مزید مہنگائی کا خدشہ، پیٹرول پر لیوی 10 روپے تک بڑھانے کی تجویز زیر غور

بینکوں سے 2,000 ارب روپے تک قرض لینے کی مشاورت بھی جاری ہے

اسلام آباد: وفاقی حکومت نے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کی تیاری شروع کر دی ہے، جس کا مقصد توانائی کے شعبے کے بڑھتے ہوئے گردشی قرضوں پر قابو پانا ہے۔ ذرائع کے مطابق، پیٹرولیم لیوی میں فی لیٹر 3 سے 10 روپے تک اضافے پر غور کیا جا رہا ہے، جبکہ گیس سیکٹر کے مالی بحران سے نمٹنے کے لیے بینکوں سے 2,000 ارب روپے تک قرض لینے کی مشاورت بھی جاری ہے۔ اس ممکنہ اضافے سے نہ صرف پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتیں بڑھیں گی بلکہ مہنگائی کی نئی لہر بھی عوام کے لیے مشکلات کا باعث بن سکتی ہے۔ عالمی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کی جانب سے گردشی قرضوں کے خاتمے کے لیے ٹھوس روڈ میپ طلب کیے جانے نے حکومت پر اصلاحات کے نفاذ کا دباؤ بڑھا دیا ہے۔

پیٹرولیم لیوی میں اضافے کی تجویز

وفاقی وزارت خزانہ اور وزارت توانائی کے ذرائع نے انکشاف کیا ہے کہ پیٹرولیم لیوی میں اضافے کا فیصلہ توانائی کے شعبے کے مالیاتی مسائل کو حل کرنے کی کوششوں کا حصہ ہے۔ فی الحال پیٹرول اور ہائی اسپیڈ ڈیزل پر پیٹرولیم لیوی کی بالائی حد 70 روپے فی لیٹر ہے، جبکہ مٹی کے تیل پر 10.96 روپے اور لائٹ ڈیزل آئل پر 7.75 روپے فی لیٹر لیوی عائد ہے۔ ذرائع کے مطابق، مجوزہ اضافہ 3 سے 10 روپے فی لیٹر تک ہو سکتا ہے، جو پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں براہ راست اضافے کا باعث بنے گا۔ یہ فیصلہ آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی (اوگرا) کی سفارشات اور عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں کے اتار چڑھاؤ کے تناظر میں کیا جا رہا ہے۔

وزارت خزانہ کے ایک سینئر عہدیدار نے بتایا کہ پیٹرولیم لیوی بڑھانے کا مقصد اندرونی وسائل سے گردشی قرضوں کو کم کرنا ہے۔ اس اضافے سے حاصل ہونے والی آمدنی کا ایک بڑا حصہ گیس سیکٹر کے 2,800 ارب روپے کے گردشی قرضے کی ادائیگی کے لیے استعمال کیا جائے گا۔ اس کے علاوہ، حکومت بینکوں سے 2,000 ارب روپے تک قرض لینے پر غور کر رہی ہے تاکہ گیس کمپنیوں اور دیگر سرکاری تیل و گیس اداروں کے مالی بحران کو کم کیا جا سکے۔ وزارت خزانہ اور وزارت توانائی کے درمیان اس سلسلے میں اہم اجلاس جلد متوقع ہے، جس میں قرض کے ڈھانچے اور لیوی کے اضافے کی تفصیلات طے کی جائیں گی۔

 گردشی قرضوں کا بحران

عالمی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) نے پاکستان سے گیس سیکٹر کے 2,800 ارب روپے کے گردشی قرضوں کے خاتمے کے لیے واضح اور ٹھوس روڈ میپ طلب کیا ہے۔ آئی ایم ایف نے خبردار کیا ہے کہ اگر حکومت اس مالیاتی بحران سے نمٹنے کے لیے جامع منصوبہ پیش نہ کر سکی تو اگلے قرض کی قسط کی منظوری میں تاخیر یا رکاوٹ پیدا ہو سکتی ہے۔ ذرائع کے مطابق، آئی ایم ایف کے دباؤ نے حکومت کو توانائی کے شعبے میں اصلاحات کی رفتار تیز کرنے پر مجبور کر دیا ہے، جس کے نتیجے میں پیٹرولیم لیوی میں اضافے کا فیصلہ زیر غور ہے۔

پیٹرولیم ڈویژن کے ایک عہدیدار نے بتایا کہ گیس سیکٹر کا گردشی قرضہ 2,800 ارب روپے تک جا پہنچا ہے، جو گیس کمپنیوں جیسے کہ سوئی ناردرن گیس پائپ لائنز لمیٹڈ (ایس این جی پی ایل) اور سوئی سدرن گیس کمپنی (ایس ایس جی سی) کے لیے شدید مالی مشکلات کا باعث بن رہا ہے۔ یہ قرضہ بنیادی طور پر سبسڈی کی عدم ادائیگی، ناقص وصولی، اور غیر موثر آپریشنل ڈھانچے کی وجہ سے بڑھا ہے۔ اس کے علاوہ، بجلی کے شعبے کا گردشی قرضہ بھی 2,444 ارب روپے تک پہنچ چکا ہے، جو مجموعی طور پر توانائی کے شعبے کے مالیاتی بحران کی شدت کو ظاہر کرتا ہے۔

عوام پر متوقع اثرات

پیٹرولیم لیوی میں اضافے سے پیٹرول، ڈیزل، مٹی کے تیل، اور لائٹ ڈیزل آئل کی قیمتوں میں اضافہ ناگزیر ہوگا۔ اس سے نہ صرف ٹرانسپورٹ کے اخراجات بڑھیں گے بلکہ اشیائے خورونوش، صنعتی پیداوار، اور روزمرہ کی اشیا کی قیمتوں میں بھی اضافہ ہوگا۔ ذرائع کے مطابق، اس اضافے سے مہنگائی کی شرح میں مزید شدت آ سکتی ہے، جو پہلے ہی تنخواہ دار طبقے اور کم آمدنی والے گھرانوں کے لیے ایک بڑا چیلنج ہے۔

ماضی میں بھی پیٹرولیم لیوی کے اضافے نے عوام پر بوجھ بڑھایا ہے۔ مثال کے طور پر، مارچ 2025 میں پیٹرول اور ڈیزل پر لیوی 60 روپے سے بڑھا کر 70 روپے فی لیٹر کی گئی تھی، جس کی وجہ سے عوام کو متوقع قیمتوں میں کمی کا فائدہ نہیں مل سکا۔ اس بار مجوزہ اضافہ 10 روپے فی لیٹر تک ہو سکتا ہے، جس سے عوام پر مالی دباؤ مزید بڑھ جائے گا۔ ایکس پر صارفین نے اس فیصلے پر شدید تنقید کی ہے، ایک صارف نے لکھا کہ "حکومت لیوی بڑھا کر عوام سے ریلیف چھین رہی ہے، جبکہ مہنگائی پہلے ہی ناقابل برداشت ہے۔”

حکومتی حکمت عملی اور اصلاحات

حکومت کا کہنا ہے کہ پیٹرولیم لیوی بڑھانے کا مقصد نہ صرف گردشی قرضوں کو کم کرنا ہے بلکہ توانائی کے شعبے میں مالیاتی نظم و ضبط کو یقینی بنانا بھی ہے۔ وزارت خزانہ کے مطابق، لیوی کی شرح میں تسلسل اور شفافیت برقرار رکھی جائے گی تاکہ عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں کے اتار چڑھاؤ سے درآمدی بل پر دباؤ کو کم کیا جا سکے۔ اس کے علاوہ، گردشی قرضوں کی ادائیگی کے لیے بینکوں سے 1,252 ارب روپے کا قرض لینے کا منصوبہ بھی بنایا گیا ہے، جو اگلے چھ سالوں میں بجلی کے صارفین سے ڈیبٹ سروس سرچارج کی مد میں وصول کیا جائے گا۔

حکومت توانائی کے شعبے میں اصلاحات کو تیز کرنے کے لیے بھی اقدامات کر رہی ہے، جن میں نجکاری، لاگت کی وصولی کو بہتر بنانا، اور آزاد بجلی گھروں (آئی پی پیز) کے ساتھ مذاکرات شامل ہیں۔ ذرائع کے مطابق، آئی پی پیز کے ساتھ مذاکرات سے جون 2025 تک 348 ارب روپے کی ادائیگی متوقع ہے، جو گردشی قرضوں کو کم کرنے میں مدد دے گی۔ تاہم، ان اصلاحات کے نتائج آنے میں وقت لگے گا، اور فی الحال عوام کو بڑھتی ہوئی قیمتوں کا بوجھ برداشت کرنا پڑے گا۔

سوشل میڈیا پر ردعمل

ایکس پر صارفین نے پیٹرولیم لیوی میں ممکنہ اضافے پر سخت ردعمل ظاہر کیا ہے۔ ایک صارف نے لکھا، "پیٹرول پر لیوی بڑھانا عوام کے ساتھ ظلم ہے۔ مہنگائی پہلے ہی آسمان چھو رہی ہے، اور اب یہ نیا بوجھ؟” ایک اور صارف نے تبصرہ کیا، "حکومت آئی ایم ایف کے دباؤ میں عوام کی جیب پر ڈاکہ ڈال رہی ہے۔ گردشی قرضوں کا بوجھ کیوں عوام اٹھائیں؟” کچھ صارفین نے تجویز دی کہ حکومت کو توانائی کے شعبے میں کرپشن اور ناکارہ پن کو ختم کرنے پر توجہ دینی چاہیے تاکہ لیوی بڑھانے کی ضرورت نہ پڑے۔

پیٹرولیم لیوی میں اضافے کی تیاری اور بینکوں سے قرض لینے کا منصوبہ توانائی کے شعبے کے گہرے مالیاتی بحران کی عکاسی کرتا ہے۔ گیس سیکٹر کا 2,800 ارب روپے کا گردشی قرضہ اور بجلی کے شعبے کا 2,444 ارب روپے کا قرضہ پاکستان کی معیشت کے لیے ایک بڑا چیلنج ہے۔ آئی ایم ایف کی شرائط نے حکومت کو فوری اصلاحات پر مجبور کیا ہے، لیکن پیٹرولیم لیوی میں اضافہ ایک عارضی حل ہے جو طویل مدتی استحکام کی بجائے عوام پر فوری بوجھ ڈالتا ہے۔

یہ بات تشویشناک ہے کہ گردشی قرضوں کا بوجھ بالآخر صارفین پر منتقل کیا جا رہا ہے، چاہے وہ پیٹرولیم لیوی کے ذریعے ہو یا بجلی کے بلوں میں ڈیبٹ سروس سرچارج کے ذریعے۔ اس سے مہنگائی میں اضافہ ناگزیر ہے، جو پہلے ہی 2025 میں 12 فیصد سے تجاوز کر چکی ہے۔ ٹرانسپورٹ، اشیائے خورونوش، اور صنعتی پیداوار کی لاگت بڑھنے سے تنخواہ دار طبقہ اور کم آمدنی والے گھرانے سب سے زیادہ متاثر ہوں گے۔

حکومت کو چاہیے کہ وہ لیوی بڑھانے اور قرض لینے جیسے عارضی اقدامات کے بجائے توانائی کے شعبے میں ساختی اصلاحات پر توجہ دے۔ ناقص وصولی، غیر موثر آپریشنز، اور سبسڈی کی بدانتظامی جیسے مسائل کو حل کیے بغیر گردشی قرضوں کا مستقل حل ممکن نہیں۔ اس کے علاوہ، شمسی توانائی اور دیگر متبادل ذرائع کو فروغ دینے سے درآمدی تیل پر انحصار کم کیا جا سکتا ہے، جو درآمدی بل اور مہنگائی کو کنٹرول کرنے میں مدد دے گا۔

عوامی ردعمل سے ظاہر ہوتا ہے کہ لوگ حکومت کے ان فیصلوں سے نالاں ہیں، اور سوشل میڈیا پر تنقید اس بات کی عکاسی کرتی ہے کہ عوام مالی دباؤ سے تنگ آ چکے ہیں۔ اگر حکومت نے شفافیت اور عوامی مشاورت کے بغیر لیوی بڑھانے کا فیصلہ کیا تو اس سے سیاسی عدم استحکام کا خطرہ بڑھ سکتا ہے۔ توانائی کے شعبے کی اصلاحات اور گردشی قرضوں کے خاتمے کے لیے ایک جامع اور پائیدار منصوبے کی ضرورت ہے، جو نہ صرف آئی ایم ایف کی شرائط پوری کرے بلکہ عوام کو ریلیف بھی فراہم کرے۔ بصورت دیگر، پیٹرولیم لیوی جیسے اقدامات صرف عوام کی مشکلات میں اضافہ کریں گے۔

متعلقہ خبریں

مقبول ترین