جوسز میں بطور سویٹنر استعمال کیا جاتا ہے، جبکہ عالمی سطح پر اسے کولا مشروبات، دہی، اور کنفیکشنری میں شامل کیا جاتا ہے۔ اس کی قدرتی اصل اور صحت کے فوائد نے اسے چینی کے مقابلے میں ایک پرکشش متبادل بنایا ہے۔
ہیروشیما یونیورسٹی کی تحقیق نے اسٹیویا کی طبی صلاحیت کو ایک نئی جہت دی ہے۔ خمیر کے عمل سے اس کے فعال اجزاء، جیسے کہ اسٹیویول گلائکوسائیڈز، کو بائیو ایکٹیو میٹابولائٹس میں تبدیل کیا جاتا ہے، جو کینسر کے خلیوں کے خلاف زیادہ موثر ہوتے ہیں۔ یہ عمل نہ صرف اسٹیویا کی کیمیائی ساخت کو بہتر بناتا ہے بلکہ اسے دواسازی کے شعبے میں ایک ممکنہ امیدوار بناتا ہے۔
مستقبل کے امکانات
محققین نے اس دریافت کو "ابتدائی لیکن امید افزا” قرار دیا اور کہا کہ اسے کلینیکل ٹرائلز کے ذریعے مزید جانچنے کی ضرورت ہے۔ پروفیسر سوگیاما نے بتایا کہ "ہماری اگلی کوشش یہ ہوگی کہ اسٹیویا کے خمیر شدہ عرق کو انسانی مریضوں پر آزمایا جائے تاکہ اس کی تاثیر اور حفاظت کی تصدیق کی جا سکے۔” انہوں نے مزید کہا کہ اگر کلینیکل ٹرائلز کامیاب رہے تو اسٹیویا پر مبنی علاج لبلبے کے کینسر کے مریضوں کے لیے ایک کم لاگت اور کم مضر متبادل فراہم کر سکتا ہے۔
اس تحقیق نے دواسازی کی صنعت اور صحت عامہ کے ماہرین میں نئی دلچسپی پیدا کی ہے۔ عالمی ادارہ صحت (WHO) کے مطابق، 2024 میں لبلبے کے کینسر کے 510,000 نئے کیسز رپورٹ ہوئے، جن میں سے 80 فیصد کی تشخیص بیماری کے آخری مراحل میں ہوئی۔ اس مرض کی شرح بقا صرف 9 فیصد ہے، جو اسے کینسر کی سب سے مہلک اقسام میں سے ایک بناتی ہے۔ اسٹیویا کا ممکنہ علاج اس مہلک مرض کے خلاف جنگ میں ایک اہم پیش رفت ہو سکتا ہے۔
سوشل میڈیا پر ردعمل
ایکس پر صارفین نے اس تحقیق کی تعریف کی اور اسے ایک "سائنسی معجزہ” قرار دیا۔ ایک صارف نے لکھا، "اسٹیویا جو ہم چائے میں ڈالتے ہیں، وہ کینسر سے لڑ سکتا ہے؟ یہ سائنس کی طاقت ہے!” ایک اور صارف نے تبصرہ کیا، "پاکستان میں اسٹیویا کی کاشت بڑھائی جانی چاہیے تاکہ ہم اس کی طبی صلاحیت سے فائدہ اٹھا سکیں۔” کئی صارفین نے اسے ذیابیطس کے مریضوں کے لیے ایک "دوہری جیت” قرار دیا، جو نہ صرف بلڈ شوگر کنٹرول کرتا ہے بلکہ کینسر کے علاج میں بھی مددگار ہو سکتا ہے۔
ہیروشیما یونیورسٹی کی یہ تحقیق اسٹیویا کو صرف ایک سویٹنر سے کہیں آگے لے جاتی ہے اور اسے کینسر کے علاج میں ایک ممکنہ ہتھیار کے طور پر پیش کرتی ہے۔ لبلبے کے کینسر جیسے مہلک مرض کے خلاف اس کی تاثیر، خاص طور پر صحت مند خلیوں کو نقصان نہ پہنچانے کی صلاحیت، اسے روایتی علاج جیسے کیموتھراپی سے ممتاز کرتی ہے۔ خمیر کے عمل سے اس کی طبی صلاحیت کو بڑھانا ایک اختراعی نقطہ نظر ہے، جو قدرتی پودوں کو دواسازی میں استعمال کرنے کے امکانات کو کھولتا ہے۔
تاہم، یہ تحقیق ابھی ابتدائی مراحل میں ہے، اور کلینیکل ٹرائلز کے بغیر اس کے عملی اطلاق کے بارے میں حتمی رائے دینا قبل از وقت ہوگا۔ لبلبے کے کینسر کی پیچیدہ نوعیت اور اس کی تشخیص میں مشکلات کو دیکھتے ہوئے، اسٹیویا پر مبنی علاج کی کامیابی کے لیے طویل مدتی تحقیق اور سرمایہ کاری کی ضرورت ہے۔ اس کے علاوہ، اسٹیویا کی پیداوار اور خمیر کے عمل کو بڑے پیمانے پر اپنانے کے لیے صنعتی صلاحیت بڑھانا بھی ایک چیلنج ہوگا۔
پاکستان کے تناظر میں، جہاں اسٹیویا کی کاشت محدود پیمانے پر ہوتی ہے، یہ تحقیق زرعی اور طبی شعبوں کے لیے ایک سنہری موقع فراہم کرتی ہے۔ پاکستان میں اسٹیویا کی کاشت کو فروغ دینے سے نہ صرف مقامی کسانوں کو معاشی فوائد حاصل ہو سکتے ہیں بلکہ یہ ملک کو طبی تحقیق میں عالمی سطح پر نمایاں کر سکتا ہے۔ تاہم، اس کے لیے حکومتی سطح پر پالیسی سازی اور نجی شعبے کی شراکت داری ضروری ہے۔
اس دریافت نے یہ بھی واضح کیا کہ قدرتی پودوں میں چھپی طبی صلاحیت کو سائنسی طریقوں سے اجاگر کیا جا سکتا ہے۔ اسٹیویا کی تحقیق نہ صرف کینسر کے علاج بلکہ دیگر امراض کے لیے بھی نئے دروازے کھول سکتی ہے۔ یہ وقت ہے کہ پاکستان جیسے ممالک اس طرح کی تحقیقات میں سرمایہ کاری کریں اور اپنی زرعی صلاحیت کو طبی اختراعات کے ساتھ جوڑیں۔ اگر اسٹیویا کلینیکل ٹرائلز میں کامیاب رہا تو یہ نہ صرف کینسر کے مریضوں کے لیے ایک نئی امید ہوگا بلکہ سائنس اور فطرت کے امتزاج کی ایک شاندار مثال بھی بنے گا۔





















