100 سے زیادہ عالمی تنظیموں نے غزہ میں قحط کو تشویشناک قرار دے دیا

ماؤں کے پاس اپنے بچوں کو کھلانے کے لیے کچھ نہیں، اور بچے بھوک سے بلک رہے ہیں

غزہ: فلسطین کے علاقے غزہ کی پٹی میں انسانی بحران اپنی بدترین شکل اختیار کر چکا ہے، جہاں بھوک اور قحط نے لاکھوں لوگوں کی زندگیوں کو داؤ پر لگا دیا ہے۔ 100 سے زائد عالمی امدادی تنظیموں اور انسانی حقوق کے گروپوں نے مشترکہ طور پر خبردار کیا ہے کہ غزہ میں غذائی قلت اور قحط کی صورتحال ناقابل برداشت حد تک سنگین ہو چکی ہے۔ انہوں نے عالمی برادری سے فوری اور موثر اقدامات کا مطالبہ کیا ہے تاکہ لاکھوں فلسطینیوں کو بھوک سے موت کے منہ میں جانے سے بچایا جا سکے۔ اقوام متحدہ کے مطابق، اسپتالوں میں مریض غذائی قلت کی وجہ سے شدید کمزوری کا شکار ہیں، جبکہ کئی افراد سڑکوں پر بھوک سے بے ہوش ہو کر گر رہے ہیں۔

قحط کی تباہ کاریاں اور ہلاکتوں میں اضافہ

غزہ کی وزارت صحت کے تازہ اعداد و شمار کے مطابق، گزشتہ 24 گھنٹوں میں بھوک اور غذائی قلت کے باعث 10 افراد جان کی بازی ہار چکے ہیں۔ اس ہفتے کے آغاز سے اب تک قحط سے ہلاک ہونے والوں کی تعداد 43 تک جا پہنچی ہے، جن میں بڑی تعداد بچوں اور بزرگوں کی ہے۔ وزارت صحت نے خبردار کیا ہے کہ اگر امدادی سامان کی ترسیل فوری طور پر بحال نہ کی گئی تو یہ تعداد تیزی سے بڑھ سکتی ہے۔ خاص طور پر شمالی غزہ میں حالات انتہائی خراب ہیں، جہاں خوراک کی شدید کمی نے بچوں، خواتین، اور بزرگوں کو موت کے دہانے پر لا کھڑا کیا ہے۔

اقوام متحدہ کی رپورٹس بتاتی ہیں کہ غزہ کے ہسپتالوں میں مریض غذائی قلت کے باعث اتنی کمزوری کا شکار ہیں کہ وہ بنیادی طبی علاج سے بھی فائدہ نہیں اٹھا سکتے۔ کئی شہری سڑکوں پر چلتے ہوئے بھوک سے نڈھال ہو کر گر رہے ہیں، جبکہ بچوں میں اسہال اور دیگر غذائی کمی سے منسلک بیماریاں تیزی سے پھیل رہی ہیں۔ بازاروں میں خوراک کی دستیابی ختم ہو چکی ہے، اور کوڑے کے ڈھیر جمع ہونے سے ماحولیاتی اور صحت کے مسائل مزید سنگین ہو گئے ہیں۔

امدادی کارکنوں کی مشکلات

عالمی امدادی تنظیموں، جن میں ڈاکٹرز ودآؤٹ بارڈرز (ایم ایس ایف)، سیو دی چلڈرن، اور آکسفام شامل ہیں، نے اپنے مشترکہ بیان میں کہا ہے کہ غزہ میں امدادی کارکن خود بھی بھوک کے شکار ہو چکے ہیں۔ یہ کارکن، جو عام حالات میں ضرورت مندوں کی مدد کرتے ہیں، اب خود خوراک کی لائنوں میں کھڑے ہیں اور اپنی جانوں کو خطرے میں ڈال کر اپنے اہل خانہ کے لیے کھانا حاصل کر رہے ہیں۔ ایک امدادی کارکن نے دل خراش منظر بیان کرتے ہوئے کہا کہ بچے اپنے والدین سے کہہ رہے ہیں کہ وہ جنت جانا چاہتے ہیں، کیونکہ وہاں کم از کم انہیں کھانا ملے گا۔ یہ بیان غزہ کے عوام کی نفسیاتی اور جذباتی حالت کی شدت کو واضح کرتا ہے۔

اسرائیلی محاصرہ اور امدادی پابندیاں

امدادی تنظیموں نے اپنے بیان میں اسرائیلی محاصرے کو قحط کی بنیادی وجہ قرار دیا ہے۔ مارچ 2025 میں اسرائیل نے غزہ میں امدادی سامان کی ترسیل پر مکمل پابندی عائد کر دی تھی، جس کے بعد دو ماہ کی جنگ بندی کے خاتمے پر فوجی کارروائیاں دوبارہ شروع ہوئیں۔ اس ناکہ بندی نے خوراک، ادویات، پانی، اور ایندھن کی ترسیل کو ناممکن بنا دیا ہے۔ غزہ کی سرحد پر، خاص طور پر مصر کے ساتھ واقع رفح کراسنگ پر، ہزاروں ٹن امدادی سامان مہینوں سے پڑا خراب ہو رہا ہے، کیونکہ اسرائیلی حکام اسے داخل ہونے کی اجازت نہیں دے رہے۔

اقوام متحدہ کی فلسطینی پناہ گزینوں کی ایجنسی (UNRWA) نے بتایا کہ اس کے پاس تین ماہ کے لیے خوراک کا ذخیرہ موجود ہے، لیکن اسرائیلی پابندیوں کی وجہ سے اسے غزہ میں داخل کرنے کی اجازت نہیں مل رہی۔ UNRWA نے ایکس پر پوسٹ کرتے ہوئے کہا کہ غزہ سے چند کلومیٹر کے فاصلے پر دکانیں اور گودام خوراک سے بھرے ہوئے ہیں، لیکن غزہ کے اندر عوام بھوک سے مر رہے ہیں۔ انہوں نے فوری طور پر محاصرہ ختم کرنے اور امدادی سامان کی ترسیل کی اجازت دینے کی اپیل کی۔

غذائی قلت کے اثرات

غزہ میں غذائی قلت کے اثرات نہ صرف جسمانی بلکہ نفسیاتی اور سماجی سطح پر بھی تباہ کن ہیں۔ ڈاکٹرز نے بتایا کہ بچوں اور بزرگوں میں شدید غذائی کمی کے باعث ان کا مدافعتی نظام کمزور ہو چکا ہے، جس سے وہ اسہال، ہیپاٹائٹس، اور دیگر متعدی بیماریوں کا آسان شکار ہو رہے ہیں۔ امدادی کارکنوں کے مطابق، بازاروں میں خوراک کی عدم دستیابی اور قیمتوں میں 4,000 فیصد تک اضافے نے عام شہریوں کے لیے کھانا خریدنا ناممکن بنا دیا ہے۔ ایک امدادی کارکن نے الجزیرہ سے گفتگو میں کہا کہ "ماؤں کے پاس اپنے بچوں کو کھلانے کے لیے کچھ نہیں، اور بچے بھوک سے بلک رہے ہیں۔”

اقوام متحدہ کے مطابق، غزہ دنیا کا واحد خطہ ہے جہاں پوری آبادی قحط کے خطرے سے دوچار ہے۔ 10 لاکھ سے زائد بچے شدید بھوک کا شکار ہیں، جبکہ گزشتہ تین دنوں میں 21 بچوں سمیت 101 فلسطینی غذائی قلت سے ہلاک ہو چکے ہیں۔ یہ اعداد و شمار اس بات کی غمازی کرتے ہیں کہ غزہ میں انسانی بحران اب ناقابل برداشت حد تک بڑھ چکا ہے۔

عالمی برادری سے اپیل

100 سے زائد امدادی تنظیموں نے عالمی برادری سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ فوری طور پر غزہ میں امدادی گزرگاہوں کو کھولنے اور محاصرہ ختم کرنے کے لیے دباؤ ڈالے۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ حالات "جدید تاریخ میں بے مثال” ہیں اور غزہ کے عوام کو بھوک سے مارنے کی پالیسی انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزی ہے۔ عالمی عدالت انصاف (آئی سی جے) نے بھی اسرائیل کو حکم دیا ہے کہ وہ انسداد نسل کشی کنونشن کی پاسداری کرے اور غزہ میں قحط روکنے کے لیے اقوام متحدہ کے ساتھ تعاون کرے۔

UNRWA نے ایکس پر اپیل کی کہ "غزہ کے ایک ملین بچوں سمیت عوام کو بھوک سے مارا جا رہا ہے۔ محاصرہ ختم کیا جائے اور امدادی سامان کی ترسیل کی اجازت دی جائے۔” جرمن وزیر خارجہ انالینا بیئربوک نے حال ہی میں اعلان کیا کہ جرمنی غزہ کے شہریوں کے لیے 19 ملین یورو کی اضافی امداد فراہم کرے گا، لیکن انہوں نے اسرائیلی پالیسیوں پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ امداد کی ترسیل کے امکانات محدود ہیں۔

سوشل میڈیا پر ردعمل

ایکس پر صارفین نے غزہ کے حالات پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے۔ ایک صارف نے لکھا، "غزہ میں بچے بھوک سے مر رہے ہیں، اور دنیا خاموش ہے۔ یہ انسانیت کے لیے شرم کا مقام ہے۔” ایک اور صارف نے کہا، "امدادی ٹرک سرحد پر کھڑے ہیں، لیکن اسرائیل انہیں داخل ہونے نہیں دیتا۔ یہ بھوک کو ہتھیار کے طور پر استعمال کرنا ہے۔” UNRWA کی پوسٹس نے بھی شائقین میں غم و غصے کی لہر دوڑا دی، جہاں ایک صارف نے تبصرہ کیا، "غزہ کے باہر گودام خوراک سے بھرے ہیں، لیکن اندر لوگ فاقوں پر مجبور ہیں۔ یہ ظلم کب ختم ہوگا؟”

غزہ میں قحط کی موجودہ صورتحال ایک انسانی المیہ ہے جو مہینوں سے جاری اسرائیلی محاصرے اور امدادی پابندیوں کا نتیجہ ہے۔ یہ بحران نہ صرف غذائی قلت بلکہ بنیادی انسانی حقوق کی پامالی کی ایک واضح مثال ہے۔ اسرائیل کی جانب سے امدادی گزرگاہوں پر پابندی اور فوجی کارروائیوں کی بحالی نے غزہ کے 24 لاکھ باشندوں کو بھوک، بیماری، اور موت کے دہانے پر لا کھڑا کیا ہے۔ عالمی برادری کی خاموشی اور محدود اقدامات اس بحران کی شدت کو کم کرنے میں ناکام رہے ہیں، جبکہ آئی سی جے اور اقوام متحدہ کی اپیلوں کو نظر انداز کیا جا رہا ہے۔

غزہ کے عوام کی حالت زار کو بیان کرنے والے مناظر، جیسے کہ بچوں کا جنت میں کھانے کی امید کرنا، اس بات کی عکاسی کرتے ہیں کہ یہ بحران صرف جسمانی بھوک کا نہیں بلکہ امید اور انسانیت کا بھی ہے۔ امدادی کارکنوں کا خود بھوک کا شکار ہونا اس بات کا ثبوت ہے کہ غزہ میں کوئی بھی محفوظ نہیں۔ اسرائیل کا دعویٰ کہ وہ امداد پر پابندی نہیں لگا رہا، زمینی حقائق سے متصادم ہے، کیونکہ سرحد پر موجود ہزاروں ٹن امدادی سامان خراب ہو رہا ہے۔

عالمی برادری، خاص طور پر اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے مستقل ارکان، کو فوری طور پر اسرائیل پر دباؤ ڈالنا چاہیے کہ وہ امدادی گزرگاہوں کو کھولے اور جنگ بندی کے معاہدے پر عمل کرے۔ ماضی میں جنگ بندی کے دوران امداد کی ترسیل سے غذائی بحران میں کچھ بہتری آئی تھی، لیکن حالیہ فوجی کارروائیوں نے اسے دوبارہ سنگین کر دیا ہے۔ اگر فوری اقدامات نہ کیے گئے تو غزہ میں ہلاکتوں کی تعداد تیزی سے بڑھ سکتی ہے، جو عالمی ضمیر کے لیے ایک سوالیہ نشان ہوگا۔

پاکستان جیسے ممالک، جو فلسطینیوں کے حق خود ارادیت کی حمایت کرتے ہیں، کو سفارتی سطح پر آواز اٹھانی چاہیے۔ عالمی میڈیا اور سوشل میڈیا پر غزہ کے بحران کو اجاگر کرنا بھی ضروری ہے تاکہ عوامی دباؤ بڑھے۔ یہ بحران صرف غزہ کا نہیں بلکہ پوری انسانیت کا ہے، اور اس کا حل فوری اور بلا تاخیر امدادی اقدامات، جنگ بندی، اور طویل مدتی امن مذاکرات میں مضمر ہے۔ غزہ کے عوام کی آہ و فغاں عالمی ضمیر کو جھنجھوڑ رہی ہے، اور اب وقت آ گیا ہے کہ دنیا اس آواز کو سنے اور عمل کرے

متعلقہ خبریں

مقبول ترین